1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک نکتہ

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏مئی 06، 2013۔

  1. ‏مئی 06، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    محترم ناظمین صاحبان اور قارئین کرام

    ایک تحریری مکالمہ میرے اور میرے دوست کے درمیان ہوا تھا۔ جسے آپ کی نذر کرنا چاہ رہا ہوں۔ اگر کہیں غلطی ہو تو معاف فرما دیجیے۔ اور اگر انتظامیہ حذف کرنا چاہے تو بھی اس کو مکمل اختیار ہے۔

    مکالمے کی روداد

    میرے دوست نے لکھا

    چلیے ایک لمحے کے لئے مان لیتے ہیں کہ

    سوال یہ ہے کہ کیا برصغیر میں مسلمانوں نے اپنے معاشرے میں قرون اولی کے بعد ایک لمحے کے لئے بھی خلافت الٰہیہ قائم کی ہے؟ یا خلافت کا حصے رہے ہیں؟

    دوسری بات یہ کہ جمہوریت والے اپنے معبود کی بات نہیں مانتے۔ مقابلے میں مسلمان اپنے معبود کی بات نہیں مانتے۔

    اپنے اپنے معبود کی بات نہ ماننے میں تو دونوں ہی مشترک ہیں۔

    کیا کسی ’’اور‘‘ کی بات ماننے میں بھی مشترک ہیں؟ اور وہ ’’اور‘‘ کون ہے؟؟؟؟


    سوال دہرایا جاتا ہے؟

    بہت بہت شکریہ جناب۔
    چونکہ یہ اسلامی فورم ہے اور اسلام کی رو سے اس پر بات کرنا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے۔
    عرض یہ ہے کہ اسلام برائی کو اس وقت ہاتھ سے منع کرنے، یا اس کے خلاف بات کرنے کا حکم دیتا ہے جب برائی ہو رہی ہو۔


    خلافت ہی اسلامی حکومت اور اسلامی طرز حکومت ہے
    دلیل:
    وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۝۰ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا۝۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ (سورۃ النور:55)
    جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو زمین میں خلافت عطا فرماهے گاجیسا ان سے پہلے لوگوں کو بھی خلافت دے چکا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں

    جی بالکل بجا فرمایا آپ نے کہ مشاورت ہی اس کا حل ہے۔ دلیل: امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مشاورت کے لئے چنا جس وقت کہ لشکر اسامہ کی روانگی تذبذب کا شکار ہو رہی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے لشکر روانہ فرما دیا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس رکھ لیا۔ اس کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے ایسے لوگوں کو مشیر مقرر فرمایا جو قرآن و سنت کے سب سے زیادہ عالم باعمل تھے اور کسی جاہ و جلال حکومت وغیرہ کو اللہ کے احکامات کے مقابلے میں خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ مثلاً سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیگر بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مقدم کرنا اور مشیر بنانا۔ وغیرہ وغیرہ۔

    یہ ایک ایسا فتوی ہے جس پر آج اُمت مسلمہ کے بہترین لوگ ’’اہل الحدیث‘‘ بھی تذبذب کا شکار اور چشم پوشی کرتے نظر آتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں سب سے اچھا ملک سعودی عرب ہے جہاں کے فرمانرواؤں نے توحید قائم کرنے اور حدود اللہ نافذ کرنے کے بعد بھی ’’خلیفہ‘‘ کا لقب اختیار نہیں کیا۔ کیونکہ وہ اس کے معانی و مقام کو جانتے ہیں۔ ورنہ عباسیوں کی طرح وہ بھی ’’خلیفہ‘‘ کہلواتے۔

    اللہ کرے ہم اسلامی حکومت قائم کرنے والے بن جائیں۔ کیا آپ تیار ہیں؟

    اسی طریقے سے جس طریقے پر چل کر محمد رسول اللہ ﷺ نے اسلامی حکومت قائم کی۔

    ہمارا کردار وہی ہونا چاہیے جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔ جن کے کردار جیسے کردار کا تقاضا اللہ رب العزت نے یوں فرمایا ہے:

    فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا۝۰ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ۝۰ۚ فَسَيَكْفِيْكَہُمُ اللہُ۝۰ۚ وَھُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝۱۳۷ۭ [٢:١٣٧]
    تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمہارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمہیں اللہ کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے ۔

    نکتہ توحید ہی وہ نکتہ ہے جس پر لوگ جمع ہو سکتے ہیں۔ اور یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اسی نکتہ پر مختلف قبائل اور رنگ و نسل کے لوگوں کو اکٹھا کیا۔ کوئی کر کے تو دیکھے۔

