1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید شرک اور مقلد مشرک کیوں

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از mominbachaa, ‏مارچ 07، 2016۔

  1. ‏مارچ 07، 2016 #1
    mominbachaa

    mominbachaa مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 01، 2016
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    تقلید شرک اور مقلد مشرک کیوں !

    تقلید چار اقسام کی ہیں:

    ’تقلید مطلق‘‘ یعنی عام
    تقلید شخصی یعنی ایک ہی عالم کی بات پر ہمیشہ عمل کرے
    ایک ہی عالم کی بات کا ماننا وجوب شرعی سمجے
    چہارم اس عالم یا مجتہد کے فتوے کے مقابلے قرآن و حدیث کی نصوص کو چھوڑ دے

    تقلید مطلق سے مراد یہ ہے کہ مسائل و احکام کی تحقیق میں انسان کسی ایک فقیہ کا پابند ہوکر نہ رہ جائے؛ بلکہ مختلف مسائل میں مختلف اصحاب علم سے فائدہ اٹھائے یعنی کسی خاص مکتبہ فکر کی قید سے بالاتر ہوکر۔

    اسی تقلید مطلق کے بارے میں مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ نے فرمایا: پچیس برس کے تجربہ سے ہم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور تقلید مطلق کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کو ہی سلام کر بیٹھتے ہیں۔(اشاعۃ السنۃ،صفحہ 88، جلد 11)

    مولانا کا یہاں تقلید مطلق کے حوالے سے جو موقف ہے وہ یہ کے اب ہر عام شخص خود سے اجتہاد استنباد یا استدلال تو نہیں کرسکتا سو لہاذا اگر ایسا شخص کسی مسلئہ میں رہنمائی کے لئے کسی عالم دین کی طرف رجوع کرتا ہے تو یہ تقلید مطق ہے جو کے درحقیقت اتباع ہی ہے۔

    یاد رہیں برصغیر کے مقلدین اس تقلید مطلق کو لوگوں کے سامنے بیان کرکے دھوکا دیکر تقلید شخصی کی جال میں پھنساتے ہیں اور دھوکا دیتے ہیں کے دیکھوں تقلید کو علماء نے جائز کہا ہے

    علماء کرام نے جس تقلید کو جائز کہا ہے وہ درحیقت یہی تقلید مطلق ہے جس کے دیوبندی مقلد منکر ہیں اور تقلید شخصی کے قائل

    تقلید مطلق کے بارے میں اکابرین دیوبند کیا فرماتے ہیں اور اس کے بعد ہم علماء دیوبند سے ہی تقلید مطلق کا انکار اور تقلید شخصی کا قائل ہونا ثابت کرتے ہیں

    تقلید مطلق کی تعریف تقی عثمانی دیوبندی کی اس وضاحت سے بخوبی ہوتی ہے: ابتداء میں صرف تقلید مطلق ہی تھی جو کوئی جس کی چاہتا تقلید کر لیتا تھا۔(درس ترمذی، جلد اول، صفحہ 121)

    اپنی ایک اور تصنیف میں تقی عثمانی صاحب تقلید مطلق کی تعریف ایسے کرتے ہیں: پھر اس تقلید کی بھی دو صورتیں ہیں: ایک تو یہ کہ تقلید کے لئے کسی خاص امام و مجتہد کو معین نہ کیا جائے، بلکہ اگر ایک مسئلہ میں ایک عالم کا مسلک اختیار کیا گیا ہے تو دوسرے مسئلہ میں کسی دوسرے عالم کی رائے قبول کرلی جائے اس کو ’’تقلید مطلق‘‘ یا ’’تقلید عام‘‘ یا ’’تقلید غیر شخصی‘‘ کہتے ہیں۔(تقلید کی شرعی حیثیت،صفحہ15)

    پھر آگے چل تقی عثمانی دیوبندی تقلید شخصی کی تعریف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: اور دوسری صورت یہ ہے کہ تقلید کے لئے کسی ایک مجتہد عالم کو اختیار کیا جائے، اور ہر مسئلہ میں اسی کا قول اختیار کیا جائے، اسے ’’تقلید شخصی‘‘ کہا جاتا ہے۔(تقلید کی شرعی حیثیت،صفحہ15)

    ملا جیون حنفی لکھتے ہیں: اس بات پر اجماع ہے کہ صرف چار وں اماموں کی اتباع کی جائے گی۔(تفسیرات الاحمدی،صفحہ 566)

    اس عبارت میں تقلید کے لئے صرف چار اماموں کا تعین و تخصیص ہی تقلید شخصی کی مثال ہے۔یاد رہے کہ ان چاروں میں سے ایک وقت میں صرف ایک ہی کی تقلید آل تقلید کے ہاں ضروری اور واجب ہے ۔جیسے خلیل احمد سہانپوری لکھتے ہیں: اس زمانے میں نہایت ضروری ہے کہ چاروں اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید کی جائے بلکہ واجب ہے۔(المہند علی المفند،صفحہ38)

    تقلید کی ہر دو اقسام کی تعریف کے تعین پر فریقین کے اتفاق سے یہ تفصیل سامنے آئی کہ ائمہ اربعہ میں سے صرف ایک امام کی تقلید، تقلید شخصی ہے اور ائمہ اربعہ یا ان کے علاوہ ائمہ میں سے کسی مخصوص امام کا تعین کئے بغیر بلادلیل جس سے جو چاہا مسئلہ لے لینا اور اس پر عمل کرنا تقلید مطلق ہے۔

    نخبۃ الأصول میں لکھا ہے:((وَالتَّقْلِیْدُ لَا یَجُوْزُ کُلُّہُ مُفْضٍ إِلَی الشِّرْکِ بَعْضُہُ)) [’’تقلید مکمل طور پر جائز نہیں بعض تقلید شرک کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘]مولانا محمد سرفراز خاں صفدر اپنی کتاب ’’ الکلام المفید ‘‘ میں لکھتے ہیں:
    ’’قارئین کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مسئلہ تقلید کی نزاکت کے پیش نظر ٹھنڈے دل سے ساری کتاب کو پڑھ کر کوئی رائے قائم کریں ، چند حوالوں کو یا کسی ایک ہی بحث کو پلے نہ باندھ لیں کیونکہ تقلید کی بعض قسمیں خالص شرک و بدعت او ر ناجائز ہیں ، ان کو جائز کہنے والا اور ان پر عامل کب فلاح پا سکتا ہے۔‘‘(ص:۲۰)

    حیا ت لے کے چلو، کا ئینا ت لے کے چلو
    چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

    مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کی بالا عبارت مقلدین تعصب اور بغض رکھنے والوں کے لئے نہایت پرکشش ہے اسی لئے اس مرغوب حوالے کو غالی مقلدین کی جانب سے تقلید کی اہمیت اور ترک تقلید کے نقصان میں بکثرت نقل کیا جاتا ہے

    جیسے

    01۔ پرائمری اسکول ماسٹر امین اوکاڑوی کی کتاب تجلیات صفدر،جلد اول کے صفحہ 615 پر
    02۔ یوسف لدھیانوی دیوبندی کی کتاب اختلاف امت صراط مستقیم کے صفحہ 30پر
    03۔ صوفی منقار شاہ دیوبندی کی کتاب وھابیوں کا مکر و فریب کے صفحہ 62 پر
    04۔ ابو بلال جھنگوی کی کتاب تحفہ اہل حدیث کی ہر جلد کے آخری ٹائٹل پر
    05۔ سیدفخر الدین احمد دیوبندی کی کتاب رفع یدین صحیح بخاری میں پیش کردہ دلائل کی روشنی میں کے صفحہ نمبر 5 پر
    06۔ صوفی محمد اقبال قریشی دیوبندی کی کتاب ھدیہ اھلحدیث کے صفحہ 239 پر
    07۔ مولانا محمد شفیع دیوبندی کی کتاب مجالس حکیم الامت کے صفحہ 242 پر
    08۔ سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب الکلام المفیدفی اثابت التقلید کے صفحہ 183پر
    09۔ محمد زید مظاہری ندوی دیوبندی کی کتاب اجتہاد و تقلید کا آخری فیصلہ کے صفحہ 104 پر
    10۔ رشید احمد گنگوہی دیوبندی کی کتاب سبیل السدادمیں

    مندر جہ بالا تفصیل سے تقلید شخصی اور تقلید مطلق کا فرق واضح ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کی زیر بحث عبارت ابوحنیفہ کی اندھی تقلید کے دعویداروں کے سراسر خلاف جاتی ہے کیونکہ ان مقلدین کے ہاں مطلق تقلید حرام اور موجب گمراہی جبکہ تقلید شخصی واجب ہے۔ اب مخالفین کے اپنے مستند علماء کی عبارات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو بٹالوی مرحوم کی عبارت کو اپنے حق میں اور مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں وہ تقلید شخصی اور تقلید مطلق کو کیا حیثیت و اہمیت دیتے ہیں اور تقلید کی ان دو اقسام میں سے کون سی تقلید ان کے ہاں صحیح اور کونسی غلط بلکہ موسبب فتنہ و گمراہی ہے

    اب ہم تقلید شخصی کے حوالے سے دیوبند سے کچھ بیان کرتے ہیں

    پرائمری اسکول ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی تقلید شخصی کی ضرورت اور تقلید مطلق کے نقصان کی وضاحت میں رقم طراز ہیں: علماء نے تقلید شخصی کو واجب قرار دیا ہے کیونکہ اگر عامی آدمی کو اس کی اجازت دی جائے کہ اس کو اختیار ہے کہ کسی امام کے مذہب کو لے کر وہ اس پر عمل کر لے تو اس صورت میں رخصت اور آسانی تلاش کرے گا ۔اس کا دل چاہے گا تو ایک چیز کو حلال کہے گا اور کبھی خیال بدل گیا تو وہ اسی کو حرام کہے گا کیونکہ ائمہ اربعہ میں بعض احکام میں حلت و حرمت کا اختلاف ہے۔(تجلیات صفدر، جلد اول، صفحہ 655)

    اقتباس:
    امین اوکاڑوی دیوبندی کی اس عبارت سے ثابت ہوا کہ مقلدین کے ہاں تقلید مطلق سراسر گمراہی ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی آل تقلید کی ستم ظریفی اوردھوکہ دہی ملاحظہ فرمائیں کہ بٹالوی رحمہ اللہ کی جو عبارت براہ راست خود ان کے تقلیدی مذہب کے خلاف تھی اسی عبارت کو کس دیدہ دلیری سے انہوں نے اپنے مخالفین یعنی تقلید نہ کرنے والوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے

    اسی طرح اشرف علی تھانوی کے اس کلام میں بھی تقلید مطلق کے باعث فساد ہونے کا واضح اشارہ موجودہے: تقلید شخصی ضروری ہے اور مختلف اقوال لینا متضمن مفاسد ہے۔(ھدیہ اھلحدیث، صفحہ 78)

    تقی عثمانی دیوبندی عوام الناس کو مطلق تقلید سے ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں: صرف ایک امام کی تقلید لازم و ضروری بلکہ واجب ہے،کبھی کسی کی اور کبھی کسی اور کی تقلید کی تو گمراہ ہوجائے گا اور دین کھلونا بن جائے گا۔(درس ترمذی، جلد اول، صفحہ 120)

    تقی عثمانی صاحب ایک اور مقام پر رقم طراز ہیں: ابتداء میں صرف تقلید مطلق ہی تھی جو کوئی جس کی چاہتا تقلید کر لیتا تھا آخر اس میں قباحتوں نے جنم لینا شروع کیا یا اس کا خدشہ تھا۔(درس ترمذی، جلد اول، صفحہ 121)

    درج بالا حوالے میں وہ کون لوگ ہیں جو ابتداء میں تقلید مطلق پر عمل پیرا تھے اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں: مذکورہ مثالیں تو تقلید مطلق کی تھیں یعنیٰ ان مثالوں میں صحابہ و تابعین نے کسی فرد واحد کو معین کرکے اس کی تقلید نہیں کی بلکہ کبھی کسی عالم سے مسئلہ پوچھ لیا اور کبھی کسی اور سے۔(تقلید کی شرعی حیثیت، صفحہ 43)

    نور محمد قادری تونسوی دیوبندی تقلید مطلق کودین و مذہب کے لئے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں: کوئی مسئلہ کسی امام کا اور کوئی کسی کا ،لے کر چلنابھی درحقیقت امام کی اتباع کے نام پر اتباع خواہش ہے جو آدمی کے دین اور ایمان کے لئے خطرے کا سنگ میل ہے۔(سہ ماہی قافلہ حق،شمارہ نمبر7، صفحہ 9)

    بقول مقلدین تقلید مطلق پہلے جائز تھی ا س لئے کے اس میں خیر تھی کیونکہ ان کے خیال سے صحابہ تقلید مطلق پر عمل پیرا تھے لیکن اب اس میں سوائے شر کے اور کچھ نہیں ۔مطلب یہ کہ موجودہ زمانے میں تقلید شخصی چھوڑ کر تقلید مطلق اختیار کر لینا یقینی گمراہی کا سبب ہے۔

    جہاں تک اہل حدیث عالم محمد حسین بٹالوی مرحوم کی( مقلدین کی جانب سے نقل کر کے اہل حدیث ہی کے خلاف پیش کی جانے والی) عبارت میں مجتہد مطلق کے تارک بننے کو ناپسندیدہ اور گمراہی کا سبب بتایا گیا ہے تو یہ بات بھی آل تقلید کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خود ساختہ مذہب کے خلاف ہے کیونکہ انکے ہاں مطلق مجتہد کے بجائے مخصوص اور متعین مجتہدین سے چمٹے رہنا اور انکی اندھی تقلید کرتے رہنا ہی واجب ہے جنھیں ائمہ اربعہ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے یعنی امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام ابوحنیفہ ۔ احناف کی انتہائی معتبر کتاب مسلم الثبوت میں مندرج ہے: عوام الناس بحث اور تحقیق نہیں کرسکتے تو ان پر چار اماموں کی تقلید لازمی ہے جو تحقیق کر چکےہیں۔(مسلم الثبوت: 2/407 )

    صاوی نے سورہ کہف کی تفسیر میں لکھا ہے: چار مذاہب کے علاوہ کسی کی تقلیدجائز نہیں۔

    مقلدین نے اس سے آگے بڑھتے ہوئے صرف ائمہ اربعہ کی تقلیدکے واجب ہونے پر اجماع کا خود ساختہ دعویٰ بھی کردیا ہے۔چناچہ ملاجیون حنفی نے لکھا ہے: اس بات پر اجماع ہے کہ صرف چاروں اماموں کی اتباع کی جائے۔ (تفسیرات الاحمدی، صفحہ 566)

    مسلم الثبوت میں لکھا ہے: محققین کا اس پر اجماع ہے کہ عامتہ المسلمین صحابہ کرام کی تقلید اور اتباع نہیں کرینگے کیونکہ بسا اوقات ان کے اقوال واضح نہیں ہوتے۔(مسلم الثبوت: 2/407 )

    قارئین سے عرض ہے کہ زرا ایک مرتبہ پھر آغازمضمون میں نقل کی گئی بٹالوی مرحوم کی عبارت کو بغور پڑھیں اور دیکھیں کہ بٹالوی رحمہ اللہ کے نزدیک تو مطلق مجتہد سے تعلق توڑنے والا بالآخر اسلام کو ہی سلام کر بیٹھتا ہے جبکہ آل تقلید کے ہاں مطلق مجتہد سے تعلق جوڑنے والا گمراہی کی وادیوں میں گم ہوجاتا ہے کیونکہ ان کے ہاں مطلق مجتہد کی تقلید اختیار کرنا اجماع کی مخالفت اور واجب کا انکارہے۔تقلید ی حضرات اپنے خود ساختہ ائمہ اربعہ کے علاوہ کسی اور کو تو دور کی بات کسی صحابی کو بھی واجب الاتباع و تقلید ماننے کو تیار نہیں۔

    تقلید شخصی کے کرشمے

    تقلید شخصی کی وجہ سے قرآن مجید کی آیات مبارکہ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہےمثلاً: کرخی حنفی (تقلیدی) کہتے ہیں:

    "اصل یہ ہے کہ ہر آیت جو ہمارے ساتھیوں (فقہاء حنفیہ) کے خلاف ہے اسے منسوخیت پر محمول یا مرجوح سمجھا جائے گا، بہتر یہ ہے کہ تطبیق کرتے ہوئے اس کی تاویل کر لی جائے"(اصول کرخی ص29)

    2:- تقلید شخصی کی وجہ سے احادیث صحیحہ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہےمثلاً: کرخی مزکور ایک اور اصول یہ بیان کرتے ہیں:
    "اصل یہ ہے کہ ہر حدیث جو ہمارے ساتھیوں کے قول کے خلاف ہے تو اسے منسوخ یا اس جیسی دوسری روایت کے معارض سمجھا جائے گا پھر دوسری دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا" (اصول کرخی ص29 اصل 30)

    یوسف بن موسیٰ الملطی الحنفی کہتا تھا:
    "جو شخص امام بخاری کی کتاب (صحیح بخاری) پڑھتا ہے وہ زندیق ہو جاتا ہے" (شذرات الذہب ج7ص40َ)

    3:- تقلید شخصی کی وجہ سے کئی مقامات پر اجماع کو رد کیا جاتا ہے مثلاً: خیرالقرون میں اس پر اجماع ہے کہ تقلید شخصی ناجائز ہے۔ (النبذة الکافیہ ص71 دین میں تقلید کا مسئلہ ص34-35) مگر مقلدین دن رات تقلید شخصی کا راگ الاپ رہے ہوتے ہیں۔

    4:- تقلید شخصی کی وجہ سے صحابہ اور دیگر سلف صالحین کی گواہیوں اور تحقیقات کو رد کرکے بعض اوقات علانیہ ان کی توہین بھی کی جاتی ہےمثلاً: حنفی تقلیدیوں کی کتاب اصولِ شاشی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اجتہاد اور فتوی کے درجے سے باہر نکال کر اعلان کیا گیا ہے: "وعلٰی ھذا ترک اصحابنا روایة ابی ھریرة" اور اسی (اصول) پر ہمارے ساتھیوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو ترک کر دیا (اصول شاشی مع احسن الحواشی ص75)

    ایک حنفی تقلیدی نوجوان نے صدیوں پہلے بغداد کی جامع مسجد میں کہا تھا: "ابو ھریرة غیر مقبول الحدیث" ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث قابل قبول نہیں ہے (سیراعلام النبلاج2ص619,مجموع فتاوی ابن تیمیہ ج 4 ص 538)

    5:- تقلید شخصی کی وجہ سے آل تقلید یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کی دو آیتوں میں تعارض واقع ہو سکتا ہےمثلاً: ملاجیون حنفی لکھتے ہیں:
    "کیونکہ اگر دو آیتوں میں تعارض ہو جائے تو دونوں ساقط ہو جاتی ہیں
    ۔ (نورالانوارمع قمرالاقمار ص193) حالانکہ قرآن مجید کی آیات میں کوئی تعارض سرے سے موجود ہی نہیں اور نہ قرآن و آحادیث صحیحہ کے درمیان کسی قسم کا تعارض ہے۔
    والحمدللہ

