• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بغیر رخصتی کے طلاق کی صورت میں رجوع کیلئے حلالہ کی ضرورت

ادب دوست

مبتدی
شمولیت
جولائی 23، 2015
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
22
ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا مقصود ہے،
ایک عورت کا نکاح ہوا رخصتی نہیں ہوئی، اور طلاق ہوگئی، اب اگر عورت اِسی مرد سے دوبارہ شادی کرنا چاہئے تو کیا صورت ہوگی؟ آیا اسے کہیں شادی کرنی پڑے گی پھر وہاں سے طلاق یا بیوہ ہونے کے بعد وہ اس مرد سے شادی کرے گی ( وہ حلالہ مراد نہیں جو منصوبہ بنا کر کیا جاتا ہے ) ؟ یا پھر وہ طلاق کے بعد اسی مرد سے دوبارہ شادی کرسکتی ہے؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/11690/210/

بشرط صحت سوال واضح ہو کہ طلاق اللہ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔جیسا کہ حدیث میں ہے:''حلال کاموں میں اللہ کو ناراض کردینے والی چیز طلاق ہے۔''(ابو داؤد حدیث نمبر4178)
لیکن بعض اوقات ا س قدر مجبوری بن جاتی ہے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔دین اسلام میں طلاق کا ایک مستقل ضابطہ ہے اگر انسان اس پرعمل پیرا ہوکرطلاق دے تو بعد میں ندامت اور شرمساری نہیں ہوتی واضح رہے کہ شریعت میں طلاق کی دو اقسام ہیں:
1۔طلاق رجعی۔2۔طلاق بائن
رجعی طلاق میں خاوند کو حق ہوتا ہے کہ وہ دوران عدت اپنی بیوی سے بلاتجدید نکاح رجوع کرے اس کے برعکس طلاق بائن میں رشتہ ازدواج ٹوٹ جاتا ہے۔طلاق بائن کی پھر دو اقسام ہیں:(بینونت صغریٰ)عدت گزرنے کے بعدرجوع کا خیال آیا تو اس صورت میں نکاح جدید کرنا پڑتاہے۔(بینونت کبریٰ) اس میں طلاق دینے کے بعد نکاح جدید کا حق بھی ختم ہوجاتا ہے۔بینونت کبریٰ میں صرف ایک صورت نکاح کر باقی رہتی ہے۔کہ وہ عورت آگے کسی آدمی کے ساتھ اپنا گھر بسانے کی نیت سے نکاح کرے اگر وہ طلاق دےدے یا فوت ہوجائے۔تو عدت گزرنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح ہوسکتاہے لیکن اس کا نکاح کا بدنام زمانہ حلالہ جیسے سازشی نکاح سے کوئی تعلق نہ ہو۔ کیونکہ اس کی شریعت میں سخت ممانعت ہے۔صورت مسئولہ میں چونکہ خاوند نے رخصتی سے پہلے طلاق دے دی ہے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق ایسی عورت پر کوئی عدت نہیں ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:'' اے ایمان والو! جب تم اہل ایمان خواتین سے نکاح کرو پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے۔جس کے پورے ہونے کا تم ان سے مطالبہ کرو۔''(33/الاحزاب :49)
ایسی عورت کو طلاق کے فورا بعد نکاح ثانی کرنے کی اجازت ہے اندریں حالات اگر خاوند کا اس مطلقہ سے رجوع کاارادہ ہوتو تجدید نکاح سے یہ ممکن ہے کیوں کہ پہلا نکاح ختم ہوچکا ہے چونکہ یہ بینونت صغریٰ ہے اس لئے نئے نکاح کی گنجائش ہے لیکن اس کے لئے چار شرائط ہیں۔
1۔عورت رضا مند ہو
2۔سرپرسست کی اجازت ہو۔
3۔حق مہر کی تعین ہو۔
4۔گواہ موجود ہوں۔
فقہائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا ضروری نہیں ہے۔بلکہ اس کے بغیر ہی پہلے خاوند سے نکاح ہوسکے گا۔لہذا صورت مسئولہ میں نئے حق مہر کے ساتھ ازسر نواس خاوند سے نکاح کیا جاسکتا ہے (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

ج1ص364

محدث فتویٰ
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
جی اگرچہ یہ طلاق بائن شمار ہوگی ، لیکن بغیر کسی اور سے نکاح کیے ، وہ دوبارہ آپس میں شادی کرسکتے ہیں ، انہیں شرائط کا خیال کرتے ہوئے جو اوپر یوسف ثانی صاحب کے مراسلہ میں ذکر ہوئی ہیں ۔
مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کرلیں۔
 

ادب دوست

مبتدی
شمولیت
جولائی 23، 2015
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
22
جناب یوسفِ ثانی اور جناب خضر حیاب صاحبان کا بے حد شکرگزار ہوں۔ بہت نوازش
 
شمولیت
مئی 09، 2017
پیغامات
29
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
10
دوسرے خاوند سے نکاح کرنے کی شرط صر ف اس عورت کے لئے ہے جو طلاق کو مال دے کر خریدتی ہے۔البقرہ آیات نمبر 229 اور 230۔
 
Top