    کس کے حصے میں کیا آتا ہے اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ وقت کے وہم سے نکل کر اپنے حصے کا کام کیجیے۔ اللہ جب چاہے گا مقصود حاصل ہو جائے گا۔

    طریقہ کار اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔

    صادق و امین قسم کے لوگ یہ فیصلہ کریں گے۔
    دلیل: رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد خلافت کا فیصلہ کرتے ہوئے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا (مفہوم) ابوعبیدہ بن الجرح کو رسول اللہ ﷺ نے امین الامت قرار دیا ہے لہٰذا انہیں خلیفہ بنا لو۔ جبکہ ’’امین الامت‘‘ رضی اللہ عنہ نے ’’صدیق‘‘ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی ابتدا فرمائی۔ اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے۔

    آج بھی انہی کے کردار کے حامل لوگ ہوں گے تو اللہ تعالی سے امید خلافت ہو سکتی ہے۔

    سوال و جواب کے زمرے میں یہ سوال پوچھئے۔ جواب ملے تو ٹھیک ورنہ خود مطالعہ کیجیے۔ ڈھونڈ نکالیے ایسے لوگوں کو۔ اور ایسا کرنے سے ہی ہو گا صرف سلوگن سے بات نہیں بنے گی۔

    اس کا جواب سابقہ سوالوں کے جواب میں آ چکا ہے ملاحظہ فرمائیے۔

    شاید اسی طرح کی باتیں سوچ سوچ کر ہی کوئی انسان شیخ چلی کا لقب پا چکا ہے۔

    کیونکہ

    لوگوں کو گن گن کر حکومت کرنے والے آسمانی قانون کا مطالبہ کرنے والوں کو کیا کہتے ہیں ارشادِ باری تعالی ہے:
    قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَہُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا۝۰ۚ وَلَوْلَا رَہْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ۝۰ۡوَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ۝۹۱ [١١:٩١]
    اُنہوں نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو۔

    قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا۝۰ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ۝۸۷ [١١:٨٧]
    انہوں نے کہا شعیب (علیہ السلام) کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو ۔

    قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا۝۰ۭ قَالَ اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِہِيْنَ۝۸۸ۣ [٧:٨٨]
    (تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ اے شعیب! (علیہ السلام) (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)

    فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ۝۰ۚ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَہَّرُوْنَ۝۵۶ [٢٧:٥٦]
    تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اس کے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کو اپنے شہر سے نکال دو۔ یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں۔

    وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ۝۰ۭ قُلْ اِنَّ ھُدَى اللہِ ھُوَالْہُدٰى۝۰ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۝۰ۙ مَا لَكَ مِنَ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۝۱۲۰ؔ [٢:١٢٠]
    اور تم (ﷺ) سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر ﷺ) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی الٰہی) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو اللہ (کے عذاب) سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار ۔


    وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِيْكُمْ رَسُوْلَ اللہِ۝۰ۭ لَوْ يُطِيْعُكُمْ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰكِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَہٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّہَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ۝۷ۙ [٤٩:٧]
    اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے پیغمبر ﷺ ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن اللہ نے تم کو ایمان عزیز بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا۔ یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں۔

    وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۝۱۱۶ [٦:١١٦]
    اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں، اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں اللہ کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں ۔

    تکرار سے بچنے کے لئے صرف نئی چیز پر اپنی فہم کے مطابق عرض کروں گا کہ

    بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ یعنی سبھی گنہگار ہوں گے سوائے اُن کے جنہوں نے خلافت کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق عمل کیا، کوشش جاری رکھی، لوگوں کو بتایا اور اپنی زندگی کو اس سانچے میں ڈھال لیا۔ اللہ تعالی ہمیں انہی میں سے کرے۔ اس کا دوسرا رُخ سوالوں کے جواب کے بعد عرض کروں گا۔ ان شاء اللہ۔

    یہ دراصل دو سوال ہیں۔ پہلا یہ کہ خلافت راشدہ ہی صحیح اسلامی نظام حکومت کی اعلی ترین شکل ہے۔ اور قیامت تک یہ مثال ہی رہے گی۔ بعد میں جس جس حکمران نے خلافت راشدہ کو مشعل راہ بنایا اللہ تعالی نے اُن کی عزت و تکریم دنیا میں باقی رکھی ہے۔ مثلاً عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ۔ وغیرہ۔

    آپ کے سوال کا دوسرا جز ہے کہ اس (یعنی خلافت راشدہ) کے بعد اتنا لمبا عرصہ اور اب کا دور اس (خلافت) سے کیوں محروم رہا۔