    6:- تقلید شخصی کی وجہ سے آل تقلید نے اپنے تقلیدی بھائیوں پر فتوے تک لگا دئیےمثلاً: محمد بن موسی البلاغونی حنفی سے مروی ہے کہ اس نے کہا: "اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو میں شافعیوں سے (انہیں کافر سمجھ کر) جزیہ لیتا۔ (میزان الاعتدال للذہبی ج4ص52)

    عیسی بن ابی بکر بن ایوب الحنفی سے جب پوچھا گیا کہ تم حنفی کیوں ہو گئے ہو جب کہ تمھارے خاندان والے سارے شافعی ہیں؟ تو اس نے جواب دیا: کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ گھر میں ایک مسلمان ہو۔! (الفوائد البہیہ ص152-153)

    حنفیوں کے ایک امام السفکردری نے کہا: "حنفی کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح کسی شافعی مذہب والے سے کرے لیکن وہ اس (شافعی) کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے (فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوی عالمگیریہ ج 4 ص 112) یعنی شافعی مذہب والے (حنفیوں کے نزدیک) اہل کتاب کے حکم میں ہیں۔ دیکھیے(البحرالرائق جلد2ص46)

    7:- تقلید شخصی کی وجہ سے حنفیوں اور شافعیوں نے ایک دوسرے سے خونریز جنگیں لڑیں۔ایک دوسرے کو قتل کیا، دکانیں لوٹیں اور محلے جلائے۔ تفصیل کے لیئے دیکھئے یاقوت الحموی (متوفی626ھ) کی معجم البلدان (ج1ص209 "اصبہان"ج3ص117"ري") تاریخ ابن اثیر (الکامل ج 9 ص92 حوادث سنة 561ھ)

    8:- تقلید شخصی کی وجہ سے آدمی حق و انصاف اور دلیل نہیں مانتا بلکہ اپنے امام کی اندھا دھند بنادلیل پیروی میں سرگرداں رہتا ہے۔ایک صاحب نے ایک حدیث کو قوی تسلیم کرکے،اسکے جواب میں چودہ سال لگا دیے۔ دیکھئے العرف الشذی (ج1ص107)

    محمود الحسن دیوبندی کہتے ہیں:
    "حق و انصاف یہ ہے کہ اس مسئلے میں امام شافعی کو ترجحیح حاصل ہے اور (لیکن) ہم مقلد ہیں (اسلیئے) ہم پر ہمارے امام ابو حنیفہ کی تقلید واجب ہے۔
    (تقریرترمذی ص36) احمد یار نعیمی بریلوی نے کہا: "کیونکہ حنفیوں کے دلائل یہ روایتیں نہیں ان کی دلیل صرف قول امام ہے۔۔۔۔" (جاءالحق ج2 ص9)

    9:- تقلید شخصی کی وجہ سے جامد و غالی مقلدین نے بیت اللہ میں چار مصلے بنا ڈالے تھے جن کے بارے میں رشید احمد گنگوہی صاحب فرماتے ہیں:
    "البتہ چار مصلی کو مکہ میں مقرر کئے ہیں لاریب یہ امر زبوں ہے کہ تکرار جماعات و افتراق اس سے لازم آ گیا کہ ایک جماعت ہونے میں دوسرے مذہب کی جماعت بیٹھی رہتی اور شریک جماعت نہیں ہوتی اور مرتکب حرمت ہوتے ہیں"
    (تالیفات رشیدیہ ص517)

    10:- تقلید کی وجہ سے تقلیدی حضرات اپنے مخالفین پر جھوٹ بولنے سے بھی نہیں شرماتے بلکہ کتاب و سنت پر بھی دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے رہتے ہیں مثلاً: اہل حدیث کے بارے میں اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں: "اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تراویح کے بدعتی بتلاتے ہیں" (امداد الفتاویٰ ج4ص562) حالانکہ اہلحدیث کے زمہ دار علماء و عوام میں سے کسی سے بھی متبع سنت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر "بدعتی" کا فتوی ثابت نہیں۔ہم ہر اس شخص کو گمراہ اور شیطان سمجھتے ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بدعتی کہتا ہے۔

    اسی تقلید شخصی کے بارے امام قاضی ابن ابی العز شارح عقیدہ طحاویہ لکھتے ہیں:
    "فطاءفۃ قد غلت فى تقلیدہ فلم تترک لہ قولا و انزلوہ منزلۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم وان اورد علیہم نص مخالف قولہ تاولوہ علی غیر تاویلہ لید فعوہ عنہم" (الاتباع ص30)

    ترجمہ: یعنی ایک گروہ نے تقلید میں غلو کیا ہے وہ ان کا کوئی قول ترک نہیں کرتے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام ٹھہرا دیتے ہیں، اگر ان کے قول کے خلاف کوئی نص ان کے سامنے پیش کی جائے تو وہ اس کی غیر مناسب تاویل کرتے ہیں تاکہ ان کا دفاع کیا جا سکے

    حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "وتری العامۃ لا سیما الیوم فی کل قریۃ ینقیدون بمذھب من مذاھب المتقدمین ویرون خروج الانسان من مذھب من قلدہ ولو فی المسئلۃ کالخروج من الملۃ کانہ نبی بعث الیہ و افترضت طاعتہ علیہ" (تفھیمات ص151، ج1)
    یعنی ہر شہر میں تم عام لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ متقدمین میں سے کسی ایک کے مذھب کی پابندی کرتے ہیں اور کسی انسان کا اپنے امام کے مذہب سے خروج اگرچہ وہ ایک مسئلہ میں ہی کیوں نہ ہو، ملت سے خروج کی طرح خیال کرتے ہیں گویا کہ وہ امام ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیاہے، اور اس کی اطاعت ان پر فرض کی گئی ہے۔

    مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی سورہ بقرہ آیت:165 کے تحت فرماتے ہیں:
    "ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادًا (اصناما اور رؤساءہم الذین کانوا یطیعونہم اوما ھو اعم منھا یعنی کل ما کان مشغلا عن اللہ تعالیٰ مانعا عن امتثال او امرہ یحبونھم یعظونھم ویطیعونھم کحب اللہ کتعظیمھم للہ ای یسوون بینہ و بینھم فی المحبۃ والطاعۃ)"
    (تفسیر مظہری2/البقرہ:165)
    یعنی اللہ تعالی کے علاوہ شریک بنانے کا مطلب ہے یا تو انہوں نے اصنام(بتوں) کو اللہ تعالی کا شریک بنا لیا اور پھر اپنے ان سرداروں کو جن کی وہ اطاعت کرتے تھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیا۔ ان شرکاء سے محبت کا یہ معنی ہے کہ وہ ان کی تعظیم کرتے تھے اور اطاعت کرتے تھے جیسا کہ مومن اللہ تعالی کی تعظیم کرتے ہیں تو انہوں نے اللہ تعالی اور ان شرکاء کو اطاعت اور محبت میں برباد کر دیا۔

    مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    "من یکون عامیا ویقلد رجلا من الفقھاء بعینہ یرٰی انہ یمتنع من مثلہ الخطا و ان ماقالہ ھو الصواب البتۃ واضمر فی قبلہ ان لا یترک تقلیدہ وان ظحر الدلیل علی خلافہ و ذالک ما رواہ الترمذی عن عدی بن حاتم انہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقراء اتخذوا احبارھم ورھبانھم ارباباً من دون اللہ قال انھم لم یکونو یعبدونھم ولکنھم کانو ازاحلّو الھم شیئاً استحلو واذا حرموا علیھم شیئاً حرموہ"(عقد الجید ص67، نیز حجۃ اللہ البالغہ ج1، ص155)
    "جو عامی شخص فقہاء میں سے کسی ایک کی تقلید کرتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ اس جیسے فقیہہ سے غلطی ناممکن ہے اور جو اس نے کہا وہی صحیح ہے اور دل میں اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اس کی تقلید کو ہر گز نہیں چھوڑے گا اگرچہ دلیل اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ وہ بھی اس حدیث کا مصداق ہے جو امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ نے عدی بن حاتم سے نقل کی ہے کہ عدی ن حاتم فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت (اتخذو احبارھم ورھبانھم۔۔۔۔۔۔الخ) پڑھتے سنا۔ فرمایا کہ وہ اپنے علماء کی عبادت نہیں کرتےتھے [یعنی ان کو سجدہ وغیرہ نہیں کرتے تھے] لیکن جس چیز کو وہ حلال قرار دے دیتے حلال سمجھتے تھے اور جس کو حرام کہہ دیتے اس کو حرام سمجھتے تھے۔"
    نوٹ: اکثر مقلدین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ آیت (اتخذو احبارھم ورھبانھم۔۔۔۔۔۔الخ) یہود و نصاریٰ کے بیان میں ہے کہ وہ اسلیے مشرک ٹھہرے کہ انہوں نے حلال اور حرام میں اپنے علماء اور درویشوں کے اقوال کو معیار ٹھہرا لیا تھا اس اعتراض کا جواب اوپر بیان کی گئی شاہ صاحب رح کی عبارت میں ہی موجود ہے۔ حلال اور حرام کا تعلق افعال سے ہے کیونکہ یہ دونوں لفظ افعال میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

    مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی سے منقول ہے:
    "بعض مقلدین نے اپنے امام کو معصوم عن الخطا و مصیب و جوبا مفروض الاطاعت تصور کر کے عزم بالجزم کیا کہ خواہ کیسی ہی’حدیث صحیح‘ مخالف قول امام کے ہو اور مستند قول امام کا بجز قیاس امر دیگر نہ ہو پھر بھی بہت سے علل اور خلل حدیث میں پیدا کر کے یا اس کی تاویل بعید کر کے حدیث کو رد کر دیں گے ایسی تقلید حرام اور مصداق قولہ تعالٰی اتخذو احبارھم۔۔۔۔الخ اور خلاف وصیت آئمہ مرحومین ہے"(فتاویٰ امدادیہ ص88،ج4، الکلام المفید ص305)
    مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی بعض مقلدین کے اس طرز عمل کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس جسارت کو حرام بھی قرار دیا ہے۔

