• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جس طرح مومنوں اور مسلمانوں سے دوستی اور محبت واجب ہے اسی طرح کافروں اور مشرکوں سے دشمنی اور عدوات واجب ہے

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
248
ری ایکشن اسکور
58
پوائنٹ
41
جس طرح مومنوں اور مسلمانوں سے دوستی اور محبت واجب ہے اسی طرح کافروں اور مشرکوں سے دشمنی اور عدوات واجب ہے

تحریر: فضیلۃ الشیخ ابو عمرو عبد الحکیم حسان حفظہ اللہ

جی ہاں ! جس طرح مومنوں اور مسلمانوں سے دوستی اور محبت واجب ہے بعینہ اسی طرح کافروں اور مشرکوں سے دشمنی اور عدوات واجب ہے۔ اللہ رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں :

پہلی آیت:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللہِ رَبِّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنْتُمْ وَمَنْ يَفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ،إِنْ يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ ،لَنْ تَنْفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلا أَوْلادُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ،قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللہِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللہِ وَحْدَهُ إِلا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لأبِيهِ لأسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللہِ مِنْ شَيْءٍ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾(الممتحنۃ: 4-1)

’’اے اہل ایمان! اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری خوشنودی تلاش کرنے کے لیے (مکے سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم تو ان کی طرف دوستی کے پیغام روانہ کرتے ہو اور وہ (دینِ) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں ۔ اور اس وجہ سے کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لائے ہو وہ (تمہارے) پیغمبر کو اور تم کو جلاوطن کرتے ہیں۔ تم اُن کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو کچھ علی الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک جائے گا، اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور تمہیں تکلیف پہنچانے کے لیے تم پر اپنے ہاتھ (بھی) چلائیں اور اپنی زبانیں (بھی)۔ اور چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ، قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے نہ اولاد۔ اس روز وہی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے، تحقیق تمہارے لیے جناب ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بے تعلق ہیں ۔تمہارے (معبودوں کے) کبھی قائل نہیں (ہوسکتے) جب تک تم اللہ وحدہ، لاشریک لہ، پر ایمان نہیں لے آتے ہم میں اور تم میں ہمیشہ کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی۔ لیکن (ابراہیم کی) یہ بات (تمہارے لیے نمونہ نہیں) جو انہوں نے اپنے باپ سے کہی تھی کہ میں آپ کے لیے مغفرت مانگوں گا اور میں اللہ تعالیٰ سے آپ کے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پرودگار! تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور ہمیں لوٹ کر آنا ہے‘‘


کافروں سے دشمنی کے بغیر مومنوں سے دوستی ناممکن ہے

یہ اصول و ضابطہ بھی ذہن نشین رہے کہ پوری طرح اور صحیح طور پر مومنوں سے دوستی اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک کافروں سے دشمنی اور نفرت نہ ہو۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد رشید امام ابن قیم رحمہ اللہ اسی بات کی تائید میں یوں فرماتے ہیں :

’’لَا تَصِحُّ الْمُوَالَاۃُ اِلَّا بِالمُعَادَاۃِ کَمَا قَالَ تَعَالٰی عَنْ اِمَامِ الْحُنَفَاءِ وَ الْمُحِبِّیْنَ قَالَ لِقَوْمِہٖ :﴿اَفَرَئَیْتُمْ مَّا کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ، اَنْتُمْ وَ ٰابَآؤُکُمُ الْاَقْدَمُوْنَ، فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ﴾(الشعراء:75-72) فَلَمْ تَصِحَّ لِخَلِیْلِ اللہِ ھٰذِہِ الْمُوَالَاۃُ وَالْخُلَّۃُ اِلَّا بِتَحْقِیْقِ ھِذِہِ الْمُعَادَاۃِ فَاِنَّہُ لَا وَلَاءَ اِلَّا لِلّٰہِ وَ لَا وَلَاءَ بِالْبَرَاءَ ۃِ مِنْ کُلِّ مَعْبُوْدٍ سِوَاہُ ، قَالَ تَعَالٰی :﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لأبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُون،إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ،وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾(الزخرف:26-28)أَیْ جَعَلَ ھِذِہِ الْمُوَلَاۃَ لِلّٰہِ وَ الْبَرَا ءۃَ لِلّٰہِ وَالْبَرَاءَ ۃُ مِنْ کُلِّ مَعْبُودٍ سِوَاہُ کَلِمَۃً بَاقِیۃٌ فِی عَقِبِہِ یَتَوَارَثُھَا الأَنْبِیَاءُ وَأَتْبَاعُھُمْ بَعْضُھُمْ عَنْ بَعْضٍ وَ ھِیَ کَلِمَۃُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ُ وَ ھِیَ الَّتِیْ وَرَّثَھَا اِمَامُ الْحُنَفَاءِ لِأَتْبَاعِہٖ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘ [الجواب الکافی:311]