    عرض ہے کہ جو لوگ گزر گئے اُن پر بات کرنے سے پہلے ہمیں اپنا طرز عمل دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ پہلے لوگوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اور ہم سے ہمارے اعمال کا سوال ہو گا اور اللہ تعالی بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ خلافت کے متعلق اگر ہمیں آگاہی ہو گئی ہے تو پھر ہمارے اعمال ہی اس کا فیصلہ کریں گے کہ ہم اسلامی نظام حکومت کے ساتھ کتنے مخلص تھے، ہیں اور ہوں گے۔ اللہ تعالی ہمیں اپنے دین کا فہم، اس پر عمل اور اس کو نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔

    میرے خیال میں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اسلام کل بھی غالب تھا۔ اس کی تعلیمات آج بھی غالب ہیں۔ اور قیامت تک رہیں گی۔ اسلام کو ماننے والوں کی بداعمالیاں اور اسلامی نظام حکومت سے دو رُخی، دُوری اور بیزاری اصل وجوہ ہیں۔ اسلام نہ تو کبھی جھکا ہے اور نہ جھکے گا۔ اسلام کو ماننے والے جھک جائیں تو اور بات ہے۔ اسلامی نظام حکومت کل بھی اظہر من الشمس تھا آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔

    کیا ہم اسے قائم کرنے والے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر اللہ کے حکم سے اکثر چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آجایا کرتی ہیں۔ سمجھنے سمجھانے کے لئے تو بہت کچھ ہے۔ عمل اصل بات ہے۔

    اب اس نکتے کی طرف آتا ہوں جس کا تذکرہ شروع میں کیا تھا کہ

    ’’اس کا دوسرا رُخ سوالوں کے جواب کے بعد عرض کروں گا‘‘۔

    محترم بھائی: اللہ تعالی اپنی اس کتاب میں ارشاد فرماتا ہے جسے اُس وحدہ لا شریک نے ہماری طرف بھیجا ہے:

    قُلْ يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۭ (سورۃ المآئد:69)
    کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے۔

    اگر ہم سے پہلے لوگ آسمانی کتابوں (تورات و انجیل وغیرہ) کو اپنی زندگیوں میں قائم نہ کریں تو وہ صراطِ مستقیم سے دُور ہٹے ہوئے نظر آتے ہیں، اُن پر اللہ تعالی کی نعمتیں سایہ فگن نہ رہیں پوری دنیا پر اُن کی فضیلت اُن سے چھن جائے
    تو سوچنا یہ ہو گا

    کہ تورات و انجیل کی قرآن بھی اللہ تعالی کی کتاب ہے، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی کوئی کتاب نازل نہیں ہو گی قیامت تک یہی دستورِ حیات پسند کیا گیا اور چلے گا۔ جب یہ سب کچھ سچ ہے تو پھر یہ بھی سچ ہے کہ آج کے مسلمان اللہ کی کتاب (قرآن اور اس کی شرح سنت نبوی ﷺ) کو قائم کئے بغیر اُس فضیلت کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں جسے اللہ کی کتاب میں لکھا گیا تھا کہ

    كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (سورۃ آل عمران:110)

    اسی سے متعلق دوسرا زاویہ نظر یہ ہے کہ

    آج ہمارے مبلغین کرام کم و بیش ہر خطبے میں

    وخير الهدي هدي محمد (ﷺ)

    کہتے ہیں اور عام طور پر دلیل کے طور پر جب یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں تو موضوع بحث نماز روزہ حج و زکوٰۃ وغیرہ ہی ہوتے ہیں۔

    اسلامی نظام حکومت کے لئے دلیل دیتے وقت

    وخير الهدي هدي محمد (ﷺ)

    کے الفاظ صرف نظر کر دیتے ہیں۔

    پوری حدیث اس طرح سے ہے۔

    ويقول صلى الله عليه وعلى اله وسلم: "أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل محدثةٍ بدعة وكل بدعة ضلالة"(1) أخرجه مسلم وفى رواية للنسائي: "وكل ضلالة في النار"(2)
    (1) أخرجه الإمام أحمد في مسنده في مسند المكثرين من الصحابة (14455)، ومسلم في كتاب الجمعة (1435)، والنسائي في كتاب صلاة العيدين (1560)، وابن ماجه في كتاب المقدمة (44)، والدارمي في كتاب المقدمة (208)، من حديث جابر بن عبد الله رضي الله عنهما.
    (2) أخرجه النسائي في سننه، في كتاب صلاة العيدين، باب كيف الخطبة (1560)، من حديث جابر بن عبد الله رضي الله عنه.

