• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید شخصی کی ایک دلیل: عجیب دو رخی

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
تقلید ناسدید میں یوں تو مقلدین کے اپنے اندر ہی بہت سا اختلاف ہے۔تقلید کی تعریف سے لے کر عقائد میں تقلید کرنے یا نہ کرنے تک بہت سارے مسائل اسی اختلاف کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

خیر، یہ دھاگا ایک خاص قسم کے اختلاف کو ہائی لائٹ کرنے کے لئے بنایا ہے۔ حال ہی میں محترم اشماریہ صاحب نے تقی عثمانی صاحب کی "تقلید کی شرعی حیثیت" کتاب پڑھنے کو کہا تو اس موضوع پر کچھ دیگر تحریریں بھی نظر سے گزریں۔

تقلید شخصی کی سب سے بڑی عقلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نفسانی خواہشات سے چھٹکارا پانے کے لئے تقلید مطلق کے بجائے تقلید شخصی ضروری ہے۔ دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ خود اصحاب ترجیح نے یا علمائے احناف نے مختلف مسائل میں نفسانی خواہشات اور تن آسانی کی خاطر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک سے روگردانی کی، جس میں مشہور عام گم شدہ شوہر کے لئے بیوی کے انتظار کی مدت کا مسئلہ ہے، جس میں امام مالک کے قول پر فتویٰ دیا جاتا ہے، اس کا مقصد سوائے تن آسانی کے اور کچھ نہیں۔۔

خیر، فی الحال یہاں ایک اور معاملہ پر توجہ کریں کہ سرفراز خان صفدر نے لکھا ہے:

"۔۔۔اور ان علاقوں میں احناف اور فقہ حنفی ہی کی کثرت ہے۔ ظاہر امر ہے کہ اگر ان علاقوں میں کوئی ایسا مسئلہ پیش آ جائے جو منصوص نہیں تو حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی فقہ سے اگر کوئی شخص اکڑ کر گردن نکالتا ہے تو دوسرے ائمہ کرام ؒ کی فقہ تو وہاں ہے نہیں، اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ وہ من مانی کاروائی کر کے شریعت کے پٹے ہی کو گردن سے اتار پھینکے گا۔ اور اسلام ہی کو خیرباد کہہ دے گا ایسے شخص کے لیے اگر حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی تقلید واجب نہ ہو تو اس کا اسلام کیسے محفوظ رہے گا۔؟ اور اپنے مقام پر ثابت ہے کہ لاعلمی کے وقت ایسے جاہل کا اہل علم کی طرف رجوع کرنا نص قرآنی سے واجب ہے۔۔" (الکلام المفید ص 177)

گویا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید برصغیر پاک و ہند میں اس لئے واجب کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ یہاں احناف اور فقہ حنفی ہی کی کثرت ہے۔ اور ایسے ماحول میں امام صاحب کی تقلید شخصی سے باہر ہونا، گویا اسلام سے ہی باہر ہونا ہے۔

یہ تو تھا اردو دان حضرات کو حنفی بنانے اور بنائے رکھنے کا اکسیر نسخہ۔

اب دیکھئے جب کسی کا ماحول بدل جائے تو اس کے لئے کیا فتویٰ ہے۔ اشماریہ صاحب کی پسند فرمودہ ویب سائٹ سے فتویٰ ملاحظہ ہو:


لنک: http://banuri.edu.pk/ur/node/1419
سوال
السلام علیکم !
1۔ اگرکوئی شخص مستقل طورپرایسی جگہ رہائش اختیارکرلےجہاں أئمہ اربعہ میں سےکسی اورکی تقلید ہوتی ہوتوکیااسےاپنی فقہ چھوڑکروہ اختیارکرلینی چاہئے؟ جیسے شافعی فقہ وغیرہ۔
2۔۔۔۔۔
سائلہ : اجالہ

