• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیش و کم کی دنیا میں قناعت

شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
231
ری ایکشن اسکور
19
پوائنٹ
75
بیش و کم کی دنیا میں قناعت
ہم بیش و کم کی دنیا میں رہتے ہیں اور
ایک دوسرے کو دیکھ کر حسرت بھرتے ہیں
اور کسی کو زیادہ ملا کسی کو کم ملا کا مالا جپتے ہیں۔
جو ملا اس کی ناقدری ہے، جو نہیں ملا اس پر حسرت ہے۔
انسان کی زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی تَمَنّا کم نہیں ہوتی،
جس کیلئے اپنے رب کی نافرمانی اور ناشکری کرنے سے نہیں ڈرتا۔
رب العالمین انسان کے اس ناقدری اور ناشکری کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ (6) وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ (7) وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (8) سورة العاديات

’’ بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے (6) اور یقیناً وہ خود اس (ناشکری) پر گواہ ہے (7)اور بیشک وہ مال و دولت کی محبت میں بہت سخت ہے (8)‘‘ سورة العاديات

لیکن جو کامیاب ہونا چاہتا ہے، وہ دنیا کی بیش و کم کے چکر میں نہیں پھنستا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ شکر نعمت، قناعت پسندی اور اللہ پر توکل ہی اسے دنیا و آخرت کی کامیابی دلا سکتی ہے۔
جیسا کہ اللہ کے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”وہ کامیاب ہو گیا، جو اسلام لایا، اسے بقدرضرورت روزی دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی عطا پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی‘‘۔ (سلسلہ احادیث صحیحہ : 1052، ترقيم الباني: 129)

ایک اور حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ آدمی کامیاب ہو گیا جسے اسلام کی طرف ہدایت نصیب ہو گئی ہو، اس کی گزر بسر سامان برابر برابر ہو اور وہ اس پر قناعت کرنے والا ہو‘‘۔ (سلسلہ احادیث صحیحہ: 122، ترقيم الباني: 1506)

لیکن قناعت ہے کیا؟
قناعت ہوس کی زد ہے۔
قناعت کے لفظی معنی ہیں :
تھوڑی سی چیز پر رضامندی۔
جو کچھ مل جائے اس پر صبر کر لینے کی خو۔
تھوڑی سے تھوڑی چیز جس کے حلال ہونے کا یقین کامل ہو لے لینا اور باقی کو اللہ کے ذمہ چھوڑ دینا۔
قناعت کے بارے میں عوام الناس میں بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ قناعت رہبانیت نہیں ہے اور نہ ہی بخیلی ہے۔ قناعت میں دنیاوی معاملات میں اعتدال و میانہ روی اور کفایت شعاری اختیار کرنا، افراط تفریط اور اسراف سے بچنا، نعمت پر شکر ادا کرنا، زوالِ نعمت پر صبر کرنا، اللہ پر توکل اور اللہ کے سوا کسی اور سے لو نہ لگانا سب ہی شامل ہے۔
قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ جائے، بلکہ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ الله تعالیٰ انسان کو اس کی کوشش اور دنیاوی حلال اسباب اختیار کرنے کے بعد جوکچھ دے، اس پر راضی رہے، اسی میں گزارہ کرے اور الله تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ بعض لوگ اپنی تجارت کو نہیں پھیلاتے اور کہتے ہیں بس گزارہ ہو رہا ہے اور کیا کرنا اور اسے قناعت پسندی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ قناعت نہیں ہے۔ مسلمان کو اپنی تجارت کو وسعت دینی چاہئے تاکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی روزگار ملے اور بہت سارے لوگوں کا فائدہ ہو۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو جو صلاحیت دی ہے اسے پوری طرح بروے کار لائیں، یاد رکھیں صلاحیتوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔
قناعت اعلیٰ ترین انسانی صفات میں سے ہے۔ اللہ کے نیک اور محبوب بندے ہی اس صفت سے متصف ہوتے ہیں۔ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔ قانع سے مراد وہ سائل ہے جو باصرار سوال نہ کرے اور جو کچھ مل جائے اسی پر راضی ہو جائے۔ قانع شخص صاحب دولت و ثروت بھی ہو سکتا ہے اور غریب و نادار بھی۔
قانع شخص اگر غریب و نادار ہوتا ہے تو اپنا راز کسی سے بیان نہیں کرتا اور اپنے فقر کا اظہار نہیں کرتا کہ اس طرح لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہو جائے گا۔ لوگ بندگانِ دنیا ہیں انہیں غربت کا حال معلوم ہو گا تو کبھی عزت نہیں کریں گے۔
قانع شخص اگر صاحبِ صاحب دولت و ثروت ہوتا ہے تو اہل و عیال اور متعلقین کے لباس و غذا میں وسعت پیدا کرتا ہے، اپنے غریب رشتہ داروں کو نوازتا ہے، مال میں سے زکوۃ ادا کرتا ہے، اپنی وسعت کے مطابق صدقہ و خیرات کرتا ہے لیکن فضول خرچی اور اسراف نہیں کرتا۔
قانع شخص دنیا میں رہنے کے باوجود دنیا میں گُم نہیں ہوتا، حرام طریقے سے دنیا کی بیش و کم کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتا بلکہ حلال طریقے سے دنیا سے اپنا پورا حصہ وصول کرتا ہے اور ہر حال میں اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری میں اور اپنے رب کو راضی کرنے میں لگا رہتا ہے کیونکہ اس کی نگاہ آخرت کی کامیابی پر رہتی ہے۔
قناعت کی صفت سے متصف ہونے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنے سے کم تر کو کو دیکھے، اللہ کے کسی نعمت کو حقیر نہ جانے اور ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے۔
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح امید ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے“۔ (سنن ابن ماجه : 4142)
جب انسان اپنے سے کم تر کو دیکھے گا تو اپنی نعمتیں اسے زیادہ نظر آئے گی اور یوں وہ ان نعمتوں کو حقیر نہ جانے گا، ان پر اللہ کا شکر ادا کرے گا اور ان پر ہی قناعت کرے گا۔
قناعت کی دعا:
اللَّهُمَ قَنِّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي، وَبَارِكْ لي فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلَيَّ كُلَّ غَائِبَةٍ لِي بِخَيْرٍ

’’اے اللہ !مجھے اپنی طرف سے عطا کردہ رزق میں قناعت پسند بنا اور مجھے اس میں برکت دے اور ہر وہ شے جو میرے لیے غائب ہے اس میں خیرو وسعت فرما‘‘۔ آمین
تحریر: #محمد_اجمل_خان
 
Top