• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جادو یا نفسیاتی خلجان؟

شمولیت
نومبر 05، 2020
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
2


جادو یا نفسیاتی خلجان؟؟؟

معزز قارئین! اگر ہم موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں عجیب قسم کی بھاگم بھاگ اور افراتفری محسوس ہوتی ہے۔جو ہماری تیز رفتار زندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہم نے اپنی رفتار کو قائم رکھنے کے لیے اپنی زندگی میں ناخالص(ملاوٹ زدہ) چیزیں شامل کر لی ہیں ۔اس ملاوٹ زدہ ماحول میں رہتے ہوئے ہمیں کوئی بھی چیز خالص میسر نہیں ہوسکتی۔ خواہ اس کا تعلق ہم سے ، ہماری خوراک سے ، یا پھر ہمارے طریقہ علاج سے کیوں نہ ہو؟ جب احساس و اخلاص ہی ناپید ہوچکے ہوں تو مسیحا بھی کیا مسیحائی دکھائیں گے۔خواہ ان کا تعلق جسمانی و نفسیاتی عوارض سے ہو یا جادو جیسے قبیح امر سے ہو۔

معززین! کہا جاتا ہے کہ اگر مسئلے کی نوعیت سمجھ آ جائے تو اس کا حل تلاشنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔نفسیاتی عوارض(psychological disorder)اورجادو(magic/spell) میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے،جس کی وجہ سے ہمیں مسئلے کی نوعیت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ تو اس کے لئے بھی مفکرین و علماء کرام نے کچھ معیار وضع کر دئیے ہیں۔ پہلے ہم ان دو نوں اصطلاحات کے بارے میں جان لیتے ہیں کہ ان کا مطلب کیا ہے تاکہ ہمیں مسئلے کی نوعیت سمجھنے میں مدد ملے اور ہم اپنی اور دوسروں کی اچھے سے رہنمائی کر سکیں۔

امام رازی ؒ جادو کی تعریف کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں: "شرعی اصطلاح میں جادو ہر اس امر کو کہتے ہیں جس کا سبب پوشیدہ ، خلاف ِحقیقت نظر آئےاور دھوکہ دے"

اور جو شخص اس کا علاج(دم) کرتا ہے اسے راقی کہتے ہیں اور جو دم کیا جاتا ہے اسے رقیہ کہتے ہیں۔راقی اور رقیہ دونوں شریعت کے مطابق ہوں تو علاج مؤثر ہوتا ہے۔

معززین ! اب نفسیاتی خلجان کی بات کرتے ہیں، خلجان کو انگریزی میں(agitation/anxiety) ہیں۔نفسیات انسان کے ذہنی و فکری رویوں کے مطالعے کا نام ہے،مزید برآں کہ اس میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں(خلجان)کے اسباب، حالات اور نتائج کا جائزہ لینا ہے۔گو یہ کے ہر وہ قول و فعل جو انسان کے تفکر و تدبر پر برے اثر ڈالے اس کے بارے میں آگہی کو نفسیات کا علم کہتے ہیں۔اور اس کا علاج کرنے والے کو ماہر نفسیات(psychologist/ psychiatrist ) کہتے ہیں۔

معزز قارئین ! اب ہم ان کی تفصیل دیکھتے ہیں ،جب انسان کو حالات ساز گار نہ لگتے ہوں ، کچھ بھی اس کی چاہت کےمطابق نہ ہو اور نہ ہی وہ اسکی اہلیت رکھتا ہو تو حسدو بغض کی بناء پر، اپنی ہٹ دھرمی و اجارا داری قائم رکھنے کے لئے جادو جیسے غلیظ عمل سے مدد لیتا ہے۔قرآن میں واضح الفاظ میں جادو کا ذکر ہے۔

اور ان (جادو منتر)کے پیچھے لگ گئےجو سلیمان کے دور میں شیاطین پڑھا کرتے تھےاور سلیمان نے کفر کی بات نہیں کی ، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔(سورہ البقرہ #102)

دوسری جگہ قرآن نے سیدنا موسیٰؑ اور جادو گروں کا مکالمہ نقل کیا ہے۔سورہ طہ (65-66#)میں یہ واقعہ اس طرح نقل ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ موسیٰ تم ڈالتے ہو یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں؟ موسیٰ نے کہا کہ تم ہی ڈالو ، پھر ان کے جادو کی وجہ سے موسیٰ کو خیال گزرا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں۔

جادو کا اثر تھا کہ عام رسیاں اور لاٹھیاں سانپ لگنے لگیں ۔حقیقی اور بڑی سطح پہ کئے جانے والے(magic shows) میں بھی ساحر اپنا منتر لوگوں کی آنکھوں پہ پھونکتاہے جس کے باعث دیکھنے والے وہی دیکھتے ہیں جو وہ دیکھانا چاہتا ہے۔سحر (جادو) کا ہوناحق ہے، اور یہ خرافات آج کے دور کی پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ صدیوں پرانا طریقہ ہے۔جس میں بدلہ لینے کی سکت نہیں وہ دور بیٹھے سامنے آئے بغیرجادو کے ذریعے دوسروں کو برباد کردے ۔کسی بھی عمل کے مؤثر ہونے کے لئے کچھ شرائط کا ہونا ضروری ہے خواہ عمل درست ہو یا غلط۔جادو بھی تب تک واقع نہیں ہوتا جب تک اس کی شرائط پوری نہ کی جائیں مثلا شیطان کے ماتحت ہونا،اسکی غلامی کرنا، شرک کرنا، غلیظ کام کرنا ، اور ایسا کلام (منتر) پڑھنا جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ اس طرح جنوں(شیاطین) سے دوستی گانٹھ لیتا ہےاور شیطان (upper hand) ہونے کی بنیاد پہ اس کے تمام مکروہ کام انجام تک پہنچانے میں اس کی مدد کرتا ہے۔الفاظ بھی تاثیر رکھتے ہیں تعریفی الفاظ دوسرے کو خوشی دیتے ہیں تو تحقیر و تنفر بھرے الفاظ دوسروں کو اذیت دیتے ہیں ۔یہ بات تو جاپان کے ایک مصنف(ماسارو ایموتو/masaru imoto) نے 1999ء میں اپنی شائع ہونے والی کتاب (message from water)میں بیان کی ہے۔انھوں نے پانی کو دو حصوں میں تقسیم کیاایک پر (thank you, love & family)اور دوسرے پر(you made me sick) لکھا اور انھیں جما دیا گیا اور دیکھا گیا کہ فیملی والے پانی کے کرسٹلز بہت خوبصورت بنے ہیں جبکہ دوسرے پانی کے بہت خراب اور گندے بنے ہیں۔جب ہمارے الفاظ اتنی اہمیت رکھتے ہیں تو اس ذات کے الفاظ کی کیا تاثیر ہوگی جو ہر نقص سے پاک ہے اسی لئے تو کلام اللہ کے میں ہمارے لئےرحمت و شفاء ہے جبکہ جادو منتر میں نقصان و قباحت اور تکلیف پوشیدہ ہے۔

ہر عمل کے نتیجے میں کچھ علامات ظاہر ہوتی ہیں اسی طرح جادو ہو جانے کے بعد بھی ہمیں علامات نظر آتی ہیں ۔اور یہ ہی علامات ہمیں جادو کی شدت(intensity) ، نوعیت (nature/type) کا پتہ بتاتی ہیں۔ مثلا جسمانی علامات (physical complaints)پٹھوں میں کھنچاؤ(muscles stiffness )، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا(palpitation)، بیزاری(irritability) ، سر درد (headache)،عدم دلچسپی(loss of interest) یا جسم کے مختلف حصوں میں درد رہناوغیرہ شامل ہیں۔اور اس کے علاوہ عبادات میں خلل جیسے کہ نماز نہیں پڑھی جاتی، قرآن کی تلاوت اور ذکر الہی سے دل میں گھٹن پیدا ہوتی ہو ۔

یہی علامات نفسیاتی عارضہ، ڈپریشن(depression) میں پائی جاتی ہیں جیسے جادو کسی کی فکری صلاحیتوں کو مفقود کرتا ہے اسی طرح نفسیاتی عارضہ سے بھی ہماری ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہاں ایک بات واضح رہے کہ جادو ایک عمل (process)ہے جبکہ نفسیاتی عوارض کسی بھی عمل کا نتیجہ ہو سکتے ہیں خواہ اس کا تعلق جادو سے ہویاہمارے رویوں سے، کسی چیز کے دور ہونے کا خوف ہو یا کسی چیز کی عدم دستیابی کی پریشانی، وسوسے ہوں یا واہمے ۔اب جب ان کی بظاہر علامات میں اتنی مماثلت ہے تو ہمیں پتہ کیسے چلے گا کہ بندے کو نفسیاتی مسئلہ ہے یا اس پہ جادو ہے یہ جاننا کافی مشکل ہے۔جادو ہو یا نفسیاتی خلجان دونوں ہی نہ تو آنکھ سے دیکھےجاسکتے ہیں، نہ ہاتھ سے چھو ئے جاسکتے ہیں جس کی بنا پہ لیب ٹیسٹ کے ذریعے معلوم کر لیں کہ مسئلہ کیا ہے؟ اس کے لئے معالج کا فہیم اور باریک بین ہونا ضروری ہے تاکہ وہ معاملہ کی تہ تک پہنچ کے اس کی ٹھیک طرح تشخیص کر سکے۔ اگر کسی کو مسلسل تکلیف ہے لیکن مسئلہ سمجھ نہیں آ رہا تو کسی مستند راقی یا ماہر نفسیات کا رخ کرنا چاہئے۔راقی اس پہ رقیہ کرے گا اگر مریض کو سکون مل رہا ہے اور راقی کو بھی محسوس ہو رہا ہے کہ اس میں کوئی جادو والی علامت نہیں سامنے نہیں آئی تو مسئلہ نفسیات کا ہے کیونکہ قرآن کی تلاوت سے شیطان کو تکلیف ہوتی ہےجو مریض کی تکلیف سے ظاہر ہوتی ہے۔اور اگر مسئلہ راقی کی بھی سمجھ سے باہر ہو اس کے تجربے میں ایسا کیس نہ ہو تو بجائے کسی اور مستند راقی کو(refer) کرنے سے ،یہ کہہ دیا جائے کہ اسے نفسیاتی مسئلہ ہے یا شادی کروا دو ٹھیک ہو جائے گا۔ اور نفسیاتی مسئلہ شمار کرنے کے لئے اس کی باقی زندگی سے شواہد اکھٹے کرنے چاہئیں ، مریض کا گھر والوں سے رویہ کیسا رہتا تھا؟والدین کا آپس میں اور مریض کے ساتھ رویہ کیسا ہوتا ہے؟ بہن بھائیوں کا آپس میں تعلق کیسا ہے؟ اگر جواب سارے ہی معمول کے مطابق ہیں تو وجہ جادو ہو سکتا ہے ۔ہمارے یہاں لاعلمی کی بناء پر نفسیاتی بیماری کو ڈرامے بازی ، ڈھونگ اور جھوٹ سمجھا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے بیمار ی پہ توجہ نہیں دی جاتی اور معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر جاتا ہے۔ہمارے رویے انسان کو اتنا شکستہ دل(depressed) کر دیتے ہیں کہ بسا اوقات نو بت خود کشی تک جا پہنچتی ہے۔ایک ماہر نفسیات (carl rogers)کے مطابق نفسیاتی شخص کو مریض نہیں کہنا چاہیے بلکہ اس کے لئے کلائنٹ (client)کہنا زیادہ موزوں ہے۔جب نفسیاتی شخص کے لئے بھی کلائنٹ استعمال کرنا چاہئے تو ہم کسی اور انسان کے لئے کیونکر استعمال کریں؟

معززین !جیسے بعض راقی حضرات کا رویہ بددل کرتا ہے اسی طرح ماہرین نفسیات کا رویہ بھی کادل برداشتہ کرتا ہے۔پچھلے دور کی نسبت آج کے دور میں لوگوں میں ماہرین نفسیات کے ہاں علاج رواج بنتا جا رہا ہے ،تو ماہرین نفسیات کو بھی ان کا اچھی طرح معائنہ کرنا چاہئے ان کی پچھلی زندگی (life history)کو مدنظر رکھنا چاہئے اور پورے خلوص سے (tests administer) کرنے چاہئیں ۔ ماہرین نفسیات تو جن اور جادو کے وجود سرے سے قائل نہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو سراسر ڈھونگ ہے کوئی جادو وادو نہیں ۔ جیسا کہ اوپر قرآن نے جادو کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے اب جادو برحق ہے تو ہے خواہ ہم ماہر نفسیات ہیں، سائنسدان ہیں، ڈاکٹر ہیں یا وکیل ہیں ہمیں قرآن پہ ایمان رکھنا ہے بس۔ ماہرین نفسیات کے پاس بھی ایک کلیہ موجود ہے جب کلائنٹ میں (progress) نظر نہ آئے ،اپنی (theories)کام کرنا بند کر دیں اور معاملہ کی نوعیت سمجھ سے بالاتر ہو تو یہ کہہ کے ہاتھ جھاڑ لئے جاتے ہیں کہ اسکی مرضی پوری کر دیں ٹھیک ہو جائے گا، یا یہ خود ٹھیک نہیں ہونا چاہتا۔ کیا یہ مخلصانہ رویہ ہے۔۔۔؟

معززین!اب ذرا ان کے علاج پہ بھی اچٹتی نگاہ ڈالتے ہیں۔ ویسے تو قرآن جادو اور نفسیاتی عواض کے لئے (best healer) ہے لیکن بسا اوقات معاملے کی نوعیت کے مطابق طریقہ علاج مختلف ہو جاتا ہے۔ جادو اور نقصان دہ چیزوں سے حفاظت کے لئے ہمیں دعائیں و اذکار بتائے گئے ہیں۔ اور ہر وہ دم جائز ہے جو شرک پہ مبنی نہ ہو صحیح حدیث میں ہے کہ:

رسول اللہﷺ نے فرمایا : اپنے دم(کے الفاظ) مجھے بتاؤ، دم میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہو۔(مسلم#2200)

علماء کرام کے مطابق وہ دم جائز ہے جس میں یہ تین شرائط پائی جائیں ۔ عربی زبان میں ہو، شرک نہ ہو، الفاظ بذات خود مؤثر نہیں بلکہ اللہ شفاء دینے والا ہے۔

جبکہ دوسری طرف نفسیات میں مختلف طریقوں سے مختلف مسائل کا حل کیا جاتا ہے۔ مسائل کو توجہ سے سن لینا ہی آدھے مسئلے کا حل شمار کیا جاتا ہے ۔مختلف طریقوں (therapies) کو مد نظر رکھتے ہوئے منفی سوچوں کو ان کی اصل (مثبت)ڈگر پہ لایا جاتا ہے۔

معززین!اپنے ناقص علم و تجربے کے بعد میں یہ نتیجہ اخذ کر پائی ہوں کہ ہمیں جو بھی عارضہ لاحق ہے خواہ اس کا تعلق جادو سے ہے یا نفساتی الجھنوں سے، اس میں ہمارے نفس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ جب بھی ہم نفس کے تابع ہوتے ہیں تب ہی ہم پہ شیطان مسلط ہوا ہے، خواہ وہ جادو کی صورت ہو یا نفسیاتی بیماری کی۔

اللہ بھی قرآن میں فرماتے ہیں کہ:

"اور جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل کرتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے۔"(سورہ الزخرف# 36)

کوئی بھی مسئلہ کیوں نہ ہو ہمیں اپنا تعلق دیکھنا ہے کہ ہمارا تعلق رحمان سے کتنا مضبوط ہےاگر پہلے کمزورتھا تو اب مضبوطی لائی جانی چاہئے۔ خود کو ذکر الہی کا عادی بناناچاہئےجیسا کہ اللہ نے خود کہا ہے

"سن رکھو دلوں کا سکون تو اللہ کے ذکر میں ہے"

استغفار اور شکرکو لازم و ملزوم کر لینا چاہئے، بہت فضیلت ہے اس کی اللہ بندے کو وہاں سے عطا کرتے ہیں جہاں سے بندہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔ہم نے نفس کو اپنے تابع بنانا ہے شروع میں کافی دشوار لگے گا لیکن اپنی کوشش تمام کرنی ہے ۔ اللہ ہم سب کو ہر قسم کی بیماری سے اپنی پناہ میں رکھے۔آمین

ازقلم:ام محمد
 
Top