1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک کہانی، ایک حقیقت

'اردو زبان وادب' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏اگست 05، 2014۔

  1. ‏اگست 05، 2014 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ کراچی کے شمارہ اگست2014 ء میں ڈاکٹر عبدلرب بھٹی کی ایک کہانی ”لکیروں کے اسیر“ شائع ہوئی ہے۔ اس کہانی کا تانا بانا اسلامی عائلی قوانین کے پس منظر میں بنا گیا ہے۔لیکن فاضل مصنف نے اس کہانی میں متعددفاش غلطیاں کی ہیں۔ پہلے کہانی کا خلاصہ سن لیجئے۔روبی کی شعیب سے محبت کی شادی ہوتی ہے اور کئی برس تک اولاد نہ ہونے پر روبی اپنے شوہر سے میڈیکل چیک اَپ کی بات کرتی ہے۔ جس پر شوہر صاحب سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اورآئندہ اس موضوع پر بات کرنے یا میڈیکل چیک اَپ کرانے سے سختی سے انکار کرتے ہیں۔ بعد ازاں روبی اپنی ایک سہیلی کے اصرار پر شوہر کو بتلائے بغیر اپنا میڈیکل چیک اَپ کرواتی ہے اور رپورٹ کلیئر آنے پر شوہر کو یہ بات بتلا کر اُسے اپنا چیک اَپ کرانے کو کہتی ہے۔ شوہر نامدار اس بات پر اتنا مشتعل ہوجاتاہے کہ ایک ساتھ تین طلاق دے دیتا ہے اور دونوں میں جدائی ہوجاتی ہے۔ بعد میں شوہر کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ روبی سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے بتلایا جاتا ہے کہ وہ ایسا ”حلالہ “کروانے کے بعدہی کرسکتا ہے۔ چنانچہ وہ روبی کو بھی اس بات پر آمادہ کرلیتا ہے۔ روبی اپنے ایک سابقہ ہم جماعت اسدکو حلالہ کرنے پر راضی کرلیتی ہے۔ اسد روبی سے شادی کرلیتا ہے اور اس کے ساتھ ہم بستری کرنے کے بعد حسب معاہدہ طلاق دے دیتا ہے۔ عدت گذار کر روبی دوبارہ اپنے پہلے شوہر شعیب سے شادی کرلیتی ہے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد روبی حاملہ ہوجاتی ہے، اور ایک بیٹے کو جنم دیتی ہے۔ شعیب کو کچھ شک ہوتا ہے اور وہ بیوی کو بتلائے بغیر اپنا میڈیکل چیک اَپ کراتا ہے تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو باپ بننے کے قابل ہی نہیں ہے۔ چنانچہ وہ روبی کے اس اولاد کو باپ کی شفقت نہیں دیتا حتیٰ کہ بیٹا جوان ہوجاتا ہے۔ بیٹااس بات پر ذہنی طور پر پریشان رہتا ہے کہ اسے ماں تو پیار کرتی ہے لیکن باپ اسے کیوں نظر انداز کرتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد روبی کو بھی شعیب کے میڈیکل رپورٹ کا پتہ چل جاتا ہے۔ تاہم وہ دونوں اس بارے میں خاموش رہتے ہیں اور اپنے بیٹے کو بھی اس بارے میں کچھ نہیں بتلاتے۔ کہانی گو کہ آگے بھی چلتی ہے، مگر وہ ہمارے زیربحث موضوع کا حصہ نہیں ہے۔
    ---------------------------------------------------------------------------------------------
    اس کہانی میںسب سے بڑا فنی نقص یہ ہے کہ جب روبی اسد سے طلاق لے کر اورعدت گزار کر شعیب سے شادی کرتی ہے تو پھر وہ اسد سے حمل کیسے لے کر آتی ہے۔ غالباََ مصنف کو عدت کا صحیح مطلب ہی نہیں معلوم یا وہ سمجھ رہے ہیں کہ عدت کا مطلب محض تین ماہ کا وقفہ ہے۔ حالانکہ عدت کا مطلب ہے کہ عورت تین حیض گزارے، جو عمومی طور پر تین ماہ کے مساوی ہوتا ہے۔ اگر کسی خاتون نے طلاق کے بعد تین حیض گزار لئے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ اب حاملہ نہیں ہے۔ میڈیکل سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ تین حیض کے بعد خاتون کے جسم میں اس کے سابقہ شوہر کا کوئی جرثومہ باقی نہیں رہتا، جو اسے حاملہ کرسکے۔ اور اسلامی شریعت بھی عدت گزارنے کا حکم اسی لئے دیتی ہے تاکہ اولاد کا حسب نسب واضح اور صاف صاف رہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی حاملہ خاتون کسی اور سے شادی نہیں کرسکتی تاوقتیکہ وہ بچہ جنم نہ دے لے کیونکہ حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے۔ اور حمل کی ایک واضح نشانی یہ ہے کہ خاتون کو مقررہ مدت پر حیض نہیں آتا۔لہٰذا عدت کی مدت یعنی تین حیض تک حمل کا چھپے رہنا ناممکن ہے۔
    ------------------------------------------------------------------------------------------
