• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

برزخی فرقے منکرین عذاب قبر کا رد

شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
75
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
41
برزخی فرقے منکرین عذاب قبر کا رد
عذاب قبر قرآن مجید سے
القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام
آیت نمبر 93

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِىَ اِلَىَّ وَلَمۡ يُوۡحَ اِلَيۡهِ شَىۡءٌ وَّمَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ‌ؕ وَلَوۡ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِىۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ‌ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمُ‌ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ وَكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ

ترجمہ:
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل کی گئی ہے، حالانکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، اور اسی طرح وہ جو یہ کہے کہ میں بھی ویسا ہی کلام نازل کردوں گا جیسا اللہ نے نازل کیا ہے ؟ اور اگر تم وہ وقت دیکھو (تو بڑا ہولناک منظر نظر آئے) جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے، اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے (کہہ رہے ہوں گے کہ) اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس لیے کہ تم جھوٹی باتیں اللہ کے ذمے لگاتے تھے، اور اس لئے کہ تم اس کی نشانیوں کے خلاف تکبرکا رویہ اختیار کرتے تھے۔

موت کے بعد سے قیامت کے دن تک جو عذاب اللّٰہ رب العزت کے نافرمان بندوں کو دیا جائے گا اسی کا نام عذاب قبر ہے ۔مرنے کے بعد عموماً میت کو زمین میں ہی گڑھا کھود کر دفن کر دیا جاتا ہے اور قیامت قائم ہونے تک نافرمانوں کو قبر کے اندر عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے لہذا اسی مناسبت سے اس عذاب کو عذاب قبر کا نام دیا گیا ہے ۔
حالانکہ عذاب کا یہ سلسلہ حالت نزع ہی سے جبکہ میت چارپائی پر ہوتی ہے شروع ہو جاتا ہے اور فرشتے اس کے چہرے اور پیٹھ پر ضربیں لگانی شروع کر دیتے ہیں اور اگر اللّٰہ تعالیٰ اس عذاب کا
کوئی حصہ دنیا والوں پر ظاہر کر دیتا تو نہ چارپائی نظر آتی اور نہ اس کے آس پاس بیٹھے لوگ دکھائی دیتے ۔ لیکن اس عذاب کا تعلق غیب کے ساتھ ہے اور اللّٰہ ابھی اسے انسانوں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتا ۔
امام بخاری رح اور دیگر محدثین کرام نے یہ اور اس طرح کی دیگر آیات کو عذاب قبر کے باب میں بیان کیا ہے ۔
چنانچہ امام بخاری رح نے صحیح بخاری میں باب کچھ اس طرح باندہ ہے ۔
صحیح بخاری
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: عذاب قبر کے متعلق جو حدیثیں منقول ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ اپنی جانوں کو نکالو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ ھون ھوان کے معنی میں ہے۔ اور ھون رفق کے معنی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم انہیں دوبارہ عذاب دیں گے پھر برے عذاب کی طرف پھیر دیں گے اور اللہ تعالیٰ کا قول آل فرعون پر سخت مار پڑے گی۔ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور جس دن قیامت قائم ہوگی کہا جائے گا آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔
صحیح البخاری میں امام بخاری رح کے اس باب سے معلوم ہوا کہ یہ آیات عذاب قبر سے متعلقہ ہیں
امام بخاری کا خاص طور پر حوالہ ہم نے اس لیے دیا کیونکہ برزخی فرقے کے بانی ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی صاحب اور ان کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ امام بخاری رح اور امام ابو حنیفہ رح کے ساتھ ہیں جبکہ دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ موصوف اور ان کے پیروکار امام بخاری رح اور امام ابو حنیفہ رح کیا بلکہ کسی محدث کے ساتھ نہیں ہیں۔
اسی مضمون کی قرآن مجید میں دیگر آیات بھی ہیں مثلاً ۔
القرآن - سورۃ نمبر 8 الأنفال
آیت نمبر 50

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ لَوۡ تَرٰٓى اِذۡ يَتَوَفَّى الَّذِيۡنَ كَفَرُوا‌ ۙ الۡمَلٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡۚ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ

ترجمہ:
اور اگر تم دیکھتے (تو وہ عجیب منظر تھا) جب فرشتے ان کافروں کی روح قبض کر رہے تھے، ان کے چہروں اور پشت پر مارتے جاتے تھے (اور کہتے جاتے تھے کہ) اب جلنے کے عذاب کا مزہ (بھی) چکھنا۔
القرآن - سورۃ نمبر 47 محمد
آیت نمبر 27

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ

ترجمہ:
پھر اس وقت ان کا کیا حال بنے گا جب فرشتے ان کی روح اس طرح قبض کریں گے کہ ان کے چہروں پر اور پیٹھوں پر مارتے جاتے ہوں گے ؟

