• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توحید و عقیدے میں بگاڑ؛آغاز و ارتقا

شمولیت
نومبر 14، 2018
پیغامات
29
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
41
بسم اللہ الرحمان الرحیم

توحید و عقیدے میں ا نحراف ؛آغازوارتقاء

اللہ عزو جل نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پید ا کیا۔ ان کے رزق کا بھی بند و بست فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنّ َ و َالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ o مَآ اُرِیْد ُ مِنْھُمْ مِّن ْ رِّزْقٍ وَّمَا اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ o اِِنَّ اللّٰہَ ھُو َ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃ ِ الْمَتِیْنُ o) (الذاریات:۱۵/۶۵۔۸۵)
’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری ہی عبادت کریں۔ نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ بے شک اللہ ہی بے حد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔“
فطر تِ انسانی:انسان فطری طور پر توحید پرست اور اللہ تعالی کا مطیع و فرمانبردار ہے۔ انسان کو اگر بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنی فطرت سلیمہ کی وجہ سے خود ہی اللہ عزوجل کو الٰہ تسلیم کرے گا۔ وہ اللہ عزوجل سے محبت بھی کرے گا، اس کی عبادت بھی بجا لائے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہ کرے گا۔ انسانوں کو شیطان یا شیطان صفت لوگ حیلے بہانے سے صراطِ مستقیم سے گمراہ کرتے ہیں ۔ اللہ عزوجل کے نافرمان جن و انس ایک دوسرے کو جھوٹ پر مبنی باتیں بتلاتے ہیں، جس کا مقصد گمراہی ا ور ضلالت کی دلدل میں دھکیلنا ہوتا ہے ۔ توحید فطرت انسانی میں ازل سے موجود ہے۔ شرک و گمراہی تو بعد میں حالات و ظروف کی وجہ سے جنم لیتے ہیں ۔ اس حقیقت کو پروردگار نے اس طرح واضح کیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ)(الروم:۰۳/۰۳)
”آپ ایک طرف کا ہو کر اپنا چہرہ دین کے لیے سیدھا کیے رکھیں، اللہ کی اس فطرت کے مطابق جس پر اس نے سب لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی پیدائش کو کسی طرح بدلا نہیں جا سکتا ۔“
اسی بارے میں رسولِ مقبول e کا فرمانِ عالی شان ہے :

((کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَد ُ عَلَی الفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ))(صحیح البخاری:۵۸۳۱، صحیح مسلم:۸۵۶۲)
”ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پید ا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔“
اولاد آدم کی فطرت میں اصلاً توحید ہی ہو تی ہے ۔
الدین سے مراد: سابقہ آیت مبارکہ میں لفظ ”الدین“ مذکور ہے ۔ یہاں دین سے مرا د ”اسلام“ ہے ۔ حضرت آد مuسے لے کر تما م انسانیت کی تخلیق اسی دین اسلام پر ہوئی ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
(کَان َ النَّاسُ اُمَّۃ ً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ )(البقرۃ:۲/ ۳۱۲)
” شروع میں لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبی بھیجے خوشخبری دینے والے او ر ڈرانے والے۔“
آغاز بگاڑ : عقیدے میں بگاڑ او ر شرک سب سے پہلے قوم نوح میں پید ا ہو ا ۔ حضرت نوح u اللہ عزوجل کے اوّلین رسول تھے ۔ اللہ
عزوجل کا فرمان ہے :
(اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْ بَعْدِہٖ )(النساء:۴/۳۶۱)
” ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی ۔“
سیدناابن عباس w کا قول ہے کہ حضرت نوح اور حضرت آدم i کے درمیاں دس صدیوں کا فرق ہے ۔ ان ادوار کے تمام باسی دین حق کے پیروکار تھے۔ (مسندبزار:۵۱۸۴،مستدرک حاکم:۶۰۷۳)
امام ابن قیم a کا کہنا ہے کہ یہی قول بالکل درست ہے ۔ سیدنا ابی بن کعب t کی آیت بقرہ کی یہ قراء ت بھی ہے : (فَاخْتَلَفُوْا فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ) اس کا مفہوم ہے کہ اختلاف کے رونما ہونے تک تمام لوگ ایک ہی عقیدے پر کاربند تھے ۔ عقیدے میں اختلاف ہونے پر اللہ عزوجل نے انبیائے کرامo مبعوث فرمائے گے ۔ سیدنا ابی بن کعب tکی اس قراء ت کی تائید اس آیت مبارکہ سے بھی ہوتی ہے ۔ ارشاد باری ہے :
(وَ مَا کَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا) (یونس:۰۱/ ۹۱)
” ابتداء ً تمام انسان ایک ہی امت تھے ۔ بعد میں انھوں نے مختلف عقیدے اور نظریات بنا لیے ۔“ (ابن القیم، اغاثۃ اللہفان : ۲/۲۰۱ )
امام صاحب کا مقصود ہے کہ انبیائے کرام o کی بعثت کا سبب اس صحیح دین میں اختلاف کا رونما ہونا تھا، جس پر وہ شروع سے کاربند تھے ۔ جیسے بعد میں عرب میں ہو ا ۔
عرب میں بت پرستی کا آغاز: عرب بھی آغاز میں دین ِ ابراہیم پر عمل پیرا تھے ۔ سب سے پہلے عمرو بن لحئی خزاعی نے دین ِ ابراہیمی میں بگاڑ پیدا کیا ۔ یہ ارضِ عرب اور ارضِ حجاز میں دیگر ممالک سے بت لے آیا ۔ تب وہاں بتوں کی عبادت ہونے لگی ۔ اسی سے ان مقدس شہروں میں اور گرد و نواح کے بلاد میں شرک پھیلا ۔ پھر اللہ عزوجل نے اپنے پیغمبر جناب محمد کریم خاتم النبیینe کی بعثت فرمائی ۔ آپ نے لوگوں کو توحید اور ملت ابراہیمی کی اتباع کی دعوت دی ۔ آپ e نے اللہ تعالی کی خاطر مقدور بھر جستجو فرمائی ۔ لوگ دوبارہ عقیدہ توحید اور ملت ابراہیمی پر عمل کرنے لگے ۔ بت پاش پاش کرڈالے گئے ۔ اللہ عزوجل نے اپنا دین مکمل کر دیا اور جہان والوں پر اپنی نعمت کا بھی اتمام فرما دیا ۔
امت محمدیہ کا مثالی دور اورانحطاط: امت محمدیہ آغاز میں طویل عرصہ مثا لی ر ہی ۔ بعد میں لوگوں میں جہالت پروان چڑھنے لگی اور ان میں دیگر ادیان کے امور شامل ہونے لگے۔ داعیانِ بت پرستی کی وجہ سے اس امت میں شرک پھر در آیا۔ قبروں پر تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کی وجہ اولیاء اور صالحین کی محبت میں غلو تھا ۔ یہ سب کچھ ان کی محبت کے نام پر کیا گیا ۔ حتی کہ قبروں پر قبے بنائے گئے اور انھیں بتوں کی طرح پوجا جانے لگا ۔ لوگ ان کے لیے طرح طرح کی عبادات بجا لانے لگے ۔ جیسے: د عا، مناجات، طلب ِنصرت و مدد، ذبح، نذر و نیاز ۔
مشرکین کی کٹ حجتی:تمام شرکیہ امور کو صالحین کے ذریعے تو سل اور ان سے اظہارِ محبت کے نام پر کیا گیا ۔ ان باطل پرستوں کے مطابق یہ ان بزرگوں کی عبادت نہیں ہے ۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ سابقہ مشرکین بھی یہی کہا کرتے تھے :
(مَا نَعْبُدُھُمْ اِِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی)(الزمر:۹۳/۳)
” ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ و ہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں ۔“
یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلے او ر اب کے مشرکین میں سے اکثر کا توحید ربوبیت پر ایمان تھا۔ وہ توحید الوہیت اور عبادت میں شرک کرتے تھے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
(وَ مَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ھُمْ مُّشْرِکُوْنَ )(یوسف:۲۱/۶۰۱)
” ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو
شریک بھی ٹھہراتے ہیں ۔“
کم ہی لوگ اللہ عزوجل کے وجو د کے بھی منکر ہوئے ہیں ۔ جیسے: فرعون، ملحدین، دہریہ اور اب کے کمیونسٹ ۔ یہ رب تعالیٰ کے وجود کے منکر غرور و تکبر کی وجہ سے ہوئے تھے ۔ وگرنہ ان کے ضمیر و فطرت تو خالق و مالک کے اقراری تھے ۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے :
(وَجَحَدُوْا بِھَا وَاسْتَیْقَنَتْھَآ اَنْفُسُھُمْ ظُلْمًا وَ عُلُوًّا) (النمل:۷۲/۴۱)
” انھوں نے سراسر ظلم اور غرور کی وجہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل اس کے قائل ہو چکے تھے ۔“
عقل کے بھی منکر: منکرین حق عقلاً یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ مخلوق کا کو ئی خالق بھی ہے اور موجود اشیاء کو وجود عنایت کرنے والی بھی کوئی ذات ہے ۔ اسی طرح وہ یہ بھی ماننے پر مجبور ہیں کہ اتنی بڑی کائنات اس قدر خوش اسلوبی سے چلانے والی کوئی ایسی ذات بھی ہے، جو بے مثل حکیم و دانا بھی ہے اور علیم و خبیر بھی ۔ اس حقیقت کے باوجود جو بھی اس ذات برحق کا انکار کرتا ہے وہ یا تو عقل سے عاری ہے یا ایسا متکبر ہے، جو اپنی عقل کی بات بھی تسلیم نہیں کر رہا ۔ و ہ اپنے قلب و ضمیر کی بات کا بھی منکر ہے ۔ ایسے آدمی کا تو کوئی اعتبار ہی نہیں ۔ (ماخوذ من کتاب التوحید لصالح الفوزان )

حا فظ محمد فیاض الیاس الاثری
رکن د ا ر ا لمعارف لاہور
 
Top