• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بوقت افطار دعاء کی خصوصی فضلیت سے متعلق ایک حدیث کی تحقیق

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,942
ری ایکشن اسکور
9,798
پوائنٹ
722
امام ابن ماجة رحمه الله (المتوفى273)نے کہا:
”حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ» قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ إِذَا أَفْطَرَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي“
”عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اللہم نی سل برحمت التی وسعت ل شی ن تغفر لی اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے“ [ضعيف جدا ، سنن ابن ماجه رقم (1753) المستدرك للحاكم ، ط الهند (1 /422) و ضعفه الألباني في الإرواء (4/ 41) رقم (921)]۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,942
ری ایکشن اسکور
9,798
پوائنٹ
722
اس سند میں ”اسحاق بن عبداللہ المدنی“ کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے۔اس کی وجہ اسحاق کے والد ”عبداللہ“ کے نام کے ضبط کا اختلاف ہے، بعض نے اسے ”عبیداللہ“ بالتصغیربتایا ہے، جبکہ بعض نے ”عبداللہ“ بالتکبیر بتلایا ہے۔اسحاق کی یہ روایت دو طریق سے مروی ہے ۔
دونوں طرق کی تفصیل ملاحظہ ہو:
✿ پہلا طریق: اسد بن موسیٰ:
اسدبن موسیٰ کی ثابت روایت میں بغیر کسی اختلاف کے ”اسحاق بن عبداللہ“ ہے (الترغیب لابن شاہین،ص( 52) رقم 140 وإسنادہ حسن إلی أسد) .
✿ دوسرا طریق: ولید بن مسلم:
ولیدبن مسلم سے ان کے دوشاگردوں نے یہ روایت بیان کی ہے ،ایک ”الحکم بن موسی“ اور دوسرے ”ہشام بن عمار“ ۔

❀ حکم بن موسیٰ کی روایت: -
حکم سے تین راویوں ( 1۔ محمدبن علی بن زید ، 2۔ حامدبن محمد، 3۔ابویعلی ٰ)نے اسے بیان کیا ہے اورتینوں نے بالاتفاق ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی بیان کیا ہے ۔
① ”محمدبن علی بن زید“ کی روایت کے لئے دیکھئے: [المستدرک للحاکم، ط الہند 1/ 22 وسندہ صحیح إلی الحکم]
② ”حامدبن محمد“ کی روایت کے لئے دیکھئے: [ذیل تاریخ بغداد لابن الدبیثی 1/ 334 وسندہ حسن إلی حامد]
③ ”ابویعلی“ کی روایت ابن السنی نے ”عمل الیوم واللیة“ میں نقل کی ہے اور اس کے بعض نسخوں میں ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی ہے ،جیساکہ محققین نے صراحت کی ہے بلکہ شیخ عبدالقادر عطاء نے اپنے نسخہ میں ایسے ہی ضبط کیا ہے دیکھئے: [عمل الیوم واللیلة لابن السنی، ت البرنی ص289 حاشیہ] ۔
اوریہی درست ہے جیساکہ دیگر رواۃ کی متابعت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
مذکورہ رواة کے برخلاف ”حکم بن موسیٰ“ کے کسی بھی شاگرد کی روایت ثابت نہیں ، مثلاً معجم ابن عساکر(١/٣٠٧) میں ”محمدالحضرمی“ کی روایت سنداً ضعیف ہے نیز محقق کی شہادت کے مطابق مخطوطہ میں متعلقہ نام پر تضبیب کی علامت ہے جو غلطی کی طرف اشار ہ کرتی ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,942
ری ایکشن اسکور
9,798
پوائنٹ
722
❀ ”هشام بن عمار“ کی روایت: -
● ھشام سے ان کے شاگرد ”عبید بن عبدالواحد“ کی روایت ثابت ہے ، اس میں بغیر کسی اختلاف کے ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی ہے ، [شعب الإيمان،ت زغلول ،رقم3904 وسندہ صحیح إلی عبید]
یادرہے کہ شعب الإیمان کے دوسرے محقق دکتور عبدالعلی نے جو تصغیر کے ساتھ ضبط کیا ہے یہ قطعی طورپر غلط ہے ،کیونکہ امام بیہقی رحمه الله نے روایت کے بعد پوری صراحت کے ساتھ یہ بھی کہا ہے :
”وشيخاي لم يثبتاه، فقالا: إسحاق بن عبد الله“ ، ”یعنی میرے دونوں شیخ (یحییٰ بن ابراہیم اور امام حاکم ) نے اپنی سندمیں ايسا (يعني ”عبیداللہ“ ) نہیں بیان کیا ہے بلکہ ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی بیان کیا ہے“ [شعب الیمان ت،عبدالعلی،5/ 408]
● هشام سے ان کے جس دوسرے شاگرد کی روایت ثابت ہے وہ امام ابن ماجہ ہیں ،اورسنن ابن ماجہ کے بعض نسخوں میں بھی ”اسحاق بن عبداللہ المدنی“ ہے۔ دیکھئے: [سنن ابن ماجة ، النسخة التيمورية ، ق1/ 197/ب ، نیز سنن ابن ماجہ، مطبوعہ دارالتاصیل ، ص(242)حاشیہ نمبر(3)،زوائد ابن ماجہ للبوصیری ، ت محمدمختار حسین (ص254)رقم(594)، تفسیر ابن کثیر ،ت محمد حسین شمس الدین(1/ 375)لسان المیزان لابن حجر، ت أبی غدة (2/ 63)]
ظاہر ہے کہ ابن ماجہ کی روایت میں بھی صحیح نام ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی ہے کیونکہ اس پر ”عبیدبن عبدالواحد“ کی متابعت بھی موجود ہے۔
ہشام کے ان دونوں شاگردوں کے برخلاف ایک تیسرے شاگرد ”محمد بن أبی زرعة الدمشقی“ نے ”اسحاق بن عبیداللہ“ تصغیر کے ساتھ بیان کیا ہے [الدعاء للطبرانی، ت محمد سعید،رقم919]
عرض ہے کہ، ان کی توثیق موجود نہیں ہے تاہم اگریہ ثقہ بھی ہوتے تو بھی ہشام کے دوشاگردوں کی متفقہ روایت کے مقابلے میں ان کے بیان کی کوئی حیثیت نہ ہوتی ۔
پتہ چلا ”ھشام بن عمار“ کی روایت بھی الحکم بن موسیٰ کی روایت کے موافق ہے یعنی ان دونوں کے استاذ ولید بن مسلم نے ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی بیان کیا ہے ۔
⟐ فائدہ:
ولیدبن مسلم کے ایک اور شاگرد ”ہشام بن خالد“ کی روایت میں بھی ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے دیکھیں: [نوادر الأصول للحکیم الترمذی، ت توفیق2/ 158]
بہرحال اس تفصیل سے واضح ہے کہ ولید بن مسلم نے اپنے استاذ کانام ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی بیان کیا ہے ۔اور اس بیان پر ”اسد بن موسی“ کی متابعت بھی موجود ہے جیساکہ شروع میں گزرچکا ، یعنی اسدبن موسیٰ اورولید بن مسلم دونوں نے اپنے استاذ کانام ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی بتایاہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,942
ری ایکشن اسکور
9,798
پوائنٹ
722
✿ اسحاق بن عبداللہ کی تعیین:
اس تفصیل سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ اس سند میں ”اسحاق بن عبداللہ“ ہی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سے کون مراد ہے تو اما م حاکم ،امام ذہبی اورعلامہ البانی رحمہم اللہ نے یہ احتمال ذکرکیا ہے کہ اس سے مراد ”إسحاق بن عبد اللہ بن أبی فروة، الأموی ،المدنی“ ہوسکتاہے [المستدرک للحاکم، ط الہند 1/ 422 ومعه تعليق الذهبي، إرواء الغليل للألبانی 4/ 43]
عرض ہے کہ یہی با ت متعین ہے ، اس کے متعدد دلائل ہیں ، مثلاً :
● اس کی ایک زبردست دلیل یہ ہےکہ اس کے شاگرد ”ولید بن مسلم“ نے ایک روایت میں اس کا پورا نا م''إسحاق بن عبد اللہ بن أبی فروة'' بتادیا ہے،ملاحظہ ہو:
أبو عبد الله محمد بن سعيد ابن الدبيثي ( المتوفی637 ) نے کہا:
”قرأت على أبي محمد عبد العزيز بن أبي نصر البزاز من كتابه، قلت له: أخبركم أبو عبد الله محمد بن رمضان بن عبد الله الجندي، فأقر به، قال: أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الباقي الدوري، قال: أخبرنا أبو محمد الحسن ابن علي الجوهري، قال: حدثنا الحسن بن عمر بن حبيش، قال: حدثنا حامد ابن محمد، قال: حدثنا الحكم بن موسى، قال: حدثنا الوليد بن مسلم، قال: حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة،قال: سمعت عبد الله بن أبي مليكة قال: سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ((إن للصائم عند إفطاره لدعوةً ما ترد)). قال ابن أبي مليكة: فسمعت عبد الله بن عمرو يقول إذا أفطر: ((اللهم إني أسألك رحمتك التي وسعت كل شيء أن تغفر لي))“ [ذيل تاريخ بغداد لابن الدبيثي 1/ 334 وإسنادہ حسن إلی الولید ، ابن حبیش ھو الحسین بن عمر بن عمران بن حبیش ، ذکرہ الخطیب فی تلامیذ حامد بن محمد، انظر:تاریخ بغداد، مطبعة السعادة 8/ 169]
ولید بن مسلم کے اساتذہ میں بھی اس کا تذکرہ ہے دیکھئے:[ تہذیب الکمال للمزی2/ 446]

● نیز اسحاق کے ایک دوسرے شاگرد ”اسد بن موسیٰ“ نے اس کا پورا نام ”إسحاق بن عبد اللہ الأموی، من أہل المدینة“ بتایا ہے ، ملاحظہ ہو:
امام ابن شاهين رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
”حدثنا أحمد بن بهزاد بن مهران السيرافي، بمصر، ثنا الربيع بن سليمان، ثنا أسد، ثنا إسحاق بن عبد الله الأموي، من أهل المدينة، حدثني ابن أبي مليكة، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن للصائم عند فطره دعوة لا ترد» . قال: وكان عبد الله يقول إذا أفطر: برحمتك التي وسعت كل شيء اغفر لي“ [الترغيب في فضائل الأعمال لابن شاهين ص: 52 رقم 140وإسنادہ حسن الی أسد]
اوراس طبقہ میں اموی اور مدنی یہی راوی ہے ، دیکھئے:[ تہذیب الکمال للمزی2/ 46]
جب یہ واضح ہوگیا کہ یہ راوی ”إسحاق بن عبد اللہ بن أبی فروة، الأموی ،المدنی“ ہے ،تو معلوم ہونا چاہئے کہ امام ابن معین رحمہ اللہ نے اسے ”کذاب“ کہا ہے ،(الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم، ت المعلمی2/ 228 وإسنادہ صحیح ) اورکئی محدثین نے اسے ”متروک“ کہا ہے مثلا دیکھئے: (تقریب التہذیب لابن حجر رقم368) لہٰذا یہ روایت سخت ضعیف ہے ۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,942
ری ایکشن اسکور
9,798
پوائنٹ
722
✿کچھ وضاحتیں:
❀ امام بخاری ، امام ابوحاتم الرازی ،امام ابوزرعہ رازی اورابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے اس اسحاق کو ”اسحاق بن عبد اللہ بن أبی ملیکة“ بتلایا ہے[ الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم، ت المعلمی:2 /288]
امام ابن حبان نے بھی ”اسحاق بن عبد اللہ المدنی“ لکھا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن حبان کا بھی یہی موقف ہے[ الثقات لابن حبان ط ، العثمانیة(٦/٤٨) مطبوعہ نسخہ میں تصغیر کے ساتھ ذکرکرنا غلط ہے کیونکہ مخطوطہ میں ایسا نہیں ہے]
اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اسحاق کے والد کا نام ”عبداللہ“ تکبیر کے ساتھ ہی ہے۔ البتہ ان أئمہ نے اس کا تعین ”ابن ابی فروہ“ کے بجائے ”ابن أبی ملیکہ“ سے کیا ہے۔اگر یہ بات مان لی جائے تو بھی یہ روایت ضعیف ہی رہے گی کیونکہ ”ابن ابی ملیکہ“ نامعلوم التوثیق ہے ابن حبان نے اسے ثقات میں صرف ذکرکیا ہے ۔
.
❀ ابن عساکررحمہ اللہ نے اس اسحاق کو ”اسحاق بن عبید اللہ بن أبی المہاجر“ بتایا ہے ،اورانہیں کی پیروی میں ابن حجر اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے بھی اسے ”ابن أبی المہاجر“ مانا ہے ، لیکن یہ درست نہیں ہے کیونکہ زیربحث روایت میں اسحاق کوکئی رواة نے مدنی بتایا ہے جبکہ ”ابن أبی المہاجر“ شامی راوی ہے۔ بہرحال یہ راوی بھی نا معلوم التوثیق ہے، لہٰذا اسے ماننے کی صورت میں بھی روایت ضعیف ہی رہے گی ۔ یادرہے کہ اس کو ابن حبان نے بھی ثقات میں ذکر نہیں کیاہے، کیونکہ یہ شامی اور تصغیر کے ساتھ ہے اورابن حبان نے جسے ثقات میں ذکر کیا ہے وہ مدنی اور تکبیر کے ساتھ ہے۔دکتور بشار نے بجاطور پرلکھا:
”أما قول ابن حجر في ترجمة ابن أَبي المهاجر :”ذكره ابنُ حِبَّان في الثقات فليس بجيد“لان ابن حبان لم يذكر غير إسحاق بن عُبَيد الله المدني وهو لا يقوم دليلا على أنه ابن أَبي المهاجر“
”ابن ابی المہاجر کے ترجمہ میں ابن حجر نے یہ کہا کہ: ”اسے ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے“ تو یہ درست نہیں ہے ،کیونکہ ابن حبان نے صرف ''اسحاق بن عبیداللہ المدنی '' کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اس میں اس بات کی ہرگز دلیل نہیں کہ اس سے مراد ”ابن بی المہاجر“ ہے“ [تهذيب الكمال للمزي: 2/ 458]
.
❀ امام بوصیری رحمہ اللہ سے عجیب وہم ہوا ہے انہوں نے ”اسحاق“ کو ”اسحاق بن عبد اللہ بن الحارث بن کنانة القرشی العامری“ سمجھ لیا ، اورپھر اس سے متعلق توثیقات ذکر کردیں[ زوائد ابن ماجہ للبوصیری ،ت محمدمختار حسین ص254 رقم 594]
حالانکہ یہ راوی اس طبقہ کا ہے ہی نہیں ،اوراسے مان لینے کی صورت میں سند ہی منقطع ہوجائے گی ۔
اوراس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ بعض نے ”اسحاق“ کو نہ ”ابن أبی فروہ“ تسلیم کیا نہ ”ابن أبی ملیکة“ مانا ، اور نہ ہی ”ابن أبی المہاجر“ سمجھا ، بلکہ ”اسحاق بن عبیداللہ المدنی“ نام کی ایک فرضی شخصیت تصور کرکے امام بوصیری کی ذکر کردہ وہ توثیقات اس کے کھاتے میں ڈال دیں ، جو کہ ایک دوسرے راوی سے متعلق تھیں، سبحان اللہ !
بہرحال ہماری نظر میں راجح وہی بات ہے جس کا احتمال اما م حاکم ، امام ذہبی اورعلامہ البانی رحمہم اللہ نے ذکرکیا ہے اور دلائل کی روشنی میں یہ بات یقین تک پہنچ چکی ہے ، یعنی اس سند میں ”ابن ابی فروہ“ ہے جو کذاب ومتروک ہے ، لہٰذا بعض کا اسے حسن کہنا درست نہیں ہے ، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہنے والے بعض معاصرین کے بارے میں لکھا:
”حسنه الجهلة“
”جاہلوں نے اسے حسن کہا ہے“ [ضعیف الترغیب والترہیب1/ 292]
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,942
ری ایکشن اسکور
9,798
پوائنٹ
722
✿حدیث مذکور کا ایک اور ضعیف طریق:
یہی حدیث ایک الگ طریق ”أبو محمد المليكي، عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده“ سے مروی ہے ،دیکھئے:[مسند أبي داود الطيالسي 4/ 20رقم 2376 ، شعب الإيمان 5/ 408رقم 3624]
لیکن اس میں موجود ”أبو محمَّد المليكي“ کا کوئی سراغ نہیں ملتا لہٰذا یہ سند بھی ضعیف ہے ، اور سنن ابن ماجہ وغیرہ والی سند چونکہ سخت ضعیف ہے ، اس لئے یہ دونوں مل کی بھی تقویت نہیں پاسکتیں ۔
خلاصہ بحث یہ کہ مذکورہ روایت سخت ضعیف ہے۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top