• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیت بازی کی روایات اور اس کے فروغ میں شنکرپور کا کردار

شمولیت
فروری 14، 2018
پیغامات
29
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
36
تحریر: محمد صادق جمیل تیمی
بیت بازی بر صغیر ہندو وپاک کی پرانی تہذیب و تمدن میں شامل رہی ہے ،یہ دو گروپ کے مابین ایک کھیل ہے جس میں زبان کے معروف و مشہور شعراء کے کلاموں کو پیش کرکے کھیلا جاتا ہے ،یہ کھیل ہندوستان ،پاکستان اور ایران جیسے ممالک میں کافی مقبول ہے خاص طور پر بھارت میں اسے "انتا کشری "کے نام جانا جاتا ہے جس میں گیت کہے جاتے تھے -پاکستان میں اس اہم صنف کو جناب طارق عزیز صاحب اپنی شام و سحر کی محنتوں و کاوشوں سے تقریباً تیس سالوں سے چار چاند لگاتے رہے ہیں ،اسکول و کالج کے بچے کے مابین بیت بازی کرواتے ہیں اوران کا یہ عمل تاہنوز جاری و ساری ہے- بیت بازی کی روایت و آغاز کے سلسلے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ،البتہ اس کی کچھ شروعاتی نقوش والی ووڈ فلم "مغل اعظم "میں ملتی ہیں جو گیت کی شکل میں ہے جس گیت کا بول یہ ہے --
****
تیری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی دیکھیں گے
گھڑی بھر کو تیرے نذدیک آکر ہم بھی دیکھیں گے
****
اس کے بعد اس کی پرتو اسکول و کالج مدارس و جامعات اور تعلیمی درسگاہوں میں پھیلتی گئی ،اور اس کی اثر انگیزی کی بنا پر گاہ بہ گاہ کسی اہم تقریب کے موقع پر اس کا مقابلہ کیا جانے لگا اور دھیرے دھیرے ملک کے گوشے گوشے میں پھیل گئی -ادھر " یوم اردو" کی مناسبت سے سنجیو صراف جو ہندوستان کے ایک بڑے صنعت کار اور پالی پلکس کارپوریشن لمیٹیڈ کے بانی و چئرمین اور اہم حصص دار بھی ہیں "جشن ریختہ "کے نام سے ملک کی بڑی "بیت بازی "کرواتے ہیں جو قابل تحسین و لائق ستائش ہیں اور اردو کے تئیں ان کی محبت کو ڈھیر ساری آداب و تسلیمات پیش خدمت ہیں!!!!
بیت بازی کی مذکورہ تاریخی روایات وتہذیبی اقدار کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لئے ریاست بہار (ھند )کی مشہور تعلیمی درسگاہ "جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم شنکرپور " کا حساس شعبہ "نادی الطلبہ "کی جانب سے ایک شاندار "بیت بازی "کا پروگرام انعقاد عمل میں آیا - جس میں بچوں کو دو دن کاقلیل سا موقع دیا گیا تھا اس مختصر سی مدت میں تمام مراحل کے منتخب طلبہ پوری تیاری و مستعدی کے ساتھ شرکت کی-اس میں کوئی شک نہیں کہ ادبی فن پارے خصوصاً شعر و شاعری اور شعراء کے کلام سے محبت کی یہ ایک کھلی مثال ہے ،اردو زبان و ادب کی تہذیب و تمدن کی یاد تازہ کرنے کا ایک مظہر ہے ،نسل نو کے اندر زبان و ادب کے تئیں خوبصورت محبت پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے -یہ بزم "بیت بازی "حسب معمول اپنی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا آغاز قرآن مقدس کی چند خوبصورت آیات کے ذریعہ سے کیا اور صدر محفل نسیم جوہر تیمی نے اپنا ایک خوبصورت شعر -

کسی کے حصہ میں دکاں آئی کسی کے حصہ میں مکاں
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی

نے پورے بزم کو لوٹ لیا اور اپنی جانب توجہ مبذول کر دی -
اس ادبی محفل میں ایک تجویز یہ رکھی گئی کہ اردو کے مشہور و ممتاز شعرا کے ان کلاموں کو منتخب کیا جائے جو طلبہ کو بلند ہمتی ،آفاقی پرواز اور تعلیمی بلندی پر مہمیز کا کام کرے ،افادہ عامہ کی خاطر اسے کتابی شکل دے کر منظر عام پر لایا جائے گا ،بچوں کی دلچسپی و خواہش کو دیکھتے ہوئے علم دوست افراد اس کام کے لئے جوٹ گیے ہیں اور عمل ہنوز جاری ہے -
اس کے ساتھ ساتھ وقتا فوقتا اردو برجستہ صحافتی مسابقہ کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کا ایک خاطر خواہ فائدہ یہ مرتب ہوا کہ وہ بچے جو قلم پکڑنا نہیں جانتے تھے آج وہ بحسن خوبی اپنی بھولی بسری یادوں ،روزنامچہ یا کسی چیز کی حسن رپورٹنگ اور اپنے منفرد افکار و خیالات کو صفحہ قرطاس میں بیکھرتے ہیں -گویا ایک علمی شعاع و روشنی کی پرتو چمکتی ہوئی نظر آرہی ہے -اللہ اس گہورہ علم و عرفاں کو سدا تابندہ و درخشندہ رکھے (آمین )
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
صدر محفل نسیم جوہر تیمی نے اپنا ایک خوبصورت شعر -

کسی کے حصہ میں دکاں آئی کسی کے حصہ میں مکاں
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی
یہ شعر تو شایدمنور رانا کا ہے ،
ــــــــــــــــــــــ

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
یہاں سے جانے والا لوٹ کر کوئی نہیں آیا
میں روتا رہ گیا لیکن نہ واپس جا کے ماں آئی
ادھورے راستے سے لوٹنا اچھا نہیں ہوتا
بلانے کے لیے دنیا بھی آئی تو کہاں آئی
کسی کو گاؤں سے پردیس لے جائے گی پھر شاید
اڑاتی ریل گاڑی ڈھیر سارا پھر دھواں آئی
مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی
قفس میں موسموں کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا
خدا جانے بہار آئی چمن میں یا خزاں آئی
گھروندے تو گھروندے ہیں چٹانیں ٹوٹ جاتی ہیں
اڑانے کے لیے آندھی اگر نام و نشاں آئی
کبھی اے خوش نصیبی میرے گھر کا رخ بھی کر لیتی
ادھر پہنچی ادھر پہنچی یہاں آئی وہاں آئی

منور رانا
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
واہ خوب۔
تیمی صاحب اور سلفی صاحب آپ دونوں نے بھی مجلس لوٹ لی ہے۔ :)
 
Top