    مولانا سرفراز خاں صفدر کے الفاظ ہے:
    "کوئی بدبخت اور ضدی مقلد دل میں یہ ٹھان لے کہ میرے امام کے قول کے مخالف اگر قرآن و حدیث سے بھی کوئی دلیل قائم ہو جائے تو میں اپنے مذہب کو نہیں چھوڑوں گا، تو وہ مشرک ہے، ہم بھی کہتے ہے، لا شک فیھ (الکلام الفید:ص310)
    یہ ناکارہ بحوالہ عرض کر چکا ہے کہ ہر دور میں بعض ایسے ’بدبخت اور ضدی مقلد‘ رہے ہیں۔ اس تقلیدی مزاج کو پیش نظر رکھ کر اگر ’متدین‘ علماء کرام نے اور پھر اہل حدیث نے اسے کفر و شرک کہا ہے تو اس میں وہ موجب گردن زنی کیوں ہیں؟
    ان بعض مقلدین کے علاوہ بھی مقلدین کی جو کیفیت رہی ہے اس کا حال بھی مولانا تھانوی کے الفاظ میں پڑھ لیجیے‘ چنانچہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
    ’’اکثر مقلد عوام بلکہ خواص اس قدر جامد ہو جاتے ہیں کہ اگر قول مجتھد کے خلاف کوئی آیت یا حدیث بھی کان میں پڑتی ہے تو ان کے قلب میں انشراح و انسباط نہیں رہتا بلکہ اول استنکار قلب پیدا ہوتا ہے، پھر تاویل کی فکر ہوتی ہے خواہ کتنی ہی بعید کیوں نہ ہو‘ خواہ دوسری دلیل قوی اس کے معارض ہو بلکہ مجتھد کی دلیل اس مسئلہ میں بجز قیاس کے کچھ بھی نہ ہو بلکہ خود دل میں اس تاویل کی وقعت نہ ہو مگر نصرت مذہب کیلیے تاویل ضروری سمجھتے ہیں‘ دل یہ نہیں مانتا کہ قول مجتھد کو چھوڑ کر حدیث صحیح صریح پر عمل کریں“(تذکرہ الرشید:ص130،131، ج1)

    اب تمام اوپرمزکورہ وضاحتوں کے بعد مقلد کا مشرک اور کافر ہونا ثابت کرتے ہیں

    علامہ محمد زاہد الکوثری المتوفی 1371ھ اہل علم کے ہاں محتاج تعارف نہیں- انہیں بالخصوص حنفی دیوبندی مکتب فکر میں بڑی پذیرائی حاصل ہے- اس لیے کہ انہوں نے ماضی قریب مین امام اجو حنیفہ رح اور حنفی نقطہ نظر کا بھرپور دفا ع کیا ہے- موصوف عقائد میں ماتریدی بلکہ جہمی تھے- اس لئے فروغ میں ہی نہیں بلکہ اصولی مسائل میں بھی انہوں نے اپنے موقف کی جس انداز سے ترجمانی کی- اس کی نظیر ماضی میں علمائے احناف میں شاید تلاش بیسار کے بعد بھی نہ ملے- غالبا وہ پہلی ذات شریف ہے جس نے امام ابن حزیمہ رح کی " کتاب التوحید" جسے خود انہوں نے صحیح ابن حزیمہ کا حصہ قرار دیا۔ (مقالات الکوثری ص 50 و ص 143، ط 1994) کو "کتاب الشرک" قرار دیا- (مقالات ص 409 التانیب ص29) اور امام حنبل رح کے بیٹے امام عبداللہ رح کی "کتاب السنہ" کو " کتاب الزیغ" (مقالات ص324) اور امام عثمان بن سعید الدارمی المتوفی 280ھ کی "الرد علی الجھیمہ" اور "الرد علی بشر المریسی" کو "کتاب الکفر و الوثینۃ" قرار دیا ہے- (مقالات ص300)

    غور کیجیے امام ابن حزیمہ رح، امام عبداللہ رح بن احمد، اور امام عثمان رح بن سعید الدارمی جن کے علم و فضل، امانت و دیانت، حفظ و ضبط اور توثیق و تعدیل پر تمام محدثین کا اتفاق ہے- اگر وہی شرک ، بت پرستی، کفر اور گمراہی کے معاذ اللہ علمبردار ہیں تو بتلائیے توحید و سنت کا داعی کون ہے؟

    اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح اور ان کے تلمیذ امام ابن قیم رح کے بارے میں جو کچھ انہوں نے "مقالات " اور "تبدید الظلام" اور "الاشفاق" میں کہا اس کی داستان طویل ہے- حتی کہ انہیں بدعتی، کذاب ، جاہل، غبی، ضال مضل، خارجی، زندیق، قلیل الدین والعقل تک لکھ مارا- امام ابو حنیفہ رح اور ان کے تلامذہ کے دفاع میں امام ابو عوانہ وضاح بن عبداللہ، امام ابو اسحاق الفزاری ابریہیم بن محمد، امام ابو اسحاق ابراہیم بن محمد المزکی، امام احمد بن سلیمان النجاد، امام زکریا بن یحی الساجی، امام علی بن عمر ابوالحسن الدارقطنی، امام محمد بن عیسی الترمذی، امام محمد بن حبان ابو حاتم البستی، امام محمد بن عبداللہ الحاکم صاحب المستدرک اور امام محمد بن عمرو العقیلی رحمھم اللہ وغیرہ جیسے ائمہ حفاظ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا امام احمد بن حنبل رح اور امام شافعی رح پر ان کے تبصرے بھی کسی طاحب علم سے مخفی نہیں-
    خطیب بغدادی رح سے لےکر حافظ ابن حجر رح تک کے بعض علمائے شافعیہ پر ان کی تنقید بھی اہل علم کے ہاں معلوم و معروف ہے- حتی کہ حضرت انس بن مالک رضہ اور معاویہ بن ابوحکم جیسے صحابی بھی ان کے قلم کی کاٹ سے نہ بچ سکے- غالبا ان کی جرات کی بنا پر مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے ان کی بڑی تحسین کی اور فرمایا:

    " وہ ایسے (حنیف) مخلص حنفی ہیں جنہوں نے چھوٹے بڑے سب بت پاش پاش کردیے"
    (مقدمہ مقالات الکوثری ص د)

    جاری ہے
     
  2. ‏مارچ 07، 2016 #2
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    [QUOTE ]تقلید شرک اور مقلد مشرک کیوں ![/QUOTE]
    محترم! اس کی دلیل؟

    محترم! اس کا مأخذ؟
     
  3. ‏مارچ 07، 2016 #3
    mominbachaa

    mominbachaa مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 01، 2016
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    محترم! اس کی دلیل؟


    محترم! اس کا مأخذ؟[/QUOTE]
    مجھے ایڈٹ کرنا نہیں آتا
    بقول مقلدین یہ اقسام ہیں

    آپ مقلد ہیں یا مجتہد؟
    مقلد دلیل کا مطالبہ کس دلیل سے کرسکتا ہے؟
     
  4. ‏مارچ 07، 2016 #4
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! یہی سبب ہے آپ کا حنفیت کو استعفیٰ دینے کا۔۔۔۔ ابتسامہ!
     
  5. ‏مارچ 07، 2016 #5
    mominbachaa

    mominbachaa مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 01، 2016
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    عبد الرحمٰن بھائی اسی طرح دل بہلا لیا کریں اپنا
     
  6. ‏مارچ 07، 2016 #6
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    جی ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ ابتسامہ!
     
  7. ‏مارچ 08، 2016 #7
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! یہ کس طرح ممکن ہوگا اس کی تفصیل بتا دیں؟
     
  8. ‏مارچ 08، 2016 #8
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,617
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    حنفیت کیا ہے؟ عبدالرحمن صاحب اس کی وضاحت کر دیں ۔ اقوال اصحاب ابو حنیفہ کو ناقبول کرنیوالے کو کیا کہینگے آپ اور قبول کرنیوالے کو کیا کہینگے؟
    آپکی وضاحت سے ہم حنفیت کو سمجہنا چاہتے ہیں اور یہ بهی سمجہنا چاہتے ہینکہ مالکی ، شافعی اور حنبلی آپکی حنفیت سے کیا مقام رکہتے ہیں؟
    جواب محض جواب ہو اور اسمیں تمام نقط زیر بحث لائیں اور نقطہ سے باہر بحث نہ کریں ۔ مشکور
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 08، 2016 #9
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! اس موضوع کے لئے کوئی نیا تھریڈ بنا لیں کیوں کہ اس موضوع کو یہاں چھیڑا آپ نے ہے اور میں لکھوں گا تو پابندی مجھ پر ہی لگے گی۔ اس لئے نہ بابا نہ اس کے لئے نیا تھریڈ۔ شکریہ
     
  10. ‏مارچ 08، 2016 #10
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    مضمون نگار نے بیشتر وہی باتیں دوہرائی ہیں جن کا جواب متعدد مرتبہ دیاجاچکاہے، اگرمحض اعتراض برائے اعتراض یعنی مکھی پر مکھی مارناہے تو ٹھیک ہے ورنہ اگر مقصد یہ ہے کہ حق واضح ہوجائے چاہے جس جانب ہو تواس کا طریقہ یہ نہیں ہوتا کہ جن باتوں کا جواب دیاجاچکاہے ان کو پھر سے بغیر سمجھے بوجھے دوہرایاجاتارہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں