• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر سورة مریم

شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

سورة مریم کا تعارف
مقام نزول :
سورة مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
آیات، کلمات اور حروف کی تعداد :
اس سورت میں 6 رکوع، 98 آیتیں، 780 کلمے اور 3700 حروف ہیں۔
” مریم “ نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت میں حضرت مریم (رض) کی عظمت، آپ کے واقعات اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ” سورة مریم “ رکھا گیا ہے۔

مسلمانوں پر انتہا سے زیادہ ظلم اور سختیاں ہونے لگی تھیں جس وجہ سے وہ اپنا وطن چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی بڑا رحم دل اور معقول انسان تھا۔ اس لیے پہلے گیارہ مردوں چار عورتوں نے ہجرت کی۔ جلد ہی ہجرت کرنے والوں کی تعداد 83 مرد گیارہ عورتیں ہوگئی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف 40 آدمی رہ گئے۔ تو اس پر کفار مکہ کو بڑی سخت پریشانی ہوئی اور انہوں نے مسلمانوں کو وہاں پر تکالیف پہنچانے کے منصوبے بنائے جن میں سے ایک یہ تھا کہ کفار نے اپنے دو بندے عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص (کو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے) کو بہت سے تحائف دے کر شاہ نجاشی کے پاس بھیجا تاکہ تحائف دینے کے بعد اہل دربار اور بادشاہ نجاشی کو مسلمانوں سے متنفر کر کے حبشہ سے نکلوایا جاسکے۔ مگر نجاشی نے اہل دربار کو صبر سے کام لینے کو کہا اور مسلمانوں کو بلوایا سیدنا جعفر بن ابی طالب (رض) مسلمانوں کی طرف سے حاضر ہوئے۔ ان کو نجاشی نے پوچھا کہ آخر کیا دین ہے تمہارا کہ جس کی وجہ سے تم اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ؟ سیدنا جعفر (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام تعلیمات کے متعلق بتایا اور جو کچھ ظلم ان پر ڈھائے گئے یا ڈھائے جا رہے تھے سب کا ذکر کیا اور کہا کہ ہم نے اس امید پر یہاں ہجرت کی ہے کہ یہاں دستور کے مطابق ہم پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اس پر نجاشی نے کلام پاک سنانے کو کہا تو سیدنا جعفر (رض) نے سورة ٔمریم کا اول حصہ جس میں سیدنا یحییٰ اور سیدنا عیسیٰ (علیہما السلام) کا قصہ بیان کیا گیا تھا سنایا، نجاشی بڑا نرم دل انسان تھا۔ کلام سنتا رہا اور زاروقطار روتا رہا۔ جب کلام ختم ہوا تو اس نے کہا ” یقینا یہ کلام اور جو کچھ عیسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے دونوں ایک ہی جیسے کلام ہیں، اللہ کی قسم میں تمہیں ان لوگوں کے حوالے نہ کروں گا۔ “ پھر دوبارہ دربار میں بلا کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مسلمانوں کے عقیدہ کے بارے میں پوچھا۔ تو پھر سیدنا جعفر (علیہ السلام) بن ابی طالب (رض) نے جواب میں کہا کہ ” وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک روح اور ایک کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری مریم پر القا کیا۔ “ نجاشی نے اس پر کہا کہ یہ تو بالکل وہی پیغام ہے جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے دیا تھا۔ (یعنی نبی کریم کوئی نیا اور اجنبی دین لے کر نہیں آئے ہیں، بلکہ یہ وہی دین ہے جو تمام گزشتہ انبیائے کرام نے اپنی قوموں کے سامنے پیش کیا تھا، اور جس کا لب لباب یہ ہے کہ یہ زمین اللہ کی ہے اور اس نے تمام انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ وباللہ التوفیق )اور پھر کفار مکہ کے تمام تحائف واپس کردیے یہ کہہ کر کہ ” میں رشوت نہیں لیتا۔ “ اور مہاجرین سے کہا کہ ” تم بالکل اطمینان سے رہو۔ “
سورة مریم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زاد راہ کے طور پر دی تاکہ عیسائیوں کو صاف صاف بتا دیں کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے نہیں تھے بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ پھر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر مسلمانوں سے یوں کیا گیا کہ گھبرائیں نہیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی انہی حالات میں ہجرت کی تھی اور سر بلند ہوئے اسی طرح تم بھی ہجرت کر کے تباہ نہ ہو گے بلکہ شاندار انجام تمہارے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔ اور پھر مزید وضاحت کی گئی کہ جو پیغام پہلے انبیاء (علیہم السلام) لے کر آئے تھے وہی پیغام سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے ہیں۔ اور مسلمانوں کو کامیابی کی خوشخبری بھی دی گئی۔
اس سورة کے مضامین پر غور کریں تو اس کا اجمالی خاکہ یوں ہے :
سیدنا زکریا ، یحییٰ ، عیسیٰ و مریم (علیہم السلام) کے واقعات مسلمانوں کو اظہار حق اور تعلیم حقیقت کے طور پر بتائے گئے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ سے اہل مکہ کو اشارۃً بتایا کہ تم اسی طرح کے گمراہ اور دین کے دشمن ہو جیسے تمہارے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم تھی۔ غور کرو کہ انجام کار ابراہیم (علیہ السلام) کو غلبہ اور تسلط ملا۔ یہی حال اس دور کا ہے کہ ملت ابراہیمی کے پیروکاروں یعنی مسلمانوں کو پھر غلبہ ، تسلط اور اقتدار ملے گا اور ان کے دشمنوں کے گلے میں ذلت کا طوق ہوگا۔ پھر مختلف انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کا ذکر کر کے بتایا کہ وہ سارے انہی تعلیمات کے امین بنائے گئے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کرتے ہیں۔ مگر ان کے کج فہم اور نااہل ورثاء نے ان کی تعلیمات مسخ کردیں اور دین کا حلیہ بگاڑ دیا۔ سورة کے آخر میں اہل مکہ کی اعتقادی و نظریاتی گمراہی پر اصلاحی انداز اختیار کرتے ہوئے تنقید کی گئی اور اہل ایمان کو ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور ان کی طرح مرجع خلائق ہونے کی نویدسنائی گئی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
كۗهٰيٰعۗصۗ ۝

مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آئے ہیں، ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں بس ان حروف کو اللہ کا کلام سمجھنا چاہیے ۔ قرآن مجید کی یہ واحد سورت ہے جس کے آغاز میں اکٹھے پانچ حروف مقطعات ہیں۔ اگرچہ سورة الشوریٰ کے شروع میں بھی پانچ حروف مقطعات ہیں لیکن وہاں یہ دو آیات میں ہیں۔ دو حروف (حٰمٓ ) پہلی آیت میں جبکہ تین حروف (عٓسٓقٓ) دوسری آیت میں ہیں۔ بہر حال سورة مریم کو اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس کے آغاز میں اکٹھے پانچ حروف مقطعات آئے ہیں۔
امام جلال الدین سیوطی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے (جلالین ، ص ٤) (فیاض) ہیں کہ اس معاملہ میں اسلم یعنی زیادہ سلامتی والی بات یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ یہ ہو ” اللہ اعلم بمرادہ بذلک “۔ یعنی ان حروف کی صحیح مراد کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، وہ مراد برحق ہے اور ہمارا اس پر پختہ یقین ہے ہم اس کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے ، ہمارا کام ایمان لانا اور تصدیق کرنا ہے یہ ساری باتیں تقریب ذہن کے لیے بیان ہوئی ہیں کیونکہ خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے ان حروف کی تفصیل یا معنی منقول نہیں ہیں ۔
خلاصہ تفسیر
کھیعص (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو آئندہ قصہ آتا ہے) تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کے مہربانی فرمانے کا اپنے (مقبول) بندہ (حضرت) زکریا (علیہ السلام کے حال) پر جبکہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پوشیدہ طور پر پکارا (جس میں یہ) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں (بوجہ پیری کے) کمزور ہوگئیں اور (میرے) سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی (یعنی تمام بال سفید ہوگئے اور اس حالت کا مقتضاء یہ ہے کہ میں اس حالت میں اولاد کی درخواست نہ کروں مگر چونکہ آپ کی قدرت و رحمت بڑی کامل ہے) اور (میں اس قدرت و رحمت کے ظہور کا خوگر ہمیشہ رہا ہوں چناچہ اس کے قبل کبھی) آپ سے (کوئی چیز) مانگنے میں اے میرے رب ناکام نہیں رہا ہوں (اس بنا پر بعید سے بعید مقصود بھی طلب کرنا مضائقہ نہیں) اور (اس طلب کا مرجح یہ امر خاص ہوگیا ہے کہ) میں اپنے (مرنے کے) بعد (اپنے) رشتہ داروں (کی طرف) سے (یہ) اندیشہ رکھتا ہوں (کہ میری مرضی کے موافق شریعت اور دین کی خدمت نہ بجالاویں گے۔ یہ امر مرجح ہے طلب اولاد کے لئے جس میں خاص خاص اوصاف پائے جاویں جن کو توقع خدمت دین میں داخل ہو) اور (چونکہ میری پیرانہ سالی کے ساتھ) میری بیوی (بھی) بانجھ ہے (جس کے کبھی باوجود صحت مزاج کے اولاد ہی نہیں ہوئی اس لئے اسباب عادیہ اولاد ہونے کے بھی مفقود ہیں سو (اس صورت میں) آپ مجھ کو خاص اپنے پاس سے (یعنی بلا توسط اسباب عادیہ کے) ایک ایسا وارث (یعنی بیٹا) دے دیجئے کہ وہ (میرے علوم خاصہ میں) میرا وارث بنے اور (میرے جد) یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان (کے علوم متوارثہ میں ان) کا وارث بنے (یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں) اور (بوجہ باعمل ہونے کے) اس کو اے میرے رب (اپنا) پسندیدہ (ومقبول) بنائیے (یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔ حق تعالیٰ کا بواسطہ ملائکہ کے ارشاد ہوا کہ) اے زکریا ہم تم کو ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا کہ اس کے قبل (خاص اوصاف میں) ہم نے کسی کو اس کا ہم صفت نہ بنایا ہوگا (یعنی جس علم و عمل کی تم دعا کرتے ہو وہ تو اس فرزند کو ضرور ہی عطا کریں گے اور مزید برآں کچھ اوصاف خاصہ بھی عنایت کئے جاویں گے مثلاً خشیت الٰہی سے خاص درجہ کی رقت قلب وغیرہ۔ چونکہ اس اجابت دعا میں کوئی خاص کیفیت حصول ولد کی بتلائی نہ گئی تھی اس لئے اس کے استفار کیلئے) زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرے اولاد کس طرح پر ہوگی حالانکہ میری بی بی بانجھ ہے اور (ادھر) میں پڑھاپے کے انتہائی درجہ کو پہنچ چکا ہوں (پس معلوم نہیں کہ ہم جوان ہوں گے یا مجھ کو دوسرا نکاح کرنا ہوگا یا بحالت موجودہ اولاد ہوگی) ارشاد ہوا کہ حالت (موجودہ) یوں ہی رہے گی (اور پھر اولاد ہوگی اے زکریا) تمہارے رب کا قول ہے کہ یہ (امر) مجھ کو آسان ہے اور (یہ کیا اس سے بڑا کام کرچکا ہوں مثلاً ) میں نے تم کو (ہی) پیدا کیا ہے حالانکہ (پیدائش کے قبل) تم کچھ بھی نہ تھے (اسی طرح خود اسباب عادیہ بھی کوئی چیز نہ تھے جب معدوم کو موجود کرنا آسان ہے تو ایک موجود سے دوسرا موجود کردینا کیا مشکل ہے یہ سب ارشاد تقویت رجا کے لئے تھا نہ کہ دفع شبہ کے لئے، کیونکہ زکریا (علیہ السلام) کو کوئی شبہ نہ تھا جب) زکریا (علیہ السلام کو قوی امید ہوگئی تو انہوں) نے عرض کیا کہ اے میرے رب (وعدہ پر تو اطمینان ہوگیا اب اس وعدہ کے قریب وقوع یعنی حمل کی بھی) کوئی علامت میرے لئے مقرر فرما دیجئے (تاکہ زیادہ شکر کروں اور خود وقوع تو محسوسات ظاہرہ ہی میں سے ہے) ارشاد ہوا کہ تمہاری (وہ) علامت یہ ہے کہ تم تین رات (اور تین دن تک) آدمیوں سے بات (چیت) نہ کرسکو گے حالانکہ تندرست ہوگے (کوئی بیماری وغیرہ نہ ہوگی اور اسی وجہ سے ذکر اللہ کے ساتھ تکلم پر قدرت رہے گی چناچہ باذن اللہ تعالیٰ زکریا (علیہ السلام) کی بیوی حاملہ ہوئیں اور حسب انبار الٰہی زکریا (علیہ السلام) کی زبان پستہ ہوگئی) پس حجرے میں سے اپنی قوم کے پاس برآمد ہوئے اور ان کو ارشارہ سے فرمایا (کیونکہ زبان سے تو بول نہ سکتے تھے) کہ تم لوگ صبح اور شام خدا کی پاکی بیان کیا کرو۔ (یہ تسبیح اور امر بالتسبیح یا تو حسب معمول تھا ہمیشہ تذکیرا زبان سے کہتے تھے آج اشارہ سے کہا یا اس نعمت جدیدہ کے شکر میں خود بھی تسبیح کی کثرت فرمائی اور اوروں کو بھی اسی طور پر امر فرمایا غرض پھر یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور سن شعور کو پہنچے تو ان کو حکم ہوا کہ) اے یحییٰ کتاب کو (یعنی توریت کو کہ اس وقت وہی کتاب شریعت تھی اور انجیل کا نزول بعد میں ہوا) مضبوط ہو کرلو (یعنی خاص کوشش کی ساتھ عمل کرو) اور ہم نے ان کو (انکے) لڑکپن ہی میں (دین کی) سمجھ اور خاص اپنے پاس سے رقت قلب (کی صفت) اور پاکیزگی (اخلاق کی) عطا فرمائی تھی (حکم میں علم کی طرف اور حنان اور زکوٰۃ میں اخلاق کی طرف اشارہ ہوگیا) اور (آگے اعمال ظاہرہ کیطرف اشارہ فرمایا کہ) وہ بڑے پرہیزگار اور اپنے والدین کے خدمت گزار تھے (اس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی طرف اشارہ ہوگیا) اور وہ (خلق کے ساتھ) سرکشی کرنے والے (یا حق تعالیٰ کی) نافرمانی کرنے والے نہ تھے اور (عنداللہ ایسے وجیہ اور مکرم تھے کہ انکے حق میں منجانب اللہ یہ ارشاد ہوتا ہے کہ) ان کو (اللہ تعالیٰ کا) سلام پہنچے جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن کہ وہ انتقال کریں گے اور جس دن (قیامت میں) زندہ ہو کر اٹھائے جاویں گے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا ۝

یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

ذکر رحمت : رحمت خداوندی کا نمونہ۔ عبدہ زکریا : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عبدیت:
یہاں ذکر تو حضرت عیسیٰ کا کرنا مقصود ہے مگر آپ کے ذکر سے پہلے حضرت یحییٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ حضرت یحییٰ کی ولادت بھی تو ایک بہت بڑا معجزہ تھی۔ حضرت زکریا بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور آپ کی اہلیہ بھی نہ صرف بوڑھی تھیں بلکہ عمر بھر بانجھ بھی رہی تھیں۔ ان حالات میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش کوئی معمول کا واقعہ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کو یہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔ نیز حضرت یحیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہے کیونکہ دونوں(یحیٰ علیہ السلام اورعیسیٰ علیہ السلام) کی ولادت خلاف معمول ہوئی ہے یہ سمجھایا جائے گا کہ خلاف معمول پیدا ہونے سے انسان خدا نہیں بن جاتا، دیکھئے حضرت یحیٰ (علیہ السلام) کو کوئی خدا نہیں مانتا تو پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کس طرح خدا یا خدا کے بیٹے بن گئے ؟ حالانکہ وہ خود خدا تعالیٰ کا بندہ ہونے کا اقرار کرچکے ہیں ۔
سورة آل عمران آیت (٣٨) اور اس کے بعد کی آیتوں میں زکریا (علیہ السلام) کا یہ واقعہ گزر چکا ہے کہ جب انہوں نے مریم (علیہا السلام) کے پاس محرام میں انواع و اقسام کے پھل دیکھے تو اللہ کی قدرت سے غایت درجہ متاثر ہو کر اپنے بڑھاپے اور اپنی بیوی کی بانجھ پن کے باوجود اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے ایک لڑکا عطا کر، تو اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور انہیں لڑکے کی خوشخبری دے دی۔
فائدہ:
آپ زکریا (علیہ السلام) کی رسالت کا اثبات صرف قرآن مجید کرتا ہے، یہود اور نصرانی دونوں ان کی رسالت کے منکر ہیں۔ نصرانیوں کے ہاں ان کی حیثیت ہیکل بیت المقدس کے ایک بزرگ مجاور و خادم کی ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو بائیبل کی کتاب توار یخ اول۔ باب 23، 24)
حکم نے مستدرک 2/589 ۔ 590 میں لکھا ہے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود (رض) وغیرہ مفسرین نے فرمایا : بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے سب سے آخری پیغمبر حضرت زکریا بن آدن بن مسلم ہیں۔ آپ (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَاۗءً خَفِيًّا ۝

جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی ۔

پوشیدہ دعا کی حکمت :
صحیح بخاری میں ہے کہ آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے، رب سے دعا کرتے ہیں، لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوتی ہے، اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا خدا کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)
اولاد کے لیے حضرت زکریا کی انداز دعا :
1۔یہ حضرت زکریا کی دعا ہے جو انہوں نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ فرمایا کہ اس نے چپکے چپکے اپنے رب کو پکارا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا راز و نیاز کے انداز میں ہونا اس کے اولین آداب میں سے بھی ہے اور اس کی قبولیت کے لیے بہترین سفارش بھی۔ درحقیقت یہی دعائیں ہوتی ہیں جو ریا اور نمائش سے بھی پاک ہوتی ہیں اور انہی کے اندر بندہ اپنے دل کے اصلی راز بھی کھولتا ہے۔ اس وجہ سے دعا کے اس ادب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ صرف اجتماعی دعائیں اس سے مستثنی ہیں۔
2۔ وہ اپنے رب کے ساتھ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر مناجات کرتے ہیں۔ نہ کوئی دیکھتا ہے ، نہ کوئی سنتا ہے گوشہ تنہائی میں نہایت خلوص کے ساتھ رب کو پکارتے ہیں اور اپنا سینہ کھول کر اپنے رب کے سامنے رکھتے ہیں (جو خوب جانتا ہے) وہ اپنا بوجھ ، پریشانی ، اللہ کے سامنے رکھتے ہیں۔ نہایت قرب و اتصال کی حالت میں وہ رب کو پکارتے ہیں۔ (رب) ۔ وہ یہاں حرف ندایا کو بھی بیچ میں نہیں لاتے۔ اللہ تو بغیر دعا کے بھی سنتا ہے اور دیکھتا ہے ، اسے کسی پکارنے والے کی پکار کی ضرورت نہیں ، لیکن یہ ایک غمزدہ شخص کی ضرورت ہے کہ وہ پکارے ، وہ شکوہ کرے ، اور اللہ رحیم و کریم ہے۔ اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے او وہ جانتا ہے کہ پکارنے ، رونے اور شکوہ کرنے سے بھی اس مخلوق کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اس لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ دعا کرو ، گڑگڑائو ، جس چیز سے تمہارے دل پر بوجھ پڑتا ہے اسے باہر نکالو ، وقال ربکم ادعونی استجب لکم ” اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو ، میں تمہاری پکار کو سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔ “ تاکہ تمہارے اعصاب پر سے قدرے بوجھ اتر جائے۔ تمہارے دلوں کو یہ اطمینان تو ہوجائے کہ ہم نے ایک قوی ترہستی کے پاس رپورٹ کردی ہے۔ وہ بڑی قوت والا قادر مطلق ہے تاکہ تمہیں یہ شعور مل جائے کہ تمہارا رباطہ اس ذات سے ہے جس کے ہاں کوئی سوال مایوس نہیں ہوتا اور اس پر جو بھروسہ کرے وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا۔حضرت زکریا رب کے سامنے یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی ہڈیاں ڈھیلی پڑگئی ہیں اور جب ہڈیاں ڈھیلی پڑج ائیں تو جسم سارا کا سارا ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ کیونکہ ہڈیاں ہی تو جسم کا مضبوط ترین حصہ ہیں۔ جسم کا بنیادی ڈھانچہ ہی ہڈیوں سے کھڑا ہوتا ہے۔ پھر وہ بالوں کی سفیدی کی شکایت کرتے ہیں۔ انداز تعبیر کو دیکھیے کہ گویا سفیدی ایک آگ ہے جو سر کے بالوں کو لگی ہوئی ہے۔ سر اس میں تیزی سے جل رہا ہے اور جلد ہی اس میں کوئی سیاہ بال نہ رہے گا۔ ہڈیوں کا ڈھیلا پڑنا اور سر کے بالوں کا سفید ہونا دونوں کنایہ ہے ، بڑھاپے سے اور اس ضعف و کمزوری سے جس سے وہ دوچار ہیں اور اللہ کی رحمت سے بھی وہ ناامید نہیں ہیں۔ عرض پیش کرتے ہیں۔ اور وہ ساتھ ساتھ قبولیت دعا سے پہلے اپنا تبصرہ بھی کرتے ہیں۔
مسئلہ :
اس آیت سے معلوم ہوا کہ آہستہ دعا کرنے والے پر خدا تعالیٰ کی خصوصی رحمت نازل ہوتی ہے۔
حدیث:
حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہے تھے۔ لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنے لگے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرماا، اے لوگو ! اپنے اوپر نرمی کرو، تم کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو تم سمیع اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ (الحدیث) (صحیح البخاری رقم الحدیث :6409 صحیح مسلم رقم الحدیث، 2704، سنن ابودائود رقم الحدیث :1526، سنن الترمذی رقم الحدیث :3472)
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top