جواب
1۔۔ امام کی تقلید کررہاہےاسی پرکاربندرہے اس کو چھوڑنا جائزنہیں۔
2۔۔۔۔

فقط واللہ اعلم۔

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

وہ مشہور کہاوت تو سنی ہوگی۔۔۔چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری۔۔!
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,116
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069
حنفی علماء کس طرح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں

کیا اسلام چار ائمہ تک ہی محدود ہے؟




ائمہ اربعہ ہی کی تقلید کرنا کوئی امر عقلی یا شرعی نہیں ہے بلکہ اتفاقی ہے، مشیتِ خداوندی سے ان چار مذاہب کے سوا اور جتنے مذاہب تھے سب مندرس ہوگئے کیوں کہ دس بیس پچاس یا سو مسائل اگر کچھ مجتہدین سے منقول ہیں تو وہ مستقل مذہب نہیں بن سکتے اور اگر ان سو پچاس مسائل میں ان کی تقلید بھی کرلی تو دیگر مسائل میں کیا کریں گے، جب چاروں مذاہب کے علاوہ کل مذاہب کالعدم قرار پائے تو تقلید ان چاروں مذاہب میں منحصر ہوگئی۔ آپ مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی تصنیف "تقلید کی شرعی حیثیت" نیز حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی تالیف "اجتہاد وتقلید کا آخر فیصلہ" کتابیں منگواکر خوب اچھی طرح مطالعہ کرلیں

(انشاء اللہ نفع ہوگا)۔
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,896
پوائنٹ
436
اگر حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی تقلید واجب نہ ہو تو اس کا اسلام کیسے محفوظ رہے گا۔؟ اور اپنے مقام پر ثابت ہے کہ لاعلمی کے وقت ایسے جاہل کا اہل علم کی طرف رجوع کرنا نص قرآنی سے واجب ہے۔۔" (الکلام المفید ص 177)

گویا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید برصغیر پاک و ہند میں اس لئے واجب کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ یہاں احناف اور فقہ حنفی ہی کی کثرت ہے۔ اور ایسے ماحول میں امام صاحب کی تقلید شخصی سے باہر ہونا، گویا اسلام سے ہی باہر ہونا ہے۔
@اشماریہ بھائی اور @محمد باقر بھائی سے وضاحت مطلوب ہے -
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290
تقلید ناسدید میں یوں تو مقلدین کے اپنے اندر ہی بہت سا اختلاف ہے۔تقلید کی تعریف سے لے کر عقائد میں تقلید کرنے یا نہ کرنے تک بہت سارے مسائل اسی اختلاف کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

خیر، یہ دھاگا ایک خاص قسم کے اختلاف کو ہائی لائٹ کرنے کے لئے بنایا ہے۔ حال ہی میں محترم اشماریہ صاحب نے تقی عثمانی صاحب کی "تقلید کی شرعی حیثیت" کتاب پڑھنے کو کہا تو اس موضوع پر کچھ دیگر تحریریں بھی نظر سے گزریں۔

تقلید شخصی کی سب سے بڑی عقلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نفسانی خواہشات سے چھٹکارا پانے کے لئے تقلید مطلق کے بجائے تقلید شخصی ضروری ہے۔ دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ خود اصحاب ترجیح نے یا علمائے احناف نے مختلف مسائل میں نفسانی خواہشات اور تن آسانی کی خاطر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک سے روگردانی کی، جس میں مشہور عام گم شدہ شوہر کے لئے بیوی کے انتظار کی مدت کا مسئلہ ہے، جس میں امام مالک کے قول پر فتویٰ دیا جاتا ہے، اس کا مقصد سوائے تن آسانی کے اور کچھ نہیں۔۔

خیر، فی الحال یہاں ایک اور معاملہ پر توجہ کریں کہ سرفراز خان صفدر نے لکھا ہے:

