• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیوی کے دودھ پی سکتے ہیں؟؟؟

شمولیت
جون 13، 2015
پیغامات
34
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
40
ايك عورت كو بچہ پیدا ہوا اسکا بچہ انتقال کر گیا فطرتی بات ہے اسکے پستان میں دودہ یکجا ہونے کی وجہ سے درد کرنے لگے گا تو کیا شوہر بیوی کا دودہ پی سکتا ہے
دلیل کے ساتھ واضح کیجئے اور اس کے بارے میں علماء کا کیا رائے ہے
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

آپکا سوال پوچھنے کا طریقہ میری نظر میں شائد درست نہیں یا جو آپ پوچھنا چاہتے ہیں وہ اس سوال سے میل نہیں کھاتا، اس پر ایسا ھے کہ بچہ پیدا ہوا اور انتقال کر گیا تو کوئی بات نہیں درد اتنا نہیں ہو گا کہ برداشت نہ ہو، بچہ نے منہ ہی نہیں لگایا تو چند دن تک دودھ خودبخود بند ہو جائے گا، یا اس پر میڈوائف، دایہ، گائنا ڈاکٹر سے رجوع کریں وہ علاج بتا دیں گی تکلیف کے بغیر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس پر فائنل یہ ھے کہ ایسے موقع پر گھر میں والدین چاہے اپنے ہوں یا لڑکی کے ان سے مشورہ کرنا بہتر ہو گا وہ بھی اس کا علاج جانتے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ اگر کوئی بات ھے تو اس پر ایک فتوی پڑھ لیں جس پر آپ یہاں کلک کریں اور اسے سمجھنے کے لئے اھل علم کا انتظار فرمائیں وہی بہتر طریقہ سے سمجھا سکتے ہیں۔

والسلام
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
خاوند و بيوى كے استمتاع كى حدود اور بيوى كا دودھ پينا

كيا جماع كے وقت بيوى كى چھاتى چوسنا جائز ہے ؟

الجواب :

الحمد للہ:

خاوند كے ليے بيوى سے كوئى بھى فائدہ اور خوش طبعى كرنا جائز ہے، صرف دبر ميں دخول ( يعنى پاخانہ والى جگہ كا استعمال ) اور حيض و نفاس كى حالت ميں بيوى سے جماع كرنا حرام ہے، اس كے علاوہ ، خاوند جو چاہے كر سكتا ہے مثلا بوس و كنار اور معانقہ اور چھونا اور اسے ديكھنا وغيرہ.

حتى كہ اگر وہ بيوى كے پستان سے دودھ پى چوسے تو يہ مباح استمتاع ميں شامل ہوتا ہے، اور اس پر دودھ كے اثرانداز ہونے كا نہيں كہا جا سكتا؛ كيونكہ بڑے شخص كى رضاعت حرمت ميں مؤثر نہيں، بلكہ رضاعت تو دو برس كى عمر ميں مؤثر ہوتى ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كا كہنا ہے:

" خاوند كے ليے اپنى بيوى كے سارے جسم سے فائدہ حاصل كرنا اور كھيلنا جائز ہے، صرف دبر ( يعنى پاخانہ والى جگہ ) اور حيض و نفاس ميں جماع كرنا، اور حج و عمرہ كے احرام كى حالت ميں جماع كرنا حرام ہے، حلال ہونے كے بعد كر سكتا ہے "

الشيخ عبد العزيز بن باز.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 19 / 351 - 352 ).

اور فتوى كميٹى كے علماء كا يہ بھى كہنا ہے:

" خاوند كے ليے بيوى كا پستان چوسنا جائز ہے، اس كے معدہ ميں دودھ جانے سے حرمت واقع نہيں ہو جائيگى "

الشيخ عبد العزيز بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

اور شيخ محمد صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بڑے شخص كى رضاعت مؤثرنہيں؛ كيونكہ مؤثر رضاعت تو دودھ چھڑانے سے قبل دو برس كى عمر ميں پانچ يا اس سے زائد رضاعت دودھ پينا ہے، بڑے شخص كى رضاعت مؤثر نہيں ہو گى.

اس بنا پر اگر فرض كر ليا جائے كہ كوئى شخص اپنى بيوى كا دودھ پى لے يا اس كے پستان وكو چوسے لے تو وہ اس طرح اس كا بيٹا نہيں بن جائيگا "

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 338 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس فتوی کی اصل عربی عبارت ملاحظہ ہو:

هل يجوز مص صدر المرأة عند الجماع ؟.

الحمد لله

للزوج أن يستمتع بزوجته بما يشاء ، ولم يحرم عليه إلا الإيلاج في الدبر ، والجماع في الحيض والنفاس ، وما عدا ذلك فله أن يستمتع بزوجته بما يشاء كالتقبيل والمس والنظر وغير ذلك .

وحتى لو رضع من ثديها ، فهو داخل في الاستمتاع المباح ، ولا يقال بتأثير اللبن عليه ؛ لأن رضاع الكبير غير مؤثر في التحريم ، وإنما الرضاع المؤثر هو ما كان في الحولين .

قال علماء اللجنة الدائمة :

يجوز للزوج أن يستمتع من زوجته بجميع جسدها ، ما عدا الدبر والجماع في الحيض والنفاس والإحرام للحج والعمرة حتى يتحلل التحلل الكامل .

الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الله بن قعود . " فتاوى اللجنة الدائمة " ( 19 / 351 ، 352 ) .

وقال علماء اللجنة الدائمة :

يجوز للزوج أن يمص ثدي زوجته ، ولا يقع تحريم بوصول اللبن إلى المعدة .

الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الرزاق عفيفي ، الشيخ عبد الله الغديان ، الشيخ عبد الله بن قعود .

وقال الشيخ محمد بن صالح العثيمين :

رضاع الكبير لا يؤثر ؛ لأن الرضاع المؤثر ما كان خمس رضعات فأكثر في الحولين قبل الفطام ، وأما رضاع الكبير فلا يؤثر ، وعلى هذا فلو قدِّر أن أحداً رضع من زوجته أو شرب من لبنها : فإنه لا يكون ابناً لها . " فتاوى إسلامية " ( 3 / 338 ) .

http://islamqa.info/ar/47721
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 2594

بیوی کا دودھ پینے کا حکم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا شوہراپنی بیوی کا دودھ پی سکتا ہے۔؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
خاوند كے ليے بيوى سے كوئى بھى فائدہ اٹھانااور اس سے خوش طبعى كرنا جائز ہے، صرف دبر ميں دخول ( يعنى پاخانہ والى جگہ كا استعمال) اور حيض و نفاس كى حالت ميں بيوى سے جماع كرنا حرام ہے، اس كے علاوہ سب جائز ہے، خاوند جو چاہے كر سكتا ہے مثلاً بوس و كنار اور معانقہ اور چھونا اور اسے ديكھنا وغيرہ. حتىٰ كہ اگر وہ بيوى كے پستان سے دودھ پى لے تو يہ بھی مباح استمتاع ميں شامل ہوتا ہے، اور اس پر دودھ كے اثرانداز ہونے كا حکم نہیں لگایا جا سكتا كيونكہ بڑے شخص كى رضاعت حرمت ميں مؤثر نہيں ہے، بلكہ رضاعت تو دو برس كى عمر ميں مؤثر ہوتى ہے.

مستقل فتوىٰ كميٹى كے علماء كا كہنا ہے:

’’ يجوز للزوج أن يستمتع من زوجته بجميع جسدها ، ما عدا الدبر والجماع في الحيض والنفاس والإحرام للحج والعمرة حتى يتحلل التحلل الكامل ويجوز للزوج أن يمص ثدي زوجته ، ولا يقع تحريم بوصول اللبن إلى المعدة ‘‘ (فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 19 / 351 - 352 )

“خاوند كے ليے اپنى بيوى كے سارے جسم سے فائدہ حاصل كرنا اور اس سے كھيلنا جائز ہے، صرف دبر ( يعنى پاخانہ والى جگہ ) اور حيض و نفاس ميں جماع كرنا، اور حج و عمرہ كے احرام كى حالت ميں جماع كرنا حرام ہے، حلال ہونے كے بعد كر سكتا ہے " خاوند كے ليے بيوى كا پستان چوسنا جائز ہے، اس كے معدہ ميں دودھ جانے سے حرمت واقع نہيں ہو جائيگى "

اور شيخ محمد صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

’’ رضاع الكبير لا يؤثر ؛ لأن الرضاع المؤثر ما كان خمس رضعات فأكثر في الحولين قبل الفطام ، وأما رضاع الكبير فلا يؤثر ، وعلى هذا فلو قدِّر أن أحداً رضع من زوجته أو شرب من لبنها : فإنه لا يكون ابناً لها ‘‘ (فتاوى إسلامية " ( 3 / 338 )

" بڑے شخص كى رضاعت مؤثرنہيں؛ كيونكہ مؤثر رضاعت تو دودھ چھڑانے سے قبل دو برس كى عمر ميں پانچ يا اس سے زائد رضاعت دودھ پينا ہے، بڑے شخص كى رضاعت مؤثر نہيں ہو گى اس بنا پر اگر فرض كر ليا جائے كہ كوئى شخص اپنى بيوى كا دودھ پى لے يا اس كے پستان كو چوس لے تو وہ اس طرح اس كا بيٹا نہيں بن جائےگا "

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی
محدث فتویٰ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
فتوی ’’ اللجنۃ الدائمۃ ‘‘ دائمی کمیٹی کے فتوے
ہمبستری کے دوران شوہر کا اپنی بیوی کے پستان چوسنا


( جلد کا نمبر 19، صفحہ 351)
فتوى نمبر:6657 س: ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے جو اپنی بیوی کی پستان سے دودھ چوستا ہے یا لطف لیتا ہے، کیا یہ عمل حرام ہے یا مکروہ؟ اورکیا اگر اس کا دودھ شوہر کے پیٹ تک چلا جائے تو بیوی اس کے لئے حرام ہوجائیگی، اور دونوں میں تفریق کرنا واجب ہوگا؟ اس بارے میں فتوی مرحمت فرمائیں۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ج: شوہر کے لئے اپنی بیوی کی پستان چوسنا جائز ہے، اور اس کے معدہ تک دودھ پہنچ جانے سے بیوی اس کے لئے حرام نہیں ہوگی۔ ۔ وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔

علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

ممبر ممبر نائب صدر صدر
عبد اللہ بن قعود ۔عبد اللہ بن غدیان۔ عبدالرزاق عفیفی ۔عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز
 
Last edited:
شمولیت
جون 13، 2015
پیغامات
34
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
40
جزاک اللہ شیخ اسحاق سلفی صاحب اللہ آپ کے علم میں اور ترقی دےآمین
 

ابو معاویہ

مبتدی
شمولیت
اگست 18، 2015
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
21
سمھج نہیں آتا کہ دودھ والے کی دکان چھوڑ کر مرد حضرات کیوں اپنی بیویوں کے پستانوں سے منہ لگا لگا کر دودھ پیتے ہیں۔ شاید بھینس کے دودھ کا ذائقہ انھیں پسند نہیں آتا۔
--------------------------------------------------------------------

غیر محرم کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے لیکن اس میں شریعت نے دودھ کی مقدار اور رضاعت کی عمر کا تعین کیا ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں ،کان فيما أنزل القرآن عشر رضعات معلومات يحر من ثم نسخن بخمس معلومات۔ قرآن میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پینا جبکہ اس کے پینے کا یقین ہوجائے نکاح کو حرام کردیتا ہے پھر یہ حکم پانچ مرتبہ یقینی طور پر دودھ پینے سے منسوخ ہوگیا۔ (صحیح مسلم کتاب الرضاع باب التحریم بخمس رضعات:1452)
----------------------------------------------------
س… ”جنگ“ کے جمعہ ایڈیشن میں آپ سے ایک سوال پوچھا گیا کہ: ”ایک شوہر نے لاعلمی میں اپنی بیوی کے نکالے ہوئے دُودھ کی چائے بنائی اور سب نے پی لی تو ایک صاحب نے فتویٰ دیا کہ میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ گیا ہے۔“ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ: ”عورت کے دُودھ سے حرمت جب ثابت ہوتی ہے جبکہ بچے نے دو سال کی عمر کے اندر اس کا دُودھ پیا ہو، بڑی عمر کے آدمی کے لئے دُودھ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، نہ عورت رضاعی ماں بنتی ہے، لہٰذا ان دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے، اس عالم صاحب نے مسئلہ قطعاً غلط بتایا ہے، ان دونوں کا نکاح نہیں ٹوٹا۔“ ہم نے ایک ہینڈبل دیکھا ہے جس میں آپ کے اس جواب کا مذاق اُڑایا گیا ہے اور یہ تأثر دیا گیا ہے کہ آپ نے عورت کے دُودھ کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے، اور اس کی خرید و فروخت جائز ہے، وغیرہ وغیرہ۔

ج… ہینڈبل میں جو تأثر دیا گیا ہے وہ غلط ہے، عورت کے دُودھ کا استعمال کسی کے لئے بھی حلال نہیں، حتیٰ کہ دُودھ پینے کی مدّت کے بعد خود اس بچے کو بھی اس کی ماں کا دُودھ پلانا حرام ہے۔ میں نے جو مسئلہ لکھا تھا وہ یہ ہے کہ اگر عورت کا دُودھ پینے سے عورت اس بچے کی جو ماں بن جاتی ہے اور اس دُودھ سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں، یہ حرمت صرف مدّتِ رضاعت کے اندر ثابت ہوتی ہے، بڑی عمر کا آدمی اگر خدانخواستہ جان بوجھ کر یا غلطی سے عورت کا دُودھ پی لے تو رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔ اس لئے اگر غلطی سے شوہر نے اپنی بیوی کا دُودھ پی لیا (جیسی غلطی کہ سوال میں ذکر کی گئی تھی) تو اس سے نکاح نہیں ٹوٹا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بیوی کا دُودھ پینا حلال ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی عقل مند آدمی میرے جواب کا یہ مطلب بھی سمجھ سکتا ہے جو آپ کے ذکر کردہ ہینڈبل میں ذکر کیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ بیوی کا دُودھ پینا حرام ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔
-----------------------------------------------
س… ایک ہی ماں کا دُودھ پینے والوں کو تو دُودھ شریک کہتے ہیں، لیکن یہاں کچھ لوگوں کو یوں بھی کہتے سنا ہے کہ میاں بیوی ایک ہی پیالے میں ایک دُوسرے کا جھوٹا دُودھ پی لیں تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، کیا لڑکا لڑکی دُودھ شریک بہن بھائی بن جاتے ہیں؟

ج… جس دُودھ کے پینے سے نکاح حرام ہوتا ہے وہ ہے جو بچے کو دو سال کی عمر کے اندر پلایا جائے، بڑی عمر کے دو آدمیوں کے درمیان حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اس لئے عوام کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ میاں بیوی کے ایک دُوسرے کا جھوٹا کھانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
 
Top