• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیعت ِ ارشاد ؛ شرع کی نظرمیں

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
بیعت ِ ارشاد ؛ شرع کی نظرمیں

آصف ہارون​
اہل تصوف کے نزدیک بیعت اِرشاد غیر معمولی حیثیت کی حامل ہے۔ یہ دین طریقت کا نہ صرف لازمی امر ہے بلکہ جزوِلاینفک ہے۔ اس کی غیرمعمولی ضرورت و اہمیت کااندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے بغیرکسی بھی سالک و طالب کے لئے منازل سلوک تک وصول اور مراتب احسان کا حصول بعید از امکان ہے۔اہل تصوف کے نزدیک اس کی غیر معمولی منفعت و افادیت کااندازہ اس امر سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ سالک و طالب کے لئے معرفت الٰہی، لقائے حق، دنیوی و اُخروی فوز و فلاح، دخول جنت اور خروج جہنم صرف اسی کی مرہونِ منت ہے۔
ذیل کی سطور میں نہ صرف بیعت ارشاد کا مختصر طور پر لغوی و اصطلاحی مفہوم بیان کیا جائے گا بلکہ اہل تصوف کے نزدیک اس کی ضرورت و اہمیت، منفعت و اِفادیت اور اس کے لئے وضع کیا گیا طریقہ کار کا بیان بھی ہوگا۔ مزید برآں اس بیعت کی حقیقت، شرعی حیثیت، قائلین بیعت کے دلائل کااختصار کے ساتھ سرسری جائزہ اور اس بیعت کے عواقب و مضمرات کی بھی وضاحت کی جائے گی، سردست اس کا مختصر طو رپر لغوی و اصطلاحی مفہوم سمجھتے ہیں۔
لغوی مفہوم
لفظ بیعت ’بیع‘سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے اِطاعت کرنا، عہد کرنا اور سوداکرنا، خواہ یہ سودا جان و مال کا ہو یا کسی اور ذمہ داری کا۔چنانچہ علامہ ابن منظور افریقی ؒ لکھتے ہیں:
’’عبارة عن المعاقدة والمعاھدة کان کل واحد منھا باع ما عندہ عن صاحبہ واعطا خالصت نفسہ وطاعتہ ودخلیة أمرہ‘‘ [لسان العرب:۸؍۲۶]
’’بیعت و مبایعت عبارت ہے دو طریقہ عہدوپیمان سے، گویاہرایک نے دوسرے پراپنا سب کچھ فروخت کردیا ہے، اس کو اپنا دل اور نفس دے دیا ہے اور اپنی اطاعت اور مخصوص امور اس کے سپرد کردیئے ہیں۔‘‘
لفظ ’ارشاد‘کا معنی ہے رہ نمائی، ہدایت، تعلیم، مشورہ اور وعظ و نصیحت وغیرہ۔ [القاموس الوحید، ص۶۲۷] لہٰذا بیعت ارشاد کا لغوی معنی راہبری اور راہنمائی کی بیعت ہوگا۔
اِصطلاحی مفہوم
یاد رہے کہ بیعت ارشاد کو بیعت اصلاح، بیعت تزکیہ، بیعت تقویٰ، بیعت توبہ اور بیعت تحکیم بھی کہتے ہیں۔بیعت تحکیم کے بارے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:
’’اس کو بیعت تاکد عزیمت بھی کہتے ہیں یعنی ظاہر و باطن سے اوامر الٰہی پر کاربند رہنے اور منہیات سے بچنے کا عزم صمیم کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے دل کی تعلیق کا پختہ ارادہ کرنااور اپنے شیخ (مرشد) کو اپنے اوپر حاکم کرنا کہ وہ جس طرح چاہے تعلیم طریقت وتہذیب اخلاق میں محنت کروائے۔یہی قسم اصل تصوف ہے اور اَرباب ارادت کے واسطے خاص ہے۔‘‘ [القول الجمیل، مترجم ص۲۸، بحوالہ شریف التواریخ از سید شریف احمد شرافت نوشاہی، ص۱۲۰]
صاحب شریف التواریخ رقمطراز ہے:
’’صوفیہ کی اصطلاح میں بیعت اس کو کہتے ہیں کہ مرید اپنا عقیدت کا ہاتھ مرشد کے ارشاد کے ہاتھ کے ساتھ منعقد کرے اور یہ انعقاد مرشد کے واسطہ سے مرشد کے مرشد کے ساتھ ہوتاہے اور علی ہذا القیاس یکے بعد دیگرے یہ انعقاد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور بواسطہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے اس بیعت کاانعقاد حضرت پیغمبرﷺکے ساتھ ہو جاتاہے اور یہ بیعت آنحضرتﷺ کے فعل سے ثابت ہے۔‘‘ [شریف التواریخ، ص۱۱۹]
صاحب تجدید تصوف و سلوک رقمطرازہے:
’’مریدبھی اصطلاحاً وہ ہے جو اپنی دینی خصوصاً باطنی و قلبی اصلاح کومراد و منزل بناکر اس کے ضروری وسائل اختیار کرتا ہے اور اس کی طرف چل پڑتا ہے اور بیعت کے معنی ہیں اس منزل مقصود کے لئے کسی زیادہ واقف کار کو رہبر ورفیق بنا لینا اور اس کے پیچھے یاساتھ چلنا تاکہ نہ صرف گمراہی کے خطرات سے حفاظت ہو بلکہ راستہ سہولت و راحت سے قطع ہو۔بالفاظ دیگر اپنے سے زیادہ واقف وماہر مصلح کے ہاتھ میں اپنے کو اس طرح سونپ دینا، جس طرح بائع، مشتری کے ہاتھ اپنی چیز سونپ دیتاہے … غرض ارادت و بیعت کامطلب کمالِ دین یادین کے مرتبہ احسان کی طلب میں نکل پڑنااور اپنے سے زیادہ کسی واقف کار رہبر کے پیچھے ہولینا ہے یا یوں کہو کہ اس مرتبہ دین کا تعلق چونکہ خصوصیت کے ساتھ قلب و باطن کی اصلاح اور اس کے امراض کے ازالہ سے ہے اس لئے کسی شفیق و حاذق طبیب کے زیرعلاج اپنے آپکو دے دینا ضروری ہے۔ حضرت (تھانوی) علیہ الرحمۃ نے اس کو پیرومرشد یاشیخ وطالب کے مابین ایک ایسے معاہدہ سے تعبیر کیاہے جس پرشیخ کی طرف سے اصلاح کا وعدہ ہوتا ہے اور طالب کی طرف سے اتباع کا۔‘‘ [تجدید تصوف و سلوک از عبدالباری ندوی ، ص۹۷،۹۸،۱۰۱]
لہٰذا مرید کی طرف سے اوامر پر کاربند رہنے، نواہی سے بچنے اور بلا چوں چراں اپنے شیخ ومرشد کے ہرحکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے ،اس کی اتباع میں جان ومال صرف کرنے کی یقین دہانی اور مرشد کی طرف سے قلب و باطن کی اصلاح ، گمراہی کے خطرات سے نجات، بلکہ دنیوی مصائب وآلام اور اُخروی عذابات و عقوبات سے نجات کی مکمل یقین دہانی کانام ہی بیعت ارشاد ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
بیعت اِرشاد کی ضرورت واہمیت
طریقت وبیعت چونکہ لازم و ملزوم ہوتی ہیں اس لئے صوفیاء کے نزدیک یہ بیعت غیرمعمولی ضرورت و اہمیت کی حامل ہے۔چنانچہ صاحب مناقب رومی رقمطراز ہے:
’’سالکان راہ طریقت کے لئے بیعت نہایت ضروری ہے مرشد کامل کی رہنمائی کے بغیر کبھی کوئی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتا … حضور سرورِ کونین ﷺ فرماتے ہیں :
"مَنْ لَمْ یُدْرِکْ اِمَامَ زَمَانِہ فَقَدْ مَاتَ مِیْتَة جَاھِلِیَّة" [شرح عقائد نسفی اور صحیح مسلم]
’’یعنی جس نے اپنے زمانے کے امام کو ادراک قلبی سے دریافت نہیں کیاپس تحقیق وہ مرگیا موت کفار کیـ۔‘‘
یعنی پہلے اپنے زمانے کے امام کو جو خلیفۃاللہ راہبر کامل ہو پورے طور پر ادراک قلبی سے شناخت کرے اور بیعت میںداخل ہوجائے تب اس کے لئے حصولِ معرفت کی راہ کھلے گی اور اجر عظیم کی فلاح پائے گا ورنہ معرفت الٰہی سے محروم ہوکر جاہلیت کی موت مرے گا اگر خوش بختی سے شیخ کامل مل گیا تو اس کے ہاتھ کو خدا کا ہاتھ سمجھے اور بیعت کرکے کمر ہمت باندھے شیخ کی فرماں برداری میں سرمو فرق نہ کرے بفضل خدا منزل مقصود کو پہنچ جائے گا۔ حدیث میں ہے:
" مَنْ مَاتَ وَلَیْسَ فِیْ عُنُقِہٖ بَیْعَة مَاتَ مِیْتَة الْجَاھِلِیَّة"
’’یعنی جس نے شیخ کانشان گلے میں نہ پہنا اور مرگیا گویاوہ کفر کی موت مرا۔‘‘
" مَنْ لَا شَیْخَ لَہٗ وَشَیْخُہٗ الشَّیْطَانُ"
جس کا کوئی رہنر نہ ہو اس کا پیر شیطان بن جاتا ہے۔‘‘ [صحیح مسلم وسنن ترمذی،مناقب رومی از محمد ریاض قادری ، ص۱۶،۱۷، ۱۸]
اس اقتباس میں بیان کی گئی اَحادیث واقوال کی تحقیق ’قائلین بیعت کے دلائل‘کے تحت آئے گی۔
مولانا رومی سے اس بیعت مزعومہ کی ضرورت و اہمیت کے متعلق منقول ہے:
دست پیر از غائبان کوتاہ نیست
دست اوجز قبضہ اﷲ نیست
’’پیر کا ہاتھ غائبین تک بھی پہنچتا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت ہونا گویا حق تعالیٰ ہی سے بالواسطہ عہد کرنا ہے۔‘‘
ہر کرا پیر نباشد پیرو ے شیطان بود
خواجگی بے پیر بودن کارہا ناداں بود
’’جس کا کوئی پیرو مرشد نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔ پیر کے بغیر خواجگی کرنا یعنی شیخ بن بیٹھنا بے وقوفوں کا کام ہے۔‘‘ [مناقب رومی، ص۲۱،۲۴]
صاحب تجدید تصوف و سلوک، مولانا اشرف علی تھانوی سے نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہے:
’’شیخ اسی (بیعت) کی تعلیم کرتا ہے اور مرید کاربند ہوتاہے اگرچہ کوئی کیفیت معلوم نہ ہو، نہ اس کے زعم کے مطابق کوئی کمال حاصل ہو، تب بھی آخرت میںاس(بیعت) کا ثمرہ جو کہ رضا ہے ظاہر ہوگا اور اس رضا سے دخول جنت و لقائے حق اور دوزخ سے نجات میسر ہوگی، شیخ کی طرف سے تلقین کاوعدہ اور مرید کی طرف سے اس کے اتباع کاعہد یہی حقیقت ہے۔پیری و مریدی کی… اور گو یہ تعلیم اور اس پر عمل بدون بیعت متعارضہ کے بھی ممکن ہے لیکن بیعت میں طبعاً یہ خاصہ ہے کہ شیخ کو توجہ زیادہ ہوجاتی ہے اور مرید کو فرمانبرداری کا پاس زیادہ ہوجاتا ہے اوریہی حکمت ہے شیخ کی تعیین اور وحدت میں کہ جانبین کو خصوصیت بڑھ جاتی ہے۔ [قصد السبیل ہدایت چہارم ، ص۱۲، بحوالہ تجدید تصوف و سلوک ، ص۱۰۴]
مذکورہ بالااقتباسات سے قطعی طور پر یہ معلوم ہورہاہے کہ بیعت ارشاد کی اہل تصوف کے نزدیک اور دین طریقت میں بہت زیادہ ضرورت و اہمیت ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
بیعت ِ ارشاد کی منفعت و افادیت
اہل تصوف کے نزدیک بیعت ارشاد کافائدہ و ثمرہ کیا ہے؟ یہ حقیقت تو ہماری گذشتہ گفتگو سے کافی حد تک آشکار ہوچکی ہے کہ یہ بیعت مرید و سالک کو گمراہی سے بچاتی ہے اور منازل سلوک کو آسانی سے طے کرواتی ہے۔دنیوی واخروی فوز و فلاح، حق تعالیٰ کی رضا، جہنم سے نجات اور جنت کا حصول ایسے امور اسی بیعت کی مرہون منت ہیں۔ چنانچہ ہم یہاں ایک دو واقعات نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ جن سے اس حقیقت کی وضاحت اور اس بیعت کی منفعت و افادیت میں مزید تعاون ملے گا۔
صاحب مناقب رومی نقل کرتا ہے :
’’حضرت حسام الدین چلپی سے روایت ہے کہ سید شریف الدین کا ایک دوست شہر قوفیہ کے معززین میں سے تھا اس کا لڑکا نہایت حسین و جمیل تھا اور شہر کے بہت سے لوگ اس کے چاہنے والے تھے وہ لڑکا دل وجان سے مولانا رومی کا عاشق تھا۔ اس کاباپ اسے مولانا صاحب کے پاس جانے سے روکتاتھا مگر مولانا کے ساتھ اس کی محبت بڑھتی جاتی تھی۔ایک دن اس نے اپنے باپ سے کہا کہ اگر آپ کو مجھ سے سچی محبت ہے تو مولانا کی دعوت کیجئے اور سماع کرائیے اور مجھے مولانا سے بیعت کرا دیجئے ورنہ میں شہر چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں گا یا خود کشی کرلوں گا۔ محبت پدری نے جوش مارا، باپ رضامند ہوگیا اور سیدشرف الدین سے جاکر تمام ماجرا بیان کیا۔ سید شرف الدین نہایت مغرور اور متکبر آدمی تھا اور مولانا کا سخت منکر تھا اس نے لڑکے کے باپ سے یہ کہا کہ جب تیرا لڑکا مریدہوجائے تو مولانا سے یہ سوال کرناکہ کیا میرا بیٹا جنتی ہے اور کیا اسے خدا کا دیدار ہوگا یا نہیں؟ دیکھیں مولانا کیا جواب دیتے ہیں۔اس شخص نے سماع کا انتظام کیا شہر کے کل معززین اور بزرگوں کو دعوت دی سماع ہوا۔مولانا بھی تشریف لاچکے تھے۔ سماع کے بعد جب کھانا کھاچکے تو لڑکے کو بیعت کرا دیا۔ پیشتر اس کے کہ وہ شخص سوال کرے مولانا نے خود ہی فرمایا کہ تیرا یہ فرزندجنتی ہے اور اسے دیدار الٰہی نصیب ہوگا اور یہ اب اللہ کی رحمت میں ڈوب گیا ہے۔‘‘[مناقب رومی، ص۲۵۱]
اب دوسرا واقعہ ملاحظہ فرمائیں
’’شیخ الاسلام خواجہ فرید الدین احمد نے فرمایا کہ ان کے دادا پیرشیخ معین الدین حسن سنجری چشتی اجمیری قدس سرہ العزیز کی یہ رسم تھی کہ جو کوئی ہمسایہ میں سے اس دنیاسے نقل (انتقال) کرتا ، اس کے جنازہ کے ساتھ جاتے تو خلق کے لوٹ جانے کے بعد اس کی قبر پر بیٹھتے اور جو درود کہ ایسے وقت میں پڑھتے آئے ہیں، پڑھتے، پھر وہاں سے آتے۔چنانچہ اجمیر میں آپ کے ہمسایوں میں سے ایک نے انتقال کیا۔دستور کے مطابق آپ جنازہ کے ساتھ گئے۔جب اسے دفن کرنے کے بعد خلق لوٹ آئی توخواجہ وہیں ٹھہر گئے اور تھوڑی دیر کے بعد اٹھے، شیخ الاسلام قطب الدین فرماتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ تھا میں نے دیکھا کہ دم بدم آپ کا رنگ متغیر ہوا، پھر اسی وقت برقرار ہوگیا۔ جب آپ وہاں سے کھڑے ہوئے تو فرمایا۔ الحمدﷲ بیعت بڑی اچھی چیز ہے۔‘‘شیخ الاسلام قطب الدین اوشی نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ جب لوگ اس کو دفن کرکے چلے گئے تھے تو میں بیٹھا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ عذاب کے فرشتے آئے اور چاہا کہ اس کو عذاب کریں، اسی وقت شیخ عثمان ہارونی (آپ کے پیرو مرشد، م۶۳۴ھ)قدس سرہ العزیز حاضر ہوئے اور کہا کہ یہ شخص میرے مریدوں میں سے ہے جب خواجہ عثمان نے یہ کہا تو فرشتوں کو فرمان ہوا کہ کہو ’’یہ تمہارے برخلاف تھا‘‘ خواجہ نے فرمایا:’’بے شک اگرچہ برخلاف تھا مگر چونکہ اس نے اپنے آپ کو اس فقیر کے پلے باندھا تھا تو میں نہیں چاہتا کہ اس پر عذاب کیاجائے، فرمان ہوا اے فرشتو! شیخ کے مرید سے ہاتھ اٹھاؤ، میں نے اس کو بخش دیا۔ پھر شیخ الاسلام کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور فرمانے لگے کہ اپنے آپ کو کسی کے پلے باندھنا بہت اچھی چیز ہے۔‘‘ [راحۃ القلوب، مترجم ص۱۳۲، بحوالہ شریعت و طریقت از عبدالرحمن کیلانی ،ص۳۰۵]
مذکورہ دونوں واقعات سے بیعت ارشاد کے فوائد و ثمرات روز روشن کی طرح واضح ہیں لیکن کبھی کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ بیعت کی بجائے صرف نسبت سے ہی جنت کاپروانہ مل جاتا ہے۔درج ذیل واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔صاحب سیرت غوث الثقلین رقمطراز ہے۔
= شیخ المحدثین،امام المحقّقین والمدققین عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
’’مشائخ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت غوث اعظم (عبدالقادر جیلانی) سے پوچھا کہ اگر ایک شخص جس نے آپ سے بیعت تو نہیں کی مگر آپ کا اراد ت مند ہے اور اپنی نسبت آپ سے کرتا ہے تو کیاوہ شخص آپ کے مریدین میں شمار ہوگا اور ان کی فضیلتوں میں شریک ہوگا کہ نہیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اپنے آپ کو میری طرف منسوب کیا اور میرے ارادت مندوں کے حلقے میں شامل ہوگیا۔ حق تعالیٰ جل جلالہ اس کو قبول فرماتاہے اور اس پر رحمت نازل فرماتا ہے اگرچہ اس شخص کا یہ طریقہ مکروہ ہے۔ ایسا شخص میرے اصحاب اور مریدین میں سے ہے اور میرے پروردگار عزوجل نے اپنے فضل و کرم سے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میرے تمام اصحاب اہل مذہب،میرے طریقہ پر چلنے والوں اور میرے محبوں کو بہشت میںجگہ دے گا۔‘‘ [قلائد الجواہر، ص۱۵، بہجۃ الأسرار، ص۱۰۱، تحفہ قادریہ،ص۳۸، بحوالہ سیرت غوث الثقلین، ص۱۳۴]
گویا جو قادری بن گیا وہ جنت کامستحق بن گیا۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
بیعت ارشاد کا خود ساختہ طریقہ
مذکورہ بالاتمام بشارتوں، سعادتوں اور فوائد و ثمرات کے حصول کے لئے اہل طریقت نے ایک خود ساختہ طریقہ بیعت ایجاد کیا ہوا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
= شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں:
’’خوب جان لے!کہ بیعت کے وقت سلف صالحین سے جو الفاظ منقول ہیں وہ یہ ہیں کہ مرشد سب سے پہلے خطبہ مسنونہ پڑھے ’’الحمد ﷲ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونعوذ باﷲ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا من یھد اﷲ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ وأشھد أن لا إلہ إلا اﷲ وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم‘‘ بعد ازاں اپنے مرید کو ایمان اجمالی کی تلقین کرے یعنی مرید کو اس بات کاحکم دے کہ تو یہ الفاظ ادا کر کہ میں اللہ پر اور جو چیز اللہ کی طرف سے اللہ کی مراد پر آئی ہے اس پر ایمان لاتاہوں اور میں رسولﷺ پراور جو چیز رسولﷺ کی طرف سے رسولﷺ کی مراد پرآئی ہے اس پر ایمان لاتاہوں اور میں ماسوائے اسلام کے تمام ادیان باطلہ اورگناہوں سے بیزار ہوں۔ چنانچہ اب میں اسلام لاتا ہوں یعنی اسلام کو تازہ کرتا ہوں اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ماسوائے اللہ کے کوئی معبود برحق نہیں اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسولﷺ ہیں۔
