• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تمام مغیبات کا نبی کو علم ہوتا ہے“ کن لوگوں کا عقیدہ ہے؟

شمولیت
مارچ 20، 2018
پیغامات
166
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
37


یہ عقیدہ کہ ”نبی ہر شے کو جانتا ہے اور تمام مغیبات کا نبی کو علم ہوتا ہے“ کن لوگوں کا عقیدہ ہے؟

سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ جب سرکار طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہوگئی تھی تو زید بن اللُّصَیْت )مشرک) نے کہا تھا:
يَزْعَمُ مُحَمّدٌ أَنّهُ يَأْتِيهِ خَبَرُ السّمَاءِ وَهُوَ لَا يَدْرِي أَيْنَ نَاقَتُهُ.
(سیرت ابن ہشام: ج 2 ص 21)
کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتے ہیں کہ آسمانوں کی خبریں ان کے پاس آتی ہیں اور انہیں یہ پتا نہیں کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟

شیخ عبدالحق محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب اشعۃ اللمعات (ج 1 ص 392 کتاب الصلوۃ. باب صفۃ الصلوۃ) میں فصل ثالث کی آخری روایت کے تحت لکھا ہے کہ:
“معلوم ہوا کہ یہ کافر کی سوچ تھی کہ جو نبی ہو اسے ہر ہر شے کا علم ہونا چاہیے۔ تو سرکار طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس (زید بن اللُّصَیْت) کا جواب ”ہاں“ میں نہیں دیا بلکہ فرمایا:
“کہ مجھے تو جو خدا بتاتا ہے بس میں وہی جانتا ہوں اور یہ مجھےخدا نے بتایا ہے کہ فلاں گھاٹی میں درخت سے اس اونٹنی کی نکیل پھنسی ہوئی ہے۔”

امام بخاری نے صحیح البخاری میں ایک باب قائم کیا ہے؛ ”باب قول اللہ عز وجل عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهِ أَحَدًا“ اور اس کے تحت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد گرامی لائے ہیں: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ.(صحیح البخاری: ج 2 ص 1098)
کہ تمہیں جو شخص یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں تو اس شخص نے جھوٹ بولا۔

امام قسطلانی ”ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری“ میں فرماتے ہیں: بعض وہ لوگ جو مؤمن نہیں تھے اور منافق تھے ان کی سوچ یہی تھی، دیکھیے زید بن اللصیت نے سرکار طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے گم ہونے پر یہی تو کہا تھا کہ:
يزعم أنه نبي ويخبركم عن خبر السماء وهو لا يدري أين ناقته.
کہ کہتے تو یہ ہیں کہ وہ نبی ہیں اور تمہیں آسمان کی خبریں بھی بتاتے ہیں لیکن پتا ان کو اپنی اونٹنی کا بھی نہیں۔

اور یہ بات بخاری شریف ج 2 ص1098 کے حاشیہ نمبر 1 میں بھی موجود ہے۔اور یہی بات حافظ الدنیا علامہ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری شرح بخاری میں اسی مقام پر لکھی ہے۔

یہ سوچ منافقین کی ہے کہ نبی ہیں تو انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے اور اگر معلوم نہیں تو نبی نہیں۔ تو کافر کی سوچ یہ تھی کہ نبی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شے پر ان کی نگاہ ہو، کوئی شے ان سے پوشیدہ نہ ہو۔
 
شمولیت
مارچ 20، 2018
پیغامات
166
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
37
معلوم ہوا کہ یہ کافر کی سوچ تھی کہ جو نبی ہو اسے ہر ہر شے کا علم ہونا چاہیے۔ تو سرکار طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس (زید بن اللُّصَیْت) کا جواب ”ہاں“ میں نہیں دیا بلکہ فرمایا:
در خبر آمدہ است کہ چوں ناقہ آنحضرت گم شد و درنیافت کہ کجا رفت منافقاں گفتند کہ محمد می گوید کہ خبر آسماں می رسانم ونمیداند کہ ناقہ او کجا است.
 
شمولیت
مارچ 20، 2018
پیغامات
166
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
37
مجھے تو جو خدا بتاتا ہے بس میں وہی جانتا ہوں اور یہ مجھےخدا نے بتایا ہے کہ فلاں گھاٹی میں درخت سے اس اونٹنی کی نکیل پھنسی ہوئی ہے۔”
وَإِنّي وَاللّهِ مَا أَعْلَمُ إلّا مَا عَلّمَنِي اللّهُ وَقَدْ دَلّنِي اللّهُ عَلَيْهَا ، فَهِيَ فِي هَذَا الشّعْبِ ، قَدْ حَبَسَتْهَا شَجَرَةٌ بِزِمَامِهَا.
 
Top