’’جب تک کافروں سے دشمنی نہ ہو اس وقت تک اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان سے صحیح طور پر دوستی ہوسکتی ہی نہیں۔ اس حقیقت کو اللہ رب العزت نے اِمَامِ الْحُنَفَاءِ وَ الْمُحِبِّیْنَ، امامُ الْمُؤحِّدِین جناب ابراہیم کے حوالے سے خوب واضح کیا ہے۔ انہوں نے جب اپنی قوم سے وہ بات کہی تھی جو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشعراء میں نقل فرمائی ہے، ابراہیم فرماتے ہیں : ’’کیا تم نے دیکھا جن کو تم پوج رہے ہو، تم بھی اور تمہارے اگلے باپ داد بھی، اللہ رب العالمین کے سوا وہ سب میرے دشمن ہیں‘‘ اس فرمان ذی شان سے معلوم ہوا کہ جناب ابراہیم خلیل اللہ کی اللہ سے یہ دوستی اور گہری محبت اس وقت تک نامکمل اور ادھوری ہوتی جب تک وہ کافروں اور معبودانِ باطلہ سے اعلانِ عداوت نہ کرتے۔ اس آیت سے یہ قاعدہ وکلیہ معلوم ہوا کہ : ’’لَا وَلَاءَ اِلَّا لِلّٰہِ وَ لَا وَلَاءَ بِالْبَرَاءَۃِ مِنْ کُلِّ مَعْبُوْدٍ سِوَاہُ‘‘ اس کا معنی یہ ہے کہ (دوستی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہو اور یہ صرف اس وقت تک ممکن ہے جب اللہ کے سوا ہر قسم کے معبود باطل سے اظہار لا تعلقی ہو) نیز اللہ رب العزت جناب ابراہیم کے بارے میں ہی سورٔ زخرف میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں، ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھ کو سیدھا راستہ دکھائے گا، اور یہی بات اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گئے۔ تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کرتے رہیں‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان عالی شان سے معلوم ہوا کہ ابراہیم کی اس دو ٹوک اور واضح پالیسی کو کہ صرف اللہ کے لیے ہی دوستی ہو، صرف اللہ کے لیے ہی دشمنی ہو اور اللہ کے سوا ہر معبود سے اظہار لاتعلقی ہو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے زندہ وجاوید اور قیامت تک چلنے والی مستقل پالیسی کا درجہ عطا کردیا۔ یہی وہ واضح پالیسی ہے جو ابراہیم کے بعد آنے والے تمام انبیاء اور ان انبیاء کے پیروکاروں میں یکے بعد دیگرے منتقل (Transfer) ہوتی چلی آرہی ہے۔ کلمۂ توحید لا الٰہ الا اللہ کا بھی تو یہی معنی و مفہوم ہے۔ اس کھری کھری بات اور حکمت عملی کا ہی امامُ الْمُؤحِّدِین اِمَام الْحُنَفَاء جناب ابراہیم نے قیامت تک آنے والے پیروکاروں کو ورثہ عطا فرمایاہے۔‘‘
(امام ابن قیم رحمہ اللہ کے اقتباس کا ترجمہ مکمل ہوا)

دوسری آیت:

کافروں سے دشمنی کرنا اس طرح واجب ہے جس طرح مسلمانوں سے دوستی کرنا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اس بارے میں ایک مقام پر یوں ارشاد فرماتے ہیں :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا مِنَ الآخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ﴾ (الممتحنۃ:13)
’’اے اہل ایمان! ان لوگوں سے، جن پر اللہ تعالیٰ غضب ناک ہوا ہے، دوستی نہ کرو(کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے زندہ ہونے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت (کے آنے) کی امید نہیں‘‘


مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے جن مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے سے منع کیا ہے یہ دراصل کچھ تنگ دست اور نادار مسلمان تھے۔ وہ یہودیوں میں جا جا کر مسلمانوں کے حالات اور خفیہ راز بتایا کرتے تھے۔ ان سے اپنے رابطے اور تعلقات پیدا کرتے تھے۔ اسی ساری کدوکاوش کے نتیجے میں وہ ان سے کچھ مفادات اور دنیاوی آسائش حاصل کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں دراصل ان لوگوں کو ان یہودیوں سے دوستی کرنے اور ان سے میل جول کرنے سے منع فرمایا اور اس بات سے بھی منع فرمایا کہ وہ اہل اسلام کے خلاف ان یہودیوں کی مدد کریں۔ [احکام القرآن للجصاص:287/4]

