1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تشہد ( التحیات ) کی مشروعیت کا پس منظر ، واقعہ کی وضاحت درکار ہے ۔

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عمار شمسی, ‏جنوری 27، 2016۔

  1. ‏جنوری 27، 2016 #1
    عمار شمسی

    عمار شمسی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2014
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    [​IMG]
     
  2. ‏جنوری 28، 2016 #2
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    پہلے اس روایت کا حوالہ دیجئے ۔
     
  3. ‏جنوری 28، 2016 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس واقعے کی کوئی اصل نہیں ، یہ غالبا انٹرنیٹ کی اختراع ہے ۔
    شیخ محمد صالح المنجد اور سعودیہ کی فتوی کمیٹی نے بھی اس کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ تفصیل یہاں دیکھی جاسکتی ہے ۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 28، 2016 #4
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    یہاں ایک کنفیوژن ہے
    اگر یہ مکالمہ معراج کا نہیں تو السلام علیک ایھا النبی کہنے کی وجہ کیا ہے ؟؟
    بریلوی حضرات یہاں حرف نداء "ایھا " کی وجہ سے اپنے باطل عقائد پر استدلال کرتے ہیں تو یہی سنتے آئے ہیں کہ جواب دیا جاتا ہے کہ ہم معراج کا مکالمہ دہراتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو حرف نداء سے نہیں پکارتے
    تو پھر یہاں ایھا حرف نداء کا کیا مطلب ہے؟؟
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 28، 2016 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    معراج کے مکالمے سے مراد ؟
    یعنی اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مکالمہ ؟
    ایسی صورت میں تشہد میں ’’ السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین ‘‘ کو لے کر اشکال پیدا کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی خود اپنے اوپر بصیغہ متکلم سلام بھیج رہے ہیں ؟
    حقیقت یہ ہے کہ اس کا معراج کا مکالمہ ہونا ثابت نہیں ، اور السلام علیک ایہا النبی کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے اللہ نے کہا تو پھر ہی ہم کہہ سکتے ہیں ، اللہ کے رسول اس وقت موجود تھے ، آپ نے صحابہ کرام کو یہی الفاظ سکھائے ، وفات کے بعد بعض صحابہ کرام نے یہ الفاظ تبدیل بھی کر لیے ، حالانکہ اگر ان کا یہی عقیدہ ہوتا جو بریلوی ثابت کرنا چاہتے ہیں تو وہ کبھی بھی ان الفاظ کو تبدیل کرنے کی جسارت نہ کرتے ، لیکن اکثر صحابہ کرام اس کو ویسے ہی پڑھتے رہے ، جیسا اللہ کے رسول نے سکھایا تھا ، کیونکہ ایسی چیزیں توقیفی کہلاتی ہیں ، شریعت میں جیسے الفاظ آگئے ، دوران عبادت ہم ویسے ہی پڑھیں گے ۔
    دوسری بات : ایک طرف محتمل چیزیں ہیں ، دوسری طرف باطل عقائد کے رد میں صریح اور واضح احادیث و آیات ہیں ، ظاہر ہے واضح کو چھوڑ کر متشابہ کی طرف جانا زیع و ضلال کے سوال کچھ نہیں ۔
     
  6. ‏جنوری 28، 2016 #6
    mohammad yusuf

    mohammad yusuf رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2012
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    94
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    ۔سلام بھیجنے کا سب سے امدا طریکا اگرچا اپ کسی کو جانتے ہو یا نہیں سب کو پہنچ جاے گا۔۔( تو فر یا فلا یا فلا یا فلا گنانے کی کیا جرورت)
    11 - اذان کا بیان : (259)
    آخری قعدہ میں تشہد پڑھنے کا بیان
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 803 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 51 متفق علیہ 9
    ابو نعیم، اعمش، شقیق بن سلمہ، عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بن مسعود) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز کے (قعدہ میں) یہ پڑھا کرتے تھے السلام علیٰ جبرائیل علیہ السلام و میکائیل السلام علیٰ فلاں وفلاں تو (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا کہ اللہ تو خود ہی سلام ہے (اس پر سلام بھیجنے کی کیا ضرورت) لہذا جب کوئی تم میں سے نماز پڑھے تو کہے التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ (کیونکہ جس وقت تم یہ کہوگے تو (یہ دعا) اللہ کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائے گی خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں۔ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔
     
  7. ‏اپریل 14، 2016 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    تشہد سے متعلق قصہ کے بارے میں کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ معراج کے موقع پر ہوا تھا؟

