• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقی عثمانی کی زبانی قبروں سے فیض سے متعلق دیوبندی اور بریلوی مشرکانہ عقائد کا اتحاد

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
222
پوائنٹ
111
تقی عثمانی کی زبانی قبروں سے فیض سے متعلق دیوبندی اور بریلوی مشرکانہ عقائد کا اتحاد

از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ

تقی عثمانی دیوبندی (اللہ کی لعنت ہو اس پر) نے ایک بار پھر اس بات کا اعتراف کر لیا کہ دیوبندی بریلویوں کی طرح مشرک اور قبر پرست ہیں۔

اس سے قبل دیوبندی اپنے عقیدے کی متفقہ کتاب المہند میں بھی اس کو واضح اور دو ٹوک انداز میں بیان کر چکے تھے کہ ہم قبروں سے مدد مانگنے اور مدد ملنے کے قائل ہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کا سرخیل مشہور مشرک و زندیق صوفی امداد اللہ مہاجر مکی نے بھی اپنی کتب میں بار بار اس کا اعتراف کیا تھا۔

لیکن جب عرب میں سلفیت کو عروج ملا تو عربوں سے ڈر کر اور ان کے ریال و درہم کے لئے رال ٹپکاتے دیوبندیوں نے اپنے مشترکہ عقیدے کی کتاب المہند میں تاویلات کرنی شروع کر دیں۔ بعض نے اس میں موجود قبر پرستی کے عقیدے سے دبے لفظوں میں براءت کا بھی اظہار کیا، جس سے کچھ لوگ سمجھنے لگے کہ شاید یہ بریلویوں سے کچھ مختلف ہیں۔ لیکن اب ان کے سب سے بڑے عالم دین جس پر ان کی تمام جماعتیں اور فرقے متفق ہیں اور اس کو دیوبندیوں کے پوپ کی حیثیت حاصل ہے، اس نے ایک بار پھر المہند والے قبر پرستی کے عقیدے کا واضح، دو ٹوک اور برملا اظہار کر دیا ہے۔

اور اپنی قبر پرستی اور مردوں کو پوجنے و پکارنے کے لئے وہی گھسا پٹا جواز تراشا جو نوح علیہ السلام کے دور سے مشرکین مکہ، اور اس سے بریلوی اور آج تک کے مشرکین تراشتے آئے ہیں کہ: "جی ہم بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ کرتا ہے لیکن اس نے ان قبروں کو اختیار دیا ہے۔"
اور آج تک یہ اس بات پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکے کہ اللہ تعالیٰ نے کہاں پر اور کب ان قبروں کو اختیار دیا ہے کہ تمہیں فیض پہنچائیں؟؟؟


تقی عثمانی (اللہ کی اس پر لعنت ہو) اپنے چوہے جیسے گندے دانت نکالتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید میں نے کوئی نئی بات کر دی، حالانکہ یہ بات تو آج سے ہزاروں سال قبل کے مشرکین بھی کرتے تھے، اور ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ ہمارے مردہ بزرگ، ہمارے مزار، ہمارے بت جو بھی فیض پہنچاتے ہیں وہ اللہ کے حکم سے پہنچاتے ہیں۔

آج تک کسی مشرک قوم کا یہ عقیدہ نہیں رہا کہ ہمارے یہ پتھر کے بت یا مزار یا مورتیاں خود سے کچھ کر سکتی ہیں۔ کیا وہ پاگل ہیں کہ اپنے ہاتھوں سے تراشے پتھر کو یہ سمجھیں گے کہ یہ میری مدد کر سکتا ہے؟ بلکہ ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ یہ تو محض بزرگوں کی طرف متوجہ ہونے کے لئے تراشے گئے ہیں۔

کیونکہ ان کے پاس ان بزرگوں کے مزار نہیں تھے اور وہ طویل عرصے سے گم ہو چکے تھے، سو انہوں نے مزار کی جگہ ان کی مورتیاں تراشی یا پتھر کھڑے کر دیئے اور پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان بزرگوں کو پکارنے لگے اور کہتے تھے کہ ان بزرگوں کو اللہ نے یہ اختیار دیا ہے، نہ کہ وہ خود اس پر قادر ہیں۔

یہی عقیدہ آج کے ہندوؤں کا بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ مورتیاں اور بت تو ہم نے خود تراشے ہیں یا بازار سے خریدے ہیں، لیکن ہم ان کو اس لئے سامنے رکھتے ہیں تاکہ ہماری توجہ ان دیوتاؤں کی طرف مبذول رہے جن کو ہم پکارتے ہیں، اور ان دیوتاؤں کو اصل طاقت پرمیشور (اللہ) نے دی ہے۔

یہی عقیدہ بریلویوں کا بھی ہے۔ آپ ان کی عقائد کی کتب اٹھا کر دیکھ لیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ اولیاء دراصل اللہ کے حکم سے مدد کرتے ہیں ورنہ خود ان کے بس میں کچھ نہیں۔

اب یہی عقیدہ تقی عثمانی (اللہ کی اس پر لعنت ہو) نے بھی پیش کیا ہے جس کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے کسی مرے ہوئے نبی یا ولی یا کسی کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ لوگوں کو فیض پہنچائے یا مدد کرے۔
وَلٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ

سو تقی عثمانی (اللہ کی اس پر لعنت ہو) کے عقیدے سے ایک بار پھر واضح ہوا کہ دیوبندی بھی بریلویوں، ہندوؤں اور مشرکین مکہ سے شرک میں ہرگز کم نہیں ہیں، چاہے وہ لاکھ اس کا انکار کریں۔

نوٹ: اب تک کسی دیوبندی سیاسی، تبلیغی یا جہادی جماعت نے مفتی تقی کے اس شرکیہ عقیدے سے براءت کا اعلان نہیں کیا۔

وما علینا إلا البلاغ
 
Top