• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید کی شرعی حیثیت-ایک منصفانہ جائزہ

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
محترم بھائیو میرا تقلید کے اختلاف پر ایک کتابچہ لکھنے کا پروگرام تھا جس کے بارے کچھ چیزیں لکھی تھیں البتہ اپنے شیوخ سے اسکی اصلاح ابھی کروانی ہے لیکن اس سے پہلے کچھ چیزوں میں مجھے خود کچھ ابہامات تھے اور معلومات مکمل نہیں تھیں اور میں یہ بھی چاہتا تھا کہ اس سلسلے میں دونوں طرف کے لوگوں کے دلائل بلا کسی دشمنی کے پڑھے جائیں اور پھر مرض کی درست تشخیص کرتے ہوئے کچھ لکھا جائے کہ اسکا فائدہ زیادہ ہو گا

اسی تناظر میں میں اس دھاگے میں کچھ باتیں اپنے اہل حدیث کے اہل علم ممبران سے پوچھنا چاہوں گا اور ساتھ ساتھ حنفی بھائیوں خصوصا @اشماریہ بھائی سے بھائی سے وضاحت لینا چاہوں گا تاکہ میری مشکل آسان ہو

نوٹ: میری کچھ مخلص بھائیوں سے یہ بھی گزارش ہے کہ اس مسئلہ پر مناظرہ کرنے کے اور بہت سے دھاگے موجود ہیں پس وہ اگر کوشش کریں کہ اس دھاگہ کو علمی بحث تک محدود رکھیں کسی پر کیچڑ اچھالنے یا برا بھلا کہنے کے لئے استعمال نہ کریں تو میں انکا بہت مشکور ہوں گا ورنہ صبر ہی کروں گا اللہ ہم سب سے دین کا کام قبول فرمائے امین
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
اس سلسلے میں میں لکھتے ہوئے محترم مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب تقلید کی شرعی حیثیت اپنے سامنے رکھی تھی اور اسی سے دلائل لے کر انکو سمجھنا چاہا تھا
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
1۔پہلی بات
پہلی بات جو میں نے اس سلسلے میں پوچھنی ہے وہ اہل حدیث بھائیو سے ہے کہ کیا کسی وقت تقلید کرنا بھی جائز ہے یا تقلید مطلقا ہی حرام ہے کیونکہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول جو مجموع الفتاوی سے نقل کیا جاتا ہے کہ
والذی علیہ جماھیر الامۃ ان الاجتھاد جائز فی الجملۃ والتقلید جائز فی الجملۃ ولایوجبون الاجتھاد علی کل احد ویحرمون التقلید ولا یوجبون التقلید علی کل احد و یحرمون الاجتھاد فان الاجتھاد جائز للقادر علی الاجتھاد والتقلید جائز للعاجز عن الاجتھاد
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
2۔دوسری بات
دوسری بات بھی اہل حدیث بھائیوں سے پوچھنی ہے کہ اس فورم پر چند دنوں پہلے ایک بھائی نے ایک پوسٹ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تقلید نہ کرنے والے 100 محدثین کے حوالے سے ایک کتاب لگائی تھی جس میں غالبا صفحہ 26 یا 29 پر لکھا تھا کہ اہل تقلید کو ہم نے 100 حوالے دیئے ہیں تقلید نہ کرنے کے وہ ہمیں 10 حوالے محدثین کے بتا دیں جس میں کسی معین امام کی تقلید کرنا واجب کہا گیا ہو

اس پر میرا سوال یہ ہے کہ یہاں جو چیلنج دیا گیا ہے وہ تقلید شخصی کے واجب ہونے کی دلیل دینے کا ہے یعنی تقلید مطلق کے واجب ہونے یا تقلید مطلق کے جائز ہونے کا چیلنج نہیں تھا تو کیا یہ دونوں چیلنج بھی دیئے جا سکتے ہیں یا نہیں
(جس بھائی نے وہ تھریڈ لگایا تھا ان سے گزارش ہے کہ وہ مجھ سے غائب ہو گیا ہے وہ یہاں لگا دیں تاکہ میں اسکو دیکھ کر بات کر سکوں
 
Last edited:

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
میں پہلے اپنے اہل حدیث بھائیوں سے سوالات کر رہا ہوں تاکہ اپنے نظریے کی اصلاح کر سکوں اور جو دلائل میں نے محترم مفتی تقی عثمانی صاحب کی دلائل کے رد میں سمجھے ہیں انکا وزن جان سکوں اور پھر محترم اشماریہ بھائی سے اس سلسلے میں بھی کچھ باتیں پوچھنی ہیں
 

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
318
پوائنٹ
127
تقلید علی الاطلاق حرام ہے اسلام میں اطاعت ہے اور اتباع ۔تقلید بہرحال تقلید ہے خواہ خاص کیلئے ہو یا عام کیلئے اوریہ سب کیلئے حرام ہے کیونکہ تقلید بغیر دلیل کے بات ماننے کو کہتے ہیں اور اسلام دلیل کا نام ہے بغیر دلیل کے اسلام صحیح نہیں ۔جو لوگ عوام کیلئے تقلید کو جائز سمجھتے ہیں انکا موقف صحیح نہیں ہے عوام جب اپنا سامان خریدتی ہے تو اصلی خریدتی ہے توشریعت کے مسئلے میں اصلی کیوں نہ لے ۔آج کے دور میں اصلی اسلام سورج کیطرح واضح ہے اور برصغیر میں سب جانتے ہیں کہ ۔اہلجدیث۔وہ جماعت ہے جو صرف قرآن و حدیث پر عمل کرتی ہے تو اہلحدیث عالم سے مسئلہ کیوں نہیں معلوم کرتی ہے ۔ جماعت اہلحدیث میں بھی عوام ہیں اور انکی اچھی خاصی تعداد ہے لیکن وہ کسی مقلد سے مسئلہ نہیں پوچھتے ہیں بلکہ وہ اپنے اہلحدیث عالم سے ہی پوچھیں گے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ مقلد عالم صحیح مسئلہ نہیں بتاے گا حالانکہ وہ عوام میں سے ہے اسی طرح مقلد عوام کو بھی پتہ رہتا ہے لیکن انکے علماءانکو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اہلحدیث عالم سے مسئلہ مت پوچھنا اسلئے وہ اپنے عالم کی بات پر عمل کرتے ہوے اہلحدیث عالم سے مسئلہ نہیں پوچھتا ہے ۔ بھرحال تقلید کسی کیلئے جائز نہیں ۔ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
جزاک اللہ محترم جوش بھائی کہ آپ نے جواب دیا البتہ مجھے آپ کے جواب کو سمجھنے کے لئے پہلے تقلید کی تعریف کی وضاحت آپ سے لینی ہو گی جسکو میں اگلے سوال کی صورت میں پیش کرتا ہوں

3۔تیسری بات
تقلید کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ
العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجۃ
جسکا ترجمہ مقلدین کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ
ایسے شخص کے قول پر دلیل کا مطالبہ کیے بغیر عمل کرنا ہے جسکا قول (شریعت میں) حجت نہیں

اس تعریف میں مجھے ایک ابہام ہے کہ ہمارے علماء جب اسکو درست مانتے ہیں تو اس میں انکے نزدیک ایسا کرنے کی وجہ کیا ہوتی ہے
یعنی جو مقلد انسان اس طرح کسی کی تقلید کر رہا ہوتا ہے تو اسکی مختلف وجویات ہو سکتی ہیں مثلا
×وہ مقلد جس کی تقلید کر رہا ہے اسکو ہی حجت سمجھتا ہے اور معصوم عن الخطا سمجھتا ہے
×وہ مقلد اسکو معصوم عن الخطا یا حجت تو نہیں سمجھتا لیکن کوئی اور وجہ سے اسکی بات کو سنت رسول کے مطابق سمجھتا ہے تو وہ وجہ کون سی ہو سکتی ہے

اب میرے خیال میں تو پہلی وجہ نہیں ہو سکتی کیونکہ تعریف میں ہی اسکا رد موجود ہے البتہ دوسری کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے جسکا تعین آپ بھائیوں سے کروانا ہے کہ ہمارے نزدیک وہ کون سی وجہ ہوتی ہے اور ان تقلید کرنے والے بھائیوں سے بھی پوچھنا ہے پھر اگر دونوں میں وجہ پر اتفاق ہو گیا تو اچھا ہو گا ورنہ پھر دلائل دیکھیں جائیں گے کہ درست کون کہ رہا ہے
محترم جوش بھائی اصل میں میں نے سنا ہے کہ اچھے سپیرے کوشش کرتے ہیں کہ سانپ کو اس جگہ سے پکڑا جائے کہ جہاں سے وہ منہ پھیر کر سپیرے کو کاٹ نہ سکے
یہاں پر یہ بھی بتا دوں کہ میرا نظریہ مقلد کے بارے سانپ والا بالکل نہیں بلکہ جس چیز کو میں درست سمجھتا ہوں اور مخالف کے نظریے کو غلط سمجھتا ہوں اسکی غلطی کی اصلاح کرنے کا بتانے کے لئے ہی سانپ کی مثال ان لوگوں کے لئے دینا چاہی جو رد کرتے ہوئے تمام طرفوں کا خیال نہیں رکھتے
 

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
318
پوائنٹ
127
قرآن کی آیت ہے (اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ)یعنی انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر علماءاور مشایخ کو رب بنا لیا تھا جبکہ اللہ نے انہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن انہوں نے بغیر دلیل کے علماء ومشایخ کو رب بنا لیا تھا یہی تقلید ہے آج جو لوگ علماء کی تقلید میں شرک و بدعت کرتے چلے جارہے ہیں جسکا ان کے پاس قرآن و حدیث سے کوءی حجت نہیں ہے سواے علماء کے اقوال کے یہی تقلید ہے۔۔اور تقلید کی کوءی وجہ نہیں ہے سوا ے جہالت اور ہٹ دھرمی کے۔۔۔۔ اور جو شخص رسول کے علاوہ کسی امتی کو معصوم عن الخطاء مانتا ہے تو یہ اسکی جہالت کی دلیل ہے اور یہی شرک فی الرسالہ بھی ہے ۔۔ آپ تقی عثمانی کا حوالہ دے رہے ہیں جو جستس ہوکر بھی تقلید کا قلادہ گلے سے نہ نکال سکا اور نماز کے موضوع پر مختصرکتابچہ میں عورتوں اور مردوں کے نماز میں فرق لکھتا ہے اور عشاء کی رکعت 17 ،مغرب کی 7 اسی طرح دیگر نمازوں کی کیفیت لکھتا ہے ۔دیوبند میں جب تقریر کرتا ہے تو بزرگوں کی وہ کرامتیں بیان کرتا ہے کہ الامان والحفیظ۔ ۔ یہ سب تقلید کی وجہ سے ۔ اور آج امت کی اکثریت جسمیں بڑے بڑے علماء اور دکاترہ شامل ہیں صرف تقلید کی وجہ سے قرآن وسنت کی روشن تعلیمات سے دور ہیں اور صرف تقلید کی وجہ سے امت کی وحدت پارہ پارہ ہے ۔۔۔ محترم آپ نے لکھا ہے کہ ۔۔۔ رد کرتے ہوءے تمام طرفوں کا خیال نہیں کرتے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ تقلید کا کون سا طرف ہے جو صحیح ہے اور کوں غلط ؟نیز تقلید کے کتنے اطراف ہیں مثال سے نہیں دلیل سے بتایے ۔
 

مون لائیٹ آفریدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 30، 2011
پیغامات
640
ری ایکشن اسکور
407
پوائنٹ
127
جماعت اہلحدیث میں بھی عوام ہیں اور انکی اچھی خاصی تعداد ہے لیکن وہ کسی مقلد سے مسئلہ نہیں پوچھتے ہیں بلکہ وہ اپنے اہلحدیث عالم سے ہی پوچھیں گے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ مقلد عالم صحیح مسئلہ نہیں بتاے گا
یہاں پر ایک اشکال پایا جاتا ہے کہ ایک عامی اہل حدیث شخص کو کس طرح یہ یقینی علم ہے کہ اہل حدیث عالم ہی صحیح مسئلہ بتائے گا ؟
کیا کسی عام آدمی کو یہ تدبر حاصل ہے کہ وہ علماء کی صحت کا پہچان کرے ۔؟
 
Top