    اس کہانی کا مرکزی موضوع ” حلالہ“ ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں میں کرائے کا سانڈ نہ بتلاو¿ں ؟ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ضرور بتلائیے۔ آپ نے فرمایا : حلالہ کرنے والا ( پھر آپ نے مزید فرمایا) اللہ تعالی کی لعنت ہو حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے پر۔ (سنن ابن ماجہ ، سنن دار قطنی ، مستدرک الحاکم)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے،دونوں پرلعنت فرمائی ہے۔ (جامع ترمذی:۱۱۱۹)۔ دوسری روایت میں حلالہ کرنے والے کوکرائے کا سانڈ قرار دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: ۱۹۳۶)۔ گویا ”حلالہ کرانا“ اسلام میں حرام ہے۔ یہاں حلالہ کرانا سے مراد یہ ہے کہ تین طلاقوں کے بعد سابقہ شوہر سے دوبارہ شادی کرنے کی غرض سے کسی دوسرے مرد سے ایک رات یا چند دنوں کی معینہ مدت کے لئے طے شدہ معاہدہ کے تحت شادی کرنا ۔یہ کارِحرام ہے اور اسی فعل پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ قرآن میں جس ”حلالہ“ کا ذکر ہے، وہ ”حلالہ کا ہونا“ ہے نہ کہ ”حلالہ کا کرنا“۔ حلالہ ”ہوتا“ اس طرح ہے کہ اگر کسی خاتون کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں اور وہ عدت گزارنے کے بعدکسی اور مرد سے نارمل طریقہ سے شادی کرلے ۔حلالہ کی نیت سے معینہ مدت کے لئے نہیں کہ اسلام میں معینہ مدت کے لئے شادی حرام ہے اور یہ زنا کے مترادف ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حلالے کی نیت سے کئے گئے نکاح کوزنا سمجھتے تھے۔اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا، اگریہ دونوں میرے علم میں آگئے تو میں دونوں کو رجم کردوں گا۔ (تفسیر ابن کثیر)۔ پھراگر یہ دوسرا شوہر مرجائے یا اس سے بھی کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے اور یہ اُسے طلاق دے دے۔ تب اب یہ خاتون اپنے پہلے والے شوہر سے بھی شادی کرسکتی ہے۔مرد ایک یا دو طلاق کے بعد عدت کے اندر اندر زبانی یا عملاََرجوع کرسکتا ہے یا عدت کے بعد نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرسکتا ہے۔ لیکن تین طلاق کے بعد دائمی جدائی ہوجاتی ہے۔ تین طلاق کے بعد عدت کے اندر اندر نہ تو رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی بعد از عدت ان دونوں کا آپس میں نیا نکاح ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ ایک یا دو طلاق کی صورت میں مطلقہ کو اپنی عدت اسی شوہر کے گھر میں گزارنی ہوتی ہے۔ دوران عدت نہ تو شوہر اسے گھر سے نکال سکتا ہے اور نہ ہی بیوی کو شوہر کا گھر چھوڑ کر جانا چاہئے۔ تاکہ اگر طلاق کی وجہ محض غصہ ہو اور غصہ اترنے پر شوہر رجوع کرنا چاہے تو کرسکے۔
    ---------------------------------------------------------------------------------------------
    اللہ نے یہ تمام واضح احکامات قرآن میں یوں بیان کئے ہیں:طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا یا بھلے طریقے سے رخصت کردیا جائے (البقرہ۔۹۲۲) ۔اور مطلقہ عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو (نیا نکاح کرنے سے) روکے رکھیں۔ ۔ ۔ اور اُن کے شوہر اس مدت میں اُن کو (اپنی زوجیت میں) واپس لے لینے کے حقدار ہیں (البقری۔۸۲۲)۔پھر اگر وہ (تیسری بار) اس کو طلاق دیدے تو اس کے بعد وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ اس عورت کا نکاح کسی اور سے ہوجائے (البقرہ۔۰۳۲)۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو۔ ۔ ۔ (زمانہ عدت میں) نہ تم انہیں گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔ ۔ ۔ تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے(طلاق۔۱)۔ حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے (طلاق۔۴)۔ ان کو (عدت کے دوران) اسی جگہ رکھو، جہاں تم رہتے ہو۔ جیسی کچھ جگہ بھی تمہیں میسر ہو۔ اور انہیںتنگ کرنے کے لئے انہیں نہ ستاو¿۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہوجائے (طلاق۔۶)۔
    ---------------------------------------------------------------------------------------------
    قرآن و حدیث کی روسے طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو اُس حالت طہر میں طلاق دی جائے، جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو۔ پھر تین حیض تک اسے شوہر کے گھر میں ہی عدت گزارنے دیا جائے۔ اس دوران بیوی بناو سنگھار کے ساتھ موجود رہے اور شوہر چاہے تواس دوران زبان سے یا عملی طور پر رجوع کرسکتا ہے۔یوں پھر وہ دونوں شوہر بیوی کے طور پر ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اگر عدت کی مدت گزر جائے اور شوہر نے رجوع نہیں کیا تو پھر دونوں میں علیحدگی ہوجائے گی۔ اب دونوں کہیں اور بھی شادی کرسکتے ہیں اور اگردونوں چاہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ بھی نئے مہر کے ساتھ شادی کرسکتے ہیں۔ اب اگر خدانخواستہ دوبارہ ان کے درمیان تنازعہ ہوجائے تو پھر طلاق کا وہی طریقہ اختیار کیا جائے گا، جو پہلی طلاق کے موقع پر اختیار کیا گیا تھا۔ یعنی بلا مباشرت والے حالت طہر میں طلاق دے کر تین حیض تک عدت گزارنا۔ جس کے دوران شوہر رجوع بھی کرسکتا ہے۔ اور عدت کے بعد دونوں کہیں اور بھی شادی کرسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بھی نئے مہر کے ساتھ شادی کرسکتے ہیں۔آپس میںشادی کرنے کی صورت میں اب مرد کے پاس طلاق کی ایک ہی حق باقی رہ جاتا ہے۔ اب اگر مرد نے تیسری بار طلاق دیدی تو اب رجوع یا آپس میں دوبارہ نکاح کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ اب عورت کو لازماََ کسی اور مرد سے ہی شادی کرنی ہوگی۔لیکن یہ شادی ’حلالہ‘ کی نیت سے نہیں بلکہ مستقل نیت سے کرنی ہوگی۔ البتہ اگر اس کا یہ دوسرا شوہر وفات پاجائے یا یہ بھی کسی وجہ سے اسے طلاق دیدے ، تب یہ عورت اگر چاہے تو اپنے پہلے والے شوہر سے شادی کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ طلاق دینے کا افضل طریقہ یہی ہے کہ اُس حالت طہر میں دی جائے، جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو۔ تاہم اگر مباشرت کئے جانے والے حالت طہر میں ، حیض کے دوران یا دوران حمل بھی طلاق دی جائے تو طلاق نافذ ہوجاتی ہے۔
    ----------------------------------------------------------------------------------------------
    اب آتے ہیں ایک ساتھ یا ایک نشست میںتین طلاق دینے والے مسئلہ کی طرف۔گو کہ یہ درست ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق کو مذاہب ِاَربعہ کے فقہا تین طلاقیں ہی شمار کرتے ہیں، لیکن اس پر اِجماع نہیں ہے اور نہ ہی مذاہب ِاَربعہ کا اتفاق اجماع کے مترادف ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت موجود ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے زمانے میں، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی د و سالوں تک ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں۔مسنداحمد میں حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ موجود ہے، ا±نہوں نے تین طلاقیں دے دی تھیں جس پر وہ سخت نادم ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پرجب ا±نہوں نے یہ بتایا کہ ا±نہوں نے یہ طلاقیں مجلس واحد میں دی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا±نہیں رجوع کرنے کی اجازت دے دی، اور ا±نہوں نے رجوع کرلیا۔ گویا ایک ساتھ جتنی بھی طلاقیں دی جائیں، وہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی۔ اور دوران عدت شوہر رجوع بھی کرسکتا ہے اور بعد از عدت اسی عورت سے نیا نکاح بھی کرسکتا ہے۔ یہی طریقہ دور رسالت، دور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک رائج رہا۔ پھر طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتظامی حکم نافذ کیا کہ اگر کسی نے ایک ساتھ تین طلاقیں دیں تو وہ تین ہی نافذ ہوگی اور دونوں کو جدا کردیا جائے گا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس رائے سے رجوع کرلیا تھا۔ لیکن اگر بالفرض محال ایسا نہ بھی ہوا ہو تب بھی ہمارے لئے دور رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہی قابل تقلید ہے، نہ کہ کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا امام کا طریقہ،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ سے مختلف اور متضاد بھی ہو۔ آج اگر ہم نکاح و طلاق کے معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رائج طور طریقوںپر عمل کریں تو بہت سی پریشانیوں بالخصوص حلالہ جیسے کار حرام سے بچ سکتے ہیں۔ (تحریر: یوسف ثانی)
    ........................................................................................
    پس تحریر: نوٹ: یہ ایک ’جوابی بلکہ وضاحتی‘ مضمون ہے جسے مذکورہ بالا کہانی کے جواب میں متذکرہ بالا رسالہ کو بھیجنے کے لئے فی البدیہہ لکھا گیا ہے۔ یہ کوئی مستقل نوعیت کا مضمون نہیں ہے، جس میں موضوع سے متعلق تمام ضروری نکات کا احاطہ کیا گیا ہو۔
     
