• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل دیوبند میں وحدت الوجود و حلول کے عقائد کے حامل غالی صوفیاء کے عقائد

شمولیت
اگست 16، 2017
پیغامات
112
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
55
انصاران خلافت اسلامیہ کا دیوبندی حضرات کے نام پیغام

منجانب: ٹیم منبر الجہاد و احوال امت
(انصار خلافت اسلامیہ ولایت خراسان)

اہل دیوبند میں وحدت الوجود و حلول کے عقائد کے حامل غالی صوفیاء (اتحادیہ و وجودیہ) کے عقائد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وحدت الوجود و حلول کے صوفیانہ عقائد صحابہ کرام و ائمہ اہلسنت و سلف کے ادوار میں نہیں پائے گئے۔ ان ادوار میں تقویٰ و عبادات گزار شخص کو عابد و زاہد کہا جاتا تھا۔ لیکن تیسری صدی ہجری میں عابدوں کے ایک گروہ منصور حلاج وغیرہ نے فلسفہ سے متاثر ہوکر وحدت الوجود اور حلول کے کفریہ عقائد اختیار کیے۔ ان تمام عقائد کو ابن عربی نے اپنی کتاب فصوص الحکم میں منظبط کرکے پیش کیا۔

وحدت الوجود کا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات کو حقیقت میں اللہ تعالی کا وجود خیال کرنا اور وجود ماسوی کو محض اعتباری سمجھنا۔ وحدۃ الوجود اور حلول کے عقائد سے ہی شیطان نے یہودیت عیسائت اور تمام باطل مزاہب میں شرک کو رائج کیا ہے۔ اور امت محمدیہ میں اس نے اس کو رائج ان گمراہ صوفیوں کے ذریعے کیا ہے۔

منصور حلاج اس کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: "مقام مقربین تک پہنچنے کے بعد اس (انسان) میں بشریت کا شائبہ تک نہیں رہتا تو وہ اللہ پاک میں تحلیل ہو جاتا ہے۔"
[التاریخ التصوف اسلام: ۲۴۲]

حلاج کے درج ذیل اشعار کا ترجمہ ملاحظہ کریں: "پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے ناسوت (یعنی حسین بن منصور حلاج) کو اپنے لاہوت ثاقب کی چمک کا راز بنا کر ظاہر کیا، پھر وہ اپنی مخلوق میں ایک کھانے اور پینے والے کی صورت میں ظاہر ہوا۔"
[تاریخ بغداد، للخطیب بغدادی: ۸/۱۲۹]

منصور حلاج کو یہ بھی خوب معلوم تھا کہ اس کا یہ عقیدہ مسلمانوں کے متفقہ عقیدہ کے سراسر خلاف ہے۔ اس سلسلہ میں اس کے اپنے اشعار ملاحظہ کریں: "الٰہ کے بارے میں لوگوں کے بہت سے عقیدے ہیں اور میں ان سب عقیدوں پرعقیدہ رکھتا ہوں، میں اللہ کے دین سے کفر کرتا ہوں اور یہ کفر میرے لیے واجب ہے اور جب کہ تمام مسلمانوں کے نزدیک برا ہے۔"
[شریعت وطریقت]

ابن عربی نے حلاج کا ایک خط نقل کیا ہے جس کو اس نے اپنے ایک شاگرد کے نام لکھا ہے۔ جو اس طرح شروع ہوتاہے: "اے میرے لڑکے! تجھ پرسلامتی ہو خدا تجھ سے ظاہری شریعت کو چھپائے اور تجھ پرکفر کی حقیقت کھولے کیونکہ شریعت کا ظاہر شرک خفی ہے اور کفر کی حقیقت معرفت جلیہ ہے اما بعد..."
[رسائل ابن عربی، مطبوعہ حیدرآباد جز اول، رسالہ امام رازی ص: ۱۳]

