• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیٹیوں کی سوداگری

شمولیت
اگست 30، 2012
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
41
پوائنٹ
0
ڈاکٹرعافیہ سے لےکر معصوم آمنہ تک



وہ چیخ رہی تھی….چلارہی تھی ….فریاد کررہی تھی ….وہ گیارہ سالہ معصوم سی بچی تھی….سر پر اسکارف اوڑھے ….اسلامی مملکت کہلانے والے ….اور اسلامی آئین کی چھاپ کے ساتھ….ملک میں لگنے والی عدالت کے جج سے ….مسلمان ہونے کے ناطے ….اپنے بنیادی حق کی بابت ….جرح اور بحث و مباحثہ کررہی تھی کہ انکل….!مجھے میرے ”کافر“ماں کے حوالے نہ کیا جائے….میری ماں اگر مسلمان ہوجائے ….تو میں اس کے ساتھ جانے کو تیار ہوں….ورنہ اگر مجھے ”کچھ“ہواتو….ذمہ دارآپ ہوں گے…….

سب جانتے ہیں کہ ….شرعی اعتبار سے یہ بات متفقہ ہے کہ…. ماں بچوں کو اپنے پاس رکھ سکتی ہے….لیکن اگر اس دوران بھی بچوں کی رضامندی…. باپ کے ساتھ رہنے میں ہو….تو بچے باپ کو ہی ملتے ہیں….لیکن جب معاملہ یہ ہو کہ….بچی بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی ہو….اور اس کی رضامندی بھی باپ کے ساتھ رہنے میں ہو….تو پھر کسی صورت بھی…. بچی کو باپ کے ساتھ رہنے سے محروم نہیں کیا جاسکتا….

مگرکیا کیا جائے کہ جس ملک میں ”شریعت “کی نہیں….انسانی ہاتھوں کے لکھے ہوئے” آئین“ کی حکمرانی ہو….اور آئین بھی وہ ….جس کی حیثیت موم کی ناک سے بڑھ کرنہیں …. جس کو آئے دن حکمران ….اپنی خواہشات اور بیرونی آقاﺅں کی ہدایت پر….”ترمیمی بل “کے ہتھوڑے سے ….اپنے اپنے سانچوں کے مطابق ڈھالتے رہتے ہوں….تو وہاں کچھ بھی ہونا بعید نہیں……..

ہوسکتا ہے کہ اس معاملے میں کچھ لوگ یہ کہیں کہ….” اس کے باپ نے کون سی شریعت کی پابندی کی…. کہ اس نے ایک کافر عورت سے شادی کی“….

معاملہ یہ ہے کہ ماضی میں جس حیثیت سے بھی دونوں نے شادی کی ہو….مگر اس کے نتیجے میں پیداہونے والی بچی….اب ایک ”مسلمان بچی “ہے….اور قرآن نے اس عورت کے بارے میں ….جو کافروں کے پاس سے چلی آئے ….اور مسلمانو ہوجائے ….اس کے بارے میں فرمایا…

فَلَا تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ (الممتحنۃ:۱۰)
.”توہرگز ان(مسلمان) عورتوں کوکفا ر کی طرف نہ لوٹاﺅ“۔

مگرچونکہ غلام کی اپنی کوئی مرضی ….یا اپنی کوئی چاہت نہیں ہوتی ….اور وہ اپنے آقا کے ہر اچھے برے حکم کا تابعدار ہوتا ہے….اسی قائدے کے مصداق …. ملک کے(نام نہاد) ”اسلامی “آئین کے تحت چلنے والی عدالت کے جج نے….کفریہ فرانسیسی عدالت کے فیصلے کو ….من و عن تسلیم کرتے ہوئے…. اُس معصوم کو….اس کی مرضی اور رضامندی کے برعکس….” مسلمان“ باپ کے حوالے کرنے کے بجائے ….گھسیٹتے ہوئے ”کافر“ماں کے حوالے کردیا ….اور دو دن کے وقفے کے بعد….جبکہ اس بچی کا پاسپورٹ ابھی اس کے باپ کے پاس ہی تھا …. اس کی ”کافر “ماں….اُس کواپنے کفر کی سرزمین فرانس لے گئی ….جہاں ایک مسلمان عورت کو….اپنی ناموس کے تحفظ کی خاطر…. حجاب کی نہیں….بلکہ سرپر اسکارف لینے کی پابندی ہے….اور اس دوران ”سو موٹو ایکشن “بھی سوتا رہا …. اور عورتوں کو ”بااختیار “بنانے کا دعویٰ کرنے والے بھی ….اوراسلام اور پاکستان کے ”دفاع“کرنے کا دم بھرنے والے بھی…. صحیح کہاتھا کچھ دنوں پہلے …. ڈاکٹر عبد القدیر خان نے….
”ہمارا امریکہ (اور اس کے اتحادیوں )کے ساتھ آقا اور غلام کا رشتہ ہے“

ہوسکتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح ….

