• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تشہد میں انگلی کو حرکت دینا!

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
89
پوائنٹ
53
تحريك الأصبع في التشهد!

تشہد میں انگلی کو حرکت دینا!

تحریر : محدثِ اُردن شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ

سألني أحد الإخوة عن مسألة "تحريك الأصبع في التشهد في الصلاة"؟
مجھ سے ایک بھائی نے "نماز میں دورانِ تشہد انگلی کو حرکت دینے" کا مسئلہ پوچھا۔

فأجبت:
تو میں نے جواب دیا:

تحريك السبابة رواه زائدة بن قُدامة، قال: حدثنا عاصم بن كُليب، قال: حدثني أبي: أن وائل بن حُجر قال: قلت: لأنظرن إلى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي، فنظرت إليه فوصف، قال: «ثم قعد وافترش رجله اليسرى، ووضع كفه اليسرى على فخذه وركبته اليسرى، وجعل حد مرفقه الأيمن على فخذه اليمنى، ثم قبض اثنتين من أصابعه، وحلق حلقة ثم رفع إصبعه، فرأيته يحركها يدعو بها».

انگلی کو حرکت دینا، روایت کیا ہے زائدہ بن قدامہ نے، وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا عاصم بن کلیب نے، وہ کہتے ہیں مجھے بیان کیا میرے والد (کلیب بن شہاب) نے کہ وائل بن حجر کہتے ہیں میں نے (اپنے دل میں) کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ میں نے ان کی طرف دیکھا۔ پھر انھوں نے بیان کیا: «پھر آپ بیٹھے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا۔ پھر (اپنے دائیں ہاتھ کی) دو انگلیاں بند کیں اور (درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنایا۔ پھر اپنی انگشتِ شہادت کو اٹھایا۔ میں نے آپ کو دیکھا، آپ اسے حرکت دیتے تھے اور اس کے ساتھ دعا فرماتے تھے۔»

وقوله: «فرأيته يحركها يدعو بها» لفظة شاذة تفرد بها زائدة بن قدامة، وخالفه جماعة كبيرة من أصحاب عاصم بن كليب، وهم: سفيان بن عيينة، وخالد الواسطي، وقيس بن الربيع، وسلام بن سليم، وسفيان الثوري، وشعبة، وبِشر بن المُفضّل، وعبدالله بن إدريس، وأبو عوانة، وعبدالواحد بن زياد العَبدي، وزهير بن معاوية، ومحمد بن فُضيل، وعَنْبَسَة بن سَعِيدٍ الْأَسَدِيّ، وغَيْلَان بن جَامِعٍ، ومُوسَى بن أَبِي كَثِيرٍ، فلم يذكروها، وهم ثقات أثبات، وقالوا: «وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ».

ان کا یہ قول کہ: «میں نے دیکھا وہ اسے حرکت دیتے اور اس سے دعا کرتے» یہ الفاظ شاذ ہیں، اس میں زائدہ بن قدامہ منفرد ہیں، ان کی عاصم بن کلیب کے اصحاب میں سے ایک بڑی جماعت نے مخالفت کی ہے، اور وہ ہیں: سفیان بن عیینہ، خالد الواسطی، قیس بن ربیع، سلام بن سلیم، سفیان الثوری، شعبہ، بشر بن مفضل، عبد اللہ بن ادریس، ابو عوانہ، عبد الواحد بن زیاد العبدی، زہیر بن معاویہ، محمد بن فضیل، عنبسہ بن سعید الاسدی، غیلان بن جامع اور موسی بن ابی کثیر۔ انہوں نے (اضافی الفاظ) کا ذکر نہیں کیا اور یہ ثقہ ثبت ہیں۔ یہ (تمام حفاظ) کہتے ہیں: «آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشتِ شہادت سے اشارہ کرتے»۔

فالسنّة هو نصب السبابة دون تحريكها.
پس سنت یہی ہے کہ انگلی کو بغیر حرکت دیے، نصب کیا جائے۔

وقد شذّ الألباني في جعل التحريك هو السنة اعتماداً على تصحيحه لرواية زائدة هذه! كما شذّ في تصحيحه لزيادة «وبركاته» عند السلام من الصلاة! والسنة: «السلام عليكم ورحمة الله» دون «وبركاته»!

البانی کا (انگلی کو) حرکت دینے کو سنت کہنا شاذ ہے اور انہوں نے اس میں زائدہ کی اس روایت پر اپنی تصحیح پر اعتماد کرتے ہوئے (سنت کہا ہے)۔ جیسے کہ ان کا نماز میں سلام پھیرتے ہوئے «وبرکاته» کو صحیح کہنا شاذ ہے، جبکہ سنت (تو یہ) ہے کہ: «السلام عليكم ورحمة الله» بغیر «وبركاته» کے!


د. خالد الحايك أبو صهيب
 
Top