    کہنا تو اور بھی بہت کچھ تھا لیکن اکتاہٹ کے خوف سے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالی سے امید کرتا ہوں کہ وحدہ لا شریک اللہ ہمیں ضرور بھر ضرور اس راستے پر چلائے گا جو اسلامی نظام حکومت پر منتج ہو گا۔ اللہ تعالی قبول و منظور فرما لے۔ آمین
     
  2. ‏مئی 06، 2013 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    کبھی کبھی وقت کی کمی کے باعث اتنا طویل مراسلہ ایک وقت میں نہیں پڑھا جا سکتا اس لئے اس پر آخر میں اپنا نقطہ نظر مختصر ایک پیراگراف میں پیش کر دیتے تو دلچسپی بڑھ جاتی۔

    والسلام
     
  3. ‏مئی 06، 2013 #3
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    ماشاءاللہ اچھی کوشش ہے
    اور انداز بیان بھی خوب ہے
    اور ایمانی جذبہ بھی خوب ہے
    جزاک اللہ خیراً
     
  4. ‏مئی 06، 2013 #4
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    درست فرمایا آپ نے۔۔۔
    کیونکہ ان میں سے کوئی عالم نہیں ہے لہذا جتنے ممبران ہونگے اتنی ہی آراء سامنے آئیں گی۔۔۔
    اور جو علماء ہیں وہ کس حد تک خود احکامات الہٰی سے مخلص ہیں یہ کوئی دھکی چھپی بات نہیں ہے۔۔۔
    کنعان بھائی نے درست فرمایا کہ اتنے سارے لوگوں کا موقف پڑھ کر بات کو آگے لے کر چلنا بھی۔۔۔
    صحیح سمت کا تعین نہیں کر پائے گا لہذا آپ اپنا نقظہ نظر پیش کردیں تاکہ اسی پیرائے میں بات کو آگے لیکر چلیں۔۔۔
    مثال کے طور پر اقتباس پیش کردوں۔۔۔
    مہذب طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اگر کسی بحث کا سمجھ رہے ہیں تو اس پر اپنے تاثرات پیش کیجئے۔۔۔
    کیونکہ اس طرح کے موضوعات بہت سنجیدہ ہوتے ہیں۔۔۔
    اور اگر اس طرح کے غیرذمہ دارانہ الفاظ پیش کئے جائیں گے۔۔۔
    تو کیا موضوع اپنے منطقی انجام تک پہنچ پائے گا؟؟؟۔۔۔
    اگر آپ جمہوریت کو نہیں مانتے تو پھر آپ پاکستان سے بھی برات کا اظہار کیجئے۔۔۔ اس پر بدعت کا فتوٰی جاری کریں۔۔کیونکہ
    اگر اسلام ہی آپ کی پہچان ہے تو پھر ہم سب کو مسلمان ہونا چاہئے تھا۔۔۔
    ناکہ پاکستانی، ہندوستانی، بنگالی ، سری لنکن، انڈونیشی، بحرینی، عمانی، شیخ، اور سعودیوں میں کیوں بٹے ہوئے ہیں۔۔۔
    کڑوی بات کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن سچائی کو ہضم کرنا اتنا ہی مشکل۔۔۔
    ہمارے لئے سب سے زیادہ خطرناک افراد وہ ہیں۔۔۔
    جو چار کتابیں پڑھ کر چھ علماء کی صحبت میں کچھ وقت گذار کر ہنس کی چال چلنے لگتے ہیں۔۔۔
    لہذا اس طرح کے شوشے چھوڑنے سے بہتر ہوتا ہے انسان خاموشی سے تماشا دیکھے۔۔۔
    نہیں دیکھ سکتا تو وہ بات کرے موضوع کے معیار تک پہنچ رہی ہو۔۔۔
    ورنہ آخری صورت یہ ہی نکلتی ہے کہ جو بات کی گئی موصوف اتنی ہی عقل کے حامل ہیں۔۔۔
    جتنی بات وہ کہہ گئے ہیں۔۔۔
    لہذا کسی کو چھوٹا دیکھنے کے لئے ضروری نہیں اُسے دور سے دیکھا جائے۔۔۔ غرور سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔۔۔
    اور جو مثال موجود ہے۔۔۔
    شکریہ۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. عبد الرشید
    جوابات:
    0
    مناظر:
    57
  2. khalil
    جوابات:
    0
    مناظر:
    170
  3. اسرار حسین الوھابی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    131
  4. khalil
    جوابات:
    0
    مناظر:
    75
  5. عامر عدنان
    جوابات:
    1
    مناظر:
    128

اس صفحے کو مشتہر کریں