• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل ایمان کا مقام اور سطحیت پسند کفار کا انجام

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
94
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
21
اہل ایمان کا مقام اور سطحیت پسند کفار کا انجام

علامہ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ (۱۳۷٦ھ)

━════﷽════━

﴿زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ۘ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [البقرۃ: ۲۱۲]

کافروں کے لئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے، وہ ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں، حالانکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔

تفسیر :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی شریعت کے مطابق زندگی بسر نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کے سامنے دنیاوی زندگی کو مزین اور آراستہ کردیتا ہے؛ دنیا کی یہ زندگی ان کے دلوں میں اور ان کی آنکھوں کے سامنے خوشنما بنا دی جاتی ہے، پس وہ اس دنیا میں مگن اور اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں، سو اس طرح ان کی خواہشات، ان کے ارادے اور ان کے اعمال سب دنیا کے لئے ہوجاتے ہیں، وہ دنیا کی طرف بھاگتے ہیں، اسی کے حصول میں ہمہ تن مغشول رہتے ہیں، وہ اس دنیا اور اپنے جیسے دنیا داروں کی تعظیم کرتے ہیں اور اہل ایمان سے نہایت حقارت سے پیش آتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا؟‘‘۔

یہ ان کی کم عقلی اور کم نظری ہے، کیونکہ بلاشبہ یہ دنیا محض آزمائش اور امتحان کا گھر ہے، اس دنیا میں اہل ایمان اور اہل کفردونوں کو آزمائش کی یہ سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں، بلکہ اس دنیا کے اندر مومن کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایمان اور صبر کی بنا پر اس کی تکلیف میں تخفیف کردیتا ہے کسی اور کے لئے یہ تخفیف نہیں ہوتی. اس لئے تمام معاملہ اور تمام تر فضیلت وہ ہے جو آخرت میں عطا ہوگی۔

چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِپرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے۔

پس اہل تقویٰ قیامت کے روز بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی انواع و اقسام کی نعمتوں، مسرتوں، تروتازگی اور خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں گے اور کفار ان کے نیچے جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں مختلف قسم کے عذاب، ابدی اہانت اور بدبختی میں مبتلا رہیں گے جس کی کوئی انتہا نہ ہوگی. پس اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کے لئے تسلی اور کفار کے لئے ان کے برے انجام کی اطلاع ہے۔

چونکہ دنیاوی اور اخروی رزق صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی مشیت ہی سے حاصل ہوتے ہیں‘ اس لئے فرمایا : ﴿وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَاۗءُ بِغَیْرِ حِسَابٍاور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔

پس دنیاوی رزق تو مومن اور کافر سب کو عطا ہوتا ہے۔ رہا علم و ایمان، محبت الٰہی، اللہ کا ڈر اور اس پر امید تو یہ دلوں کا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ صرف اسے عطا کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

[تیسیر الکریم الرحمن في تفسیر کلام المنان للسعدی: ۹۵]
 

غرباء

مبتدی
شمولیت
جولائی 11، 2019
پیغامات
83
ری ایکشن اسکور
-1
پوائنٹ
27
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

ہمیں کفار کے خلاف بد دعا کرنی چاہیے, خاص طور پر وہ کفار ممالک جو مسلمانوں کے اوپر ظلم کرتے ہیں, اور ان کے ساتھ لڑتے ہیں,مگر جب ان کفار کے اوپر اللہ تعالی کی طرف سے عذاب نازل ہوتا ہے تو یہی مسلمان ان کے لیے دعا کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس بارے میں قرآن اور حدیث سے رہنمائی فرما دیں۔
 
Top