• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بینک سے گاڑی نکلوانے کی گارنٹی

شمولیت
فروری 05، 2019
پیغامات
23
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
30
السلام علیکم و رحمة الله تعالٰى و بركاته

ایک صاحب کسی غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں اور گاڑیوں کی فروخت کا کاروبار کرتے ہیں. اس ملک میں مکمل طور پر سودی نظام رائج ہے لوگ بینک سے گاڑی نکلوانے کے لئے ان صاحب سے گارنٹی لیتے ہیں کیونکہ گاڑی کے شوروم کی گارنٹی کے بغیر بینک گاڑی کے لئے رقم نہیں دیتا.
ان صاحب نے سوال پوچھا ہے کہ کیا میرا یہ کام یعنی گارنٹی دینا، یہ حرام ہے ؟
کیا میں سود کے معاملات میں میں ملوث ہو رہا ہوں؟

کیوں کہ بینک سے گاڑی نکلوانے کے لئے بھی تمام مراحل میں سود ہی شامل ہوتا ہے.

براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں
 
شمولیت
فروری 05، 2019
پیغامات
23
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
30
محترم شیوخ ، میں جواب کا منتظر ہوں. مہربانی فرما کر تفصیلی جواب عنایت کریں.
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,432
پوائنٹ
964
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شوروم والا کس چیز کی گارنٹی دیتا ہے؟
 
شمولیت
فروری 05، 2019
پیغامات
23
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
30
شیخ محترم
یہ صاحب بینک سے گاڑی قسطوں پر لینے کے تمام طریقہ کار کے کاغذات پر دستخط کرتے ہیں، اس طرح گاہک کی گارنٹی بینک کو دیتے ہیں تا کہ بینک ان صاحب کے گاہک کو گاڑی کے لئے رقم دے سکے.
رقم کی تمام ادائیگی گاہک ہی کرتا ہے، لیکن اگر یہ صاحب گارنٹی نہ دیں تو بینک گاڑی کے لئے گاہک کی درخواست مسترد کر دے گا.
@خضر حیات
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,432
پوائنٹ
964
شیخ محترم
یہ صاحب بینک سے گاڑی قسطوں پر لینے کے تمام طریقہ کار کے کاغذات پر دستخط کرتے ہیں، اس طرح گاہک کی گارنٹی بینک کو دیتے ہیں تا کہ بینک ان صاحب کے گاہک کو گاڑی کے لئے رقم دے سکے.
رقم کی تمام ادائیگی گاہک ہی کرتا ہے، لیکن اگر یہ صاحب گارنٹی نہ دیں تو بینک گاڑی کے لئے گاہک کی درخواست مسترد کر دے گا.
@خضر حیات
میں نے ایک دو ماہر معاشیات علماء سے رابطہ کیا ہے۔
بظاہر یہ سودی کاروبار میں تعاون ہی نظر آرہا ہے۔ البتہ حقیقت کے قریب تر بات اس قسم کے معاملات کی کاغذی کاروائی دیکھ کر ہی کی جاسکتی ہے۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,421
پوائنٹ
521
السلام علیکم

خضر بھائی میں آپکو اس پر روشنی ڈالتا ہوں، پھر بھی سودی کاروبار میں تعاون ہے۔ بھلہ اس میں گارنٹیئر کو فائدہ ہے یا وہ مدد کے لئے کر رہا ہو، وہ اس سودے پر گواہ بھی ہے اور گارنٹیئر بھی۔

میں نے گاڑی خریدنی ہے جس پر میں بینک میں کار فائنینس اپلائی کرتا ہوں جو کہ سود پر ملتا ہے۔ اب اس پر میرے پاس ایسا کچھ نہیں رکھنے کو یا دکھانے کو کہ جس سے بینک کو یقین ہو کہ اگر کل کو کچھ ہو جاتا ہے جیسے میں رقم کی ادائیگی نہیں کر پاتا تو بینک اپنا نقصان کہاں سے پورا کرے گا۔ جو میں گارنٹی کر سکوں تو میرا کوئی جاننے والا جو صاحب حیثیت ہے اور اس کا اپنا بینک بیلنس بھی اچھا ہے، جس پر وہ میری گارنٹی دے گا کہ کسی بھی انسیڈنٹ کی صورت میں گارنٹیئر بھرپائی کا ذمہ دار ہو گا۔
اب یہ نہیں معلوم کہ گارنٹیئر مفت میں میری گارنٹی دے گا یا وہ اس پر اپنا معاوضہ بھی لے گا، پھر بھی دونوں صورت میں یہ سودی کام پر تعاون ہے۔

انگلینڈ میں ایسا ہوتا ہے کہ اگر میں کار خریدنا چاہتا ہوں تو میرے پاس اتنی رقم نہیں کہ میں ایک ہی ادائگی پر اسے خرید سکوں تو ڈیلر میرے لئے فائنینس کا بندوبست کرتا ہے اور وہ کچھ اسطرح ہوتا ہے کہ ان کے پاس بہت سی فائیننس کمپنیاں رجسٹرڈ ہوتی ہیں تو وہ اسی وقت اس کمپنی کے نام سے میرے لئے فائنینس کے پیپر تیار کریں گے اور اس پر میں کتنے سال میں ادائیگی کر سکتا ہوں اس کے مطابق قسطیں بمعہ سود تیار کر کے پیپر سامنے رکھیں گے جس پر ڈیلر کے دستخط ہونگے اور میرے دستخط ہونگے، یہ فائنینس کمپنی پوری رقم اس ڈیلر کے اکاونٹس میں ٹرانسفر کر دے گی اور میں کار لے کر گھر آ جاوں گا، میرا ڈیلر سے کنکشن ختم ہو گیا، اب ہر مہینہ جو رقم تہہ ہوئی ہے وہ میرے اکاونٹ سے فائنینس کمپنی کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہوتی رہے گی۔

والسلام
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,432
پوائنٹ
964
جیسا کہ آپ نے کہا یہ تو واضح طور پر سودی کاروبار میں تعاون ہے۔
 
Top