    Last edited: ‏اگست 05، 2014
    • زبردست زبردست x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 05، 2014 #2
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    721
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    جزاک اللہ خیرا
    اللہ آپ کی اس محنت کو قبول فرمائے۔ آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 05، 2014 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ماشاءاللہ بہت خوب ۔
     
  4. ‏اگست 06، 2014 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ماشاءاللہ
    بہت اچھے
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ‏اگست 07، 2014 #5
    merapakistan777

    merapakistan777 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 06، 2014
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    A.A
    Bhai kuch hame samja de
     
  6. ‏اگست 07، 2014 #6
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله-

    عمدہ تحریر ہے - تین طلاق اور حلالہ کے شرعی احکام کو اس واقعہ سے واضح کیا گیا ہے -

    دیوبندی حنفی حضرات کے لئے یہ ایک سبق آ موز تحریر ہے - جو تین طلاق اور حلالہ کو جائز قرار دیتے نہیں تھکتے- جب کہ نبی صل الله علیہ و آ لہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے نزدیک دونوں افعال نا جائز تھے-

    اشماریہ بھائی کہاں ہیں - ذرا یہ تحریر ملاحظه کرلیں -
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  7. ‏اگست 08، 2014 #7
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    مسلمان محض دعوی کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ مسلمان وہ ہے جو قرآں وسنت کے واضح تعلیمات پر ایمان و یقین کامل رکھتا ہو اور اسی کے مطابق زندگی گزارتاہو ۔لیکن جو ٖقرآن و حدیث کے حقایق اور واضح تعلیمات پر ایمان نہ رکھتاہو وہی حلالہ جیسی لعنتی عمل پر ایمان رکھتا اور اسی کو رواج دیتاہے وہ صحیح مسلمان نہیں ہے
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 08، 2014 #8
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,763
    موصول شکریہ جات:
    5,270
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    وعلیکم السلام آپ کو کیا سمجھنا ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں