• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بنی امیہ اہل بیت کو گالیاں دینے پر کافر کیوں نہ ہوئے؟

شمولیت
مئی 05، 2014
پیغامات
201
ری ایکشن اسکور
40
پوائنٹ
81
اس دھاگہ میں موجود کوئی اہل تشیع یا بنی امیہ کا مخالف کیا میری ان باتوں کا جواب نہیں دیگا؟؟؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس دھاگہ کو شروع کرنے والے صاحب نے کسی شیعہ سائٹ کا حوالہ دیکر وہاں جو کچھ نقل تھا کاپی کر کے پیسٹ کر دیا اور اسکا عنوان یہ رکھا کہ (
بنی امیہ اہل بیت کو گالیاں دینے پر کافر کیوں نہ ہوئے؟) اور اس عنوال کے تحت سب سے پہلے ایک جلیل القدر صحابی رسول پر اعتراضات کی پوچھاڑ کی گئی ۔
میرے اس پر چند سوال ہیں اگر کوئی اس مضمون کا حامی ان کا جواب دے تو بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے
(1) کیا سیدنا امام معاویہ بن ابی سفیان صحابی رسول ہیں ؟؟؟
(2)کیا اللہ تعالیٰ تمام صحابہ کرام سے راضی ہیں یا چند صحابہ کرام سے؟؟؟
(3) جن سے اللہ تعالیٰ راضٰی ہو جائیں کیا اُن کے اعمال سے بحث ہو سکتی ہے ؟؟؟
(4)اگر سیدنا امام معاویہ بن ابی سفیان اہل بیت کو گالیاں دینے کی وجہ سے کافر ہیں تو جن اہل بیت کے افراد نے سیدنا امام معاویہ کو خلافت سپرد کی اور اُن کی بیعت کی تو کیا انہوں نے ایک کافر کو مسلمانوں کا خلیفہ بنا کر اس کی بیعت کی تھی؟؟؟
(5)اہل بیت کے افراد نے بنی امیہ کے خاندان میں خود بھی نکاح کئے اور اپنی بیٹیاں بھی بنی امیہ کو نکاح میں دیں تو کیا اہل بیت کے افراد (نعوذ باللہ)شریعت کو پسِ پشت ڈال کر کا فروں سے رشتے ناطے کرتے رہے؟؟؟
(6)اگر سیدنا امام معاویہ بن ابی سفیان کافر تھے تو کیا سیدنا حسنین کریمین ہر سال ایک کافر سے وضائف لینے دمشق جایا کرتے تھے؟؟؟
ان سب سوالوں کے جواب دیکر گفتگو کو کوئی آگے بڑھانا چاہتا ہے تو بندہ حاضر ہے
(نوٹ) شیخ کفیات اللہ صاحب نے جن روایات کا تسلی بخش جواب لکھا ہے وہاں اس مضمون کا کوئی حامی سامنے نہیں آیا اس کی کیا وجہ ہے؟؟؟ )
اس دھاگہ کے اصل موضوع سے نہ ہٹیں
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,534
پوائنٹ
791
ہم نے پہلے بھی اپنی پوسٹ میں بتایا ہے کہ :
صحابہ کرام ؓ ۔۔دنیا میں آپس میں تھوڑی بہت ناراضگی کے باوجود جنت میں جائیں گے ۔۔(رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ )
اس پر دلیل ہے ؛
(( نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (43)
ان اہل جنت کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کے خلاف کچھ کدورت ہوگی تو ہم اسے نکال دیں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ کہیں گے : تعریف تو اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ (جنت کی) راہ دکھائی اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم کبھی یہ راہ نہ پاسکتے تھے۔ ہمارے پروردگار کے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے'' اس وقت انہیں ندا آئے گی'': تم اس جنت کے وارث بنائے گئے ہو اور یہ ان (نیک) اعمال کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں کرتے رہے ‘‘

اور خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بھی فتوی اور عقیدہ تھا؛

قال الامام أبو بكر بن أبي شيبة رحمه الله:
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ عَنْ قَتْلَى يَوْمِ صِفِّينَ ، فَقَالَ : قَتْلاَنَا وَقَتْلاَهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَيَصِيرُ الأَمْرُ إلَيَّ وَإِلَى مُعَاوِيَةَ.المصنف[ج15 ص302 رقم39035] وكنز العمال: ح31700 والاسناد صحيح.

یعنی جناب علی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا صفین کے مقتولوں کے بارے (یعنی آخرت میں ان کا ٹھکانہ کیا ہوگا ) تو فرمایا :
ہمارے ۔۔اور ۔۔ان (یعنی اہل شام ) کے مقتول جنت میں جائیں گے ؛
 
شمولیت
مئی 05، 2014
پیغامات
201
ری ایکشن اسکور
40
پوائنٹ
81
جناب ثمر علی چانڈیو صاحب
اس دھاگہ کا جو موضوع ہے اگر جناب اس پر بات کریں تو بہتر ہوگا ، دھاگہ سے ہٹ کر اگر جناب کوئی معلومات یا کسی مسئلہ کے بارے کوئی تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے فورم پر الگ سے پوچھنے کے دھاگے موجود ہیں وہاں اپنے سوالات لکھیں ۔ ان شاء اللہ تسلی بخش جواب دئے جائیں گے
 
شمولیت
ستمبر 07، 2020
پیغامات
44
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
16
حدثنا ‏ ‏محمد بن بشر ‏ ‏حدثنا ‏ ‏مسعر ‏ ‏عن ‏ ‏الحجاج ‏ ‏مولى ‏ ‏بني ثعلبة ‏ ‏عن ‏ ‏قطبة بن مالك ‏ ‏عم ‏ ‏زياد بن علاقة ‏ ‏قال ‏ ‏نال ‏ ‏المغيرة بن شعبة ‏ ‏من ‏ ‏علي ‏ ‏فقال ‏ ‏زيد بن أرقم ‏ ‏قد علمت أن رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏كان ‏ ‏ينهى عن سب الموتى فلم تسب ‏ ‏عليا ‏ ‏وقد مات ‏
is riwayat mein hajaj kon hai? ye to majhool hai
 
شمولیت
ستمبر 07، 2020
پیغامات
44
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
16
مسند احمد بن حنبل
25523 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ اَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اِسْرَائِيلُ، عَنْ اَبِي اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى اُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي اَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ قُلْتُ مَعَاذَ اللَّهِ اَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ اَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي‏.‏
is main au ishaq mudallis hain..... or riwayat "ann" say hai.
or jis riwayat mein abu ishaq nay simaa zikr kia hai us main bukeer majhool hain....
or bukeer ny jo riwayat ki hai uski sanad ye hai
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّيْمِيُّ ، ثنا جَنْدَلُ بْنُ وَالْقٍ ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ التَّمِيمِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيَّ ، يَقُولُ : حَجَجْتُ وَأَنَا غُلامٌ ، فَمَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ وَإِذَا النَّاسُ عُنُقٌ وَاحِدٌ ، فَاتَّبَعْتُهُمْ ، فَدَخَلُوا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ : يَا شَبِيبَ بْنَ رِبْعِيٍّ ، فَأَجَابَهَا رَجُلٌ جِلْفٌ جَافٍ : لَبَّيْكِ يَا أُمَّتَاهُ ، قَالَتْ : يُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَادِيكُمْ ؟ قَالَ : وَأَنَّى ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : فَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : إِنَّا لَنَقُولُ أَشْيَاءَ نُرِيدُ عَرَضَ الدُّنْيَا ، قَالَتْ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي ، وَمَنْ سَبَّنِي فَقَدْ سَبَّ اللَّهَ تَعَالَى " .

  • المستدرك على الصحيحين:
  • رقم الحديث : 4555
    .... yahan bukeer majhool nay abu ishaq ka abu abdullah say sima zikr kr kay, abu abdullah say mansoob kia hai ye sara qissa....
    ...
    ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، قَالَ : حَجَجْتُ وَأَنَا غُلامٌ ، فَمَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدًا ، فَأَتْبَعْتُهُمْ ، فَأَتَوْا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ : يَا شَبِيبَ بْنَ رِبْعِيٍّ ، فَأَجَابَهَا رَجُلٌ جِلْفٌ حَافٍ : لَبَّيْكِ يَا أُمَّهْ ، قَالَتْ : أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَادِيكُمْ ؟ فَقَالَ : إِنَّا نَقُولُ شَيْئًا نُرِيدُ عَرَضَ هَذِهِ الدُّنْيَا ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي ، وَمَنْ سَبَّنِي ، سَبَّهُ اللَّهُ "
    lekin yahan par abu ishaq khud ye sab biyan kar rahy hain barah e rast.... hakan kay is riwayat me bhi maohammad bin haroon majhool hai.....

 
Top