• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمع بین الصلاتین کی متعلق روایات میں اھل حدیث علماء کی تاویل

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171
مسلم شریف کی حدیث نمبر٥٤)(٧٠٥)میں ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بارش اور خوف کی بغیر نمازیں جمع کی الفاظ ھے من غیر مرض ولا علۃ یعنی نا تو کوی بیماری تھی اور نا کوی علت اور ایک اور حدیث مین ھے کہ بارش بھی نھیہ تھی لیکن نماز نبوی اور صھیح نماز نبوی مین اس بحث مین تاویلات کا ایک طوفان برپا گیا گیا ھے کہ علماء نے یہ کھاھے !!!!!! کچھ علماء نے یہ کھاھےآپ مطالعہ کریں تو اآپ کو ایسا لگیگا جیسا کہ تاویلی پارٹی کا فتاوی میری محدث فورم پر موجود علماء محقیقین سمیت سب دوستون سے درخواست ھے کہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرکےاپنی رای کا اظھار کرے کہ کیا یہ تاویلات صحیح ھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ جزاکم اللہ خیرا
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,714
پوائنٹ
556
مسلم شریف کی حدیث نمبر٥٤)(٧٠٥)میں ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بارش اور خوف کی بغیر نمازیں جمع کی الفاظ ھے من غیر مرض ولا علۃ یعنی نا تو کوی بیماری تھی اور نا کوی علت اور ایک اور حدیث مین ھے کہ بارش بھی نھیہ تھی لیکن نماز نبوی اور صھیح نماز نبوی مین اس بحث مین تاویلات کا ایک طوفان برپا گیا گیا ھے کہ علماء نے یہ کھاھے !!!!!! کچھ علماء نے یہ کھاھےآپ مطالعہ کریں تو اآپ کو ایسا لگیگا جیسا کہ تاویلی پارٹی کا فتاوی میری محدث فورم پر موجود علماء محقیقین سمیت سب دوستون سے درخواست ھے کہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرکےاپنی رای کا اظھار کرے کہ کیا یہ تاویلات صحیح ھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ جزاکم اللہ خیرا
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
عبارات پیش کریں!!

ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171
وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ ابن داود بھای عبارات تو بھت لمبے ھے البتہ حوالہ پیش خدمت ھے صحیح نماز نبوی صفحہ نمبر٣٩٤ طبع دارالندلس کارڈ والی چھوٹی سایز کی کتاب للشیخ عبدلرحمن عزیز اور نماز نبوی للشیخ ڈاکٹر شفیق الرحمن صفحہ ٣٠٨
طبع دارالسلام
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,714
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
مسلم شریف کی حدیث نمبر٥٤)(٧٠٥)میں ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بارش اور خوف کی بغیر نمازیں جمع کی الفاظ ھے من غیر مرض ولا علۃ یعنی نا تو کوی بیماری تھی اور نا کوی علت اور ایک اور حدیث مین ھے کہ بارش بھی نھیہ تھی لیکن نماز نبوی اور صھیح نماز نبوی مین اس بحث مین تاویلات کا ایک طوفان برپا گیا گیا ھے کہ علماء نے یہ کھاھے !!!!!! کچھ علماء نے یہ کھاھےآپ مطالعہ کریں تو اآپ کو ایسا لگیگا جیسا کہ تاویلی پارٹی کا فتاوی میری محدث فورم پر موجود علماء محقیقین سمیت سب دوستون سے درخواست ھے کہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرکےاپنی رای کا اظھار کرے کہ کیا یہ تاویلات صحیح ھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ جزاکم اللہ خیرا
ہم وہ عبارات نقل کر دتے ہیں:
ان راویات سے معلوم ہوا کہ شدید ضرورت اور شرعی عذر کی بنا پر حضر میں بھی کبھی کبھار جمع بین الصلاتین جائز ہے لیکن یاد رہے کہ بغیر عذر کے ایسا کرنا یا س کو معمول بنا لینا غلط ہے۔ (زع) یعنی نا گزیر قسم کے حالات (شرعی عذر) میں حالت اقامت میں بھی دو نمازیں جمع کر کے پڑھی جا سکتی ہیں۔ تاہم شیدد ضرورت کے بغیر ایسا کرنا جائز نہیں، جیسے کاروباری لوگوں ک اعام معمول ہے کہ وہ سستی یا کاروباری مصروفیت کی وجہ سے دو نمازیں جمع کر لیتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں، بلکہ سخت گناہ ہے۔ ہر نماز اس کے مختار وقت ہی پر پڑھنا ضروری ہے، سوائے ناگزیر حالات کے۔ (ع،ر)
صفحہ 309
نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں
مؤلف : ڈاکٹر شفیق الرحمٰن
تحقیق و تخریج: ابو طاہر حافظ زبیر علی زئی
تصحیح و تنقیح: حافظ صلاح الدین یوسف، عبدالصمد رفیقی
ناشر : دار السلام
حضر میں نمازیں جمع کرنے کا مسئلہ:
* مقیم آدمی دو نمازیں جمع کر سکتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: "نبی کریم ﷺ نے مدینہ رہ کر سات رکعات (ایک ساتھ) اور آٹھ رکعات (ایک ساتھ) پڑھیں، یعنی ظہر و عصر (کی آٹھ رکعات) اور مغرب عشاء (کی سات رکعات)۔" [بخاري، مواقيت الصلواة، باب تأخير الظهر إلی العصر: 543 ]
* بعض علماء حضر میں بغیر عذر کے دو نمازیں جمع کرنے کو کبیرہ گناہ شمار کرتے ہیں، ایسی کوئی بات نہیں، رسول اللہ ﷺ سے حضر میں بغیر عذر کے دو نمازیں جمع کرنا ثابت ہے۔ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر کو اکھٹا کر کے پڑھا۔" ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ یہی سوال میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تھا تو انھوں نے فرمایا: آپ ﷺ چاہتے تھے کہ میری امت میں سے کوئی شخص مشکل میں نہ پڑے۔" [ مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الجمع بین الصلاتين فی الحضر 50/705 ]
* اور مسلم ہی کی ایک حدیث (54/705) میں سفر کی جگہ بارش کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ مدینہ میں بارش اور خوف کے بغیر نمازیں جمع کیں۔ ایک حدیث میں ہے: (( من غير مرض ولا علة)) [ طبراني كبير : 12/137، ح: 12807، إسناده حسن لذاته ، حلية الأولياء لأبي نعيم : 3/90 ۔ محمد بن مسلم صدوق حسن الحدیث، و ثقه الجمهور۔] " بغیر کسی مرض اور علت کے (دو نمازیں جمع کیں)۔"
* تو ثابت ہوا کہ بغیر کسی علت کے حضر میں دو نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں، لیکن انھیں معمول بنانا قطعاً جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا معمول نمازوں کو اول وقت میں ادا کرنا تھا۔
* جب بغیر کسی علت کی وجہ سے دو نمازیں جمع کرنا بھی جائز ہوا، لیکن طریقہ وہی ہوگا جو مقیم کے لیے حدیث سے ثابت ہے وہ آگے بیان ہو رہا ہے۔
صفحہ 393 ۔ 394
صحیح نماز نبوی کتاب و سنت کی روشنی میں
مؤلف : الشیخ عبدالرحمٰن عزیز
ناشر: دارالاندلس
اب آپ ان عبارات میں ہمیں مندرجہ ذیل باتیں ثابت کریں:
تاویلات کا ایک طوفان
علماء نے یہ کھاھے !!!!!! کچھ علماء نے یہ کھاھے
تاویلی پارٹی کا فتاوی


آئندہ آپ کا کسی کتاب کی عبارت کے متعلق کوئی تھریڈ قائم کریں یا کسی تھریڈ میں بحث کریں تو وہ عبارت ضرور پیش کریں۔ اگر عبارات لکھنے کا وقت نہیں تو بحث کرنے سے گریز کریں۔
ہاں اگر کوئی سوال ہو تو وہ سوال جواب کے زمرے میں کئے جا سکتے ہیں!!
ان شاءاللہ! انتظامیہ اس بات سے متفق ہو گی!!

ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ جناب ابن داود صاحب وسب اھل ذوق واھل علم حضرات وخواتین اسلام تعصب سے ھٹ کر میرے بات پر غور فرماے پہلی آپ ذھن سے زبیر علی زی صاحب یا کسی بھی مسلک کی تابعداری سے چند منٹ کیلیے ذھن کو خالی کریں پھر میرے استفسار پر غور فرماے اگر میں غلطی پر ھوں توپلیز میرا اصلاح کریں
١ ) ان راویات سے معلوم ہوا کہ شدید ضرورت اور شرعی عذر کی بنا پر حضر میں بھی کبھی کبھار جمع بین الصلاتین جائز ہے (٢) (زع) یعنی نا گزیر قسم کے حالات (شرعی عذر) میں حالت اقامت میں بھی دو نمازیں جمع کر کے پڑھی جا سکتی ہیں۔١١١١١١١ یہ دونوں عبارات نماز نبوی کی ھے آپ خود سوچیں اور فیصلہ کریں کہ کیا حدیث میں عذر کا لفظ ھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کیاحدیث میں شدید ضرورت کا لفط ھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کیاحدیث میں ناگزیر حالات کا ذکرھے؟؟؟؟؟؟؟؟ تویہ تاویل نھی تو اور کیا؟؟؟؟؟؟؟؟ تحریف نھی تو اور کیاھے؟؟؟؟؟؟؟؟تاویلون کا طوفان نھی تو اور کیاھے؟؟؟؟؟؟؟؟ پھر کھتاھے ضرورت بھی شدید ھو استغفراللہ پیغمبر اآسانی کیلیے حکم دے رھاھے اور شیخ زبیر صاحب ان کو مشکل بنارھاھے
پھر صحیح نماز نبوی والے نے اوپر والی کتاب پر رد کیاھے ملاحظہ فرماے ان کی عبارت!!!!!!!!!!!!!!!!!!!بعض علماء حضر میں بغیر عذر کے دو نمازیں جمع کرنے کو کبیرہ گناہ شمار کرتے ہیں، ایسی کوئی بات نہیں، رسول اللہ ﷺ سے حضر میں بغیر عذر کے دو نمازیں جمع کرنا ثابت ہے۔ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر کو اکھٹا کر کے پڑھا۔" ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ یہی سوال میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تھا تو انھوں نے فرمایا: آپ ﷺ چاہتے تھے کہ میری امت میں سے کوئی شخص مشکل میں نہ پڑے۔" [ مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الجمع بین الصلاتين فی الحضر 50/705 ]!!!!!١١١!!!!!!!! کیا یہ اوپر والی کتاب کی قول کا تردید نھی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اچھا جی غور کریں حدیث میں صاف الفاظ ھے کہ نا بارش تھی نا خوف یعنی کوی عذر نھی تھا بلکہ تاکہ امت پر آسانی ھو
اب فیصلہ ناظرین وقاریین ناظرات وقاریات کریں
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,714
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ جناب ابن داود صاحب وسب اھل ذوق واھل علم حضرات وخواتین اسلام تعصب سے ھٹ کر میرے بات پر غور فرماے پہلی آپ ذھن سے زبیر علی زی صاحب یا کسی بھی مسلک کی تابعداری سے چند منٹ کیلیے ذھن کو خالی کریں پھر میرے استفسار پر غور فرماے اگر میں غلطی پر ھوں توپلیز میرا اصلاح کریں۔
مفتی صاحب! ہم اہل الحدیث ہیں،اور ہمارا ذہن خالی نہیں قرآن و حدیث کی اتباع ہمیشہ اس میں رہتی ہے!!
١ ) ان راویات سے معلوم ہوا کہ شدید ضرورت اور شرعی عذر کی بنا پر حضر میں بھی کبھی کبھار جمع بین الصلاتین جائز ہے (٢) (زع) یعنی نا گزیر قسم کے حالات (شرعی عذر) میں حالت اقامت میں بھی دو نمازیں جمع کر کے پڑھی جا سکتی ہیں۔١١١١١١١ یہ دونوں عبارات نماز نبوی کی ھے آپ خود سوچیں اور فیصلہ کریں کہ کیا حدیث میں عذر کا لفظ ھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کیاحدیث میں شدید ضرورت کا لفط ھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟کیاحدیث میں ناگزیر حالات کا ذکرھے؟؟؟؟؟؟؟؟ تویہ تاویل نھی تو اور کیا؟؟؟؟؟؟؟؟ تحریف نھی تو اور کیاھے؟؟؟؟؟؟؟؟تاویلون کا طوفان نھی تو اور کیاھے؟؟؟؟؟؟؟؟ پھر کھتاھے ضرورت بھی شدید ھو استغفراللہ پیغمبر اآسانی کیلیے حکم دے رھاھے اور شیخ زبیر صاحب ان کو مشکل بنارھاھے
میرے بھائی! آپ کو غالبا سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے، یا یہ عبارت بعض لوگوں کے لئے مبہم ہے!
ایک وہ عذر ہیں جن کا ذکرقرآن و حدیث میں موجود ہے،جیسے بارش، جن کی بنیاد پر جمع بین الصلاتین ثابت ہے۔
حدیث میں ان عذر کے نہ ہونے کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی سستی و آرام کے لئے بھی جمع بین الصلاتین کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ کوئی ایسا معقول عذر ہو یا ضرورت ہو جن کا ذکر جمع بین الصلاتین کے حوالے سے حدیث میں بیان نہ کیا گیا ہو ۔
یعنی اس عبارت میں جو شرعی عذر کہا گیا ہے یہ وہ شرعی عذر نہیں جن کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے، بلکہ وہ عذر ہیں جو معقول عذر ہیں ، جس سے نماز وقت پر ادا کرنے کے حکم سےمستثنی قرار پائے!!
ان شاءاللہ ! اب آپ کو یہ عذر کا معاملہ سمجھ آگیا ہوگا!!!
پھر صحیح نماز نبوی والے نے اوپر والی کتاب پر رد کیاھے ملاحظہ فرماے ان کی عبارت!!!!!!!!!!!!!!!!!!!بعض علماء حضر میں بغیر عذر کے دو نمازیں جمع کرنے کو کبیرہ گناہ شمار کرتے ہیں، ایسی کوئی بات نہیں، رسول اللہ ﷺ سے حضر میں بغیر عذر کے دو نمازیں جمع کرنا ثابت ہے۔
یہاں بھی آپ کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔ یہاں عذر سے مراد وہ عذر ہیں جن کا ذکر احادیث میں موجود ہیں! اور جن کا یہ خیال ہے کہ ان مذکورہ عذر کے بغیر دو نمازیں جمع کرنا گناہ کبیرہ ہے وہ واقعی غلط ہے!!
"سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر کو اکھٹا کر کے پڑھا۔" ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ یہی سوال میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تھا تو انھوں نے فرمایا: آپ ﷺ چاہتے تھے کہ میری امت میں سے کوئی شخص مشکل میں نہ پڑے۔" [ مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الجمع بین الصلاتين فی الحضر 50/705 ]!!!!!١١١!!!!!!!! کیا یہ اوپر والی کتاب کی قول کا تردید نھی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اچھا جی غور کریں حدیث میں صاف الفاظ ھے کہ نا بارش تھی نا خوف یعنی کوی عذر نھی تھا بلکہ تاکہ امت پر آسانی ھو
اب فیصلہ ناظرین وقاریین ناظرات وقاریات کریں
مفتی عبداللہ بھائی!ناظرین اور قارئین تو ان شاء اللہ غور فکر کریں گے!! آپ بھی ذرا قرآن و حدیث احکام کے استنباط کو سمجھنے کی کوشش کریں!
جزاک اللہ!

ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
عبارات پیش کریں!!

ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔

اور ازراہ کرم مفتی صاحب اپنا موقف بھی بیان کر دیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
ایک روایت کو سمنے رکھتے ہوئے کوئی مسئلہ اخذ کر لینا کوئی علمی رویہ یا مزاج نہیں ہے۔ قرآن مجید نے وقت پر نماز پڑھنے کو فرض قرار دیا ہے۔ ارشاد بای تعالی ہے:
(إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا) النساء / 103 .
اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی مخالفت نہیں کر سکتے اہں لہذا قرآن کے حکم اور آپ کے عمل میں تطبیق لازم ہے اور اہل علم نے وہ تطبیق بیان کر دی ہے کہ کسی عذر کے تحت کبھی کبھار ایسا کرنا جائز ہے۔

اگر میرے بھائی یہ مطلقا ہی جائز ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی زندگی میں ایک دفعہ کی بجائے سینکڑوں دفعہ بغیر عذر کے ایسا کرنا ثابت ہوتا کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی کہ جب دونوں معاملات جائز ہوتے تھے تو اس میں آسان کو اختیار کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی بہت دلائل ہیں جس سے مطلقا جمع بین الصلاتین کی نفی ہوتی ہے۔
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171
افسوس صد افسوس کی ساتھ ابن داود صاحب کو السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ قابل صد احترام ابن داود صاحب آپ علماء کی دفاع کی فکر میں مصروف ھوگیے مجھے حدیث میں ّعذ ر کا لفظ دکھادو اور بس
عذر پہلی احناف نے نکالا تھا اب ھمارے علماء نے نکالا نبی مھربان صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث میں عذر کا لفظ دکھادو پھر میں ایک لفظ بھی نھی بولونگا آپ کی بات مانونگا
 
Top