پھر مرشد اپنے مرید کو اس بات کا اقرار کروائے کہ میں رسول اللہﷺکے خلفاء کی وساطت سے آپﷺ کی پانچ امور پر بیعت کرتا ہوں۔ یہ شہادت دیتاہوں کہ ماسوائے اللہ کے کوئی معبود برحق نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔نماز کا قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے اور حسب استطاعت حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کروں گا۔پھر مرشد اپنے مرید سے اس بات کا بھی اقرار کروائے کہ میں رسول اللہﷺکے خلفاء کی وساطت سے آپﷺ کی اس بات پر بیعت کرتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ شرک، چوری، زنا، قتل، اپنے دونوں ہاتھوں اور پاؤں کے مابین کسی بہتان کا افتراء اور رسول کریمﷺ کی امر مشروع میں حکم عدولی نہیں کروں گا۔ اس کے بعد مرشد ان آیات کی تلاوت کرے۔
{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْااﷲَ وَابْتَغُوآ إِلَیْہِ الْوَسِیْلَة وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ- إنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ إنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اﷲَ یَدُ اﷲِ فَوْقَ أیْدِیْھِمْ فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَمَنْ أوْفٰی بِمَاعَاھَدَ عَلَیْہُ اﷲَ فَسَیُؤْتِیْہِ أجْرًا عَظِیْمًا}
پھر مرشداپنے لئے،مرید کے لئے اور حاضرین مجلس کے لئے یہ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے مابین برکت ڈالے اور ہم کو اور تم کو نفع پہنچائے۔
اور اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں کہ مرشد اپنے مرید کو یہ تلقین کرے کہ تو اس بات کااقرار کر کہ میں، طریقہ نقشبندیہ جو کہ شیخ اعظم اور قطب افحم خواجہ نقشبند کی طرف منسوب ہے یاطریقہ قادریہ جو کہ شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کی طرف منسوب ہے یا طریقہ چشتیہ جو کہ شیخ معین الدین سنجری کی طرف منسوب ، کو اختیارکرتاہوں۔
خداوند! اپنی رحمت کے ساتھ ہم کو اس طریقے کی فتوح عنایت کر اور ہم کو اس طریقے کے اولیاء میں محشور کرنا یاارحم الراحمینـ۔‘‘ [القول الجمیل، مترجم، ص۳۰)
= صاحب طریقت توحیدیہ رقمطراز ہے:
’’بیعت کاطریقہ یہ ہے کہ مرشد اس طالب کو دو رکعت نماز نفل توبہ کے پڑھنے کا حکم دے۔ نفل پڑھنے کے بعد طالب سجدے میں جاکر اپنے پچھلے گناہوں سے اللہ کے حضور توبہ اور آئندہ کے لئے ان سے بچنے کا عہد کرے پھر مرشد کے سامنے دو زانو بیٹھ کر آمنت باﷲ عربی میں پڑھے۔پھر اس کاترجمہ اپنی زبان میں اس طرح بآواز بلند بیان کرے۔ میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتو ں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر، اس بات پر کہ نیکی اور بدی کے تمام انداز ے اللہ ہی کی طرف سے ہیں اور حیات بعد الموت پر جب کہ مجھے ان اعمال کی جزاء اور سزاملے گی جو میں نے اس زندگی میں کئے ہیں اس کے بعد مرشد کے ہاتھ میں ہاتھ دے کرکہے
’’میں آپ کو گواہ بنا کراللہ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ تمام کبیرہ گناہوں سے بچوں گا اور صغیرہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کروں گا،میں ہمیشہ پاک صاف رہوں گا، نماز باقاعدہ پڑھوں گا، روزے رکھوں گا اگر روپیہ ہوا تو زکوٰۃ دوں گا اور حج کروں گا اور ضرورت پڑی تو جہادبھی کروں گا۔آپ کے سلسلے کے تمام آداب و قواعد کی پابندی کروں گا اور آپ کا ہر حکم بے چوں چراں مانوں گا ان تمام باتوں کے لئے میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر آپ کی مدد کا طالب ہوں اور آپ کے ہاتھ پربیعت کرتاہوں۔‘‘
اس کے بعد مرشد کہے گا کہ ’’میں اللہ کے واسطے تمہاری بیعت قبول کرتاہوں اور اللہ سے دعا کرتاہوں کہ وہ تم کو کامیاب فرمائے اور ثابت قدم رکھے۔‘‘ آمین
پھر مرشد کو چاہئے کہ ایک گلاس میں پانی لے کر اس میں سے ایک دو گھونٹ پیئے اور پھر توجہ کرکے مرید کو پلادے اگر شیرینی وغیرہ ہو تو حاضرین میں تقسیم کردی جائے۔نہ ہو تو کوئی ضروری بات نہیں ہے۔‘‘ [طریقت توحیدیہ از خواجہ عبدالحکیم انصاری، ص۲۰]
مذکورہ بالا بیعت کے دونوں طریقوں کے علاوہ بھی کتب صوفیہ میں اہل تصوف کے سلاسل کے لحاظ مختلف طریقے موجود ہیں الغرض ہم نے بیعت ارشاد کے متعلق مذکورہ بالا معلومات قارئین کرام کی خدمت میں فقط اس مقصد کے لئے پیش کی ہیں تاکہ ہمیں قطعی طور پر اس بات کا علم ہوجائے کہ اہل طریقت کے نزدیک اس بیعت مزعومہ کی ضرورت و اہمیت اور منفعت وافادیت کیاہے ؟اور اس کے پس منظر میں کس قد رگہری گمراہ کن سوچ و فکر کارفرما ہے؟بہرحال صوفیہ کی ذہنی و فکری ژولیدگی اور اخلاقی و عملی پستی مذکورہ بالا تصریحات سے نصف النہار کی طرح واضح ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
بیعت ارشاد کی شرعی حیثیت
بیعت ارشاد کی شرعی حیثیت جاننے سے پہلے حسب ذیل نکات کوسمجھنا از حدضروری ہے کیونکہ اس بیعت مزعومہ کی شرعی حیثیت کاسارا دارومدار انہی نکات پر ہے۔
نمبر1:
بیعت درحقیقت اس سودے اورمعاہدے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے مابین طے پاتا ہے وہ ایسے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی جان اور مال قربان کرنے کاعہد کرتاہے جبکہ اللہ تعالیٰ بندے کو اس کے بدلے میں جنت دینے کا وعدہ فرماتے ہیں۔ بیعت کے اس مفہوم کو قرآن مجید میں بطریق احسن بیان کیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّة یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰة وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ وَ مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ وَ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘‘ [التوبۃ:۱۱۱]
’’بیشک اللہ تعالیٰ نے مؤمن بندوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے میں خرید لئے ہیں وہ مؤمن بندے اللہ کے رستے میں قتال کرتے ہیں، پس وہ (کافروں کو )قتل کرتے بھی ہیں اور (خود بھی) شہید ہوتے ہیں۔سچا وعدہ ہے اللہ کے ذمے جو تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے تم اپنے اس سودے (بیعت) پرخوشخبری حاصل کرو جو کہ تم نے اللہ سے کیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
مذکورہ بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ براہ راست اپنے بندوں سے ایک معاہدہ و سودا کر رہے ہیں اور یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ معاہدے کے وقت فریقین کی موجودگی و حاضری از حد ضروری و لازمی ہوتی ہے جس کے بغیرمعاہدہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا۔ لہٰذا اللہ اور اسی کے بندوں کے مابین اس معاہدے کے وقت اہل ایمان تو موجود ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ وہاں حاضر و موجود نہیں ہوتے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ اس معاہدے میں اللہ تعالیٰ کی نمائندگی کرتے ہوئے بالکل شریک ہوتے ہیں۔
نمبر2:
بیعت بظاہر تو نبی کریمﷺکے ہاتھ پر ہوتی ہے، لیکن درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ سے ہورہی ہوتی ہے اس لئے کہ بیعت میں نبی کریمﷺ فریق معاہدہ نہیں ہوتے بلکہ یہ معاہدہ تو براہِ راست اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے مابین طے پاتا ہے جب کہ نبی کریمﷺاللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نمائندہ کی حیثیت سے یہ بیعت لیتے ہیں اس مفہوم کو قرآن مجید نے بایں الفاظ بیان کیا ہے۔
’’ اِِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ فَمَنْ نَّکَثَ فَاِِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا‘‘ [الفتح :۱۰]
’’بلاشبہ جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں، وہ دراصل اللہ سے بیعت کررہے ہیں اللہ کا ہاتھ ان سب کے ہاتھوں کے اوپر ہے پس جس نے (اپنا معاہدہ) توڑ دیا تو اس کے توڑنے کاوبال اسی پرہوگا اور جو کوئی اللہ سے کئے گئے معاہدے کو پوراکرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عنقریب اس کا بہت بڑا اجر دیں گے۔‘‘
اس بات کااعتراف خود اہل تصوف نے بھی کیا ہے چنانچہ صاحب مناقب رومی رقم طرازہے:
’’ حضرت واسطیفرماتے ہیں کہ بیعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مقصود ہے اور درمیان میں واسطہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فقط حصولِ برکت ہے یعنی جس شخص نے نبی اکرمﷺ سے بیعت کی اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ جل شانہ سے بیعت کی، کیونکہ حقیقتاً یہ بیعت بیعت الٰہی ہے اس لئے کہ حضور علیہ السلام کا دست مبارک درمیان میں ایک واسطہ ہے اور وہ بمنزلہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ مبارک ہے۔‘‘[مناقب رومی، ص۱۲]
نمبر3:
اگر کوئی معترض اعتراض کرے کہ بیعت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی کیوں ہوتی ہے؟ کیا نبی کریمﷺکی نہیں ہوسکتی؟تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ چونکہ بیعت ایک قسم کے سودے کا نام ہے اور سودا یہ ہے کہ اگراہل ایمان اپنی جانیں اور اموال اللہ کی راہ میں کھپا دیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بدلے میں جنت سے سرفراز کرے گا۔اب اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر نبی کریمﷺ اپنی طرف سے کسی اُمتی سے یہ وعدہ نہیں کرسکتے کہ اگر تم یہ کام کرو گے تو میں تم کو جنت سے نوازوں گااور اجروثواب عطا کروں گا۔کیونکہ جنت اور فوز وفلاح سے ہمکناری نبی کریمﷺ کی بجائے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے۔لہٰذا جب بیعت جان و مال کے بدلے میں جنت کے سودے کا نام ہے تو یہ بیعت صرف اور صرف اللہ ہی کی ذات سے ہوسکتی ہے جو کہ جنت و بہشت کامالک ہے، لیکن نبیﷺ چونکہ اللہ تعالیٰ کا براہِ راست نمائندہ ہوتا ہے اس لئے وہ اللہ کی نمائندگی میں بیعت لیتا ہے خود اپنی طرف سے جنت اور فوزوفلاح کا سودا نہیں کرسکتا، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے:
’’ لَیْسَ لَکَ مِنَ الأمْرِ شَیْئٌ أوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أوْ یُعَذِّبَھُمْ فَإنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ‘‘[آل عمران:۱۲۸]
’’(اے پیغمبرؐ) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔‘‘
نمبر4:
باعتبار اُمت مسلمہ آپﷺ کی زندگی کے دو نمایاں پہلو ہیں:ایک آپ کی زندگی بحیثیت نبیﷺ کے گزری اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ آپ بحیثیت منتظم و حکمران اُمت کے پہلے حکمران تھے۔ چنانچہ جب نبی کریمﷺ اس دنیا سے رحلت فرماگئے تو آپ کی نبوت چونکہ عالمگیر اور دائمی تھی جیساکہ اِرشاد نبویﷺ ہے:
’’ أنَاخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ‘‘ ’’میں انبیاء کاخاتمہ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
اس لئے آپ ﷺ کی نبوت میں تو نیابت کا کوئی سلسلہ جاری نہیں ہوسکتاجب کہ آپﷺ کی حکمرانی عارضی تھی لہٰذا آپ ﷺ کی وفات باحسرت کے فوراً بعد مسلمانوںمیں حکمران کا خلا پیدا ہو گیا۔لہٰذا مسلمانوں کے معتمد علیہ خلیفۃ الرسول جناب ابوبکر صدیق﷜ نے حکمرانی میں آپﷺ کی نیابت کرتے ہوئے اُمت مسلمہ کی ذمہ داری سنبھالی۔چنانچہ وہی بیعت جواللہ تعالیٰ سے اس کے براہ راست نمائندے یعنی نبیﷺ کے توسط سے ہوئی تھی اب اللہ کے نمائندے کے نائب حضرت ابوبکر صدیق﷜ کے ذریعے سے ہونے لگے۔یہ نیابت وخلافت حضرت ابوبکر صدیق﷜ کی وفات کے بعد جناب عمر بن خطاب﷜کو منتقل ہوگئی۔اب حضرت عمر بن خطاب ؓ، حضر ت ابوبکرؓ کے نائب یا خلیفہ کی حیثیت سے بیعت لینے لگے۔اسی طرح یہ خلافت چلتی رہی اور خلفائے اربعہ کے بعد بنوامیہ اور بنو عباس کے حکمران اہل ایمان سے سمع و طاعت کی بیعت لیتے رہے۔مسلمان حکمرانوں کی یہ بیعت بھی دراصل اللہ ہی سے ہوتی تھی، لیکن نبیؐ کے نائب کے حوالے سے اس لئے کہ مسلمان حکمرانوں کی حیثیت نبیؐ کے نائب کی ہوتی ہے ۔اس لئے عام اہل ایمان اپنے حکمرانوں کی معروف میں سمع و طاعت کی بیعت کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ سے اپنے سودے کے مطابق جنت کی امید رکھتے ہیں۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
نمبر5:
بیعت اور مسلمانوں کے باہمی معاہدات میں فرق ہے- ایک عام معاہدہ تو کوئی مسلمان کسی سے کسی وقت بھی کرسکتا ہے جب تک وہ اسلامی تعلیمات کے منافی نہ ہویا مسلمانوں کے امام سے کئے گئے وعدے یعنی بیعت کے مخالف نہ ہو،لیکن معاہدہ بیعت ذاتی قسم کے تمام باہمی معاہدات سے بلندترجان و مال کے سودے کی صورت میں ہوتا ہے۔
اگر معاہدے کا مقصد صرف نظم ہے تو یہ مقصد تو بغیر معاہدے کے بھی حاصل کیا جاسکتاہے۔ امیرکی سمع و طاعت میں نظم جماعت خودبخود آجاتاہے۔ حالانکہ بیعت اس خاص طریقے کانام ہے جو نبی کریمﷺ اللہ تعالیٰ کی نمائندگی میں یا نبیؐ کا نائب اپنے مامورین سے وعدہ لیتا ہے۔ اس میں مامورین کی طرف سے اپنی جان و مال کا وعدہ ہوتاہے اور اللہ کی طرف سے یعنی نبیؐ کے توسط یا نبیؐ کے نائب کے ذریعے سے جنت کاوعدہ ہوتاہے۔ بیعت اور نظم جماعت میں یہ واضح فرق ہے۔
لہٰذا بیعت کو عام معاہدے کے رنگ میں رنگ کر اس بنیاد پر کسی محدود جماعت کے امیر کااپنے اراکین سے بیعت لیناکسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے کیونکہ اگر اس کو درست تسلیم کرلیاجائے تو پھراسلامی معاشرے میں بہت ساری ایسی جماعتیں وجود پذیر ہوں گی کہ جن کے اراکین اپنے امراء سے بذریعہ بیعت یہ معاہدہ کررہے ہوں گے کہ وقت آنے پر وہ اپنے امیر کے حکم پر جان و مال قربان کردیں گے اور ان کے امراء جو اباً ان کو سورۃ التوبہ کی آیات سنا کر جنت کے ٹکٹ بانٹ رہے ہوں گے اوریہ جماعتیں باہم جدل و جدال کررہی ہوں گی ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہمارے ہاں معاہداتِ بیعت میں اصل مقصد صرف نظم ونسق نہیں ہوتابلکہ اندھی عقیدت اور تقلید شخصی ہوتی ہے جوبہرصورت جائز نہیں ہے۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
’’ اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ أرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ وَالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَمَآ اُمِرُوْا إِلَّا لِیَعْبُدُوْا اِلٰھًا وَّاحِدًا لاَ اِلٰہَ إلَّاھُوَ سُبْحَانَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘‘ [التوبۃ :۳۱]
’’انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کواللہ کے سوا اپنا رب بنالیاہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم ؑ کو بھی حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کاحکم نہیں دیا گیا تھا وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، پاک ہے وہ اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔‘‘
یہ بات اپنی جگہ پرمستحکم ہے کہ اجروثواب اورجنت کامعاہدہ کرنا بندے کا حق نہیں ہے، کیونکہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے جو نبیﷺ کے توسط سے ہوتا ہے اوراسی کو بیعت کہتے ہیں بہرحال بیعت اورمعاہدے میں کسی نہ کسی لحاظ سے فرق ضرور ہوتاہے۔
ہماری مذکورہ بالا تصریحات سے یہ باتیں واضح ہوتی ہیں کہ :
٭ بیعت اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان نبی کریمﷺ کے توسط سے ہوتی ہے۔
٭ بعد میں یہ بیعت نبی کریمﷺ کے نائب کی حیثیت سے حکمران سے ہوتی ہے۔
٭ بیعت اور معاہدے میں فرق ہوتاہے۔
نمبر6:
یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی امت سے جتنی بھی بیعتیں لی تھیں وہ دو اقسام میں منقسم ہوتی ہیں۔ایک بیعت امارت ہے جس کے تابع بعض عسکری تنظیمیں بیعت جہاد کو داخل و شامل کرتی ہیں اس لئے کہ بیعت جہاد بھی بیعت اِمارت کا حصہ ہے اور دوسری بیعت نبوت ہے جس کے مغالطے میں اہل تصوف نے بیعت توبہ و تزکیہ اور بیعت ارشاد واصلاح کو پیروی و مریدی کا نام دے رکھا ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے وہ اس طرح کہ اہل تصوف جن دلائل سے استدلال کرتے ہوئے بیعت ارشاد کا جواز فراہم کرتے ہیں اور اس بیعت کو برحق تسلیم کرتے ہیں درحقیقت وہ بیعت اسلام کے بارے میں ہے جو بیعت نبوت کاحصہ ہے۔ لہٰذا جب نبی کریم ﷺ کی نبوت دائمی اور عالمگیر ہے تو بیعت اسلام یا بیعت ارشاد و اصلاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اس لئے کہ نبوت میں نیابت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوچکاہے۔ لہٰذا بیعت نبوت صرف آپﷺ کاخاصہ ہے،کیونکہ اس بیعت میں آپ کسی سے یہ وعدہ نہیں لیتے کہ وہ اسلام قبول کرکے منکرات کو ترک کرتے ہوئے اپنا تزکیہ و اصطلاح کرے گا،جیساکہ قرآن میں عورتوں کے حوالے سے ارشاد ربانی موجود ہے جواہل تصوف کے نزدیک ارشاد کی اصل ہے۔
{یٰاَیُّھَاالنَّبِیُّ إِذَا جَائَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰی أنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاﷲِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَایَأتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ أیْدِیْھِنَّ وَأرْجُلُھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْھُنَّ وَاسْتَغْفِرْلَھُنَّ اﷲَ إنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} [الممتحنۃ:۱۲]
’’اے نبیؐ! جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں اس لئے آئیں تاکہ وہ آپؐ سے اس بات پر بیعت کریںکہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی،زنا نہیں کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریںگی ، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے کوئی بہتان نہیں گھڑ لائیں گی اور معروف میں آپ ؐ کی نافرمانی نہیں کریںگی تو آپ ان سے بیعت کرلیں اور ان کے لئے اللہ سے بخشش طلب کریں بلاشبہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘
یہ بات ذہن نشین رہے کہ بیعت نبوت جس کو اہل تصوف بیعت ارشاد سے موسوم کرتے ہیں، کے لئے عصمت شرط ہے۔ چونکہ اللہ کے نبیؐ تو معصوم عن الخطاء تھے اس لئے آپ تو اپنے کسی امتی سے یہ وعدہ لے سکتے تھے کہ تم فلاں گناہ نہیں کرو گے،فلاں منکر کے قریب نہیں پھٹکو گے، میرے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرو گے اور اطاعت و اتباع کو بجالاؤ گے وغیرہ لیکن کوئی صوفی، پیرومرشد، شیخ اور امیرطریقت یہ بیعت نہیں لے سکتا ۔اس لئے کہ وہ صاحب عصمت نہیں ہوتااور جب اس سے گناہ کا صدور ممکن ہے اور یقینا ہوتا بھی ہے تو جو خود گناہگار ہو اس کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ دوسرے گنہگار سے یہ بیعت لے کہ تم گناہ نہیں کرو گے؟ اگر کوئی گنہگار کسی دوسرے گنہگار سے گناہ کے ترک پر بیعت لیتا ہے تو پھر یہ لازم آتا ہے کہ ہرمرید کو بھی اپنے مرشد و شیخ سے گناہ ترک کرنے کی بیعت لینی چاہئے جس پر کوئی پیرومرشد کبھی بھی راضی نہیں ہوگا۔ دوسری اہم بات جو قابل تفکر و تدبر ہے وہ یہ ہے کہ جو پیر و مرشد اپنے مریدین سے بیعت ارشاد لیتاہے توگویا وہ نبوت میں نیابت کاداعی ہے اس سے بڑھ کر دنیا میںجھوٹا دعویٰ کیا ہوسکتا ہے؟لہٰذا اس بیعت ارشاد کی حقیقت اور شرعی حیثیت کیلئے یہی نکتہ کافی ہے۔
مذکورہ بالا تصریحات ونکات سے یہ بات رخ صبح کی طرح روشن ہوچکی ہے کہ بیعت اِرشاد خود ساختہ بیعت ہے جس کا قرون اولیٰ میں کوئی وجود نہیں تھا۔لہٰذا لفظ ’بدعت‘ ہی اس کے لئے اَلیق و اَنسب لفظ ہے۔ شریعت اپنے ماننے والوں کو کوئی ایسا حکم صادرنہیں کرتی جو لغو وعبث اور غیر ضروری وبے فائدہ ہو۔ وہ پیرومرشد یا شیخ کہ جسے کوئی اختیار ہی حاصل نہیں بلکہ وہ خود گناہوں کا پلندہ ہو آخر اس کے ہاتھ پر مزعومہ بیعت کرنے کا کون سافائدہ حاصل ہوسکتا ہے؟اگر اس کا مقصود ارشاد و اصلاح ہی ہے تو کیاوہ قرآن و سنت، منبر و محراب، معلم کی تعلیم، مدرس کی تدریس،اہل خرد و عقل کی فہمائش اور سب سے بڑ کر صادقین، صالحین اور مؤمنین کی صحبت ورفاقت سے حاصل نہیں ہوسکتا؟اس غیر مشروع کام کے لئے خود ساختہ بیعت کاسہارالینے کی کیا ضرورت ہے؟الغرض بہت ساری قباحتیں ہیں جن سے اس مزعومہ بیعت کی قلعی کھل کر واضح ہوجاتی ہے جس کی تفصیل آنے والی سطور میں ’بیعت ارشاد کے عواقب و مضمرات‘ کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔!!!
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
233
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
74
نمبر5:
بیعت اور مسلمانوں کے باہمی معاہدات میں فرق ہے- ایک عام معاہدہ تو کوئی مسلمان کسی سے کسی وقت بھی کرسکتا ہے جب تک وہ اسلامی تعلیمات کے منافی نہ ہویا مسلمانوں کے امام سے کئے گئے وعدے یعنی بیعت کے مخالف نہ ہو،لیکن معاہدہ بیعت ذاتی قسم کے تمام باہمی معاہدات سے بلندترجان و مال کے سودے کی صورت میں ہوتا ہے۔

لہٰذا بیعت کو عام معاہدے کے رنگ میں رنگ کر اس بنیاد پر کسی محدود جماعت کے امیر کااپنے اراکین سے بیعت لیناکسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے کیونکہ اگر اس کو درست تسلیم کرلیاجائے تو پھراسلامی معاشرے میں بہت ساری ایسی جماعتیں وجود پذیر ہوں گی کہ جن کے اراکین اپنے امراء سے بذریعہ بیعت یہ معاہدہ کررہے ہوں گے کہ وقت آنے پر وہ اپنے امیر کے حکم پر جان و مال قربان کردیں گے اور ان کے امراء جو اباً ان کو سورۃ التوبہ کی آیات سنا کر جنت کے ٹکٹ بانٹ رہے ہوں گے اوریہ جماعتیں باہم جدل و جدال کررہی ہوں گی ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہمارے ہاں معاہداتِ بیعت میں اصل مقصد صرف نظم ونسق نہیں ہوتابلکہ اندھی عقیدت اور تقلید شخصی ہوتی ہے جوبہرصورت جائز نہیں ہے۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے:

یہ بات اپنی جگہ پرمستحکم ہے کہ اجروثواب اورجنت کامعاہدہ کرنا بندے کا حق نہیں ہے، کیونکہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے جو نبیﷺ کے توسط سے ہوتا ہے اوراسی کو بیعت کہتے ہیں بہرحال بیعت اورمعاہدے میں کسی نہ کسی لحاظ سے فرق ضرور ہوتاہے۔
ہماری مذکورہ بالا تصریحات سے یہ باتیں واضح ہوتی ہیں کہ :

نمبر6:
یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی امت سے جتنی بھی بیعتیں لی تھیں وہ دو اقسام میں منقسم ہوتی ہیں۔ایک بیعت امارت ہے جس کے تابع بعض عسکری تنظیمیں بیعت جہاد کو داخل و شامل کرتی ہیں اس لئے کہ بیعت جہاد بھی بیعت اِمارت کا حصہ ہے اور دوسری بیعت نبوت ہے جس کے مغالطے میں اہل تصوف نے بیعت توبہ و تزکیہ اور بیعت ارشاد واصلاح کو پیروی و مریدی کا نام دے رکھا ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے وہ اس طرح کہ اہل تصوف جن دلائل سے استدلال کرتے ہوئے بیعت ارشاد کا جواز فراہم کرتے ہیں اور اس بیعت کو برحق تسلیم کرتے ہیں درحقیقت وہ بیعت اسلام کے بارے میں ہے جو بیعت نبوت کاحصہ ہے۔ لہٰذا جب نبی کریم ﷺ کی نبوت دائمی اور عالمگیر ہے تو بیعت اسلام یا بیعت ارشاد و اصلاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اس لئے کہ نبوت میں نیابت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوچکاہے۔ لہٰذا بیعت نبوت صرف آپﷺ کاخاصہ ہے،کیونکہ اس بیعت میں آپ کسی سے یہ وعدہ نہیں لیتے کہ وہ اسلام قبول کرکے منکرات کو ترک کرتے ہوئے اپنا تزکیہ و اصطلاح کرے گا،جیساکہ قرآن میں عورتوں کے حوالے سے ارشاد ربانی موجود ہے جواہل تصوف کے نزدیک ارشاد کی اصل ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ بیعت نبوت جس کو اہل تصوف بیعت ارشاد سے موسوم کرتے ہیں، کے لئے عصمت شرط ہے۔ چونکہ اللہ کے نبیؐ تو معصوم عن الخطاء تھے اس لئے آپ تو اپنے کسی امتی سے یہ وعدہ لے سکتے تھے کہ تم فلاں گناہ نہیں کرو گے،فلاں منکر کے قریب نہیں پھٹکو گے، میرے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرو گے اور اطاعت و اتباع کو بجالاؤ گے وغیرہ لیکن کوئی صوفی، پیرومرشد، شیخ اور امیرطریقت یہ بیعت نہیں لے سکتا ۔اس لئے کہ وہ صاحب عصمت نہیں ہوتااور جب اس سے گناہ کا صدور ممکن ہے اور یقینا ہوتا بھی ہے تو جو خود گناہگار ہو اس کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ دوسرے گنہگار سے یہ بیعت لے کہ تم گناہ نہیں کرو گے؟ اگر کوئی گنہگار کسی دوسرے گنہگار سے گناہ کے ترک پر بیعت لیتا ہے تو پھر یہ لازم آتا ہے کہ ہرمرید کو بھی اپنے مرشد و شیخ سے گناہ ترک کرنے کی بیعت لینی چاہئے جس پر کوئی پیرومرشد کبھی بھی راضی نہیں ہوگا۔ دوسری اہم بات جو قابل تفکر و تدبر ہے وہ یہ ہے کہ جو پیر و مرشد اپنے مریدین سے بیعت ارشاد لیتاہے توگویا وہ نبوت میں نیابت کاداعی ہے اس سے بڑھ کر دنیا میںجھوٹا دعویٰ کیا ہوسکتا ہے؟لہٰذا اس بیعت ارشاد کی حقیقت اور شرعی حیثیت کیلئے یہی نکتہ کافی ہے۔
مذکورہ بالا تصریحات ونکات سے یہ بات رخ صبح کی طرح روشن ہوچکی ہے کہ بیعت اِرشاد خود ساختہ بیعت ہے جس کا قرون اولیٰ میں کوئی وجود نہیں تھا۔لہٰذا لفظ ’بدعت‘ ہی اس کے لئے اَلیق و اَنسب لفظ ہے۔ شریعت اپنے ماننے والوں کو کوئی ایسا حکم صادرنہیں کرتی جو لغو وعبث اور غیر ضروری وبے فائدہ ہو۔ وہ پیرومرشد یا شیخ کہ جسے کوئی اختیار ہی حاصل نہیں بلکہ وہ خود گناہوں کا پلندہ ہو آخر اس کے ہاتھ پر مزعومہ بیعت کرنے کا کون سافائدہ حاصل ہوسکتا ہے؟اگر اس کا مقصود ارشاد و اصلاح ہی ہے تو کیاوہ قرآن و سنت، منبر و محراب، معلم کی تعلیم، مدرس کی تدریس،اہل خرد و عقل کی فہمائش اور سب سے بڑ کر صادقین، صالحین اور مؤمنین کی صحبت ورفاقت سے حاصل نہیں ہوسکتا؟اس غیر مشروع کام کے لئے خود ساختہ بیعت کاسہارالینے کی کیا ضرورت ہے؟الغرض بہت ساری قباحتیں ہیں جن سے اس مزعومہ بیعت کی قلعی کھل کر واضح ہوجاتی ہے جس کی تفصیل آنے والی سطور میں ’بیعت ارشاد کے عواقب و مضمرات‘ کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔!!!
بھائی اس مضمون کو اہل علم(جید علماء ) کی رائے میں دیکھنا چاہے،میری کوشش ہے کہ اس مسلئہ پر علماء اہلحدیث کی رائے پیش کروں۔تحوڑا سا انتظار کریں
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
233
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
74
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی(رح)کے دو مفید مکتوب
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی(رح)کے دو مفید مکتوب
اس وقت ہمارے سامنے ان کی آخری عمر کا قلمی و تحقیقی اثاثہ’’ نادر مکتوبات شاہ ولی اللہ دہلوی(رح)‘‘ کی صورت میں موجود ہے جو ادارہ ثقافت اسلامیہ سے شائع ہوا ہے۔جس میں آپ نے حضرت شاہ ولی اللہ(رح) کے ڈیڑھ سو کے قریب نادرمکاتیب کا سلیس اردو ترجمہ کرکے اہلِ علم کے افادہ کے لائق بنایاہے۔ان مکاتیب کو حضرت شاہ ولی اللہ (رح) کے نامور اور محبوب ترین شاگرد شیخ محمد عاشق پھلتی اور ان کے فرزند مولانا عبد الرحمن پھلتی نے جمع کیا ہے۔ ان مکاتیب میں ذاتی احوال کے علاوہ بہت سے اسرار شریعت بھی موجود ہیں۔ ذیل میں آپ کے دو مکتوبات نقل کیے جارہے ہیں؛ان میں ایک مکتوب حضرت کی گرانقدر وصیتوں پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرے مکتوب میں حضرات صوفیائ کرام میں رائج بیعت کی حقیقت اور اس سے متعلقہ دیگر امور پر بڑی خوبصورتی اور جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے، یہ مکاتیب علماء ، طلبہ اورحضرات شیوخ طریقت سے منسلک افراد کے لیے بہت مفید اور رہنما ہیں۔


پہلا مکتوب:چند اہم وصیتیں
برادرم میر نور شاہ
بعد سلام ،مطالعہ کریں؛
میری پہلی وصیت ارکانِ اسلام کو قائم رکھنے اور بدعتوں اور کبیرہ گناہوںسے دور رہنے کی ہے۔ جس نے ارکانِ اسلام میں سستی کی یا گناہوں کا مرتکب ہوا یا بدعتوں کا معتقد ہوا، وہ نجات کے راستے سے دور جاپڑا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

ان مذکورہ بالا باتوں کو پختہ و مضبوط کرلینے کے بعد طاعاتِ قلبی و زبانی اور اعمالِ اعضائ وجوارح سے اوقات کو معمور رکھنا ہے۔ جب تک اوقات کو معمور نہ رکھا جائیگا، نقش ونگار جو کہ مقامات و احوال سے عبارت ہیں کس دیوار پر قائم کریں گے؟
کارِ عالم درازی دارد
ہر چہ گیرید مختصر گیرید
﴿دنیا کا کام بہت طول رکھتا ہے، یہاں کا جو کام بھی اختیار کرو مختصر اختیار کرو۔﴾

ہم نے فرض کیا کہ کسی شخص کو زہر دیا گیا۔ تمام اطبائ اس بات کو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اگر ایک ساعت گذر جائے گی اور یہ شخص قے نہ کریگا تو مرجائیگا۔

ایک طبیب حاذق نے استفراغِ قے ﴿قے لانے﴾ کا نسخہ لکھا، اور اسی شخص کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس سیدھے اور بیوقوف شخص نے نسخے کو پڑھا اور اس کی دوا پر غور کرنے لگا کہ یہ لفظ عربی ہے یا یونانی اور اس لفظ کی لغت کے اعتبار سے حرکات و سکنات کیاہیں؟ تاکہ اس کے ہجے درست ہوجائیں۔ اس کے بعد اس نے ان ادویہ کی ماہیت اور جامع مانع خواص میں غور و فکر کرنا شروع کیا اور اس نسخے کے متعلق جو ندرتیں تھیں ان میں مشغول ہوگیا۔ طبیب حاذق نے کہا اے بے وقوف آدمی وقت ایسا آگیا کہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے گا۔ ان اشیائ کی تحقیق کرنے کی فرصت کہاں ہے؟

اگر زندگی چاہتاہے تو اس نسخے کی دواؤں کو خرید لے۔اس کا خرید لینا بھی خود مؤثر نہیں ہے بلکہ مؤثر اس نسخے کی دواؤں کا پینا ہے۔دواؤں کا پینا بھی مؤثر نہیں ہے بلکہ مؤثر قے کرنا اور اجزائے زہر کا باہر نکالنا ہے۔
اسی طرح سے شارع علیہ السلام نے بکمالِ مہربانی چند نسخے جن سے مراد عباداتِ قلبی و زبانی ہیں، خطراتِ نفسانی و شیطانی زہر کھانے والوں کے لیے تجویز کیے ہیں۔ ایک سادہ لوح آدمی ارکانِ اسلام کی تحقیق اور علمائ کے اختلاف اور مواقعِ اختلاف کی تنقیح میں اور ان میں غور وفکر میں کہ اس اختلاف میں کون زیادہ صحیح طریقے پر ہے، اپنے اوقات گزارتا ہے؛
عمر در تحصیلِ دانش رفت ونادانم ہنوز
کاروان بگذشت ومن در فکر سامانم ہنوز
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ
دوسرا مکتوب:تصوف کے بارے چند باتیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
برادرم عزیز القدر میر فتح اللہ، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی معرفتوں کے دروازے کھول دے۔
فقیر ولی اللہ کی جانب سے سلامِ محبت
انتظام کے بعد مطالعہ کریں۔ صوفیہ کی بیعت جو توارث ومتواترچلی آرہی ہے دو قسم کی ہے: بیعت تحکم اور بیعت تبرک۔اسی طرح سے صوفیہ کا خرقہ جس کا رواج چلا آرہا ہے دو قسم کا ہے: خرقۂ تحکم اور خرقۂ تبرک۔ تحکم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا طالب کسی ایسے شیخ سے جو کہ جامعِ ظاہر وباطن ہو ربط قائم کرے اور اس بات کو اپنے اوپر لازم کرلے ﴿اور یہ نیت کرلے﴾ جو کچھ یہ شیخ ایسے اعمال و اشغالِ مقربہ کے متعلق فرمائے گا جو کہ شریعت غرّا ﴿روشن شریعت﴾ سے ثابت ہیں اپنے عمل میں لاؤں گا اور اس شیخ کی متابعت کروں گا۔ اپنی اس نیت دلی کو علامتِ ظاہر سے نشانزد کرے اور اس شیخ کے پاس آئے اور اس سے بیعت کرے یا اس کے ہاتھ سے خرقہ پہنے۔
تبرک سے مراد یہ ہے کہ سلاسلِ صوفیہ میں سے کسی سلسلے سے عقیدت اور محبت پیدا کرے اور اس سلسلے کے مشائخ کی شفاعت ﴿سفارش﴾ کا امیدوار ہوجائے اور بحکم حدیثِ صحیح المرئ مع من احب ﴿انسان اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرتاہے﴾ یہ خواہش کرے کہ اس کی حیات و ممات اور حشر و نشر اس جماعت کے ساتھ وابستہ ہو۔
اس محبت کو کسی نشان سے ظاہر کرے اور اس جماعت میں سے کسی شخص سے بیعت کرے یا اس کے ہاتھ سے خرقہ پہن لے، اگر اس نے خالص وصول الیٰ اللہ کی نیت محکم و مضبوط طریقے پر نہ کی ہو ﴿تو﴾ اس شخص کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ بحسبِ سہولت صوفیہ کے بعض اوراد و اشغال کو عمل میں لائے۔
اگر تم یہ کہو کہ روشن شریعت تو تمام افرادِ بنی آدم کے واسطے وارد ہوئی ہے اور تمام احکامِ شریعت کتاب و سنت سے ظاہر ہیں پھر کسی ایک شخص کو حاکم بنانے کی کیا ضرورت ہے؟میں اس کے جواب میں کہوں گا ہاں شریعت میں اللہ تعالیٰ سے قرب پیدا کرنے والے تمام اعمال، افکار، اورادواحوال و مقامات وارد ہیں مگر ہر عمل کو اس کے محل میں لانا ہر شخص کو میسر نہیں ہوتا، سوائے اس شخص کے جو اس بارے میں تجربہ رکھتاہو اور ان مذکورہ چیزوں میں ﴿یعنی اعمال وغیرہ﴾ سے رنگین ہوا ہو۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ محدیثین احادیث و آثار میں کمال تبحر واستعداد کے باوجود احکامِ دینیہ اور ان کے مآخذ تفسیر اور استنباطِ آیات وغیرہ سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے مفسرین کے محتاج ہوتے ہیں اور یہی علت علمائِ متبحرین کی احتیاج کی علت ہے، ایسے شخص سے جو کہ سالکِ مقامات ہو، اس میدان میں کام کیے ہوئے ہو اور واقعات کو دیکھے ہوئے ہو ﴿اور صوفیہ سے﴾ ان عوام الناس کی احتیاج ہوجو کہ احادیث کی آثار کو جانتے پہنچانتے نہیں ہیں بہت ہی واضح ہے۔
ایک اور نکتہ جو اس بھی زیادہ باریک ہے،یہ ہے کہ شریعتِ غرّا، ایک قرابادین ﴿نسخوں کا مجموعہ یا بیاض﴾ ہے کہ جس میںتمام امراضِ نفسانیہ میں سے ہر مرض کی دوا لکھی ہوئی ہے۔ یعنی اس میں چھوٹی اور بڑی ہر چیز کا احاطہ کیا گیا ہے لیکن شخصِ خاص کے لیے تدبیر مثلایہ کہ اس شخص کو ذکر زبانی زیادہ نافع ہے یا ذکر قلبی؟ انقطاع اور عزلت بہتر ہے یا لوگوں سے اختلاط اور میل جول۔ یہ بات کسی ایسے صاحبِ بصیرت کی فراست و کمالِ ذہانت پر موقوف ہے جس نے پوری پوری مہارت حاصل کرلی ہو۔ کیا تم اس بات کا مشاہدہ نہیں کرتے کہ تمام فنون علم بلکہ تمام صناعات﴿دست کاری﴾ تعلیم و تعلم اور مشق کے محتاج ہیں۔حاصلِ کلام؛بیعت تبرک کا طریقہ یہ ہے کہ شیخ مرید سے مصافحہ کرے اور دونوں مقصدِ بیعت کو اپنی اپنی زبان سے ادا کریں اور تلفظ کے ساتھ۔
یہ مصافحہ فقیر کو مشائخ طریقہ سے دو طرح سے پہنچا ہے ،ایک یہ کہ شیخ اپنے داہنے ہاتھ کو مرید کے داہنے ہاتھ پر رکھے اور کہے کہ میں نے تجھ کو اپنی فرزندی میں قبول کیا اور میں تجھ کو متابعتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور فلاں سلسلے کے ﴿یعنی جس سلسلے میں بیعت ہورہی ہے﴾ مشائخ کی محبت کی وصیت کرتا ہوں۔ اور مرید کہے کہ میں نے آپ کو اپنا شیخ ﴿پیر﴾ مان لیا اور میں نے آپ کی وصیت کے مطابق متابعت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور اس سلسلے کے مشائخ کی محبت کو اپنے دل پر مضبوط طریقے سے جمالیا۔ مصافحہ کا یہ طریقہ فقیر کو مشائخِ عرب سے پہونچا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کا ظاہر ید اللہ فوق ایدیھم ﴿الفتح:۱﴾ اس پر دلالت کرتا ہے۔ مصافحہ کادوسرا طریقہ یہ ہے کہ شیخ مرید کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر کلماتِ ماثورہ کو جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں تلقین کرے اور یہی عمل فقیر کے والد ماجد قدس سرہ ﴿حضرت شاہ عبد الرحیم(رح)﴾ کاتھا۔ وہ فرماتے تھے کہ خواب کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے میری بیعت اسی طریقہ پر ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں مبارک ہاتھوں میں لے لیا تھا پس میرے نزدیک یہی طریقہ محبوب ہے اور اس فقیر حقیر عفی عنہ کو بھی جو دولت بیعت ﴿آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم﴾ سے خواب میں نصیب ہوئی اسی طریقہ پر تھی اور کلماتِ ماثورہ یہ ہیں:الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ و اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد دو تین آیتیں مناسب معنی تلاوت کرے۔ مثلا:ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم فمن نکث فانماینکث علی نفسہ ومن اوفی بما عاہد علیہ اللہ فسیؤتیہ اجراً عظیماً۔﴿الفتح ۰۱﴾﴿جولوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، پس جو عہد توڑے گا وہ اپنے نفس کے لیے عہد توڑے گا، اور جو اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا اسے اجرِ عظیم دیا جائیگا﴾﴿۲﴾ یاایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ و جاہدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون ﴿المائدہ۵۳﴾ ﴿اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلے تلاش کرو اس کی راہ میں مجاہدہ کرو تا کہ تم فلاح پا جاؤ﴾تلاوت کرے۔
اس کے بعد﴿شیخ﴾ کہے ﴿کہ﴾ کہو! اٰمنت باللہ بما جائ من عنداللہ علیٰ مراد اللہ ﴿میں اللہ پر ایمان لایا ساتھ اس چیز کے جو اللہ کی مراد کے مطابق اللہ کی طرف سے آئی ہے﴾اٰمنت برسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم علٰی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ،تبرأت من جمیع الکفر والعصیان استغفراللہ الذی لا الٰہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ۔بایعتُ رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بواسطۃ خلفائہٰ علی خمس شھادۃ ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبداللہ ورسولہ واقام الصلوٰۃ وایتائ الزکوٰۃ وصوم رمضان وحج البیت ان استطعتُ الیہ سبیلا۔بایعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بواسطۃ خلفائہ علی ان لااشرک باللہ شیئا ولا اسرق ولا ازنی ولا اقتل ولا اتی ببھتان افتریہ بین یدی ورجلی ولا اعصیہ فی معروف ۔ ﴿اور ایمان لایا میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم چاہتے ہیں میں بے تعلق ہوا تمام کفر کی باتوں سے اور گناہوں سے، میں اللہ حی وقیوم سے استغفار کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت ہوتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے خلفائ کے واسطے سے ان پانچ باتوں پر:﴿۱﴾اللہ ایک ہے اور محمدصلی اللہ علیہ و سلم اس کے بندے اور رسول ہیں ﴿۲﴾ اس پر کہ نماز قائم کروں گا ﴿۳﴾ زکوٰۃ دوں گا ﴿۴﴾رمضان کے روزے رکھوں گا ﴿۵﴾ اگر استطاعت ہوئی تو حج بیت اللہ کروں گا۔ اور میں نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے آپ کے خلفائ کے واسطے سے اس بات پر کہ اللہ کے ساتھ کسی کو کو شریک نہیں کروں گا اور کسی پر بہتان اور تہمت نہ لگاؤں گا اور میں معروف میں ان کی نافرمانی نہیں کروں گا ﴾اس کے بعد کہو کہ اخذت الطریقۃ الفلانیۃ المنسوبۃ الی الشیخ الاعظم والقطب الافخط الشیخ فلان اللہم ارزقنا فتوحھا واحشرنا فی زمرۃ اولیائھا برحمتک یا ارحم الراحمین۔﴿یعنی میں نے فلاں سلسلہ کو اختیار کیا جو کہ فلاں شیخ اعظم اور قطب الافخم﴿شیخ کا نام لے﴾ کی طرف منسوب ہے۔ اے اللہ ہمیں اس کی فتوحات و برکات نصیب فرما اور اس کے اولیائ کے زمرے میںہمارا حشر فرما اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے﴾
