1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید کی بیماری کی وجہ سے مقلدین کا احادیث صحیحہ کو نشانہ بنانا اور تحقیر کرنا !

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 28، 2016۔

  1. ‏جنوری 28، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    تقلید کی بیماری کی وجہ سے مقلدین کا احادیث صحیحہ کو نشانہ بنانا اور تحقیر کرنا !

    تقلید کی بیماری کی وجہ سے مقلدین کا احادیث صحیحہ کو نشانہ بنانے اور ان کی تحقیر کے ذریعے اپنے جامد مقلدانہ جذبات کو تسکین بہم پہچانے کی دو مثالیں پیش خدمت ہیں۔

    بوقت ضرورت کھڑے ہو کر پیشاب کرنا وہ واحد مسئلہ ہے جو مقلدین کی تضحیک کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے۔حالانکہ اس مسئلہ کی بنیاد صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے:

    حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک قبیلے کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر گئے تو وہاں کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔پھر پانی منگایا۔ میں آپ ﷺ کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا۔

    (صحیح بخاری، کتاب الوضو)

    ۱۔ مولانا عبدالشکور قاسمی دیوبندی نے اپنی ایک تصنیف میں ابن نجیم حنفی کے حوالے سے چند صغیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا ہے جس میں نمبر سات پر کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے جائز عمل کو بھی صغیرہ گناہوں میں شامل کیا ہے۔

    ( دیکھئے کفریہ الفاظ اور ان کے احکامات مع گناہ کبیرہ و صغیرہ کا بیان ، ص 103)

    کیا ابن نجیم حنفی سے لے کر آج تک کسی بھی دیوبندی کی نظر سے بخاری کی مذکورہ بالا حدیث نہیں گزری جس میں ذکر کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا؟؟ یقیناًحدیث ان کی نظروں سے گزری ہوگی لیکن کیا کیجئے اس مقلدانہ تعصب کا جس سے مجبور ہوکران مقلدین نے ایسی نا معقول بات کہی جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ پر بھی گناہ کا الزام عائد ہوگیا۔ نعوذباللہ من ذالک

    صحیح حدیث سے ثابت شدہ عمل کوگناہ قرار دینے سے پہلے ان ناقص ا لعقل لوگوں کے ذہن میں یہ سوال کیوں نہ ابھرا کہ جب کھڑے ہوکر پیشاب کرنا گناہ ہے تو کیا اس عمل کا ارتکاب کرکے رسول اللہ ﷺ بھی گناہ گار ہوئے؟؟؟!!! (استغفراللہ)

    نوٹ: یاد رہے کہ اس کتاب میں اکابرین دیوبند کی تصدیقات بھی شامل ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دیوبندیوں کے نزدیک بالاتفاق کھڑے ہو کر پیشاب کرنا گناہ ہے اور اس فرقے کا یہی مذہب و مسلک ہے کیونکہ دیوبندیوں کے امام اہل سنت، جناب سرفراز خان صفدر نے لکھا ہے:

    جب کوئی مصنف کسی کا حوالہ اپنی تائید میں پیش کرتا ہے اور اس کے کسی حصہ سے اختلاف نہیں کرتا تو وہی مصنف کا نظریہ اور (مذہب) ہوتا ہے۔

    (تفریح الخواطر ص29)

    اب ایک نام نہاد عاشق رسول کی روداد سنیے جو حدیث نبوی ﷺ میں وارد فعل کا مذاق اڑاتے ہوئے پیارے نبی ﷺ کے فعل کو کفار کے فعل سے تشبیہ دیتا ہے لیکن پھر بھی ان کے عشق رسول پر کوئی حرف نہیں آتا۔بقول شاعر نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

    ۲۔ شوخ الاسلام طاہر القادری صاحب اپنے ایک مضمون بنام دروس بخاری۔عقائد اہلسنت اور فقہ حنفی سے متعلق اشکالات کا ازالہ میں رقم طراز ہیں:

    وہ لوگ جو بخاری شریف کے علاوہ کوئی اور حدیث ماننے کو تیار نہیں اور سمجھتے ہیں کہ بخاری کے باہر کوئی اور حدیث صحیح نہیں انہیں آج سے چاہیے کہ وہ بیٹھ کر پیشاب کرنا بند کردیں اور وہ یورپین، امریکن کلچر کی طرف آجائیں کیونکہ بخاری شریف میں بیٹھ کر پیشاب کرنے کی کوئی حدیث نہیں۔

    (ماہنامہ منہاج القرآن لاہور، نومبر 2006)

    استغفراللہ۔ نبی کریم ﷺ کے عمل کو یورپین اور امریکن کلچر سے تشبیہ دینا بہت بڑی جراءت اور گستاخی ہے اگر یہ گستاخی کوئی غیر مسلم کرتا تو یقیناً واجب القتل اور شاتم رسول ٹھہرتا لیکن تقلید کی برکت سے حنفیوں کے اسلام پر ایسی گستاخیوں سے کوئی آنچ نہیں آتی۔ رند کے رند بھی رہتے ہیں اور جنت بھی ہاتھ سے نہیں جاتی ۔ یہ تقلید کے وہ خوفناک پہلو ہیں جنھیں مقلدین حضرات کی جانب سے بڑی صفائی کے ساتھ چھپا لیا جاتا ہے اور بیچاری عوام کو صرف تقلید کے خودساختہ خیر کے پہلو دکھانے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

     
    • پسند پسند x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 28، 2016 #2
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    مضمون ،مضمون نگار کے علم وفہم کا آئینہ ہے
     
    • متفق متفق x 3
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 28، 2016 #3
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    میں آپ سے متفق ہوں۔
    مضمون نگار کو حدیث عائشہ کا بھی علم نہیں ہو سکا۔ اور نہ ہی اس نے اتنی تکلیف کی کہ شروح کتب احادیث کھول کر دیکھ لیتا کہ "محدثین کرام" نے اس حدیث کی کتنی توجیہات کی ہیں اور کیوں کی ہیں۔
    بعض مضمون نگاروں کا کام صرف اعتراض ہوتا ہے تا کہ "فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم" کی آیات آج ان پر بھی صادق آتی رہیں اور وہ وعید قرآنی سے محروم نہ رہ جائیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 29، 2016 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    Last edited: ‏جنوری 29، 2016
  5. ‏جنوری 29، 2016 #5
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    کیا جنہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا کو مکروہ کہا ہے ان کو بھی آپ ہدف تنقید بنائیں گے یا آپ کے نشتر صرف احناف کے لئیے ہیں ؟؟
     
  6. ‏جنوری 29، 2016 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بھائی یہاں مخاطب وہ لوگ ہے جو احادیث صحیحہ کا مذاق اڑاتے ہیں -
     
  7. ‏جنوری 29، 2016 #7
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    ابن نجیم صاحب نے کہاں صحیح حدیث کا مذاق اڑایا ہے آپ کے پیش کردہ اقتباس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی ۔
    اگر کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کو گناہ صغیرہ کہنا صحیح حدیث کا مذاق اڑانا ہے تو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کو مکروہ کہنا بھی مذاق اڑانا ہے ۔ کیا آپ ان ائمہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنائیں گے جنہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کو مکروہ کہا ۔ آپ کے نظریہ سے وہ معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ایک عمل کو مکروہ کہ رہے ہیں
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 29، 2016 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ابن نجیم کہتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا گناہ ہے۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ہے۔

    اصل اعتراض یہ ہے کہ ابن نجیم کے اس فتویٰ کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی گناہ گار قرار پاتے ہیں ۔ نعوذباللہ من ذالک۔

    اور بھائی مکروہ اور گناہ کا فرق بھی بتا دے -

     
  9. ‏جنوری 29، 2016 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    Last edited: ‏جنوری 29، 2016
  10. ‏جنوری 29، 2016 #10
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    جو ائمہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کو مکروہ کہتے ہیں آپ کے نظریہ کے مطابق جو آپ نے ابن نجیم پر فٹ کیا ہے ان ائمہ کے قول کی زد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بھی آتے ہیں نعوذ باللہ من ذالک ۔
    کیا آپ ان ائمہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنائیں گے جنہوں نےکھڑے ہو کر پیشاب کو مکروہ کہا ہے ۔ ٹو دی پوائینٹ جواب دیں
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں