ابن انور
رکن
- شمولیت
- نومبر 01، 2022
- پیغامات
- 20
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 35
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
تشریعِ ربانی کا انحصارِ وحدانی و انکارِ طاغوتِ تقنینی
تشریعِ ربانی کا انحصارِ وحدانی و انکارِ طاغوتِ تقنینی
بمصادیقِ فکریہ و تمہیداتِ عقلیہ و نقلیہ، یہ مسئلہ منقح و مصفّی ہے کہ توحیدِ حکمیہ یا بالفاظِ اخریٰ، تفویضِ منصبِ تقنین و امر فقط و فقط ذاتِ وحدہ لا شریک کے لائق و سزاوار ہے، جس کا ملکوتی تصرف، تشریعی تسلط اور تقنینی استیلا، ہر شائبۂ اشتراک و احتمالاتِ غیر سے مبرّا و منزّہ ہے۔
یہی وہ عقیدۂ تنزیہی و اثباتی ہے، جس کی روحِ ناطقہ صدائے تمکین بلند کرتی ہے کہ مسندِ احکام، منبرِ تشریع و تقنین، اور محرابِ امر و نہی، کسی جمہوری ہیاکلِ طاغوت، یا شورائی مزاعمِ تمثیلی کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس ذاتِ واحدِ قہار کے لیے مختص و مسدود ہے، جو لا یُسئلُ عمّا یَفعَل و ہم یُسئلون۔
وہی مَلِکُ المُلُوک ہے، وہی خالقِ عقول و ناقضِ اصول ہے، اور وہی مستجمعِ جمیعِ صفاتِ کمال، و منزہ از نقائصِ اِمكان ہے۔ نہ اس کے حکم میں کسی رائے دہندہ کا دخل، نہ اس کی شریعت میں کسی پارلیمانی ترمیم کی گنجائش۔
پس جو شخص منبعِ تشریع میں غیراللہ کی شراکت کا متوہم یا معترف ہو، یا آئینِ الوہی پر ضوابطِ اکثریتی کو راجح و مرجح گردانے، وہ عندالحقیقہ ناقضِ ایمان، و ہادمِ توحیدِ ہے۔
چنانچہ مصحفِ ہدایت کی آیاتِ مُبینات، قطعیہ و محکمات، پے بہ پے اس حقیقتِ اعظمہ کو نقشِ لوحِ بصیرت کرتی ہیں:
﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾( یعنی حکم، محض و صرف اللہ رب العزت کے لیے مخصوص ہے) یہ آیتِ کریمہ عینِ تنزیہِ ربانی ہے، جو ہر نوعِ تقنینِ مخلوقی کو باطلِ محض قرار دیتی ہے۔
﴿أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ﴾ (اس نے حکم دیا کہ کسی کی بندگی نہ کرو مگر اسی کی) یہاں بندگی کی مطلق اطاعت، تقنینِ خالصہ کی صورت میں مجسم ہے، جو توحیدِ تشریع کا لبِ لباب ہے۔
﴿ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ﴾ (یہی دینِ مستقیم ہے) دینِ قیم کی اساس و بنیاد، صرف احکامِ الٰہیہ کی محوریت پر استوار ہے۔
﴿وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ﴾ (اللہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے فیصلے پر کوئی نظرِ ثانی نہیں کر سکتا) یہ آیت قاطع برہان ہے بر ابطالِ ہذیانِ مقننینِ ارضی۔
﴿إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ﴾ (اللہ جو چاہے، فیصلہ فرماتا ہے) یہ بیانِ ارادۂ مطلقہ و تصرفِ لایُدرَک ہے، جس میں کسی اغیار کا دخل محالِ ذاتی ہے۔
﴿وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا﴾ (وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا) یہاں نفیِ شرکِ جمہوری و ردِ تقنینِ نیابتی بحروفِ قاطع مذکور ہے۔
﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ (کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟) یہاں تقنینِ طاغوتی کو اعادۂ جاہلیتِ اولیٰ کہا گیا۔
﴿وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ (یقین والوں کے لیے اللہ کے حکم سے بہتر کون ہے؟) یہاں یقین کی میزان، حکمِ ربانی کی مرکزیت پر متوازن کی گئی ہے۔
﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾(جس چیز میں اختلاف ہو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف راجع ہے) یعنی ہر نزاع و شقاق کی آخری سند و خاتمہ اللہ ہی کے حکم پر ہے۔
﴿وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ﴾ (اگر تم نے ان کی اطاعت کی، تو تم ضرور مشرک ہو جاؤ گے) یہ وہ آیت ہے جو اتباعِ مشرّعِ غیرِ ربانی کو عینِ شرکِ تقنینی قرار دیتی ہے۔
یہ تمام آیاتِ محکمات و نصوصِ مبرمہ، اس توحیدِ تشریعی کے ناقابلِ تسامح ثبوت ہیں، جو عقیدۂ اسلامیہ کا قلبِ تپندہ اور اساسِ ایمانی کا جوہرِ ناب ہے۔
و من جملہٖ شواہدِ معتبرہ و آثارِ مکرّمہ، جو خزینۂ احادیثِ مصطفویہ سے ماخوذ و مستخرج ہیں، ایک نصِ منقولہ از سیّدالبشر، شافعِ محشر صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوں رقم ہے کہ:
"إنَّ اللہَ ھوَ الحَکَمُ، و إلیہِ الحُکمُ" (بیشک اللہ ہی الحکم ہے، اور حکم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔) یعنی بلا استثناء و بلا اشتراک، حاکمیتِ مطلقہ و مرجعیتِ تقنینیہ، فقط ذاتِ ربِّ ذوالجلال کی محتسب و مخصوص ہے، اور تمام فیصلوں و احکام کی انتہاء، اسی کے جبروتی بارگاہِ کبریائی پر منتہی ہوتی ہے۔
پس معلوم ہوا کہ جو فرد، قوم یا سلطنت، حکمِ الٰہی کی جگہ عقلِ بشری کی محدود گُماشتگی یا اکثریتی مزعوماتِ جمہوریہ کو مسندِ تقنین پر متمکن کرے، وہ درحقیقت توحیدِ ربانیہ کا منکر، اور شرکِ حکمی کا مبتلا ہے، خواہ اس کے لبوں سے اذکارِ توحید جاری ہوں یا ظاہری اشکالِ دینی میں خود کو ملفوف رکھے۔
ایسے اشخاص اگرچہ نغماتِ ایمان گنگناتے ہوں، مگر حقیقت میں وہ "وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا" کے قرآنی فرمان کے مسافر نہیں، بلکہ "وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ" کی وعید کے مصداق بن چکے ہوتے ہیں۔