حسین بن منصور حلاج نے اپنے متعلق دین سے ارتداد و کفر کا فتویٰ تو خود ہی لگا دیا۔ حلاج کے دور میں اور بہت سے صوفیاء حلول کا عقیدہ رکھتے تھے مگر اسے چھپائے رکھتے۔ اس عقیدے کو شہرت دوام حلاج سے ہی ہوئی اس کا دعویٰ یہ تھا کہ خدا اس میں حلول کر گیا ہے اس وجہ سے وہ انا الحق کا نعرہ لگایا کرتا تھا۔ سمجھانے کے باوجود جب وہ اس پر مصر رہا تو خلیفہ المقتدر(۳۰۹ ہجری) کے زمانے میں اس کا معاملہ علماء اور قاضیوں کے سامنے پیش ہوا، توعلماء نے اس پر حد قتل کا فیصلہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ثبوت کافی نہیں۔

پھرحامد بن عباس نے علماء کے سامنے اس کی ایک کتاب پیش کی جس میں لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص حج نہ کر سکے تو ایک صاف ستھری کوٹھری کو لیپ پوت کر حج کے ارکان اس کے سامنے ادا کرے تو اس کو حج کا ثواب مل جائے گا۔ حامد بن عباس نے جب یہ فقرے قاضی کو سنائے تو اس نے حلاج سے پوچھا اس کا ماخذ کیا ہے؟ حلاج نے حسن بصری کی کتاب 'الااخلاص کتاب السنہ' کا حوالہ دیا۔ حلاج کی یہ واضح کذب بیانی سن کر قاضی غضب ناک ہوگیا۔ اور حلاج کے قتل پر دست خط کر دیے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حلاج فنا میں ڈوب گیا اور باطنی حقیقت سے معذور تھا۔ مگر ظاہری طور پر اس کا قتل واجب تھا اور کچھ دوسرے (صوفیاء) اسے شہید، فنافی اللہ، موحد اور محقق کہتے ہیں۔ یہ لوگ شریعت کی پرواہ نہیں کرتے... پھرآگے لکھتے ہیں؛ حلاج اپنے کفر کی وجہ سے قتل کیا گیا، وہ قرآن کا معارضہ کرتا تھا، اس کا یہ بھی خیال تھا کہ اگر کسی کا حج فوت ہو جائے تو اپنے ہاں کعبہ بنا کر اس کا طواف کر سکتا ہے۔"
[مجموعہ الرسائل الکبریٰ: ۲/۹۷،۹۹]

منصور حلاج کے عقیدے وحدت الوجود کو بعد ازں ابن عربی نے منظبط کر کے پیش کیا۔ محی الدین ابن عربی اپنی کتاب "فصوص الحکم" میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے: "وجود حقیقی در اصل ایک ہے اور اس کے سوا جو وجود بھی نظر آتا ہے وہ باعتبار ظاہر جداگانہ وجود معلوم ہوتا ہے لیکن باعتبار باطن وجود حقیقی ہی کی ایک نمود ہے۔ اس کے بالمقابل کیا ہے کچھ نہیں، جو ہے وہ اسی وجود کی ایک صورت اور اس کا تعین ہے۔"
[فصوص الحکم: ۴۸]

نیز محی الدین ابن عربی لکھتا ہے: وجود ایک ہی حقیقت ہے، اس لیے ذات باری کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ چنانچہ کوئی ملا ہوا ہے نہ کوئی جدا ہے، یہاں ایک ہی ذات ہے جوعین وجود ہے۔
[فصوص الحکم:۱۳۰]

ابن عربی نے اپنی کتاب فتوحات مکیہ کے پہلے صفحہ پر لکھا ہے: "رب بندہ ہے اور بندہ رب ہے میں نہیں جانتا کہ ان میں احکام شرعیہ کا مکلف کون ہے اگر میں یہ کہوں کہ بندہ ہے تو وہ خود ہی حق تعالٰی ہے اور اگر کہوں رب ہے تو وہ کیسے مکلف ہو سکتا ہے۔" [فتوحات مکیہ: ۱]