"۔۔۔اور ان علاقوں میں احناف اور فقہ حنفی ہی کی کثرت ہے۔ ظاہر امر ہے کہ اگر ان علاقوں میں کوئی ایسا مسئلہ پیش آ جائے جو منصوص نہیں تو حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی فقہ سے اگر کوئی شخص اکڑ کر گردن نکالتا ہے تو دوسرے ائمہ کرام ؒ کی فقہ تو وہاں ہے نہیں، اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ وہ من مانی کاروائی کر کے شریعت کے پٹے ہی کو گردن سے اتار پھینکے گا۔ اور اسلام ہی کو خیرباد کہہ دے گا ایسے شخص کے لیے اگر حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی تقلید واجب نہ ہو تو اس کا اسلام کیسے محفوظ رہے گا۔؟ اور اپنے مقام پر ثابت ہے کہ لاعلمی کے وقت ایسے جاہل کا اہل علم کی طرف رجوع کرنا نص قرآنی سے واجب ہے۔۔" (الکلام المفید ص 177)

گویا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید برصغیر پاک و ہند میں اس لئے واجب کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ یہاں احناف اور فقہ حنفی ہی کی کثرت ہے۔ اور ایسے ماحول میں امام صاحب کی تقلید شخصی سے باہر ہونا، گویا اسلام سے ہی باہر ہونا ہے۔

یہ تو تھا اردو دان حضرات کو حنفی بنانے اور بنائے رکھنے کا اکسیر نسخہ۔

اب دیکھئے جب کسی کا ماحول بدل جائے تو اس کے لئے کیا فتویٰ ہے۔ اشماریہ صاحب کی پسند فرمودہ ویب سائٹ سے فتویٰ ملاحظہ ہو:


لنک: http://banuri.edu.pk/ur/node/1419
سوال
السلام علیکم !
1۔ اگرکوئی شخص مستقل طورپرایسی جگہ رہائش اختیارکرلےجہاں أئمہ اربعہ میں سےکسی اورکی تقلید ہوتی ہوتوکیااسےاپنی فقہ چھوڑکروہ اختیارکرلینی چاہئے؟ جیسے شافعی فقہ وغیرہ۔
2۔۔۔۔۔
سائلہ : اجالہ

جواب
1۔۔ امام کی تقلید کررہاہےاسی پرکاربندرہے اس کو چھوڑنا جائزنہیں۔
2۔۔۔۔

فقط واللہ اعلم۔

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

وہ مشہور کہاوت تو سنی ہوگی۔۔۔چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری۔۔!
کیا کہنے راجا صاحب کے۔ راجا ہیں جو چاہے کریں۔

سرفراز خان صفدر صاحب کی عبارت کا تو رد کیا نہیں۔ لہذا اس کو جانے دیجیے۔

بنوری ٹاؤن کی یہ ویب سائٹ میری پسند فرمودہ کیسے ہے؟ اگر میں نے کسی جگہ کسی مسئلہ میں ان سے اتفاق ہونے کی وجہ سے ان کا لنک دیا ہے تو یہ سائٹ میری پسند فرمودہ ہو گئی؟
مجھے ان کے اس فتوے سے اتفاق نہیں ہے۔
اور دلیل آپ ان سے مانگ سکتے ہیں۔ جو جواب آئے وہ مجھے بھی بتا دیجیے گا۔
لکھا ہوا ہے:۔
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
مجھے ان کے اس فتوے سے اتفاق نہیں ہے۔
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔۔!
آئینہ دکھایا ہے جناب۔ لینے کے باٹ اور ، دینے کے باٹ اور۔ دوسرے الفاظ میں اسے منافقت کہا جا سکتا ہے ۔
آپ کا فتوے سے اتفاق نہ کرنا، آپ کے علماء کی اس دو رخے پن کو چھپا نہیں سکتا۔ نہ حنفی دیوبندی مسلک میں آپ کی پرکاہ کے برابر کوئی حیثیت ہے کہ آپ کا اتفاق نہ کرنا ، عوام الناس پر کوئی اثر ڈال سکتا ۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
سرفراز خان صفدر صاحب کی عبارت کا تو رد کیا نہیں۔ لہذا اس کو جانے دیجیے۔
آپ راجا صاحب سے فارغ ہو جائیں تو مولانا سرفراز خان صفدر کی عبارت کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اسی تھریڈ میں یا نئے تھریڈ میں!!!
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290
پھر ادھر ادھر کی باتیں؟؟؟
اوپر میرا حوالہ دیا ہے کہ اشماریہ صاحب نے فلاں بات کی۔
اب میں اس فتوے سے متفق نہیں ہوں۔ آپ کو کیا مسئلہ ہے اس میں۔
تحقیق کے "داعیوں" اور تقلید کے "منکروں" کو تحقیق کا بہت شوق ہے تو لکھیں نا خط اور تفصیلی فتوی لے کر دیکھیں۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
پھر ادھر ادھر کی باتیں؟؟؟
اوپر میرا حوالہ دیا ہے کہ اشماریہ صاحب نے فلاں بات کی۔
اب میں اس فتوے سے متفق نہیں ہوں۔ آپ کو کیا مسئلہ ہے اس میں۔
تحقیق کے "داعیوں" اور تقلید کے "منکروں" کو تحقیق کا بہت شوق ہے تو لکھیں نا خط اور تفصیلی فتوی لے کر دیکھیں۔
ادھر ادھر کی باتیں نہیں ہیں جناب۔
آپ واضح طور پر ارشاد فرمائیے کہ یہ جو دو عبارات اوپر پیش کی گئی ہیں، یہ دوغلے پن اور منافقت کو ظاہر کرتی ہیں یا نہیں؟
آپ سے کس نے پوچھا ہے کہ آپ کس سے متفق ہیں اور کس سے نہیں۔ ۔آپ کہئے کہ ہاں واقعی یہ دیوبندی علماء کی منافقت ہے اور لینے دینے کا پیمانہ الگ ہونے کا شاخسانہ ہے۔ لیکن میں فلاں بات سے متفق ہوں اور فلاں سے نہیں۔ تو یہ ہوگا پورا جواب۔
اور اگر آپ نہ دیوبندیوں کی منافقت کی تائید کریں، نہ تردید تو یہ آپ کی منافقت ہے۔۔یہی چیز کہیں اہلحدیث کی سامنے آ جاتی تو آپ کا غیض و غضب دیکھنے لائق ہوتا۔ اور اپنے اکابرین لپیٹ میں ہیں، تو ممیا رہے ہیں فقط۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
طرفین سے درخواست ہے کہ طعن وتشنیع سے گریز کریں! حتیٰ الامکان الفاظ نرم رکھیں! جزاکم اللہ خیرا!
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290
ادھر ادھر کی باتیں نہیں ہیں جناب۔
آپ واضح طور پر ارشاد فرمائیے کہ یہ جو دو عبارات اوپر پیش کی گئی ہیں، یہ دوغلے پن اور منافقت کو ظاہر کرتی ہیں یا نہیں؟
آپ سے کس نے پوچھا ہے کہ آپ کس سے متفق ہیں اور کس سے نہیں۔ ۔آپ کہئے کہ ہاں واقعی یہ دیوبندی علماء کی منافقت ہے اور لینے دینے کا پیمانہ الگ ہونے کا شاخسانہ ہے۔ لیکن میں فلاں بات سے متفق ہوں اور فلاں سے نہیں۔ تو یہ ہوگا پورا جواب۔
اور اگر آپ نہ دیوبندیوں کی منافقت کی تائید کریں، نہ تردید تو یہ آپ کی منافقت ہے۔۔یہی چیز کہیں اہلحدیث کی سامنے آ جاتی تو آپ کا غیض و غضب دیکھنے لائق ہوتا۔ اور اپنے اکابرین لپیٹ میں ہیں، تو ممیا رہے ہیں فقط۔
منافقت کی تعریف کیجیے اور ثابت کیجیے کہ یہ منافقت ہے۔
 
Top