• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایمان باللہ توحید کا ناقض

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
215
ری ایکشن اسکور
53
پوائنٹ
41
ایمان باللہ توحید کا ناقض

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جس طرح ائمہ فقہاء نے نماز، روزہ اور اسلام کے دیگر ارکان کے نواقض بیان کیے ہیں۔ جن سے آدمی ان اعمال سے خارج ہوجاتا ہے۔ اس طرح ائمہ کرام نے ایمان باللہ توحید کے نواقض بھی بیان کیے ہیں۔ جس طرح نماز کے نواقض بدن سے ہوا کے اخراج اور دوران نماز کھانا پینا اور قہقہ لگانا وغیرہ ہیں۔ یہ تمام چیزیں نماز کو باطل کرنے والی ہیں۔ اسی طرح ایمان باللہ' توحید کے بھی کچھ نواقض ہیں، جب کوئی آدمی ان نواقض کا ارتکاب کرے تو اس کی توحید باطل ہوجاتی ہے اور وہ مشرک و کافر اور ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔

ایمان باللہ توحید کا ناقض شرک کا ارتکاب کرنا ہے۔ یوں تو مجرد ایمان کے دیگر بھی نواقض ہیں۔ جنہیں ائمہ کرام نے نواقض الاسلام کے باب میں ذکر کیا ہے، لیکن ایمان باللہ' توحید کا ناقض شرک اکبر کا ارتکاب کرنا ہے۔

شیخ سلمان بن سمحان فرماتے ہیں :

لا اله الا اللہ کی گواہی میں ضروری ہے کہ دل سے اعتقاد، زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل ہو، اگر ان میں سے کسی ایک کی بھی کمی ہو تو آدمی مسلم نہیں رہتا۔ اگر کوئی شخص مسلم ہو، ارکان پر عمل کرتا ہو اور پھر اس سے کوئی ایسا عمل، قول یا اعتقاد سرذد ہوجائے کہ جو اس اقرار کے منافی ہو تو اسے صرف لا اله الا اللہ کا اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔

(الدررالسنیہ: ۲-۳۵۰)


  • شرک :
شرک یہ ہے کہ اللہ کی توحید ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات میں کسی اور کو شریک ٹھرانا۔

  • شرک کی تعریف :
شرک سے مراد یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید ربوبیت (خالق، مالک، حاکم، رازق اور متصرف الامور ہونے) میں، توحید الوہیت (عبادت، اطاعت، استغاثہ) میں اور اس کے اسماء وصفات میں کوئی اور بھی شریک ہے۔ اسی طرح اس کے قادر ومختار، عالم الغیب، حی القیوم، لازوال اور بے مثال ہونے میں اس کے ساتھ کوئی اور بھی شامل ہے۔ اور دعا و ندا، نذرو نیاذ، استغاثہ، وسیلہ، محبت، خوف اور توکل کسی اور کے لئے بھی جائز ہے۔

  • شرک اکبر :
اللہ کی توحید ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو شریک کرنا شرک اکبر ہے۔ شرک اکبر ایمان سے خارج کر دینے کا باعث ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :

آج صبح میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہوگئے اور کچھ کافر (ایمان سے خارج) ہوگئے۔ چنانچہ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بارش ہوئی ہے اس نے مجھ پر ایمان رکھا اور ستاروں کے موثر ہونے کا انکار کیا اور جس نے کہا کہ بارش فلاں ستارے کے اثر سے ہوئی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔

(صحیح بخاری: ۸۴۶)

شرک اکبر کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ
(النساء: ۱۱۶)

بے شک اللہ شرک کو ہرگز معاف نہیں فرمائے گا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے۔


  • شرک اصغر :
شرک اصغر میں غیر اللہ کی قسم اور ریاکاری وغیرہ شامل ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف شرک اصغر سے ہے لوگوں نے عرض کیا کہ شرک اصغر کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ریا (دکھلاوا)۔

(مسندا حمد: ۵-۴۲۸)


شرک اصغر کا مرتکب ہمیشہ کے لئے جہنم کا مستحق نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیں گے۔ اسی شرک کے متعلق دعا نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

اللھم انی اعوذبک ان اشرک بک اعلم واستغفرک لما لا اعلم۔
اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں اس شرک سے کہ جسے میں جانتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں اس سے جسے میں نہیں جانتا۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

شرک کی دو اقسام ہیں، شرک اکبر اور شرک اصغر، شرک اکبر کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہ فرمائے گا سوائے اس کے کہ (دنیا میں) توبہ کرلی جائے۔

شرک اکبر ایمان باللہ' توحید کا ناقض اور اسے توڑنے والا ہے۔ اگر کوئی مسلمان دانستہ یا لاعلمی میں شرک کا ارتکاب کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔اور مرتد و کافر ٹھہرتا ہے۔ اس پر بے شمار واضح قرآنی آیات دلالت کرتی ہیں اور تمام ائمۃ المسلمین کا اس پر اجماع ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ
(النساء: ۱۱۶)
بے شک اللہ شرک کو ہرگز معاف نہیں فرمائے گا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا :

ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ سمجھتے تھے کہ ہر نیکی مقبول ہے حتی کہ یہ آیت اتری، یا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم (اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال باطل نہ کرو) پھر ہم نے کہا کہ یہ کیا چیز ہے جو ہمارے اعمال کو باطل کر سکتی ہے۔ اور سوچ کر کہا کہ وہ کبائر جو دوزخ کے موجب ہیں اور بے حیائیاں مراد ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول نازل ہوا : ان اللّٰہ لایغفر ان یشرک به ویغفرمادون ذالک لمن یشاء۔
(باسند عبداللہ بن مبارک)

امام بخاری اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں :


باب المعاصی من امر الجاھلیة ولا یکفر صاحبھا الا بالشرک وقول اللّٰہ تعالی إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ (صحیح بخاری)

اس بات کا بیان کہ نافرمانیاں جاہلیت کا فعل ہیں ان کے مرتکب کو کافر نہیں کہا جائے گا سوائے اس کے کہ شرک کرے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کہ یقیناً اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جسے چاہے معاف کردے۔
شرک اکبر سے تمام نیک اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔


ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (الزمر: ۶۵)

اور البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم ضرور ضرور خسارے میں رہوگے۔

نیز ارشاد فرمایا :

إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ (المائدہ: ۷۶)

بے شک جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں۔

نیز فرمان الٰہی ہے :

الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ (الانعام: ۱۲)
جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم نہ ملایا یہی لوگ امن و سلامتی اور ہدایت والے ہیں۔

اس آیت کے نزول پر صحابہ کرام متفکر ہوئے اس وجہ سے کہ کون ہے جو ایمان کے بعد کچھ نہ کچھ ظلم کا مرتکب نہ ہو۔ انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ظلم سے مراد شرک ہے کیا تم قرآن کی یہ آیت نہیں جانتے ان الشرک لظلم عظیم۔ (بے شک شرک ہی ظلم عظیم ہے)۔


(صحیح بخاری: ۴۷۷۶)


سابقہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک جیسے ظلم عظیم کے مرتکب افراد کو امن اور جان ومال کی سلامتی نہیں دی بلکہ ان کے خلاف لڑائی کو فرض قرار دیاہے۔ شرک سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور اس کی جان ومال حلال ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ وہ دین کا اقرار کرتا ہو اور نماز، روزہ کا پابند ہو۔ اسی لیےصحابہ کرام نے مانعین زکوۃ جو کلمہ کا اقرار اور نماز، روزہ کو ادا کرتے تھے۔ ان کو اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا اور ان سے قتال کیا۔

شرک ایمان و توحید کا اولین ناقض ہے۔ اس پر دلیل حضرت علی رضی اللہ عنه کا فعل ہے کہ انہوں نے اپنے دور خلافت میں ان لوگوں کو جلوا کر قتل کرا دیا تھا جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنه کو اللہ کی ذات وصفات کے ساتھ شریک کیا۔

عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے :

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے پس آپ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم دیا۔

(صحیح بخاری: ۶۹۲۲)

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

یہ آپ لوگوں کا سب سے بڑا دھوکا ہے جس کے ساتھ آپ لوگ عوام کو دھوکے میں ڈالتے ہیں کہ اہل علم فرماتے ہیں کہ کسی بھی گناہ کی وجہ سے مسلمان کی تکفیر جائز نہیں حالانکہ یہ وہ (گناہ) نہیں جن کے بارے میں ہمارا نزاع ہے بلکہ ہماری بات ان سے بالکل مختلف ہے کہ خوارج ہر زانی، چور اور قاتل، کبیرہ گناہ کے مرتکب مسلمان کو کافر کہتے تھے اور اہلسنت کا مذہب ہے کہ وہ مسلمان کو صرف شرک کی وجہ سے کافر قرار دیتے ہیں۔

(رسائل التوحید)
 
Top