ابن عربی سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں لکھتا ہے: "الحمد للہ پس اللہ تعالٰی ہی کے لیے مطلقا حمد و ثنا ہے، اور تفصیل میں جائیں تو وہ حامد (حمد کرنے والا) اور وہی محمود (جس کی حمد کی جائے) اور ابتداء و انتہا کے اعتبار سے وہی عابد (عبادت گزار) اور معبود (جس کی عبادت کی جائے) ہے۔"
[تفسیرالشیخ الاکبر:۳]

اتحاد و حلول کے عقیدے کے حامل کچھ دوسرے صوفیاء کے اقوال ملاحظہ کریں۔ النون مصری نے کہا: "اللہ تعالٰی سے محبت کرتے ہوئے انسان پر ایسا وقت بھی آتا ہے جب وہ اس سے متحد ہو جات اہے۔"
[التاریخ التصوف الاسلام: ۲۱۲]

بایزید بسطامی کا کہنا ہے: "میں نے بہت سے مقامات کا مشاہدہ کیا لیکن جب غور سے دیکھا تو خود کو اللہ کے مقام پر پایا۔"
[تذکرۃ الاولیاء: ۸۳]

نیز بایزید بسطامی کہتا ہے: "جب میں واصل حق ہوا تو خانہ کعبہ میرا طواف کرنے لگا… جب میں سانپ کی کینچلی کی طرح بایزیدیت سے باہر نکلا تو دیکھا کہ عاشق و معشوق دونوں ایک ہیں۔"
[تذکرۃ الاولیاء :۱۰۲]

ابو بکرشبلی کہتا ہے: "قم باذنی اور قم باذن اللہ' میرے حکم سے اٹھ اور اللہ کے حکم سے اٹھ باعتبار مفہوم ایک ہو گئے۔"
[تزکرۃ الاولیاء: ۳۲۰]

وفات کے وقت جب انھیں لا اله الا اللہ کا ورد کرنے کی ترغیب دی گئی تو کہنے لگے "جب غیر اللہ کا وجود ہی نہیں تو نفی کس کی کروں؟"
[تذکرۃ الاولیاء: ۳۲۲]

حسین بن منصور حلاج نے کہا: "میرے اور تیرے درمیان صرف ایک 'میں' ہے جو میرے لیے باعث عذاب ہے، مجھ پر رحم کر اور اس 'میں' کو درمیان سے اٹھالے، میں وہ ہوں جس سے میں محبت کرتا ہوں۔"
[لیگسی آف اسلام :۳۱۸]

علماء اہلسنت اتحاد و حلول کا عقیدہ رکھنے والے صوفیاء کے کفر و ارتداد کی تصریح کرتے ہیں۔

حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “والناس مختلفون فیہ، وأکثرھم علی أنہ زندیق ضال” لوگوں کا اس (حسین بن منصور الحلاج) کے بارے میں اختلاف ہے، اکثریت کے نزدیک و ہ زندیق گمراہ ہے۔"
[لسان المیزان، ج ۲، ص: ۳۱۴ والنسخۃ المحققۃ ۵۸۲/۲]

نیز حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے استاذ امام شیخ الاسلام سراج الدین البلقینی رحمہ اللہ سے ابن عربی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فوراً جواب دیا کہ وہ کافرہے۔
[لسان المیزان: ۶/۳۱۹]

حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس (حسین بن منصور) کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے “القاطع المحال اللجاج القاطع بمحال الحلاج“
[المنتظم: ۲۰۴/۱۳]

ابن جوزی فرماتے ہیں : “أنہ کان مُمَخْرِقاً” بے شک وہ جھوٹا باطل پرست تھا۔"
[ایضاً: ۲۰۶/۱۳]

قاضی تقی الدین سبکی الشافعی رحمہ اللہ نے شرح المنہاج کے باب الوحی میں ابن عربی اور متاخرین صوفیاء کو گمراہ، جاہل اور اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔
[تنبیہ الغبی: ۱۴۳]

حافظ ابن کثیر دمشقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ابن عربی کی کتاب جس کا نام فصوص الحکم ہے اس میں بہت سی چیزیں جن کا ظاہر کفر صریح ہے۔"
[البدایہ و النہایہ :۱۳/۱۶۷]

شمس الدین محمد الغیزری الشافعی رحمہ اللہ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم کے بارے میں فرمایا: "علماء نے کہا ہے کہ اس کتاب میں سارے کا سارا کفر ہے کیونکہ یہ الحاد کے عقیدے پر مشتمل ہے"
[تنبیہ الغبی: ۱۵۲]

امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ابن عربی نے وحدت الوجود والوں کے تصوف کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے اور اس کی تصانیف میں سے سب سے گٹھیا تصنیف الفصوص ہے اگر اس میں کفر نہیں تو دنیا میں کہیں کفرہے ہی نہیں۔"
[سیراعلام النبلاء: ۲۳-۴۸]

ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں: "پھر اس بات کو اچھی طرح جان لوکہ جس کسی نے ابن عربی کے عقیدے کے درست ہونے کا عقیدہ رکھا تو ایسا آدمی بغیر کسی اختلاف کے بالاجماع کافر ہے۔ اختلاف اور کلام صرف اسی وقت ہے جب وہ اپنے کلام کی ایسی تاویل کرتا ہو جو اس کے مقصد کے اچھا ہونے کا تقاضہ کرتی ہو
[اہلسنت کا منہج تعامل]

نیز ملا علی قاری حنفی نے وحدۃ الوجود کے رد میں ایک کتاب تحریر فرمائی ہے جس کا نام 'الرد علی القائلین بوحدۃ الوجود' ہے۔ اس میں لکھتے ہیں:

"پھر اگر تم سچے مسلمان اور پکے مومن ہو تو ابن عربی کی جماعت کے کفر میں شک نہ کرو اور اس گمراہ قوم اور بے وقوف گروہ کی گمراہی میں توقف نہ کرو۔ پھر اگر تم پوچھو: کیا انھیں سلام کہنے میں ابتدا کی جا سکتی ہے؟ میں کہتا ہوں: نہیں اور نہ ان کے سلام کا جواب دیا جائے بلکہ انہیں وعلیکم کا لفظ بھی نہیں کہنا چاہیے کیونکہ یہ یہودیوں اور نصرانیوں سے زیادہ برے ہیں اور ان کا حکم مرتدین کا حکم ہے… ان لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں کوجلانا واجب ہے اور ہر آدمی کو چاہیے کہ ان کی فرقہ پرستی اور نفاق کو لوگوں کے سامنے بیان کرے کیونکہ علماء کا سکوت اور بعض راویوں کا اختلاف اس فتنے اور تمام مصیبت کا سبب بنا ہے۔"
[الرد علی القائلین بوحدۃ الوجود: ۱۵۵-۱۵۶]

یہ بات یاد رہے کہ وحدت الوجود کی اصطلاح کی صوفیاء میں دو تعبیریں ہیں: ایک شرکیہ جس کا تذکرہ ہم نے اوپر کیا ہے، اور دوسری تعبیر غیر شرکیہ ہے جس کا ہم آگے ذکر کریں گے۔

وحدت الوجود کی تعبیر جو شرکیہ ہے اس کے مطابق حقیقت میں مخلوق کا اللہ کی ذات میں شرک اور اتحاد کا عقیدہ رکھا جاتا ہے۔ یہ غالی صوفیہ ہیں جو زندیق اور کافر ہیں۔ اس شرکیہ وحدت الوجود کے عقیدے کے بانی منصور حلاج اور ابن عربی ہیں۔

دیوبندیوں کے اکابرین وحدت الوجود کے شرکیہ عقیدے کے بانی ابن عربی اور منصور حلاج کو اپنا امام قرار دیتے ہیں۔ دیوبندیوں کے عقیدہ کی متفقہ کتاب المہند علی المفندمیں مذکورہے:

"جیسا کہ ہمارے محقق علمائے کرام و سردار العلماء مثلاً شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، تقی الدین سبکی اورقطب عالم شیخ عبد القدوس گنگوہی نے اس موضوع پر جو تحقیق کی ہے۔"
[المہندعلی المفند: ۶۸]

مشہور صوفی عالم امداد اللہ مہاجر مکی کہتا ہے: "نکتہ شناسا مسئلہ وحدۃ الوجود حق و صحیح ہے اس مسئلہ میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ فقیر و مشائخ فقیر اور جن لوگوں نے فقیر سے بیعت کی ہے سب کا اعتقاد یہی ہے۔"
[شمائم امدادیہ، ص: ۳۲]

دیوبندی اکابر اشرف علی تھانوی عقیدہ وحدت الوجود کے امام حسین بن منصور حلاج کو ولی قرار دیتا ہے، اور اس نے اپنے بتھیجے طفر احمد تھانوی سے 'سیرت منصور حلاج' پر کتاب بھی لکھوائی۔ اس کتاب میں مزکور ہے:

“(منصور حلاج) لوگوں کے اسرار بیان کر دیتے، ان کے دِلوں کی باتیں بتلا دیتے۔ اسی وجہ سے ان کو حلاج الاسرار کہنے، پھر حلاج لقب پڑگیا۔”
[سیرت منصور حلاج ، ص: ۳۱]

دیوبندیوں کا اکابر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی وحدت الوجود کے اپنے شرکیہ تصور کو یوں بیان کرتا ہے: ’’اس مرتبہ میں خدا کا خلیفہ ہوکر لوگوں کو اس تک پہنچاتا ہے اور ظاہر میں بندہ اور باطن میں خدا ہو جاتا ہے اسی مقام کو برزخ البرازخ کہتے ہیں۔‘‘
[کلیات امدادیہ/ ضیاء القلوب، ص: ۳۵،۳۶]

حاجی امداد اللہ مزید لکھتا ہے کہ ’’اور اس کے بعد اس کو ہو ہو کے ذکر میں اس قدر منہمک ہو جانا چاہیئے کہ خود مذکور یعنی (اللہ) ہو جائے‘‘ معاذ اللہ
[کلیات امدادیہ ص: ۱۸]

اور پھر اس وحدۃ الوجود کے درجہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے: "اس مرتبہ میں خدا کا خلیفہ ہوکر لوگوں کو اس تک پہنچاتا ہے اور ظاہر میں بندہ اور باطن میں خدا ہو جاتا ہے اس مقام کو برزخ البرازخ کہتے ہیں اور اس میں وجوب و امکان مساوی ہیں کسی کو کسی پر غلبہ نہیں 'مرج البحرين يلتقيان بينهما برزخ لا يبغيان' اس مرتبہ پر پہنچ کر عارف عالم پر متصرف ہو جاتا ہے، اور 'سخر لكم ما في السماوات وما في الأرض' کا انکشاف ہوتا ہے اور وہ ذی اختیار ہو جاتا ہے اور خدا کی جس تجلی کو چاہتا ہے اپنے اوپر کر تا ہے اور جس صفت کے ساتھ چاہتا ہے متصف ہو کر اس کا اثر ظاہر کر سکتا ہے چونکہ اس میں خدا کے اوصاف پائے جاتے ہیں اور خدا کے اخلاق سے وہ مزین ہے۔
"
[کلیات امدادیہ، ص: ۳۶]

سورة الذاريات كي آيت نمبر ۲۱ كے ترجمے ميں تحريف كرتے ہوئے امداد الله نے لكها ہے: "خدا تم ميں سے ہے كيا تم نهيں ديكهتے ہو"
[كليات، ص: ۳۱]

رشيد احمد گنگوہی دیوبندی نے الله تعالى كو مخاطب كر كے فرمايا: "اور جو ميں ہوں وه تو ہے اور ميں اور تو خود شرک در شرک ہے
"
[مكاتيب رشيديه، ص: ۱۰، فضائل صدقات، حصه دوم ص: ۵۵٦]

رشید احمد گنگوہی نے اللہ تعالی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: "یا اللہ معاف فرمانا کہ حضرت کے ارشاد سے تحریر ہوا ہے جھوٹا ہوں کچھ نہیں ہوں، تیرا ہی ظل ہے تیرا ہی وجود ہے، میں کیا ہوں، کچھ نھیں ہوں اور جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے۔" استغفراللہ
[مکاتیب رشیدیہ ص: ۱۰، فضائل صدقات حصہ دوم ص: ۵۵۶]

انور کشمیری دیوبندی نے اپنی کتاب فیض الباری شرح بخاری میں لکھاہے: "حدیث مبارک میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ فرائض کی پابندی سے جو قرب حاصل کرتا ہے اس جیسا اور کوئی قرب نہیں، پھر میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرنے میں کوشاں رہتا ہے حتٰی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو جب میں اسے پسند کرلیتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔

علمائے ظواہر نے اس حدیث کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ "بندہ کے اعضاء جوارح اللہ کی رضا کے تابع ہو جاتے ہیں ان سے وہی حرکت ہوتی ہے جو اللہ کو پسند ہو اور اس کے تمام اعضاء کی انتہاء اور غایت ذات باری تعالٰی ہو تو یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ بندہ سنتا ہے تو خدا کیلئے، گویا اللہ تعالٰی اس بندے کے کان اورآنکھیں بن گیا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ معنٰی لینا حدیث کے الفاظ سے پھر جانا ہے حدیث میں صیغہ متکلم استعمال ہوا ہے جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جو بندہ نوافل سے قرب الٰہی حاصل کر چکا ہو، جسم اور صورت کے بغیر اس کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی اور اس میں تصرف کرنے والا رب العالمین ہی ہے یہ وہ مقام ہے جسے صوفیاء فنافی اللہ کہتے ہیں یعنی خواہشات کے دواعی سے وہ شخص نکل جاتا ہے، اور اس میں صرف اللہ کا تصرف رہ جاتا ہے۔"
[فیض الباری شرح بخاری بحوالہ دلائل السلوک، ص: ۳۳]

نیز لکھتے ہیں: "صوفیا نے فرمایا کہ قرب فرائض میں بندہ اعضائے خدا تعالٰی بنتا ہے اور قرب نوافل میں خدا تعالٰی اعضائے بندہ بن جاتاہے۔"
[فیض الباری:۴/۴۲۷ بحوالہ دلائل السلوک، ص: ۳۲]

ضامن علی جلال آبادی دیوبندی نے ایک زانیہ عورت کو کھا: "بی بی تم شرماتی کیوں ہو؟ کرنے والا کون اور کرانے والا کون؟ وہ تو وہی ہے۔"
[تذکرۃ الرشید: ۲/۲۴۲]

اس ضامن علی کے بارے میں رشید احمد گنگوہی ہی نے مسکرا کر ارشاد فرمایا: ’’ضامن علی جلال آبادی تو توحید (وجودی) ہی میں غرق تھے‘‘
[ایضا ص: ۲۴۲]

یہ بھی یاد رہے کہ وحدت الوجود کا ایک غیر شرکیہ تصور ہے اس میں مخلوق کا اللہ کے ساتھ حقیقت میں اتحاد مراد نہیں لیا جاتا بلکہ مخلوق کو اللہ کے متقابل ناقص الوجود اور صرف محاورے کی حد تک کالعدم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان صوفیاء میں تزکیہ کے لیے غیر مسنون اذکار و اعمال اور طریقے اور دیگر کئی بدعتیں پائی جاتی ہیں، اور کچھ میں بہت کم اور کچھ میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان صوفیاء کی مثال شیخ عبد القادر جیلانی ہیں۔

دیوبندی مسلک کے کئی علماء اکابرین میں وحدت الوجود کا کفریہ تصور پایا جاتا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر مزکورہ ان کے اقوال سے ثابت کیا، جب کہ بہت سارے وہ ہیں جو وحدت الوجود کا غیر شرکیہ معنی بتلاتے ہیں۔

انور شاہ کاشمیری (ابھی حضرت متشدد نہیں!) اپنی کتاب فیض الباری میں لکھتے ہیں: "اس مسئلہ وحدۃ الوجود میں ہمارے شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی کے زمانے تک (علماء دیوبند) بڑے متشدد اور حریص تھے۔ میں اس کا قائل تو ہوں لیکن متشدد نہیں ہوں۔"
[فیض الباری]

جامع الفتاویٰ میں فتاویٰ مزکور ہے:
"
سوال: جو مسلمان عاقل و بالغ وحدۃ الوجود کا عقیدہ رکھے، اور یہ کہے کہ "سب وہی اللہ تعالٰی ہے" تو اس کلام سے وہ مسلمان کافر ہو جائے گا یا نہیں؟
جواب: وحدۃ الوجود کا ظاہر معنی خلاف شرع ہے۔ جو شخص اس کا قائل ہو اگر اس کا اعتقاد ہو کہ حق تعالٰی نے تمام چیزوں میں حلول فرمایا ہے، یا اس شخص کا عقیدہ ہو کہ تمام اشیاء اس ذات مقدس کے ساتھ متحد ہیں تو اس کلام سے کفر لازم آتا ہے، اوراگر اس کی مراد یہ ہے کہ تمام چیزوں میں اللہ تعالٰی کی تمام صفتوں کا ظہور ہے تو ایسی حالت میں اس کے کلام سے کفر لازم نہیں آتا، لیکن اس امر سے ایسے امر کا گمان ہوتا ہے جو خلاف شرع ہے، اس واسطے یہ کلام عام مجلسوں میں شائع کرنا مناسب نہیں۔"
[فتاویٰ عزیزی، ص: ۶۷، بحوالہ جامع الفتاویٰ، جلد اول، ص: ۲۷۴]

دار لافتاء دارالعلوم دیوبند وحدۃ الوجود کے غیر شرکیہ تصور کے بارے میں مذکور ہے: "وحدۃ الوجود صوفیہ کی اصطلاح ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کا وجود کامل ہے اور اس کے بالمقابل تمام ممکنات کو وجود اتنا ناقص ہے کہ کالعدم ہے۔ عام محاورہ میں کامل کے مقابلہ میں ناقص کو معدوم سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے کسی بڑے میں غیر تعلیم یافتہ کو یا کسی مشہور پہلوان کے مقابلے میں معمولی شخص کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں، حالانکہ اس کی ذات اور صفات موجود ہیں، مگر کامل کے مقابل میں انہیں معدوم قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالٰی کے وجود کامل کے مقابلہ میں تمام مخلوق کے وجود کو حضرات صوفیہ معدوم قرار دیتے ہیں۔"
[فتاویٰ دارلعلوم دیوبند]

مفتی نظام الدین شامزئی دیوبندی وحدت الوجود کے شرکیہ تصور کے بارے میں فرماتے ہیں: "لیکن جو لوگ (صوفیاء) ابن عربی وغیرہ کے راستے پر ہیں جوکہ وحدت الوجود کا (شرکیہ) عقیدہ رکھتا تھا تو یہ تصوف باطل ہے۔"
[المیزان الحرکۃ]
 
Top