تیسری آیت:


ایک مقام پر اللہ تعالیٰ کافروں اور مشرکوں سے دشمنی کو واجب قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الإيمَانِ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ (التوبۃ:23)
’’اے اہل ایمان! اگرتمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہوں گے‘‘


مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر مومنوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ کافروں سے دوستیاں رچائیں، کافروں کی کسی طور پر بھی مدد کریں اور وہ اپنے باہمی معاملات کافروں کے سپرد (Hand over) کریں۔

کافر ومشرک والدین کی نافرمانی کے باوجود نیک برتاؤ کا حکم

علاوہ ازیں اس بات کو واجب ٹھہرایا کہ کافروں سے بائیکاٹ کیا جائے، اس بات کو بھی واجب ٹھہرایا کہ کافروں کی تعظیم وتکریم نہ کی جائے۔ ہاں البتہ کافروں کے ساتھ بائیکاٹ کا حکم دینے اور ان کی تعظیم وتکریم سے منع کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگر وہ کافر تمہارے والدین ہوں تو تم نے اچھا سلوک اور برتاؤ کرنا ہے۔ اور دنیوی معاملات میں ان کی بہترین خدمت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿وَوَصَّيْنَا الإنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ،وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾(لقمان:14-13)
’’ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں نیک برتاؤ کی نصیحت کی ہے۔ اس کی ماں اس کو تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے (پیٹ میں) اٹھائے پھرتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی رہتی ہے) اور (آخر کار) دوبرس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے۔ ہم نے (اپنے نیز) اس کے والدین کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکرادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ تم کو میری طرف ہی لوٹنا ہے، اور اگر وہ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھ کو کچھ علم نہیں، تو پھر ان کا کہا نہ مان۔ ہاں دنیا (کے امور ومعاملات) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا۔‘‘


اہل ایمان کو کافروں کے ساتھ دوستی سے منع کرنے کی ایک یہ بہت بڑی حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اس پالیسی سے مومنوں کی منافقوں سے چھانٹی اور تمیز ہوجاتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ منافق ہر دور اور زمانہ میں کافروں سے دوستیاں رچاتے آئے ہیں اور اب بھی منافق کافروں سے میل ملاپ کرتے ہیں ان کی عزت وتکریم بجالاتے ہیں۔ اسی طرح یہ کافروں سے دوستانہ تعلقات قائم کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسی بناء پر اللہ رب العزت نے سورۃ التوبہ کی مذکورہ بالا آیت : ۲۳ میں ایک بہت بڑی علامت اور فرق کرنے والی نشانی کی نشان دہی کرتے ہوئے کافروں سے دشمنی اور نفرت کا حکم دیا ہے۔ تاکہ مومن اورمنافق کے درمیان فرق اور تمیز ہوسکے۔ نیز یہ تنبیہ بھی کردی کہ جو ایسی پالیسی کو اختیارنہیں کرے گا وہ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی چلانے والا ظالم ہے اور اپنے پروردگار کی سزا کا حق دار قرار پائے گا۔ [احکام القرآن للجصاص:872/4]

چوتھی آیت:

کافروں سے دشمنی کے واجب ہونے کے بارے میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ یوں ارشاد فرماتے ہیں:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللہَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ (المائدہ:51)
’’اے اہل ایمان! یہود اور نصارٰی کو دوست نہ بناؤ ۔یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘


قرآن مجید کی یہ آیت واضح اور اٹل انداز میں اپنا حکم بیان کررہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت قرآنیہ میں چند درج ذیل احکامات اور ہدایات ارشاد فرمائی ہیں :
  • جو شخص بھی یہود ونصارٰی کے کافروں اور ان کے علاوہ دیگر کافروں سے دوستی اورمحبت کرے گا اور مومنوں کے خلاف ان کافروں کی مدد، سپورٹ اور حمایت کرے گا وہ بالکل ان ہی جیسا کافر ہوگا۔ اس شخص کا انجام اورمعاملہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بالکل وہی ہوگا جو ان کافروں کا ہوگا۔
  • اس آیت کریمہ میں یہ واضح رہنمائی موجود ہے کہ کافرکبھی کسی مسلمان کا دوست ہوہی نہیں سکتا، نہ ہی وہ کسی انتظامی امور میں حقِ دوستی پورا کرے گا اور نہ ہی مدد وحمایت میں۔
  • علاوہ ازیں اس بات کی راہنمائی موجود ہے کہ تمام کافروں سے بائیکاٹ اور عداوت واجب ہے۔ اس لیے کہ لفظ ’’الولایۃ‘‘ (دوستی) لفظ ’’العداوۃ‘‘ کا مدمقابل اور متضاد (opposite) ہے۔ جب اللہ رب العزت نے ہمیں یہودیوں اور عیسائیوں سے ان کے کافر ہونے کی بناء پر دشمنی کرنے کا حکم دیا ہے تو یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ جو کافر ہیں ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوگاجو یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ہوگا۔
  • اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ﴿اِنَّ الْکُفْرَ کُلَّہ، مِلَّۃٌ وَّاحِدَۃٌ﴾ (ساری دنیا کا کفر ایک ملت اور ایک جماعت ہے) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ (وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں) [احکام القرآن للجصاص:278/4]