    بہت سے انٹرنیٹ فورمز پر تشہد سے متعلق قصہ پھیلا ہوا ہے ، جس میں مضمون نگار نے دورانِ نماز خشوع و خضوع کی ترغیب دیتے ہوئے تشہد کی اصلیت کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے، اس مضمون میں ہے کہ: ۔۔۔ تشہد کی گفتگو اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعہ سے شروع ہوتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی معیت میں سفرِ معراج کے دوران سدرۃ المنتہی تک پہنچتے ہیں تو ایک جگہ سیدنا جبریل علیہ السلام آگے بڑھنے سے رک جاتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (کیا یہاں دونوں دوست الگ الگ ہو جائیں گے؟) تو اس پر سیدنا جبریل علیہ السلام نے فرمایا: "یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک کا مخصوص مقام ہے، اگر آپ اس سے آگے بڑھے تو خاکستر ہو جائیں گے، اور اگر میں آگے بڑھا تو میں بھی بھسم ہو جاؤں گا، تو سیدنا جبریل اللہ کے خوف سے پرانے پالان کی طرح ہو گئے، پھر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہی کی جانب بڑھے اور اس کے قریب چلے گئے،

    اس وقت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ" کہا ۔

    اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا:" اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" پھر سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ"

    اس پر سیدنا جبریل نے اور کچھ کے مطابق مقرب فرشتوں نے کہا کہ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ "،

    مضمون نگار کا کہنا ہے کہ: کیا ہم تشہد پڑھتے ہوئے اتنی اعلی اور ارفع قسم کی بات چیت اور گفتگو کو ذہن میں رکھتے ہیں؟ کیا ہم دل میں یہ سوچتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہی پر پہنچ کر بھی ہمیں یاد رکھتے ہیں، آپ کی محبت ہمیں وہاں بھی یاد کرتی ہے، ۔۔۔ اللہ کے رسول! ہمیں آپ سے بہت محبت ہے، ہماری یہ تمنا ہے کہ آپ کو خواب میں دیکھ لیں۔۔۔چاہے آپ ہمیں ڈانٹ ہی کیوں نہ پلا رہے ہوں۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی طرح آپ کا دیدار ہم اپنی آنکھوں میں سما لیں، میرے حبیب اور اللہ کے رسول ! اللہ تعالی آپ پر رحمتیں نازل فرمائے۔

    یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد کیا اب بھی تشہد ایسے ہی پڑھو گے جیسے پہلے پڑھا کرتے تھے؟

    کیا اب بھی نماز میں درود ابراہیمی اسی سستی اور کاہلی کیساتھ پڑھو گے؟

    کیا یہ پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کثرت سے پڑھنا شروع کرو گے؟

    اگر آپ اس پیغام کو آگے پہنچائیں گے تو یقیناً کار ثواب ہوگا، لیکن اگر آگے نہ بھی پہنچائیں تو گناہ نہیں ملے گا، تو کیا آپ کو ثواب چاہیے؟

    یا اللہ! اس پیغام کو پڑھنے، پھیلانے والے پر رحم فرما، اور اسے جہنم سے آزاد فرما"


    Published Date: 2016-04-14

    الحمد للہ:

    معراج نبوی کے واقعہ کو تشہد کی اصل حقیقت قرار دینا بے بنیاد بات ہے، شریعت میں اس کا کوئی تصور نہیں ہے۔

    دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:

    "جو تشہد ہم نماز میں پڑھتے ہیں، کیا یہ وہی تشہد ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کو سدرۃ المنتہی کے پاس سجدہ کی حالت میں پڑھا تھا؟

    تو انہوں نے جواب دیا:

    " ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے:" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا اس وقت میرا ہاتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا بالکل اسی طرح جیسے آپ مجھے قرآن کی سورت سکھا رہے ہوں:

    " اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "

    [تمام زبانی، بدنی، اور مالی عبادات اللہ تعالی کیلیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی ، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں]۔

    اس حدیث کو متعدد محدثین نے روایت کیا ہے۔

    اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ : نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :(جب تم میں سے کوئی نماز میں قعدہ کیلیے بیٹھے تو وہ یہ پڑھے: " اَلتَّحِيَّاتُ .... "اور پھر مکمل تشہد کی سابقہ دعا ذکر کی، اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب نمازی: " وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ "[اور اللہ کے صالح بندوں پر سلام ہو] پڑھے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(اگر تم نے یہ پڑھ لیا تو آسمان اور زمین میں اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام پڑھ دیا) ، اور اسی روایت کے آخر میں فرمایا کہ: (پھر اپنے لیے جو چاہے اللہ تعالی سے مانگ لے)

    متفق علیہ

    نیز امام احمد نے اس حدیث کو ابو عبیدہ سے، وہ اپنے والد سے، اور وہ عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تشہد سکھایا اور لوگوں کو مکمل تشہد سکھانے کا حکم بھی دیا۔

    امام ترمذی کہتے ہیں: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث تشہد کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے، اکثر صحابہ، تابعین اور اہل علم کا اس پر عمل ہے۔

    اور امام ابو بکر بزّار کہتے ہیں: تشہد کے باب میں صحیح ترین حدیث یہی ہے، مزید کہا کہ: اس حدیث کو بیس سے زائد سندوں سے روایت کیا گیا ہے، اور اسی بات کی تائید امام بغوی نے اپنی کتاب "شرح السنة" میں کی ہے" انتہی

    مندرجہ بالا تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ روایات میں یہی تشہد صحیح ترین ہے۔

    لیکن یہ کہنا کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں سدرۃ المنتہی کے پاس حالتِ سجدہ میں اس تشہد کو پڑھا مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات سدرۃ المنتہی کے پاس سجدہ کیا تھا" انتہی

    شیخ عبد العزیز بن باز ، شیخ عبد الرزاق عفیفی ، شیخ عبد الله بن غدیان ، شیخ عبد الله بن قعود ۔

    " فتاوى اللجنة الدائمة " ( 7 / 6 -7 )

    مزید کیلیے سوال نمبر: (113952) کا جواب ملاحظہ کریں۔

    ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر ثابت شدہ ، یا بدعتی افکار و نظریات وغیرہ پر مشتمل مضامین اور پیغاموں کو شرعی طور نشر کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ کوئی بھی پیغام آگے بھیجنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ اس میں بیان شدہ تمام چیزیں ثابت اور صحیح ہیں۔

    اس بارے میں حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (کسی بھی شخص کے جھوٹے ہونے کیلیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے) مسلم: (5)

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/117604
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 09، 2016 #8
    خان سلفی

    خان سلفی رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2012
    پیغامات:
    162
    موصول شکریہ جات:
    205
    تمغے کے پوائنٹ:
    82

    انتہائی قابل قدر جناب شیخ اسحاق سلفی صاحب
    شب معراج کے حوالے سے کچھ شبہات ہیں امید ہے وہ آپ دور فرمائیں
    گذشتہ جمعہ کو ایک دیوبندی مفتی اسی موضوع پے بات کر رہے تھے انھوں نے کچھ بیان یوں کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب سدرۃ المنتہی پے پہنچے تو جبریل علیہ السلام وہیں رک گئے کہ اس سے آگے میں نہیں جا سکتا میرے پر اللہ کے نور سے جل جائیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے گئے اللہ کے سامنے ہوئے اور گفتگو کا آغاز سلام سے ہوا ۔ پھر مفتی صاحب نے وہ تشہد والی روایت بیان کی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ التحیات للہ والصلوۃ و طیبات تو اللہ نے جواب دیا السلام علیک ایھاالنبی و رحمۃ اللہ و برکاۃ ۔۔۔۔تو المختصر میرے پوچھنے کا مطلب ہے کیا یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟
     
  9. ‏مئی 09، 2016 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,394
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    تشہد ( التحیات ) کی مشروعیت کا پس منظر ، واقعہ کی وضاحت درکار ہے ۔

    التحیات کا پس منظر کیا ھے؟

    آپ کے لۓ ان دونوں لنک کا مطالعہ مفید رھے گا.

     
  10. ‏مئی 09، 2016 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ

    هل ذكرت التحيات في قصة المعراج ؟
    ما صحة قصة أن لفظ : ( التحيات ) كانت عندما عرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى السماء ، ووصل سدرة المنتهى ، أن الرسول صلى الله عليه وسلم قال : ( التحيات لله والصلوات والطيبات ، فقال الله : السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، فقالت الملائكة : السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ) ، فهذه القصة تدرس للأطفال في المدارس لتساعدهم على حفظ التحيات ؟
    تم النشر بتاريخ: 2008-05-07
    الحمد لله
    لا يعرف لهذه القصة أصل ولا سند ، ولم نقف لها على أثر في كتب السنة الصحيحة ، وقصة المعراج ثابتة بتفاصيلها في صحيحي البخاري ومسلم وغيرهما ، وليس فيها شيء عن مناسبة ذكر التشهد المعروف في الصلاة ، وكذلك لم يرد شيء عن هذه القصة حين عَلَّمَ النبي صلى الله عليه وسلم الصحابة الكرام هذا التشهد .
    فقد روى الشيخان : البخاري (6328) ومسلم (402) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مسعود رضي الله عنه قَالَ : ( كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ :
    إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ، فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ . - فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنْ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ ) .
    وغاية ما وقفنا عليه في هذه القصة :
    ما تنقله بعض كتب التفسير عند قوله تعالى : ( سَلامٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ ) يّـس /58 ، فقالوا : " يشير إلى السلام الذي سلمه الله على حبيبه عليه السلام ليلة المعراج إذ قال له : " السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته " ، فقال في قبول السلام : " السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين " انتهى . انظر "روح المعاني" للآلوسي" (3/38) .
    وما يذكره بعض شراح السنة عند الكلام على حديث التشهد ، ذكره بدر الدين العيني في "شرح سنن أبي داود" (4/238) ، ونقله الملا علي القاري في "مرقاة المفاتيح" عن ابن الملك ، وكذلك تذكره هذه القصة في بعض كتب الفقه ، مثل حاشية "تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق" (1/121) ، وفي بعض كتب الصوفية كالقسطلاني والشعراني .
    وجميع ذلك ذكر معلق غير مسند ، فلا يجوز نسبته إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، كما لا يجوز تعليمه الأولاد الصغار ، لأنه لا يعرف له أصل صحيح عن النبي صلى الله عليه وسلم ، وقد اتفق أهل العلم على حرمة رواية الأحاديث الموضوعة إلا على سبيل التكذيب والتحذير.

    والله أعلم .
    الإسلام سؤال وجواب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترجمہ :
    واقعۂِ معراج کے موقع پر "التحیات" کا لفظ ذکر کیا گیا تھا؟
    سوال: یہ قصے کی کیا حقیقت ہے کہ:
    "التحیات" کا لفظ اس وقت استعمال کیا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کیلیے آسمان پر تشریف لے گئے اور جس وقت آپ سدرۃ المنتہی پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ" کہا ۔
    اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا: " اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ"
    پھر فرشتوں نے کہا: " اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ"
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب
    الحمد للہ:

    اس واقعے کہ کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ کوئی سند ہے، ہمیں ثابت شدہ احادیث میں اس سے متعلق کوئی نام و نشان نہیں ملا، لیکن واقعۂِ معراج مکمل تفصیلات کیساتھ صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت دیگر کتابوں میں ثابت شدہ ہے، اس کے با وجود نماز کے تشہد سے متعلق ایسی کوئی بات ان میں ذکر نہیں کی گئی، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ تشہد صحابہ کرام کو سکھایا تو اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیلات بیان نہیں فرمائیں۔

    چنانچہ صحیح بخاری: (6328) اور مسلم: (402) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ : "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کہا کرتے تھے: اللہ تعالی پر سلامتی ہو، فلاں پر بھی سلامتی ہو، تو ایک بار ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اللہ تعالی تو بذاتِ خود ہی سلامتی ہے، اس لیے جب بھی کوئی تشہد میں بیٹھے تو یوں کہا کرے : ( اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ )[تمام زبانی، بدنی، اور مالی عبادات اللہ تعالی کیلیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی ، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں] (جب ایسے کہے گا تو آسمان و زمین میں موجود اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں تک نمازی کی دعا پہنچ جائے گی، یہ کہنے کے بعد جو مانگنا چاہے سو مانگ لے)"

    ہمیں زیادہ سے زیادہ اس واقعہ کے بارے میں ( سَلامٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ ) نہایت رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے تم پر سلامتی ہو [يٰس:58] آیت کے تحت چند تفسیر کی کتابوں میں یہ بات ملی ہے کہ:
    "مفسرین کا کہنا ہے کہ: اس سے اشارہ ہے اللہ تعالی کے اس سلام کی طرف جو شب معراج کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالی نے فرمایا تھا: " السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ "[اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمتیں اور برکتیں ہوں] تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلام کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا تھا: " اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ"[ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو]" انتہی
    "روح المعانی" از علامہ آلوسی" (3/38)

    اسی طرح چند شارحینِ حدیث نے تشہد کی دعا ذکر کرتے ہوئے جو شرح کی ہے وہاں اس سے ملتی جلتی بات ملتی ہے، جیسے کہ بدر الدین عینی نے "شرح سنن ابو داود" (4/238) میں ذکر کی ہے، نیز ملا علی قاری نے اسے "مرقاۃالمفاتیح" میں ابن الملک سے نقل کیا ہے۔

    اسی طرح یہ واقعہ کچھ فقہ کی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہےمثال کے طور پر : "تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق" (1/121) اسی طرح قسطلانی اور شعرانی جیسے صوفیوں کی کتابوں میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے۔

    لیکن کسی نے بھی اس واقعہ کو سند کے ساتھ ذکر نہیں کیا، اس لیے اس واقعہ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا درست نہیں ہے، بالکل اسی طرح یہ واقعہ بچوں کو بھی نہیں سکھانا چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی تمام احادیث کو بیان کرنا حرام ہے، صرف ایک صورت میں بیان کرنا جائز ہے جب ان احادیث کی حقیقت عیاں کرنا مقصود ہو اور ان سے لوگوں کو خبردار کرنا ہو۔

    واللہ اعلم.
    اسلام سوال و جواب
     
    • علمی علمی x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں