• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحقیق حدیث

شمولیت
اپریل 18، 2020
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
8
مفہوم ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تاکہ ان سے اپنی بیوی کی شکایت کرسکے۔ لیکن جب وہ ان کے گھر کے دروازے پر آئے تو عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی کی اپنے شوہر سے شکایات کی آوازیں آ رہی تھیں۔ یہ سن کر وہ شخص جانے لگا اور سوچنے لگا سوشل میڈیا پر ایک واقعی پڑھا کہ اگر امیر المومنین کی بیوی کو ان سے شکایات ہوسکتیں ہیں تو میں کس کھاتے میں ہوں۔ ابھی جانے ہی لگا کہ اچانک عمر رضی اللہ عنہ گھر سے نکلے کہ اسے پایا تو اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی۔ جس پر اس شخص نے سارا واقعی بیان کیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری بیوی میری خدمت کرتی ہے، میرے لیے کھانا بناتی ہے، میرے بچوں کی اچھی پرورش کرتی ہے اور ہر طرح سے میرا خیال رکھتی ہے تو اگر اسے کوئی شکایت ہے تو مجھے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے۔ یہ سن کر اس آدمی نے کہا کہ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر اس کے ساتھ صبر سے معاملہ کرو۔ بلاشبہ زندگی مختصر ہے۔
حوالہ : الکبائر از حافظ ذہبی رحمہ اللہ صفحہ 194
کیا یہ واقعی درست ہے؟
 
Top