اس کے بعد چاہیے کہ شیخ مرید کی استقامت کے بارے میں دعا کرے اور پوری پوری کوشش سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں مرید کے حسنِ خاتمہ کو طلب کرے۔اس کے بعد صلوٰۃ مسنونہ یعنی اشراق، ضحی﴿چاشت﴾،صلوٰۃ الزوال، صلوٰۃ الاوابین اور تہجد پڑھنے کا حکم کرے اور صبح و شام اور سوتے وقت کے اوراد مختصر طریقے پر تعلیم و تلقین کرے۔ خاص طور پر مسبحاتِ عشر کی تاکید کرے کیونکہ یہ اکثر و بیشتر صوفیہ کا معمول ہے۔رضوان اللہ علیھم۔ اور تاکید بلیغ اقامتِ شریعت کے بارے میں اور بدعات،خواہشاتِ نفسانی، فحش، غیبت اور زبان کی تمام آفتوں سے اجتناب کے لیے ضروری ہے۔
ہمیں اسی کلام پر اپنی بات کو ختم کرنا چاہیے۔
والحمد للہ عزوجل والسلام علی سید الرسل الکرام
بشکریا
مدثر جمال تونسوی
 

ندوی

رکن
شمولیت
نومبر 20، 2011
پیغامات
152
ری ایکشن اسکور
328
پوائنٹ
57
یہ بات ذہن نشین رہے کہ بیعت نبوت جس کو اہل تصوف بیعت ارشاد سے موسوم کرتے ہیں، کے لئے عصمت شرط ہے۔ چونکہ اللہ کے نبیؐ تو معصوم عن الخطاء تھے اس لئے آپ تو اپنے کسی امتی سے یہ وعدہ لے سکتے تھے کہ تم فلاں گناہ نہیں کرو گے،فلاں منکر کے قریب نہیں پھٹکو گے، میرے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرو گے اور اطاعت و اتباع کو بجالاؤ گے وغیرہ لیکن کوئی صوفی، پیرومرشد، شیخ اور امیرطریقت یہ بیعت نہیں لے سکتا ۔اس لئے کہ وہ صاحب عصمت نہیں ہوتااور جب اس سے گناہ کا صدور ممکن ہے اور یقینا ہوتا بھی ہے تو جو خود گناہگار ہو اس کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ دوسرے گنہگار سے یہ بیعت لے کہ تم گناہ نہیں کرو گے؟ اگر کوئی گنہگار کسی دوسرے گنہگار سے گناہ کے ترک پر بیعت لیتا ہے تو پھر یہ لازم آتا ہے کہ ہرمرید کو بھی اپنے مرشد و شیخ سے گناہ ترک کرنے کی بیعت لینی چاہئے جس پر کوئی پیرومرشد کبھی بھی راضی نہیں ہوگا۔ دوسری اہم بات جو قابل تفکر و تدبر ہے وہ یہ ہے کہ جو پیر و مرشد اپنے مریدین سے بیعت ارشاد لیتاہے توگویا وہ نبوت میں نیابت کاداعی ہے اس سے بڑھ کر دنیا میںجھوٹا دعویٰ کیا ہوسکتا ہے؟لہٰذا اس بیعت ارشاد کی حقیقت اور شرعی حیثیت کیلئے یہی نکتہ کافی ہے۔
مذکورہ اقتباس میں مضمون نگار نے اپنی قابلیت کی جوبلندپروازی دکھائی ہے اس کو دیکھ کر عش عش نہیں بلکہ تف تف کرنے کو جی چاہتاہے۔یہ نکتہ سنجی اس بات کی دلیل ہے کہ مضمون نگار نے محض ورق سیاہ کرنے کی ٹھانی ہے اوراس کو دلیل نام کی کسی شے کی خبرنہیں ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ بیعت نبوت جس کو اہل تصوف بیعت ارشاد سے موسوم کرتے ہیں، کے لئے عصمت شرط ہے
اس نکتہ کوجسے مضمون نگار نے بنیاد بنایاہے بیعت کے خلاف ۔پہلے اسی کے اثبات کی ضرورت ہے کہ بیعت کے عصمت شرط ہے وہ کتاب وسنت سے کوئی ایسی نص دکھادیں جس میں کہاگیاہوکہ بیعت کیلئے عصمت شرط ہے۔اگروہ یہ ثابت نہیں کرسکے تواس بنیادپراپنے استدلال کا جوبھی محل تعمیر کریں گے وہ ہرلمحہ انہدام کے خطرہ سے دوچاررہے گا۔عربی کامحاورہ ہے۔ اثبت العرش ثم انقش ۔یہی ہمارابھی مطالبہ ہے مضمون نگار سے کہ وہ پہلے تخت توثابت کریں پھراس کے بعد اس پر اپنے استدلال کی قصر تعمیر کریں ۔
چونکہ اللہ کے نبیؐ تو معصوم عن الخطاء تھے اس لئے آپ تو اپنے کسی امتی سے یہ وعدہ لے سکتے تھے کہ تم فلاں گناہ نہیں کرو گے،فلاں منکر کے قریب نہیں پھٹکو گے، میرے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرو گے اور اطاعت و اتباع کو بجالاؤ گے وغیرہ
کیاکسی ماضی قریب وبعید کے بڑے عالم جن کی حیثیت سبھی کے نزدیک متفقہ ہو یہ کہاہے کہ حضور کاامت سے بیعت لینے کی بنیا دعصمت تھی۔اگرنہیں کہاتومضمون نگار پراس کا القاء والہام کہاں سے ہوگیا۔
کوئی صوفی، پیرومرشد، شیخ اور امیرطریقت یہ بیعت نہیں لے سکتا ۔اس لئے کہ وہ صاحب عصمت نہیں ہوتااور جب اس سے گناہ کا صدور ممکن ہے اور یقینا ہوتا بھی ہے تو جو خود گناہگار ہو اس کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ دوسرے گنہگار سے یہ بیعت لے کہ تم گناہ نہیں کرو گے؟ اگر کوئی گنہگار کسی دوسرے گنہگار سے گناہ کے ترک پر بیعت لیتا ہے تو پھر یہ لازم آتا ہے کہ ہرمرید کو بھی اپنے مرشد و شیخ سے گناہ ترک کرنے کی بیعت لینی چاہئے
یہاں مضمون نگار نے نکتہ سنجی کی حد کردی ہے۔اسی وزن اورقافیہ میں اگریہ اعتراض کیاجائے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کوتبھی پڑھاسکتاہے تعلیم دے سکتاہے جب وہ خودبھی اس فن میں اس قدرمنتہی ہوچکاہوکہ اب اس سے آگے کچھ بھی باقی نہ رہااورجوایسانہ ہو وہ کسی کوتعلیم نہیں دے سکتاکیونکہ جس کوخود ابھی علم کی تحصیل باقی ہےوہ دوسروں کوکیوں کر تعلیم دے سکتاہے ۔اس پر شاید مضمون نگار صاحب ہنسنے لگیں لیکن اوراس کومضحکہ خیز تصورکرین لیکن افسوس کہ اسی ردیف اورقافیہ میں یہی بات انہوں نے بڑی سنجیدگی سے کہہ دی ہے۔
دوسری اہم بات جو قابل تفکر و تدبر ہے وہ یہ ہے کہ جو پیر و مرشد اپنے مریدین سے بیعت ارشاد لیتاہے توگویا وہ نبوت میں نیابت کاداعی ہے اس سے بڑھ کر دنیا میںجھوٹا دعویٰ کیا ہوسکتا ہے؟لہٰذا اس بیعت ارشاد کی حقیقت اور شرعی حیثیت کیلئے یہی نکتہ کافی ہے
علماء انبیاء کے وارث ہین اورتزکیہ اخلاق ونفس کارنبوت ہے اگرکوئی شخص یہ کام کرتاہے اورحضورکی نیابت کا دعویٰ کرتاہے تواسمیں بوالعجبی کیاہے؟اگرایک عالم لوگوں کو علم سکھانے کی بنیاد پر حضور کی نیابت کاحقدار ہے تو ایک شخص اگرتزکیہ اخلاق ونفس کواپنی جولان گاہ بناتاہے اورقرآن کریم نے حضور کی بعثت کے چارمقاصد میں سے ایک ویزکیھم جوفرمایاہے اس کیلئے نیابت کا دعویٰ کرتاہے تواس میں جھوٹے ہونے کی کیابات ہے۔کیاحضور کی شان صرف علم سکھانے تک محدود ہے۔کیاتزکیہ اخلاق ونفس حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضہ نہیں تھا۔اگرتزکیہ اخلاق ونفس حضور کا فریضہ تھاتواس میں حضورکی نیابت کا دعویٰ غلط کیوں کرہوسکتاہے؟یہی وجہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ نے صوفیاء کرام کو علم باطن اورتزکیہ اخلاق میں حضور کاجانشیں قراردیاہے۔تفصیل کیلئے التفہیمات الالہیہ کی جانب رجوع کیاجائے۔
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
233
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
74
ندوی صاحب التفہیمات الالہیہ کن لو گوں کو آپ پڑھنے کی دعوت دے رہے ہیں؟
ویسے اکابرین اہلحدیث میں تو بہت سارے نام خاکسار کے علم ہیں جو بیعت لیتے تھے،کیا وہ سارے معصوم ہونے کے داعی تھے؟لگتا آسٖ ہارون صاحب کا کوئی دماغی مسلئہ ہے۔
 
Top