دوسری جگہ آل فرعون کے بارے میں ارشاد ہے ۔
القرآن - سورۃ نمبر 40 غافر
آیت نمبر 45

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَوَقٰٮهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ‌ۚ‏

ترجمہ:
نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں نے جو برے برے منصوبے بنا رکھے تھے، اللہ نے اس (مرد مومن) کو ان سب سے محفوظ رکھا اور فرعون کے لوگوں کو بد ترین عذاب نے آگھیرا۔

اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ

ترجمہ:
آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت آجائے گی (اس دن حکم ہوگا کہ) فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔
امام بخاری رح نے اس آیت کو بھی عذاب قبر کے باب میں بیان کیا ہے ۔
اور فرعون کی لاش اللّٰہ تعالیٰ نے عبرت کے لیے محفوظ فرمادی ہے ۔
القرآن - سورۃ نمبر 10 يونس
آیت نمبر 92

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَالۡيَوۡمَ نُـنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً  ؕ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ

ترجمہ:
لہذا آج ہم تیرے (صرف) جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد کے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے۔ (کیونکہ) بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل بنے ہوئے ہیں۔ ؏
صبح و شام جو آگ پر پیش کیے جارہے ہیں وہی عذاب قبر ہے جس میں اجسام کو آگ پر پیش کیا جارہا ہے ۔ جبکہ روحیں اول دن سے جہنم میں سزا بھگت رہی ہیں ۔اور قیامت کے دن انہیں اشدالعذاب میں داخل کردیا جائے گا جس میں وہ روح و جسم دونوں کے ساتھ داخل ہوں گے ۔اور قیامت کے دن عذاب قبر ختم ہو جائے گا اور صرف عذاب جہنم باقی رہے گا ۔
یاد رہے کہ عذاب قبر کا تعلق علم غیب سے ہے اس لیے فرعون کی لاش پر عذاب کے اثرات ہمیں نظر نہیں آتے جس طرح میت پر قبض روح کے وقت عذاب یہ پٹائی کا کوئی اثر ہم نہیں دیکھتے ۔ ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت اللّٰہ رب العزت کے سپرد کرتے ہیں ۔

القرآن - سورۃ نمبر 9 التوبة
آیت نمبر 101

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِمَّنۡ حَوۡلَــكُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ‌‌ ۛؕ وَمِنۡ اَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ‌ ‌ ‌ؔۛ مَرَدُوۡا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡ ‌ؕ نَحۡنُ نَـعۡلَمُهُمۡ‌ ؕ سَنُعَذِّبُهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّوۡنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيۡمٍ‌

ترجمہ:
اور کچھ تمہارے گردو پیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ ان کو نہیں جانتے ان کو ہم جانتے ہیں ہم ان کو دوہری سزا دیں گے پھر وہ بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے۔
اس آیت میں دوہری سزا سے دنیا اور پھر قبر کا عذاب مراد ہے ۔اور بھاری عذاب سے قیامت کے دن کا عذاب مراد ہے ۔
قوم نوح کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
القرآن - سورۃ نمبر 71 نوح
آیت نمبر 25

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِّمَّا خَطِٓيْئٰتِهِمۡ اُغۡرِقُوۡا فَاُدۡخِلُوۡا نَارًا  ۙ فَلَمۡ يَجِدُوۡا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡصَارًا

ترجمہ:
ان لوگوں کے گناہوں کی وجہ ہی سے انہیں غرق کیا گیا، پھر آگ میں داخل کیا گیا، اور انہیں اللہ کو چھوڑ کر کوئی حمایتی میسر نہیں آئے۔
اس آیت سے واضح ہوا قوم نوح غرق ہوتے ہی جہنم کی آگ میں داخل ہو گئی اور عذاب کا سلسلہ ان پر جاری ہوگیا۔
سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا لوط علیہ السلام کی بیویوں کی موت کفر پر ہوئی لہذا موت کے وقت ان سے کہا گیا ۔
القرآن - سورۃ نمبر 66 التحريم
آیت نمبر 10

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌ ؕ كَانَـتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَـيۡنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيۡـئًا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ‏

ترجمہ:
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، اللہ ان کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دونوں ہمارے دو ایسے بندوں کے نکاح میں تھیں جو بہت نیک تھے۔ پھر انہوں نے ان کے ساتھ بےوفائی کی، تو وہ دونوں اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے اور (ان بیویوں سے) کہا گیا کہ : دوسرے جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں چلی جاؤ۔
سورۃ نوح کی آیت سے معلوم ہوا کہ پانی میں جسم غرق ہوئے اور جہنم میں ان کے جسموں کو نہیں بلکہ روحوں کو داخل کیا گیا ۔ نیذ جسم بھی روح کے ساتھ عذاب میں شریک ہیں ۔ جیسا کہ عذاب قبر کی احادیث سے واضح ہے۔ جس کا بیان آگے چل کر ہوگا انشاءاللہ ۔
راحت قبر کے بارے میں قرآن مجید میں ہے ۔
القرآن - سورۃ نمبر 89 الفجر
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّةُ

ترجمہ:
(البتہ نیک لوگوں سے کہا جائے گا کہ) اے وہ جان جو (اللہ کی اطاعت میں) چین پاچکی ہے۔

ارۡجِعِىۡۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً‌

ترجمہ:
اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آجا کہ تو اس سے راضی ہو، اور وہ تجھ سے راضی۔
فَادۡخُلِىۡ فِىۡ عِبٰدِىۙ

ترجمہ:
اور شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں۔
وَادۡخُلِىۡ جَنَّتِى

ترجمہ:
اور داخل ہوجا میری جنت میں۔ ؏
آیت 27تا30
میت سے اس طرح کا خطاب موت کے وقت کیا جاتا ہے ۔
اسی طرح سورۃ النحل میں ہے ۔
القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل
آیت نمبر 32

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰۤئِكَةُ طَيِّبِيۡنَ‌ ۙ يَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمُۙ ادۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

ترجمہ:
یہ وہ لوگ ہیں جن کی روحیں فرشتے ایسی حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہوتے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ : سلامتی ہو تم پر ! جو عمل تم کرتے رہے ہو، اس کے صلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔
ان آیات سے ثابت ہوا نیک لوگوں کی ارواح کو قبض کرلینے کے بعد جنت میں داخل کردیا جاتا ہے۔
اوپر جو آیات نقل ہوئی ہیں ان کے انداز سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عذاب وثواب میں پورا انسان یعنی جسم اور روح دونوں شریک ہیں۔
قرآن کریم کی ان آیات کو سلف صالحین نے ثواب و عذاب قبر کے سلسلہ میں پیش کیا ہے۔اور عذاب قبر کی واضح اور مکمل تفصیلات احادیث صحیحہ میں بیان کی گئی ہیں۔جو اگلی تحریر میں بیان کی جائیں گی انشاءاللہ۔
جمع و ترتیب احقر جلال الزمان
یہ مضمون میں نے ڈاکٹر ابو جابر عبداللہ دامانوی حفظ کی تصنیف عذاب قبر کی حقیقت سے اخذ کیا ہے۔
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
75
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
41
برزخی فرقے منکرین عذاب قبر کا رد قسط نمبر 2
قبر کا تعلق آخرت سے بے
جب عذاب قبر کی احادیث بیان کی جاتی ہیں تو منکرین عذاب قبر ان احادیث پر ایمان لانے کے بجائے الٹا ان پر عقلی قسم کے اعترازات شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر عذاب قبر کی احادیث کو مان لیا جائے تو پھر اس طرح ہمیں تیسری زندگی کا قائل ہونا پڑھے گا اور مطلب یہ ہوگا کہ قبر میں مردہ اب زندہ ہو چکا ہے ۔دیکھتا ہے سنتا ہے اور یہ بات قرآن کریم کے خلاف ہے حالانکہ عقل کے یہ پجاری اگر قرآن وحدیث پر ایمان لے آتے تو انہیں قرآن وحدیث سے یہ بات ملتی کہ قبر کا تعلق دنیا یا دنیاوی زندگی سے نہیں بلکہ آخرت کے ساتھ ہے ۔اور دنیا سے اب ان مرنے والوں کا کوئی تعلق نہیں رہا ۔ مردہ کو کوئی شخص بھی قبر میں زندہ نہیں مانتا یعنی دنیاوی زندگی کا کوئی قائل نہیں ہے ۔ اور اگر کسی نے ان کی زندگی کا ذکر کیا ہے تو اس سے مراد اخروی زندگی ہے جسے آم طور پر برزخی زندگی کہا جاتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد میت پر جو حالات گزرتے ہیں وہ برزخ کی وجہ سے ہمیں دکھائی نہیں دیتے کیونکہ میت اور ہمارے درمیان برزخ حائل ہو چکی ہے اور یہ آخرت کے معاملات ہیں جن کا ہمیں شعور نہیں ہے ۔ مرنے کے بعد کے مراحل یعنی آخرت کے متعلق کچھ دلائل ملاحظہ ہوں ۔
اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
القرآن - سورۃ نمبر 14 ابراهيم
آیت نمبر 27

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِى الۡاٰخِرَةِ‌ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيۡنَ‌ ۙ وَيَفۡعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ

ترجمہ:
جو لوگ ایمان لائے ہیں، اللہ ان کو اس مضبوط بات پر دنیا کی زندگی میں جماؤ عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی، اور ظالم لوگوں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے، اور اللہ (اپنی حکمت کے مطابق) جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ؏
اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس آیت کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
صحیح مسلم
کتاب: جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان
باب: میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 7219

ترجمہ:
محمد بن بشار، ابن عثمان عبدی محمد بن جعفر، شعبہ، علقمہ بن مرثد سعید بن عبیدہ حضرت براء بن عازب ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا یہ آیت کریمہ (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ) 14۔ ابراہیم: 27) قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے مردے سے کہا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں تو اللہ عزوجل کے فرمان یثبت کا یہ معنی ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دنیا وآخرت کی زندگی میں ثابت قدم رکھتا ہے کہ جو قول ثابت کے ساتھ ایمان لائے۔
ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں ۔
سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: جب دفن کر کے فارغ ہوں اور لوٹنے کا قصد ہو تو میت کے لئے مغفرت طلب کریں
حدیث نمبر: 3221

ترجمہ:
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے: اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو، اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو، کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بحیر سے بحیر بن ریسان مراد ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٩٤٠) (صحیح )
یہ حدیث بھی مندرجہ بالا آیت کی مکمل وضاحت اور تشریح بیان کرتی ہے ۔
صحیح بخاری
کتاب: تفاسیر کا بیان
باب: باب: آیت «فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4586

ترجمہ:
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو نبی مرض الموت میں بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت کا اختیار دیا جاتا ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کی مرض الموت میں جب آواز گلے میں پھنسنے لگی تو میں نے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين‏ ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۔ اس لیے میں سمجھ گئی کہ آپ کو بھی اختیار دیا گیا ہے (اور آپ ﷺ نے اللهم بالرفيق الاعلي کہہ کر آخرت کو پسند فرمایا) ۔
اس حدیث میں بھی موت کے بعد کی زندگی کو آخرت قرار دیا گیا ہے ۔
سنن ابن ماجہ
کتاب: زہد کا بیان
باب: قبر کا بیان اور مردے کے گل جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4267

ترجمہ:
ہانی بربری مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان ؓ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی تر ہوجاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہ اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں ، اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے کبھی قبر سے زیادہ ہولناک کوئی چیز نہیں دیکھی ۔
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الزھد ٥ (٢٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦٣) (حسن )
سنن نسائی
کتاب: نمازوں کے اوقات کا بیان
باب: مسافر مغرب کی نماز اور نماز عشاء کون سے وقت جمع کر کے پڑھے
حدیث نمبر: 598

ترجمہ:
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر ؓ سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں ١ ؎ (اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کرلیجئے) ، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آگیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر (دوبارہ) اقامت کہنا، چناچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو (مؤذن نے) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہوگئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے ۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ٥٨٩ (حسن )
وضاحت: ١ ؎: یعنی میری موت کا وقت قریب آگیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 597
ان احادیث میں مرنے کے بعد کے لئے اور قیامت کے دن کے لیے آخرت کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے ۔
قبر کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے اور آخرت کے معاملات کو دنیاوی پیمانوں میں نہیں ناپا جاسکتا ۔جو باتیں دنیا میں نا ممکن ہے وہ آخرت میں ممکن ہو جاتی ہیں کیونکہ آخرت کے معاملات دنیا کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں اس لیے عقل ان کے انکار کی طرف مائل ہوتی ہے اور عقل پر بھروسہ کرنے والا انسان آخرت کے معاملات میں زبردست ٹھوکر کھا سکتا ہے ۔ مثلاً عقل کہتی ہے کہ انسان جب قبر میں گل سڑ جائے گا اور اس کی ہڈیاں سرمہ بن جائیں گی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہو۔ جبکہ اللّٰہ رب العالمین کا فیصلہ ہے ۔
القرآن - سورۃ نمبر 31 لقمان
آیت نمبر 28

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ

ترجمہ:
تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا (اللہ کے لیے) ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان کو (پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا) یقینا اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا ہے۔
قرآن وحدیث کے ان دلائل سے معلوم ہوا کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے ۔ لہذا عذاب قبر پر ایمان رکھنا آخرت پر ایمان رکھنے کے مترادف ہے اور آخرت کا انکاری کافر ہے ۔
جبکہ مومنین کا راستہ تو یہ ہے ۔
القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 4

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ

ترجمہ:
اور جو اس (وحی) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیں
جمع و ترتیب احقر جلال الزمان
یہ مضمون ڈاکٹر ابو جابر عبداللہ دامانوی حفظ کی تصنیف عذاب قبر کی حقیقت سے اخذ کیا گیا ہے ۔
 
Top