• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جس عورت کا شوہر لاپتہ ہو وہ کب تک انتظار کرے گی

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
563
ری ایکشن اسکور
173
پوائنٹ
77
جس عورت کا شوہر لاپتہ ہو وہ کب تک انتظار کرے گی

بسم الله الرحمن الرحيم

اگر تو شوہر اس طرح لا پتہ ہو کہ اس کی زندگی کا یقین باقی ہو تو اس صورت میں وہ تا دمِ آخر اس کا انتظار کرے گی، اور اگر اسے اپنے نفس پر فتنے کا خطرہ ہو یا اولاد کی حق تلفی کا خطرہ ہو تو شرعی عدالت سے نکاح فسخ کروا کر دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔

اور اگر شوہر اس طرح لاپتہ ہو کہ اس کی زندگی کا پتہ نہ ہو تو تب عورت یا تو نکاح فسخ کروا سکتی ہے اور یا انتظار کرے گی، لیکن انتظار کی مدت میں اختلاف ہے۔

چونکہ اس مسئلہ میں کوئی مرفوع روایت نہیں ہے اس لیے مدت کے بارے میں علماء و فقہاء کے درمیان کافی زیادہ اقوال پائے جاتے ہیں، عورت کیلیے ایک سال، چار سال، نو سال اور حتی کہ موت کی خبر تک انتظار کے الگ الگ مؤقف موجود ہیں۔

ہمارے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ جس عورت کا شوہر لاپتہ ہوجائے ، تو لاپتہ ہونے کے وقت سے چار سال گزرجانے کے بعد اس شخص کی وفات کا حکم لگایا جائے گا۔ پھر وہ عورت چار ماہ دس دن، متوفیٰ عنہا زوجہا کی عدت گزارے گی اور اس کے بعد اگر چاہے تو وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔

یہ خلیفۃ المسلمین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے ، فرماتے ہیں۔" تربص أربع سنین ، ثم تعتد أربعۃ أشھر وعشراً ، (مؤطا ، کتاب الطلاق ، باب عدۃ التی تفقد زوجھا ، بیہقی فی السنن الکبریٰ 7/445 ، مصنف لعبد الرزاق 7/88 ، سنن سعید بن منصور 1/400 ، )

اسی طرح یہ خلیفۃ المسلمین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا بھی فیصلہ ہے۔ ( عبدالرزاق 7/85 ، فی الطلاق)

یہ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا بھی فیصلہ ہے کہ بیوی چار سال انتظار کرے۔ ( سنن سعید بن منصور رقم 1756)

اسی طرح یہ سعید بن مسیب ، امام مالک ، احمد ، ایک قول امام شافعی کا ، اسحق بن راھویہ اور اکثر علماء _ رحمھم اللہ _ کا قول ہے۔ ( مصنف عبدالرزاق 7/89 ، فتح الباری 9/432 ، سبل السلام ، کتاب الرجعۃ ، باب العدۃ والإحداد 3/556 ، )

امام أبو عبد الله محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِي رحمہ اللہ نے فرمایا:

واختلفوا في امرأة المفقود كم تربص؟

فقال مالك وأهل المدينة وأحمد وإسحاق وأبوعبيد: تتربص امرأة المفقود أربع سنين ثم تتزوج.

ورووا ذلك عن عمر بن الخطاب وعثمان

ابن عفان وعلي بن أبي طالب وابن عمر وابن عباس رضي الله عنهم.

وقال سفيان وأصحاب الرأي: إذا فقد الرجل تربصت امرأته حتى تعلم موته وهذا أحد قولي الشافعي.

ورووا ذلك عن علي بن أبي طالب


[اختلاف الفقهاء للمروزي، ص: 269-270]

یاد رہے کہ قیدی اس حکم سے خارج ہے کیونکہ عموما وہ مفقود نہیں ہوتا، اور اگر وہ اس طرح مفقود ہوجائے جس طرح آج کل طاغوتی ایجنسیاں افراد کو اٹھا کر لاپتہ کرتی ہیں تو اس کا معاملہ امیر یا قاضی کو سونپا جائے گا، وہ اس کا نکاح فسخ کر سکتا ہے، یا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق کوئی فیصلہ صادر کر سکتا ہے۔

والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام۔
 
Top