• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تلاوت ، تعلیم اور تزکیہ

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,807
پوائنٹ
376
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین کی تربیت کے لیے جو خاکہ دیا گیا ہے تھا اس میں تربیت کے تین بنیادی خطوط متعین کیے گئے تھے ۔
تلاوت ، تعلیم اور تزکیہ
تلاوت یعنی بتانا، تعلیم یعنی سکھانا اور تزکیہ یعنی بنانا
تلاوت یابتانا یک طرفہ عمل ہے ۔ یہ اطلاع اور ابلاغ کے قبیل کی چیز ہے ۔
تعلیم یا سکھانا ، دو طرفہ عمل ہوتا ہے۔ یہ بتانے سے آگے کا عمل ہے ۔ تعلیم میں Interaction (تعامل) ہوتا ہے ۔ تعلیم میں بتانا ، سمجھانا ، سکھانا ، سوالات کا جواب دینا، شبہات کاازالہ کرنا ، شامل ہے ۔
تزکیہ یا بنانا تربیت کا انتہائی گہرا عمل ہے جس کے لیے انتہائی توجہ درکار ہے ۔
تعلیم کا اصل محل انسان کا دماغ ہے جب کہ تزکیہ کا اصل محل انسان کی دل ہے ۔ تعلیم کسی انسان کے علم کو فروغ دیتی ہے اور تزکیہ اس کے کردار کو سنوارتا ہے ۔ تعلیم انسان کو ذہین بناتی ہے اور تزکیہ انسان کو شریف بناتا ہے ۔تعلیم انسان کی ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے اور تزکیہ انسان کے کردار اور روح کو متاثر کرتا ہے ۔
tilawat taleem tazkiya.jpg
 

makki pakistani

سینئر رکن
شمولیت
مئی 25، 2011
پیغامات
1,323
ری ایکشن اسکور
3,040
پوائنٹ
282
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین کی تربیت کے لیے جو خاکہ دیا گیا ہے تھا اس میں تربیت کے تین بنیادی خطوط متعین کیے گئے تھے ۔
تلاوت ، تعلیم اور تزکیہ
تلاوت یعنی بتانا، تعلیم یعنی سکھانا اور تزکیہ یعنی بنانا
تلاوت یابتانا یک طرفہ عمل ہے ۔ یہ اطلاع اور ابلاغ کے قبیل کی چیز ہے ۔
تعلیم یا سکھانا ، دو طرفہ عمل ہوتا ہے۔ یہ بتانے سے آگے کا عمل ہے ۔ تعلیم میں Interaction (تعامل) ہوتا ہے ۔ تعلیم میں بتانا ، سمجھانا ، سکھانا ، سوالات کا جواب دینا، شبہات کاازالہ کرنا ، شامل ہے ۔
تزکیہ یا بنانا تربیت کا انتہائی گہرا عمل ہے جس کے لیے انتہائی توجہ درکار ہے ۔
تعلیم کا اصل محل انسان کا دماغ ہے جب کہ تزکیہ کا اصل محل انسان کی دل ہے ۔ تعلیم کسی انسان کے علم کو فروغ دیتی ہے اور تزکیہ اس کے کردار کو سنوارتا ہے ۔ تعلیم انسان کو ذہین بناتی ہے اور تزکیہ انسان کو شریف بناتا ہے ۔تعلیم انسان کی ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے اور تزکیہ انسان کے کردار اور روح کو متاثر کرتا ہے ۔
8399 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
ماشاءاللہ ایک خوبصورت تحریر۔
 
Top