• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تراویح تحقیق و تقلید کے تناظر میں ( جدید ایڈیشن )

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,335
ری ایکشن اسکور
9,948
پوائنٹ
667
تراویح تحقیق و تقلید کے تناظر میں ( جدید ایڈیشن )
نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے ۔ مسنون رکعات تراویح کے احکام ومسائل کتب حدیث وفقہ میں موجود ہیں اوراس کے متعلق ائمہ محدثین اورعلمائے عظام کی بیسیوں کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر مختصر کتابچہ’’تراویح تحقیق وتقلید کےتناظر میں ‘‘سید حسین مدنی ﷾ کا مرتب شدہ ہے۔فاضل مرتب نےاس کتابچہ میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ تراویح کی نماز بالاتفاق ثابت ہےبلکہ اسے باجماعت ادا کرنا اجماع صحابہ سے ثابت ہے اور اس پر بغیر علم اعتراضات کرنا اسلام کےایک نمایاں شعار کو مٹانا ہے۔تراویح کی ساری رکعات ایک ہی انداز سے ادا نہیں کرنی چاہیے بلکہ ابتدائی طویل اور اختتامی مختصر ہوں۔علم وتحقیق کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ اور کسی بھی صحابی سے بیس رکعات تراویح کا اداکرنا ثابت نہیں ہے اور افضل یہ ہےکہ تراویح گیارہ رکعات اداکی جائے ۔اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین (م۔ا)
 
Top