• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایامِ تشریق کے متعلق شرعی احکام

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
265
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
53
ایامِ تشریق کے متعلق شرعی احکام


━════﷽════━
ماہ ذی الحجہ کے ۱۱، ۱۲، ۱۳ تاریخ کے مجموعے کو ایام تشریق کہا جاتا ہے۔

ایامِ تشریق میں سب سے افضل دن:

۱۱؍ ذی الحجہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’إنَّ أعظمَ الأيّامِ عندَ اللَّهِ تبارَكَ وتعالى؛ يومُ النَّحرِ، ثمَّ يومُ القَرِّ‘‘۔
[سنن أبی داود:۱۷٦۵، وصححہ الألبانی]

ایامِ تشریق عید کے دن ہیں:

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہےکہ: ’’يومُ عرفةَ، ويومُ النَّحرِ، وأيّامُ التَّشريقِ؛ عيدُنا أهلَ الإسلامِ، وهي أيّامُ أكلٍ وشربٍ‘‘۔
[سنن أبی داود: ۲٤۱۹، سنن الترمذی: ۷۷۳، سنن النسائی: ۳۰۰٤ وصححہ الألبانی] یومِ عرفہ (حاجیوں کے لئے)، اور یوم النحرو ایام تشریق؛ ہم اہل اسلام کےلئے‘ عید کے دن ہیں۔ اور یہ کھانے، پینے کے دن ہیں۔

ایامِ تشریق کے مخصوص اعمال:

*رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ: ’’أَيّامُ التَّشْرِيقِ أَيّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وذكرٍ لله‘‘۔
[صحیح مسلم: ۱۱٤۱] ایام تشریق؛ یہ کھانے، پینے اور ذکر الہی کے دن ہیں۔

❍ نیز ارشاد باری ہے: ﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ
[البقرۃ: ۲۰۳] اور اللہ تعالیٰ کا ذکر گنتی کے ان چند دنوں (ایام تشریق) میں کرو۔ ابن عباس رضي الله عنهما کہتے ہیں کہ: ’’ایام معدودات‘‘ سے مراد ایام تشریق ہیں۔ [صحیح البخاری تعلیقا بصیغۃ الجزم: قبل رقم: ۹٦۹]
لہذا ان میں مطلق ومقید ہر صورت میں تکبیرات کا اہتمام کیا جائے۔

ایامِ تشریق میں قربانی:

بلا شبہ اِن دنوں میں قربانی کرنا جائز ودرست ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ’’كُلُّ أيّامِ التَّشريقِ ذَبحٌ‘‘۔
[مسند أحمد: ۱۶۷۵۱، صحیح ابن حبان: ۳۸۵۴ وغیرہما، وحسنہ الألبانی] تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں۔

ایامِ تشریق میں روزہ:


مذاہب اربعہ کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ ایام تشریق میں روزہ رکھنا حرام ہے، کیونکہ یہ عید کے ایام ہیں، (سوائے منی میں موجود اُس حاجی کے جو حج تمتع کر رہاہو‘ لیکن وہ ھدی کا جانور نہ پاسکا ہو)۔

❍ اس کی دلیل: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت ہے کہ: ’’لم يُرخَّصْ في أيَّامِ التَّشريقِ أن يُصَمْنَ، إلَّا لِمَن لم يجِدِ الهَدْيَ‘‘۔
[صحیح البخاری: ۱۹۹۸] ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے،سوائے اس حاجی کے جسے ہدی کا جانور نہ مل سکا ہو۔

❍ نیز رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ: ’’أيَّامُ التَّشريقِ أيَّامُ أكْلٍ وشُربٍ‘‘۔
[صحیح مسلم: ۱۱٤۱] ایام تشریق کھانے اور پینے کے دن ہیں۔

•┈┈┈••⊰✵✵⊱••┈┈┈•​
 
Top