”اب پچھتاوے کیا ہوت کہ چڑیا چک گئی کھیت“

کے مصداق….اے آمنہ ….تمہاری ہمدردی میں ….پرجوش جلسے اور جلوس نکلیں ….دھرنے اور احتجاج مظاہرے بھی ہوںاور ”ملین مارچ“بھی….اور اس کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کی قراردادیں بھی ….اور شاید ”سوموٹوایکشن “بھی جاگ جائے اورتمہارے بارے میں ”استفسار“کرلے….

مگراے میری بہن اور…. اے میری بیٹی …. آمنہ…. ہم شرمندہ ہےں (جوکہ ہم عرصہ دراز سے ہوتے چلے آرہے ہیں)….سیاسی کھلاڑیوں سے لے کر جمہوری مداریوں تک…. جرنیلوں سے لے کر ججوں تک …. منبر و محراب پرخطبے دینے والوں سے لے کر …. قال اللہ قال الرسول کا درس دینے والوں تک…. اور جانوروں کی مانندظلم و ستم کی چکی میں پسی ہوئی بیچاری عوام الناس تک(سوائے چند ایک کے)…. سب کے سب احساس زیاں سے عاری ….اور اخلاقی و انسانی اقداربے بہرہ ہیں….دین فروش اور ضمیر فروش بھی تو تھے ہی….اب اپنی ماﺅں اور بیٹوں کو بھی ….ڈالروں کے عوض ….کافروں کو بیچنے والے ہوگئے….ڈاکٹر عافیہ کی داستان غم سے لے کر….جامعہ حفصہ کی نہتی بچیوں کے قتل عام تک….اور اب آمنہ کی روح فرسا چیخوںتک….ہم نے من حیث القوم ثابت کردیا کہ ….ہم اپنی مسلمان بیٹوں کے سوداگر بن گئے ….صحیح کہا تھاغالباً ایمل کانسی کے معاملے میں امریکی وکیل نے ہمارے بارے میں….

”یہ لوگ تو اپنی ماں کو پچاس ڈالر میں بیچ دیں“

علامہ اقبال نے ”ابلیس “کے شکوے کو ان الفاظ نقل کیا تھا:
الحذر ، الحذر، آئین پیغمبری سوبار الحذر
تحفظ ناموسِ زن،مرد آزمامردآفریں
ترجمہ:
”پناہ مانگتا ہوں، پناہ مانگتاہوں، آئین پیغمبری سے سو بار پناہ مانگتا ہوں، جس کا اصول یہ ہے
عورتوں کی عصمت کی حفاظت ہو اور مرد ہی زمانے کے حالات کا مقابلہ کریں“
لیکن جب مسلمان قومیں ہی اپنی ماﺅں اور بہنوں کی عزتوں کے بھاﺅں دینے لگیں…. تو پھر کوئی کرشمہ ہی اُس قوم کو تباہی وبربادی سے بچاسکتا ہے…. بحیثیت قوم ہمارے جرائم اس قدر شدید اور خطرناک ہیں ….جس پر ہم نہ نادم ہیں اور نہ تائب….زلزلوں کے جھٹکے تو آئے روز ہم ریکٹر اسکیل پر محسوس کرہی رہے ہیں….اور اب کے ہونے والی رکارڈتوڑ برف باری تو …. کسی اورچیز کی ہی نشاندہی کررہی ہے…. لہذا اب ہمیں جلد یا بدیر…. بس کسی ”قدرتی چنگھاڑ“کے انتظار میں رہنا چاہیے ….جو یا توہمیں سیلاب کی صورت میں بہاکر لے جائے اور سمندر برد کردے….یا کوئی آسمانی چیخ سنائی دے اورزلزلے کی صورت ہمیں زمین میں دھنسادے….اب کی بار ہمارے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ….انا للہ وانا الیہ راجعون —–

اے اللہ ہم س ظلم سے برأت کا اعلان کرتے ہیں تو گواہ ہو جا ۔

اے اللہ یہ ظلم ہماری سستی ،کاہلی ،جہاد سے نفرت ،حب الدنیا اور موت سے نفرت اور دین دوری کے سبب پیش آیا ۔اللہ ہمارے گناہوں کو بخش دے ،ہمیں اپنی راہ میں جہاد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ ہماری معصوم بہن آمنہ کی حفاظت فرما !

اے اللہ جس نے اُسے بیچا اُسے بربا د کر دے ! مولا اُسے اپنے انتقام کا نشانہ بنا!

اے اللہ ہمیں اپنی راہ میں جہاد کی توفیق دے دے تاکہ ہم اس بہن کو اور اس جیسی ہر بہن کفار کی قید سے آزاد کروا سکیں !آمین

یہ واقعہ آئین کو اسلامی کہنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے !

یہ واقعہ ان نظاموں کو اسلامی ثابت کرنے والوں کے لیے مقام عبرت ہے ،ہر کوئی دیکھ لے کہ وہ کس کا ساتھی ہے ۔

یہ واقعہ یورپ میں رہائش پذیر مسلمانوں کے لیے بھی مقام فکر ہے خاص کرکے اُن کے لیے جو کفار کی عورتوں سے شادی کرتے ہیں !

یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ

ہم اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں ،اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں

ہم ہر ایسی مظلوم بہن کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں کر گزریں ۔سیاسی ،سماجی ،انفرادی ہر حوالے سے ان کی نصرت کی آواز اٹھائیں ۔سب سے بڑھ کر انہیں اپنی دعاوں میں یا درکھیں ۔

.اللہ سے دعا ہے کہ ہماری ہر بہن کوکفار ومرتدین کی قید سے رہائی نصیب فرمائے
 
شمولیت
اگست 30، 2012
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
41
پوائنٹ
0
عبداللہ عبدل صاحب کے نام

عبداللہ عبدل صاحب آپ ماشااللہ ایمان کے موضوع پر کا فی اچھی گفتگو کرتے ھیں لیکن اس موضوع پر لکھیں اور بتاہیں
کہ اک مسلمان کوکافر کے حوالے کرنا کیسا عمل ھے
کیا مسلمان کو حربی کافر کے حوالے کرنے کےبعد بھی مسلمان مسلمان ہی رھتا ھے
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
عبداللہ عبدل صاحب آپ ماشااللہ ایمان کے موضوع پر کا فی اچھی گفتگو کرتے ھیں لیکن اس موضوع پر لکھیں اور بتاہیں
کہ اک مسلمان کوکافر کے حوالے کرنا کیسا عمل ھے
کیا مسلمان کو حربی کافر کے حوالے کرنے کےبعد بھی مسلمان مسلمان ہی رھتا ھے
جناب ، کسی مسلمان کا مسلمان کو کسی ظالم یا کافر کے حوالے کرنا حرام ہے۔اور حرام کام کا مرتکب دو زمروں میں آتا ہے:
۱۔اگر تو وہ یہ حرام کام کسی دنیوی لالچ و ذاتی مفاد میں کیا جائے مگر فاعل اسے حرام ہی سمجھتا ہو، جیسے معاشرے میں شراب نوشی اور زنا کو حرام سمجھنے کے باوجود اختیار کرنا۔ تو یہ کبائر گناہ میں داخل ہے۔جسے علمی زبان میں کفر اصغر کہا جاتا ہے اور اگر فاعل اس سے دنیا میں توبہ تائب نہیں ہوتا تو اس کی سزا جہنم ہے۔
٢-اور اگر تو کوئی یہ کام کرے اور اس اپنے لئے جائز و حلال سمجھ کر کرے تو یہ کام ارتداد کے زمرے میں آتا ہے جسے علمی زبان میں کفر اکبر کہا جاتا ہے۔ اور اگر فاعل اس دنیا میں توبہ تائب نہیں ہوتا ، رجوع نہیں کرتا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بھی ابدی ٹھکانہ۔۔۔

جزاک اللہ خیرا
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
بی بی سی اردو:
آخری وقت اشاعت: منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 11:09 GMT 16:09 PST

فاکس نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اس انٹرویو میں شکیل آفریدی نے کہا کہ انہیں یہ ضرور معلوم تھا کہ ایبٹ آباد کے اس مکان میں چند دہشت گرد مقیم ہیں تاہم ان کی شناخت سے وہ ناواقف تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے جو کام دیا گیا تھا اس کے علاوہ کسی مخصوص ہدف کا علم نہیں تھا۔ مجھے دھچکا لگا اور یقین نہیں آیا کہ میں اس(اسامہ) کی ہلاکت سے جڑا ہوا تھا‘۔

ڈاکٹر آفریدی کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگا تھا کہ انہیں اسامہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان چھوڑنے کی ضرورت ہے لیکن پھر انہیں آئی ایس آئی نے اغوا کر لیا۔’

ان کے مطابق سی آئی اے نے انہیں افغانستان چلے جانے کو کہا تھا۔ تاہم وہ سرحدی علاقوں کی صورتحال کی وجہ سے خدشات کا شکار تھے اور ان کے خیال میں چونکہ وہ بن لادن کی ہلاکت میں ملوث نہیں تھے اس لیے انہیں ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔

شکیل آفریدی نے بات چیت کے دوران اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں واقع آئی ایس آئی کے حراستی مرکز میں ہونے والے تشدد کا بھی ذکر کیا جہاں انہیں ابتدائی تفتیش کے لیے رکھا گیا تھا۔

ان کے مطابق تفتیش کے دوران ان کے جسم پر سگریٹ بجھائے گئے، انہیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور انہیں پرانے بوسیدہ کپڑے پہنا کر زمین پر پڑی پلیٹ سے ’کتے‘ کی طرح کھانے پر مجبور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران آئی ایس آئی کے اہلکار انہیں کہتے رہے کہ
’امریکی ہمارے بدترین دشمن ہیں، بھارتیوں سے بھی برے دشمن‘۔
پشاور سنٹرل جیل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
آئی ایس آئی بلاشبہ حقانی نیٹ ورک کی مالی امداد کرتی ہے۔ امریکہ کافی عرصے سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ اس کے قبائلی علاقوں خاص کر شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کیا جائے۔
ڈاکٹر آفریدی نے الزام عائد کیا کہ،
پاکستانی خفیہ ادارہ اکثر امریکہ کو حراست میں لیے گئے بہت سے اہم مسلح شدت پسندوں سے تفتیش نہیں کرنے دیتا اور اکثر ان شدت پسندوں کو افغانستان میں نیٹو افواج پر حملے کرنے کے لیے رہا بھی کر دیتا ہے۔
ماضی میں پاکستان ان الزامات کی کئی بار تردید کر چکا ہے۔

ڈاکٹر آفریدی کا کہنا تھا کہ
پاکستان کی شدت پسندی کے خلاف جنگ ایک ڈھونگ اور امریکہ سے پیسے نکلوانے کا ایک طریقہ ہے۔
اس انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ،
آئی ایس آئی بہت سے مسلح شدت پسندوں کو امریکی تفتیشی افسران سے جھوٹ بولنے اور غلط معلومات فراہم کرنے کی ہدایات دیتا ہے۔
تجزیہ کار شوکت قادر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ سکیورٹی اداروں میں ایسے لوگ ہوں جو اس موقف کے حامی ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریت ایسا ہی سوچتی ہے۔

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کا کہنا ہے کہ
پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے حکام امریکہ کو اپنا ’بدترین دشمن‘ مانتے ہیں۔
ڈاکٹر آفریدی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بیس دن بعد گزشتہ برس بائیس مئی کو پشاور کے علاقے حیات آباد سے حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں بعدازاں ایک شدت پسند تنظیم کی حمایت اور مالی امداد کے جرم میں تینتیس برس قید کی سزا سنائی گئی اور اب وہ پشاور کی جیل میں قید ہیں۔
نجی امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے مطابق حراست میں لیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ جیل سے دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ امریکی آپریشن کا ہدف کون ہے۔
ڈاکٹر آفریدی نے مزید بتایا کہ آبپارہ جیل میں کئی مغربی سیاہ فام باشندے بھی قید ہیں جو کہ اسلام قبول کرنے کے بعد افغانستان میں جہاد کے مقاصد سے آئے تھے اور ایسے افراد کو خاص طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے
جبکہ عرب قیدیوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جاتا ہے۔

یہ باور کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی نے یہ انٹرویو موبائل فون کی مدد سے دیا ہے۔

پشاور جیل کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ انٹرویو کی اطلاعات پر حیران ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر شکیل کو ان کے قید خانے میں موبائل فون پہنچایا گیا ہو۔

شکیل آفریدی کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ہے
لنک۔۔۔۔۔۔بی بی سی اردو: آئی ایس آئی امریکہ کو بدترین دشمن مانتی ہے
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,579
پوائنٹ
211
عبداللہ عبدل صاحب آپ ماشااللہ ایمان کے موضوع پر کا فی اچھی گفتگو کرتے ھیں لیکن اس موضوع پر لکھیں اور بتاہیں
کہ اک مسلمان کوکافر کے حوالے کرنا کیسا عمل ھے
کیا مسلمان کو حربی کافر کے حوالے کرنے کےبعد بھی مسلمان مسلمان ہی رھتا ھے
ابھی کچھ دیر قبل جہاد افغانستان سے متعلق حقائق اور سلفی تجزیہ کے عنوان سے ایک مضمون فورم پر پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں سے ہی اس سوال کا جواب ملا ہے۔
کافروں سے دوستی و ان کی مدد کرنا بہرصورت کفر نہیں۔ اگر وہ دنیاوی تجارتی معاملہ وغیرہ ہے تو وہ موالات دوستی نہیں بلکہ معاملات ہے جو جائز ہے۔ اگر وہ دنیاوی غرض کی خاطر ہے جیسے رشوت ودیگر مفادات تو حرام ہے۔ اور اگر اس لئے ہے کہ اسلام پسپا ہو اور کفر کا غلبہ ہو ان کے دین کی حمایت میں کوئی ایسا کرے تو یہ کفر اکبر ہے جس سے انسان دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ تفصیل کے لئے پڑھیں شرح نواقض اسلام از شیخ صالح الفوزان وشیخ صالح السحیمی (حفظہما اللہ) اور "التفصیل فی موالات الکفار" از شیخ صالح السحیمی۔
درج بالا سوال کے جواب میں ایک جوابی سوال یہ بھی ہے کہ:


کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کو پکڑ کر کافروں کے حوالے کیا تھا کہ نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجندل، ابوبصیر وغیرہ کو حوالے کیا تھا یہ بات معلوم ومعروف ہے ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ وہ تو ایک عہد تھا اور عہد سے وفا کرنا ضروری ہے۔ تو جوابی سوال یہ ہے کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے شراب پینے کے بارے میں عہد کرلیتے نعوذباللہ تو کیا اسے وفا کرتے ہوئے شراب پینا آپ پر واجب ہوتا؟ بالکل نہیں وہ ہرگز نہ پیتے۔

لہٰذا ہم یہ نہیں پوچھ رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کیا تھا جسے وفا کرنا تھا وغیرہ بلکہ سوال تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے معاہدے کی بنیاد ہی کیوں رکھی؟ کیونکہ اگر ایک مسلمان کو کافر کے حوالے کرنا الولاء والبراء (اللہ تعالی کے لئے دوستی ودشمنی) کے عقیدے کو توڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص کافر ہوجاتا ہے تو پھر کس طرح سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے معاہدے پر دستخط فرمائے، کیا نعوذباللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں تھے یا بھول گئے تھے؟ نعوذباللہ۔ آخر اس معاہدے پر دستخط کیوں فرمائے کہ ایک مسلمان اگر قریش کی طرف سے مدینہ آئے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب ہوگا کہ اسے قریش کے حوالے کردیں اور اس کے برعکس اگر کوئی کافر قریش کے پاس چلا جائے گا تو وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں لوٹائیں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو قبول فرمایا، مگر کیوں کیسے ، جواب دیجئے؟

ہوسکتا ہے ان میں سے سب سے عقلمند یہ جواب دے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مصلحت جانی اس میں تو ایسا کیا ورنہ اصل تو یہی ہے کہ ایک مسلمان کو کبھی بھی کافر کے حوالے نہ کیا جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے :

‘‘الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ’’[23]
(ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے جو نہ اس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ ظالم کے حوالے کرتا ہے)۔

لیکن کہتے ہیں کہ مصلحتاً یعنی دعوت کی مصلحت ومحافظت کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کے دلی محبت (ولایت) کے بغیر یہ معاہدہ فرمایا۔ اور یہی بات ہمارے علماء کہتے ہیں کہ فقط اس بنیاد پر کہ کسی مسلمان کو کافر کے حوالے کر دیا گیا، کوئی حکم نہ لگائیں بلکہ اس کی مصلحت اور اس کا اعتقاد اور نیت کو دیکھنا ضروری ہے۔ یہ توہین رسالت کی طرح کا جرم نہیں کہ نیت یا اعتقاد کا اعتبار ہی نہ کیا جائے اور کفر اکبر کے فتاویٰ جڑ دئے جائیں۔
 
Top