1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید شخصی -- نکتہ اتفاق

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از تلمیذ, ‏فروری 01، 2013۔

  1. ‏فروری 01، 2013 #1
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    میں نے اس طرح کی پوسٹس پہلے بھی پڑہیں اور میرے خیال میں کسی اہل حدیث بھائي کو مندرجہ بالا اقتباس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا
    یہاں دو باتیں معلوم ہورہی ہیں اور میں دونوں سے متفق ہوں اور میرے خیال میں کوئی اہل حدیث بھائی بھی ان دو پوائنٹ پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا
    1- اگر اہل حدیث کے اکابر سے کوئی سہو یا اجتھادی غلطی ہوئی ہے وہ قابل اتباع نہیں اور وہ ( سہو یا اجتھادی غلطی) مسلک اہل حدیث کا جزو بھی نہیں کہلائے گی۔
    2- اگر آج کوئی شخص اپنے فہم سے قرآن و حدیث سے کوئی ایسی بات نکالتا ہے جو اہل حدیث اکابرین اہل حدیث کے فہم سے ٹکراتی ہے تو ایسے شخص کا فہم رد ہے ۔
    جو حضرات اس بات سے متفق نہیں ان سے ایک سوال
    اگر آج کے دور میں کوئی شخص قرآن و حدیث میں سے کوئي ایسا مفہوم نکلے جو ہمارے اکابریں نے نہ لیا ہو تو یہ نیا مفہوم قابل قبول ہونا چاہئیے یا نہیں ؟
    یہ میری مضمون کا پہلا حصہ ہے
    اب آتے ہیں مضمون کے دوسرے حصہ کی طرف
    تقلید شخصی ایک ایسا موضوع ہے جو اہل حدیث اور احناف کے درمیان موضوع بحث رہتا ہے اور حالات و واقعات سے اندازہ ہوتا ہے یہ موضوع بحث مستقبل میں بھی رہے گا ۔ لیکن یہاں میں نے ایک نقطہ اتفاق ڈھونڈا ہے تا کہ امت مسلمہ میں انتشار کم ہو
    اللہ تبارک و تعالی میری اس سعی کو قبول فرمائے
    میری تحقیق کے مطابق تقلید شخصی کے متعلق اہل حدیث حضرات میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ تقلید شخصی کا مطلب یہ ہے کہ شرعی معاملات میں صرف ایک شخص کے اقوال پر عمل کیا جائے اور اگر کوئی اس شخص کا قول قرآن و حدیث سے ٹکراجائے تو قرآن و حدیث کو چھوڑ کر صرف اور صرف اس شخص کے اقوال کی پیروی کی جائے ۔میرے نذدیک اہل حدیث حضرات کو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔
    تقلید شخصی کا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف اپنے مسلک کے اکابریں کے فہم قرآن و حدیث کے مطابق زندگي گذاریں اور اپنی سمجھ اور فہم کے مطابق قرآن و حدیث سے ایسے مسائل نہ اخذ کریں جو ہمارے مسلک کے اکابرین کی فہم سے ٹکرائے ۔
    اب یہ وہی بات ہے جو پہلے حصہ میں اہل حدیث حضرات کے حوالہ سے ذکر کی گئی
    اب میں اپنے مضون پر دو اعتراض کی توقع کر رہا ہوں ۔ اس لئیے مناسب سمجھتا ہوں ان کے متعلق بھی کچھ عرض کردوں ۔
    پہلا متوقع اعتراض
    اکابریں احناف کا فہم قرآن و حدیث کئی موقعوں پر غلط ہے ۔
    جواب
    جناب اگر اکابریں احناف کا قرآن و حدیث کا فہم آپ حضرات کے زعم میں غلط ہے تو ان مقامات کی نشاندہی ہونی چاہئیے جہاں آپ حضرات کے نذدیک اکابریں احناف غلطی پر ہیں ۔ تقلید شخصی پر اعتراضات چہ معنی دارد ۔
    آپ حضرات کا اعتراض یہ ہونا چاہئیے کہ فلاں فلاں مقامات پر احناف کا فہم قرآن و حدیث درست نہیں اور اکابریں اہل حدیث حق پر ہیں نا کہ تقلید شخصی (جس کی وضاحت اوپر کردی کئی ہے ) پر اعتراض کیا جائے ، جب کہ عملا دونوں مسالک اس پر عمل کر رہے ہیں
    دوسرا متوقع اعتراض
    احناف کی کتب سے کانٹ چھانٹ کر اعتراض کیا جاتا ہے کہ فلاں کتب میں فلاں حنفی عالم کا قول ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تقلید شخصی کا مطلب ہے کہ صرف اور صرف امام کے قول پر عمل کیا جائے
    جواب
    اس بات میں کوئی شک نہیں احناف تقلید شخصی کے قائل ہیں ، لیکن اگر واقعی میں تقلید شخصی کا مطلب احناف کے ہاں یہی ہے جو اہل حدیث ثابت کرنا چاہتے ہیں یعنی صرف اور صرف امام کے قول پر عمل کیا جائے تو فقہ حنفی میں کوئی بھی مسئلہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول سے نہ ٹکراتا ۔
    اہل حدیث تقلید شخصی کا جو مطلب اخذ کرتے ہیں وہ عملا احناف میں موجود نہیں ۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ اہل حدیث احناف کے بارے میں تقلید شخصی کے متعلق شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔
    اگر تقلید شخصی کا مطلب صرف یہ ہے کہ صرف اور صرف امام کے قول پر عمل کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے دو اہم شاگردوں امام یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ نے کئی امور میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے اختلاف کیا ، تقلید شخصی جیسا کہ اہل حدیث سمجھتے ہیں وہاں بھی نہ تھی اور نہ اس کے بعد نظر آتی ہے ۔
    کیا کوئی اہل حدیث بھائی ثابت کر سکتا ہے کہ کسی ایک بھی حنفی نے عملا ہر شرعی معاملہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر عمل کیا ہو ؟
    ایسا عملی زندگي میں دکھانا نا ممکن ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ احناف تقلید شخصی کا وہ مطلب نہیں لیتے جو اہل حدیث حضرات سمجھتے ہیں بلکہ جس طرح اہل حدیث اپنے اکابریں کے فہم سلف کو مشعل راہ سمجھتے ہیں ، احناف بھی اپنے اکابریں کے فہم قرآن وحدیث کو مشعل راہ سمجھتے ہیں اور اسی پر عمل کو تقلید شخصی کہتے ہیں
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 01، 2013 #2
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    تقلید شخصی کا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف اپنے مسلک کے اکابریں کے فہم قرآن و حدیث کے مطابق زندگي گذاریں اور اپنی سمجھ اور فہم کے مطابق قرآن و حدیث سے ایسے مسائل نہ اخذ کریں جو ہمارے مسلک کے اکابرین کی فہم سے ٹکرائے ۔

    اگر وہ کسی مسئلہ میں قرآن و حدیث پر نہ ہو تب بھی ؟؟؟
     
  3. ‏فروری 01، 2013 #3
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    یہ ہوتا ہے سرسری مضمون پڑہنے کا نتیجہ
    لگتا ہے آپ کو میرے مضمون کے پہلے حصہ سے اتفاق نہیں ۔ جن حضرات کو میرے مضمون کے پہلے حصے سے اتفاق نہیں ان سے میں ایک سوال پوچھا تھا
    آپ کا سوال فرضی ہے اور اہل حدیث تو فرضی سوالات کے جوابات نہیں دیتے ، انہوں نے فرضی سوالات پوچھنا کب سے شروع کردیے ؟؟؟؟؟
    اور ایسا کون سا مسئلہ جن کو صحابہ کرام نہ سمجھ سکے ، قرون اولی کے محدثیں ، مفسرین ، فقہاء کرام نہ سمجھ سکے اور آج کا ایک مسلمان اس کو سمجھ گیا
    اہل علم جان سکتے ہیں کتنا طفلانہ سوال پوچھا گيا ہے
    میری آپ سب حضرات سے گذارش ہے کہ مضمون کو سرسری نہ پڑھیں اور صرف علمی بحث کریں
     
  4. ‏فروری 01، 2013 #4
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    لگتا ہے آپ میرا سوال نہیں سمجھ سکے ؟؟؟؟
    اگر آپ آج قرآن وحدیث پر عمل کرتے تو آپ بھی اہلحدیث ہی کہلواتے ۔۔۔۔۔
    کہنے کو آپ قرآن و حدیث کی بات کرتے ہیں اور عمل میں مخا لفت کرتے ہیں

    ایک مسئلہ اُٹھاؤ تو آپ کا بھانڈا پھوٹ جائے
     
  5. ‏فروری 01، 2013 #5
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    آپ نے میری مضمون اب بھی غور سے نہیں پڑھا ۔آپ کا سوال متوقع تھا ۔ اس لئیے میں نے اپنے مضمون میں اس کا جواب دے دیا تھا
     
  6. ‏فروری 01، 2013 #6
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    دونوں نہیں صرف ایک اور وہ بھی آپ
     
  7. ‏فروری 01، 2013 #7
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    میں اپنے مضمون میں کہ رہا ہوں کہ دونوں یعنی اہل حدیث اور احناف اپنے اپنے اکابر کی قرآن و حدیث کے فہم کے مطابق عمل کر رہے ہیں ۔
    آپ کہ رہے ہیں
    یعنی آپ حضرات اپنے اکابر کے فہم قرآن و حدیث کر رد کرتے ہیں ، ما شاء اللہ آپ کے فرقے کے بطلان کی اس بڑے کیا دلیل ہوگي کہ آپ کہ جو نظریات ہیں وہ آپ کے اکابر میں کسی کے نہ تھے یعنی اہل حدیث ایک نیا فرقہ ہے
     
  8. ‏فروری 01، 2013 #8
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    اگر اہلحدیث فرقہ ہے تو پھر اصل پر کون ہے ؟؟؟؟
     
  9. ‏فروری 01، 2013 #9
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    اصل وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالی اور اس کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور احکمات و فرامیں کو سمجھنے کے لئیے فہم اسلاف (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ، قرون اولی کے محدثیں ، مفسرین ، فقہاء کرام ) کے مطابق چلتے ہیں
    باقی جو ان اکابر کے فہم کو کوئي اہمیت نہ دے اور آپ کی طرح صاف انکار کرے کہ ہم تو اکابر کے فہم کے مطابق نہیں چلتے جیسے آپ نے اپنی پچھلی پوسٹ میں کہا وہ بلا شبہ ایک فرقہ جدیدہ ہے
     
  10. ‏فروری 01، 2013 #10
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    کیاقرآن وحدیث پر عمل کرنے کیلئے اہل حدیث کہلواناضروری ہے۔
    کیاقرآن وحدیث پر وہی عمل کرتاہے جواپنے آپ کو اہل حدیث کہلاتاہے
    کیااپنے آپ کواہل حدیث نہ کہلوانے والاقرآن وحدیث پرعمل نہیں کرتا
    کیامالکیہ شافعیہ اورحنابلہ حدیث پر عمل نہیں کرتے صرف ایک شاذ اورقلیل فرقہ ہی حدیث پر عمل کرتاہے ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں