• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحیۃ الوضوء اور ان کے مسائل

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,368
ری ایکشن اسکور
432
پوائنٹ
209
تحیۃ الوضوء جسے صلاۃ سنۃ الوضوء بھی کہتے ہیں مستقل نمازنہیں بلکہ یہ ایک نفل نماز ہے جو وضو کرنے کی وجہ سے پڑھی جاتی ہے۔

تحیۃ الوضوء کی حدیث:
(1) من توضأَ نحو وُضوئِي هذا ، ثم صلى ركعتين لا يُحدِّثُ فيهما نفسَه غُفِرَ له ما تقدَّمَ من ذنبِه.(صحيح البخاري:159)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو شخص میرے اس طریقہ کے مطابق وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اور دورانِ نماز سوچ بچار نہ کرے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

(2) أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ قال لبلالٍ عندَ صلاةِ الفجرِ : يا بلالُ ، حدِّثْنِي بأَرْجَى عملٍ عَمِلْتَهُ في الإسلامِ ، فإنِّي سمعتُ دُفَّ نعليْكَ بينَ يديَّ في الجنةِ . قال : ما عملتُ عملًا أَرْجَى عندي : أنِّي لم أَتَطَهَّرَ طَهورًا ، في ساعةِ ليلٍ أو نهارٍ ، إلا صلَّيتُ بذلكَ الطَّهورِ ما كُتِبَ لي أن أُصلِّي .(صحيح البخاري:1149)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فجر کی نماز کے وقت فرمایا کہ اے بلال! تم مجھے امید کا کام بتاؤ جو تم نے حالت اسلام میں کیا ہوکیونکہ میں نے رات جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اسلام میں جو عمل بھی میں نے کئے ہیں اُن میں سب سے زیادہ جس عمل سے مجھے نفع کی توقع ہے وہ یہ کے جب بھی میں نے دن یا رات میں پوری پاکی حاصل کی تو جتنے نوافل میرے لئے مقدر تھے وہ میں نے ادا کئے ۔

(3) مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِل بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ(صحیح مسلم:234)
ترجمہ: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے اور ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہوکر (دل لگا کر) دو رکعت پڑھے اس کےلیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

مسائل

٭ یہ نماز مردوعورت دونوں کے لئے ہے یکساں ہے ۔
٭ یہ نمازکسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں خواہ نماز کے ممنوعہ اوقات ہی کیوں نہ ہوں ۔
٭ تحیۃ المسجد پڑھ لینے سے یہ نماز بھی ادا ہوجائے گی۔
٭ فجر کی اذان کے بعد صرف فجر کی سنت پڑھے جیساکہ احادیث سے پتہ چلتا ہے ۔
٭ فجر کی نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں یہ نفل ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم جب مسجد پہنچے اور اذان ہوگئی ہو توسنت مؤکدہ کی ادائیگی کے ساتھ تحیۃ المجسد اور تحیۃ الوضوء کی نیت کرلینے سے تینوں کے لئے کفایت کرجائے گی ۔
٭ یہ نماز وضو کے فورا بعد پڑھی جائے جیساکہ حدیث سے ظاہرہوتا ہے ، تاخیر کی صورت میں نمازسنت الوضوء کا وقت فوت ہوجائے گا۔
٭ مسجد میں داخل ہوتے وقت اذان ہورہی تو اذان کا جواب دے پھر تحیۃ الوضوء پڑھے۔

عام لوگوں کو اس نماز کا علم نہیں ہے لہذا نبی ﷺ کی بے پناہ ثواب والی نمازتحیۃ الوضوء کے متعلق خبردی جائے اور انہیں بھی اس عمل عظیم پہ ابھارا جائے ۔


 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
یہ نمازکسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں خواہ نماز کے ممنوعہ اوقات ہی کیوں نہ ہوں ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیخ صاحب!
اس کی کوئی واضح دلیل بتا دیں۔
جزاک اللہ خیرا
 

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,368
ری ایکشن اسکور
432
پوائنٹ
209
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

علماء کے راحج قول کے حساب سے سبب والی کوئی بھی نماز ممنوع اوقات میں بھی پڑھ سکتے ہیں، اور تحیۃ الوضوء سبب والی نمازوں میں سے ہے ۔ نیز اوپر مذکور تینوں روایات میں یہ نماز وضو کے بعد پڑھنے کا ذکر ہے جو اس بات کا متقاضی ہے کہ یہ نماز جب بھی وضو کرے ادا کرسکتے ہیں۔ حدیث بلال رضی اللہ عنہ کا ٹکڑا"في ساعةِ ليلٍ أو نهارٍ" اس بات کواور بھی واضح کردیتا ہے ۔

 
شمولیت
اپریل 22، 2018
پیغامات
19
ری ایکشن اسکور
3
پوائنٹ
37
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

علماء کے راحج قول کے حساب سے سبب والی کوئی بھی نماز ممنوع اوقات میں بھی پڑھ سکتے ہیں، اور تحیۃ الوضوء سبب والی نمازوں میں سے ہے ۔ نیز اوپر مذکور تینوں روایات میں یہ نماز وضو کے بعد پڑھنے کا ذکر ہے جو اس بات کا متقاضی ہے کہ یہ نماز جب بھی وضو کرے ادا کرسکتے ہیں۔ حدیث بلال رضی اللہ عنہ کا ٹکڑا"في ساعةِ ليلٍ أو نهارٍ" اس بات کواور بھی واضح کردیتا ہے ۔
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ،
محترم شیخ صاحب حدیث بلال سے، کیا فجر کی اذان کے بعد گھر میں وضو کے نوافل پڑھنا ثابت نہیں ہوتا؟
 

محمد بن محمد

مشہور رکن
شمولیت
مئی 20، 2011
پیغامات
110
ری ایکشن اسکور
223
پوائنٹ
114
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

علماء کے راحج قول کے حساب سے سبب والی کوئی بھی نماز ممنوع اوقات میں بھی پڑھ سکتے ہیں، اور تحیۃ الوضوء سبب والی نمازوں میں سے ہے ۔ نیز اوپر مذکور تینوں روایات میں یہ نماز وضو کے بعد پڑھنے کا ذکر ہے جو اس بات کا متقاضی ہے کہ یہ نماز جب بھی وضو کرے ادا کرسکتے ہیں۔ حدیث بلال رضی اللہ عنہ کا ٹکڑا"في ساعةِ ليلٍ أو نهارٍ" اس بات کواور بھی واضح کردیتا ہے ۔
اگر سببی نماز شمار کرکے یہ نماز پڑھنا عصر کے بعد یا نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب جائز ہوتا تو طلوع فجر کے بعد پڑھنا بھی جائز ہوتا ۔ سببی نماز سے مراد غالبا وہ نماز ہے جو کبھی کبھار پیش آتی ہے جیسے سورج گرہن کی نماز یا نماز جنازہ وغیرہ۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top