پانچویں آیت:

کافروں سے دشمنی کے وجوب پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللہُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللہِ وَلا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللہِ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ،إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللہِ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ،وَمَنْ يَتَوَلَّ اللہَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللہِ هُمُ الْغَالِبُونَ،يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ وَاتَّقُوا اللہَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (المائدہ :57-54)

’’اے اہل ایمان! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ رب العزت ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ وہ لوگ مومنوں کے حق میں نرمی کرنے والے اور کافروں کےساتھ سختی سے پیش آنے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوں گے اورکسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرنے والے نہ ہوں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بڑی فراخی والا (اور) علم رکھنے والا ہے، تمہارے دوست تو صرف اللہ تعالیٰ، اس کا رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور (اللہ کے آگے) جُھکتے ہیں، اور جو شخص اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور ایمان والوں سے دوستی کرے گا تو (وہ اللہ کی جماعت اور پارٹی کا رکن ہوگا اور) اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے، اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور (دیگر) کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنارکھا ہے، دوست نہ بناؤ اور اگرتم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو‘‘


مذکورہ بالاآیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے نرمی اور کافروں سے سختی برتنے، نیز مومنوں سے دوستی کرنے اور دنیا بھرکے تمام کافروں بالخصوص یہود ونصارٰی سے دشمنی اور نفرت کرنے کا حکم دیا ہے۔

چھٹی آیت:

کافروں سے دشمنی اور نفرت کے واجب ہونے کے بار ے میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ یوں حکم دیتے ہیں :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُبِينًا﴾ (النساء:144)
’’اے اہل ایمان! مومنوں کے علاوہ کافروں کو اپنے دوست نہ بناؤ ۔کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا صریح الزام لو۔‘‘


مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے مومن بندوں کو واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ وہ منافقوں والی عادات واطوار اور اخلاق وکردار اختیارنہ کریں۔ وہ منافق جو مومنوں کی بجائے کافروں کو اپنادوست بناتے ہیں وہ پھر انہیں کی طرح کفر کی حالت میں چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس کردار کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو منع کیا ہے۔ اللہ اس بات سے منع کرتا ہے کہ میرے دشمنوں سے محبت کی پینگیں بڑھاؤ اور ان کافروں سے دوستیاں کرو ۔ملت اسلامیہ کو چھوڑ کر ان کا کافروں کو کسی طرح کا تعاون اور سہارے مت فراہم کرو۔ گویا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’اے اہل ایمان! اگر تم نے یہ رویہ اور کردار اختیار کیا تو تم ان منافقوں کی طرح ہو جاؤ گے جن پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ کو لازم قراردے دیا ہے۔

ساتویں آیت:

پھر اللہ عزوجل واعلیٰ ایسے شخص کو خوب ڈانٹتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی مومنوں میں سے کافروں کو اپنا دوست بنائے گا، مومنوں کو اپنی دوستی اور محبت کا حق دار نہیں سمجھے گا۔ اگر وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا۔ اپنی اس روش کو نہ چھوڑا، اللہ کی اس ڈانٹ سے وہ نہ کانپا، جو ڈانٹ اس نے کافروں سے دوستی کرنے اور کافروں کے ساتھ گہرے مراسم قائم کرنے پر پلائی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کومنافقوں کے زمرے میں ہی شامل کردے گا جن کے بارے میں اللہ نے اپنے نبی جناب محمد ﷺ کو حکم دیا ہے کہ ان کو دردناک عذاب کی خوشخبریاں سنا دیجیے۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں :

﴿تَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنْفُسُهُمْ أَنْ سَخِطَ اللہُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ،وَلَوْكَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللہِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾(المائدہ:81)
’’(اے اہل ایمان! ان منافقوں میں سے) بہت زیادہ کو تم دیکھوگے کہ وہ کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں انھوں نے کچھ آگے بھیجا ہے وہ بہت ہی بُرا ہے (وہ یہ کہ) اللہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے، اگر وہ اللہ تعالیٰ پر، نبی پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے ایمان اور یقین رکھتے تو ان (کافر) لوگوں کو دوست نہ بناتے۔ لیکن ان میں سے اکثر بدکردارہیں۔‘‘


اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت فرمائی ہے جو ان اہل کتاب (یہود ونصارٰی) سے دوستی قائم کرتا ہے جن کو ہم سے پہلے کتابیں عطاکی گئیں۔ نیز یہ بات بھی واضح فرمائی کہ یہ رویہ صحیح عقیدہ وایمان کے منافی ہے۔ جو شخص بھی یہ کردار اور پالیسی اختیار کرے گا وہ منافقین کے گروہ سے ہوگا۔ جن کو ہمیشہ ہمیشہ کے جہنم میں رہنے کی ڈانٹ پلائی گئی ہے اور جہنم میں بھی بُرا ٹھکانہ اور ٹارچر سیل (Torture cell) ہے۔

آٹھویں آیت:

کافروں سے دوستی کرنے والے منافقوں کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :

﴿بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمً،الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا﴾ (النساء: 139-138)
’’(اے پیغمبرﷺ)، منافقوں (دورُخے لوگوں) کو بشارت سنادو کہ ان کے لیے تکلیف دہ عذاب تیار ہے ۔جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں (کیونکہ) یہ ان سے عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تو عزت تو سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔‘‘


مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ کافروں سے دوستی کرنے کا اصل مقصد منافقوں کے پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ اپنی ویلیو (Value) اور اہمیت کافروں کے ہاں پیدا کی جائے۔ ان سے اپنے لیے اچھا پروٹوکول حاصل کیا جائے۔ اس خبیث اورگندے مقصد کا ردّ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مومن اورمخلص بندے کی ہے اور اصل پروٹوکول وہ ہے جو قیامت کے دن اللہ کی تیار کی ہوئی جنتوں میں سے ایک بندۂ مومن کوعطا کیا جائے گا۔

نویں آیت:

کافروں سے دشمنی واجب ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ایک بڑاہی دوٹوک فرمان صادر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

﴿لا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ باللہِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الإيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللہُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللہِ أَلا إِنَّ حِزْبَ اللہِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾(المجادلۃ:22)

’’جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ (کیوں نہ) ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نےایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور اپنی طرف سے روح (جبریل) کے ساتھ ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، داخل کرے گا۔وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش ہیں یہی گروہ اللہ تعالیٰ کا لشکر ہے (اور) سن رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا ہی لشکر کامیابی حاصل کرنے والا ہے۔‘‘


اللہ تبارک وتعالیٰ نے گویابیان فرمایا ہے کہ آپ کو روئے زمین پر کوئی ایسا مومن نہیں ملے گا جو اللہ کے دشمنوں (کافروں اور مشرکوں) سے محبت کرتا ہو۔ اگرچہ وہ کافر اس مومن کا انتہائی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے محبت ومودّت کا تعلق اللہ کے دشمنوں سے محبت کی لازمًا نفی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سے محبت اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے محبت : یہ دونوں محبتیں ایک دوسرے کی متقابل اور متضاد ہیں۔ یہ دونوں محبتیں ایک مومن شخص کے دل میں کبھی بھی اکھٹی نہیں ہوسکتیں۔ قرآن مجید کی یہ آیت کافروں سے دشمنی اور اظہار نفرت کے واجب اور فرض ہونے کی ایک واضح دلیل اور نص ہے ۔چاہے جونسا بھی موقع ہو۔چاہے جونسا بھی رشتہ وتعلق داری ہو، کافروں سے دشمنی بہرحال عقیدہ وایمان کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔

’’کافروں سے دشمنی واجب ہے‘‘ تین علماء کا فیصلہ

یہی تووجہ ہے کہ عبدالرحمن بن حسن، علی بن حسین، ابراہیم بن سیف رحمہ اللہ نے اپنے بعض بھائیوں کی طرف جو خط روانہ کیے تھے ان میں یہ بات بھی نقل فرمائی:

’’اِنَّ التَّوْحِیْدَ ھُوَ اِفْرَادُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی بِالْعِبَادَۃِ وَ لَا یَحْصُلُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْبَرَاءَ ۃِ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ بَاطِنًا وَ ظَاھِرًا‘‘․․․․․․․وَبَعَدَ أَنْ سَاقُوا الآیَاتِ فِی ذٰلِکَ قَالُوْا : ’’ثُمَّ انْظُرْ کَیْفَ أَکَّدَ الْبَارِی جَلَّ وَ عَلَا عَلٰی رُسُلِہٖ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاثْنَتَیْ عَشَرَۃَ آیَۃً فِی الْبَرَاءَ ۃِ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَ مَدحِھِمْ بِتِلکَ الصِّفَۃِ ۔ وَھٰذَا کُلُّہ، یَدُلُّ بَلَا رَیْبٍ عَلٰی أَنَّ اللّٰہ َ أَوْجَبَ عَلٰی الْمُؤْمِنِیْنَ الْبَرَاءَۃَ مِنْ کُلِّ مُشْرِکٍ وَ أَمَرَ بِاِظْھَارِ الْعَدَاوَۃِ وَالْبَغْضَاءِ لِلْکُفَّارِ عَامَّۃً وَ لِلْمُحَارِبِیْنَ خَاصَّۃً وَ حَرَّمَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ مُوَالَاتَھِمْ وَالرُّکُونَ اِلَیْھِمْ‘‘

’’یاد رکھئے! عقیدہ توحید یہ ہے کہ عبادت کی تمام اقسام وانواع میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو واحد معبود تسلیم کیا جائے۔ یہ عقیدہ اس وقت تک حاصل ہوسکتا ہی نہیں جب تک مشرکین سے ظاہری اور باطنی طور پر اظہار نفرت اور مکمل بائیکاٹ نہ کیا جائے۔‘‘ مذکورہ بالا تینوں علماء سلف نے اس کے بعد قرآن مجید کی بہت زیادہ آیات ذکر کی ہیں۔ پھر آخر میں یہ نتیجہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ارے مسلم ! دیکھ کس طرح تاکید کے ساتھ اللہ جل وعلاء نے اپنے رسولوں کو اور مومن بندوں کو بارہ آیات قرآنیہ میں مشرکوں سے اظہار نفرت کا حکم دیا ہے۔ کافروں اور مشرکوں سے اظہار نفرت کرنے والے مومنوں کی تعریف وتوصیف بھی بیان فرمائی ہے۔ یہ ساری بحث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بلاشک وشبہ (without any doubt) اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر یہ واجب قرار دیا ہے کہ ہر قسم کے مشرک سے اظہار نفرت ہو۔نیز دنیا بھر کے کافروں کے بارے میں عام طور پر اور جن کافروں سے مسلمانوں کی باقاعدہ جنگ جاری ہوان کے بارے میں خاص طورپر بغض وعداوت اور نفرت ودشمنی کے اظہار کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ مومنوں پر یہ حرام ٹھہرایا کہ کافروں سے دوستی اور ان کی طرف کسی قسم کا جھکاؤ اور میلان ہو۔‘‘

دسویں آیت:


کافروں سے دشمنی کے واجب ہونے کے بارے میں ایک اورمقام پر اللہ تعالیٰ یوں ارشاد فرماتے ہیں :

﴿إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللہُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الأمْرِ وَا للہُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُمْ﴾(25-26)
’’جو لوگ اپنی پیٹھ کے بل الٹے پھر گئے اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت واضح ہوچکی یقینا شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا ہے اور انہیں ڈھیل دے رکھی ہے، یہ اس لیے کہ انھوں نے ان لوگوں سے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا، یہ کہا کہ ہم بھی عنقریب بعض کاموں میں تمہارا کہا مانیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتیں خوب جانتا ہے‘‘


مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اسلام سے مرتد ہونے اورملت اسلامیہ سے خارج ہونے کا یہ سبب بیان کیاہے کہ وہ وحی الٰہی کو ناپسند کرنے والے کافروں سے یہ کہتے ہیں کہ ہم چند کاموں اور معاملات میں تمہاری بات مانیں گے۔ سارے کاموں اور تمام معاملات میں تمہاری اطاعت وفرمانبرداری نہیں کریں گے اگر کوئی شخص کافروں کی بعض کاموں میں اطاعت کرے اگرچہ ان کافروں سے باقاعدہ محبت اور دوستی والے تعلقات پیدا بھی نہ کرے تو وہ مرتد ہوجاتا ہے اورملت اسلامیہ سے خارج ہوجاتا ہے۔ اس بات سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو شخص باقاعدہ کافروں سے دوستیاں قائم کرے، کافروں کے ساتھ مل کر باقاعدہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شرکت کرے، کافروں کی قراردادیں اور معاہدوں میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرے اور کافروں کے ایجنڈوں اور پرگراموں کے نفاذ میں عملی اقدامات کرے۔ کیا وہ پہلی قسم کے مرتد سے کہیں بڑا مرتد اور اللہ کا دنیا وآخرت میں کہیں زیادہ حق دار نہیں ٹھہرے گا؟ [مجموع الفتاوٰی لابن تیمیۃ:182/193,90]

اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو کافروں سے نفرت اور احتیاط کے بارے نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایاہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لا يَأْلُونَكُمْ خَبَالا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ﴾ (آل عمران:118)
’’اے اہل ایمان !تم اپنا دلی دوست ایمان والوں کے سوا کسی کو نہ بناؤ۔تم نہیں جانتے کہ وہ دوسرے لوگ (یعنی کافر ومشرک اور منافق) تمہاری تباہی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھتے، وہ تو چاہتے ہیں کہ تم دکھ میں پڑو۔ ان کی عداوت تو خود ان کی زبانوں سے بھی ظاہر ہوچکی ہے اورجو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ کہیں زیادہ ہے۔ہم نے تمہار ے لیے آیات بیان کردیں اگر عقل مند ہو(توغور کرو)‘‘


آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے اور ان کی عزت وتکریم کرنے سے منع کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں ان کو ذلیل و رسوا کرنے کا حکم دیا ہے۔ مسلمانوں کے وہ معاملات جن میں عزت اور سربلندی اور شرف ووقار کا پہلو موجود ہو۔ ان جیسے باہمی معاملات میں ان کافروں سے کسی قسم کا تعاون لینے سے بھی منع کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری کی طرف خط روانہ کیا اور انھیں اس بات سے منع کیا کہ وہ لکھائی پڑھائی والے معاملات (یعنی دفتری معاملات ) میں کسی مشرک سے کوئی تعاون اورخدمت نہ لیں۔ اس خط میں یہ آیت کریمہ بھی تحریر فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

﴿لا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لا يَأْلُونَكُمْ خَبَالا﴾ (آل عمران 118/3)
’’تم اپنادلی دوست ایمان والوں کے سوا کسی اورکو نہ بناؤ، وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھتے۔‘‘


ساتھ یہ بات بھی تحریر فرمائی:
(لَا تَرُدُّوْھُمْ اِلَی الْعِزِّ بَعْدَ اِذْ أَذَلَّھُمُ اللہ)
’’جب اللہ تعالیٰ نے ان کو (جہادی کاروائیوں کے ذریعہ شکست وریخت سے ہمکنار کرکے) ذلت ورسوائی سے دوچار کیا ہوا ہے تو اب تم ان کو دوبارہ جادۂ عزت وشرف پر متمکن اور براجمان نہ کرو۔
[احکام القرآن للجصاص:293/4]

بارہویں آیت:

یہ معاملہ تھا کافروں سے دوستی اور محبت کرنے کا۔ کافروں اور مشرکوں سے دوستی وموالات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت اورمنزل من اللہ ’’کتاب ہدایت‘‘ کی بجائے خودساختہ ادیان اور باطل مذاہب کو ترجیح اور فوقیت دی جائے۔ اس طرح ادیان باطلہ کو ترجیح دینا بھی کفار ومشرکین سے دوستی کی ہی کی ایک شکل ہے۔ اس بناء پر بھی اللہ نے اہل کتاب (یہود ونصارٰی) اورمنافقین کی مذمت بیان کی ہے کہ وہ کفار اور مشرکین کی بعض باتوں کو پسند کرتے ہیں اور کتاب اللہ کو چھوڑ کر ان کافروں اور مشرکوں کے پاس اپنے تنازعات کے مقدمات لے کر جاتے ہیں ۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلا﴾ (النساء:51)
’’کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنہیں کتاب (الٰہی) کا کچھ حصہ ملا ہے؟ جو بتوں اور باطل معبود (طاغوت) پر اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں (مسلمانوں) سے زیادہ راہِ راست پر ہیں‘‘


کتب تفاسیر میں موجود ہے کہ مذکورہ آیت کعب بن اشرف (لَعْنَۃُ اللہ عَلَیْہِ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی، کعب بن اشرف ایک بہت بڑا یہودی سردار اور سرکردہ لیڈر تھا۔ایک دفعہ وہ مشرکین مکہ کے ہاں گیا۔ مشرکین مکہ ان لوگوں کو مذہبی رجحان اور مذہبی پیشوائی کی بناء پر بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کی بات کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ اگرچہ وہ بذاتِ خود یہودی مذہب میں داخل نہیں تھے ۔جب کعب بن اشرف مکہ پہنچا تو مشرکین نے ان سے یہ رائے دریافت کی کہ آپ کے خیال میں ہم (یعنی اہل مکہ بتوں کے پجاری) زیادہ راہِ راست پر ہیں یا کہ محمد ﷺ اور اس پر ایمان لانے والے اس کے پیروکار؟ کعب بن اشرف جانتا تھا کہ مشرکین مکہ گمراہی پر ہیں اور تورات وانجیل کی پیشین گوئیوں کی بناء پر محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ مگر اس نے بددیانتی سے کام لیتے ہوئے کہہ دیا مشرکین مکہ کادین ومذہب، طور وطریقہ، عقیدہ ولائن محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کے دین ومذہب، طور وطریقہ اور عقیدہ و لائن سے زیادہ درست ہے۔

تیرہویں آیت:

اللہ تعالیٰ کے مذکورہ بالافرمانِ ذی شان کی طرح ہی اللہ تعالیٰ کا ایک اور فرمان بھی ہے۔ جو معنی اور مفہوم کے اعتبار سے سابقہ آیت سے ملتا جلتا ہے۔اللہ تعالیٰ بعض اہل کتاب یعنی یہود ونصارٰی کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :

﴿وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللہِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ،وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ﴾ (البقرہ : 103-101)
’’جب کبھی ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا آیا، ان اہل کتاب کے ایک فرقہ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا، گویا جانتے ہی نہ تھے، اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین جناب سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ جناب سلیمان نے توکفر نہ کیا تھا بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔‘‘


مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خبردی ہے کہ اکثر یہودیوں کا ایک براکرداریہ بھی تھا کہ اللہ کی کتاب، وحی الٰہی کو اور پیغمبر برحق کو چھوڑ کر جادو کے پیچھے لگ گئے۔ بالکل یہی طرز عمل اور کردار اسلام کی طرف نسبت کرنے والوں لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پڑھنے والوں اور خود امت محمدیہ کا ایک فرد شمار کرنے والوں کا بھی یہی ہے۔‘‘ [مجموع الفتاوٰی لابن تیمیۃ:99/28]

مذکورۃ الصدر بحث میں کفار سے دوستی سے دوستی کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں:....منزل من اللہ شریعت الٰہیہ کے بجائے رسالت وآخرت کے منکروں اور بتوں کے پجاریوں کے موقف ونظریات کو زیادہ ترجیح دینا اور پسند یدہ قرار دینا ۔ . . . . منزل من اللہ شریعت الٰہیہ کی بجائے غیر اسلامی طور طریقے اور کافرانہ روش اختیار کرنا۔ بدقسمتی اور حرمان نصیبی یہ کہ آج کلمہ پڑھنے والے مسلمان ان دونوں بیماریوں سے لت پت ہوچکے ہیں۔ آج اکثر وبیشتر مسلمان شریعت الٰہیہ ،قرآن وسنت اور دین برحق کی بجائے کافرانہ تہذیب وتمدن کو، کافرانہ معاشرت وطرز زندگی کو، کافرانہ معیشت وسیاست کو، کافرانہ بود وباش کو ترجیح دیتے اور پسند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آج مسلمانوں کو خلافت وامارت کے نام سے چڑ ہے جبکہ بڑے بڑے مذہبی پیشوا اور ملت کے زعمائ کافروں کے نظام حکومت ’’جمہوریت‘‘ کے دلدادہ، محافظ اورمؤید دکھائی دیتے ہیں۔ اسلامی لباس وحجامت سے گھن کھاتے ہیں کافروں کے ہیئر اسٹائل (Hairstyle) اور اسٹینڈرڈ آف لائف (Standard of life) کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے اور اختیار کرتے ہیں۔

علیٰ ہٰذا القیاس جس طرح یہود ونصارٰی کتاب الٰہی کی بجائے جادو ٹونے کرتے تھے۔ بالکل اسی طرح آج مسلمانوں میں سے عامۃ الناس کو اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو ،کوئی دکھ درد یا پریشانی ہو تو قرآن وحدیث کے مسنون وظائف واذکار کرنے اور کتاب وسنت کے مأثور اعمال وافعال بجالانے کی بجائے نجومیوں اور عاملوں کے پاس بھاگے جاتے ہیں ۔شرکیہ تعویذ گنڈوں کا سہارالیتے ہیں۔ الغرض کافروں سے دوستی کے یہ دونوں مظہر بدرجہ اتم واکمل آج کلمہ شریف پڑھنے والے مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں۔ (فَاِلَی اللہ الْمُشْتَکٰی)
 
Top