• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جنت و جہنم پہلے سے پیدا ہوچکی ہیں ۔

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
جنت و جہنم پہلے سے پیدا ہوچکی ہیں

2560- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُوسَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: "لَمَّا خَلَقَ اللهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ إِلَى الْجَنَّةِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَهَا وَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللهُ لأَهْلِهَا فِيهَا، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَوَعِزَّتِكَ! لاَ يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ! لَقَدْ خِفْتُ أَنْ لاَيَدْخُلَهَا أَحَدٌ، قَالَ: اذْهَبْ إِلَى النَّارِ فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا، فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ! لاَيَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَرَجَعَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ! لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لاَ يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَهَا". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
*ترمذی (حسن صحیح)
۲۵۶۰- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جب اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو پیدا کرچکا تو جبرئیل کو جنت کی طرف بھیجا اور کہا:جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے جو کچھ ہم نے تیار کررکھا ہے، اسے جاکر دیکھو''، آپ نے فرمایا:'' وہ آئے اورجنت کو اور جنتیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جوتیار کررکھا ہے اسے دیکھا: آپ نے فرمایا:'' پھر اللہ کے پاس واپس گئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم! جوبھی اس کے بارے میں سن لے اس میں ضرور داخل ہوگا، پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھیر دی گئی، اور اللہ نے کہا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور اس میں جنتیوں کے لیے ہم نے جوتیار کیا ہے اسے دیکھو۔ آپ نے فرمایا:'' جبریل علیہ السلام جنت کی طرف دوبارہ گئے تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی تھی چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر آئے اور عرض کیا؛ مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہوگا، اللہ نے کہا: جہنم کی طرف جاؤ اور جہنم کو اور جو کچھ جہنمیوں کے لیے میں نے تیار کیاہے اسے جاکردیکھو، (انہوں نے دیکھا کہ) اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھ رہاہے، وہ اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں جو بھی سن لے اس میں د اخل نہیں ہوگا ۔ پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ شہوات سے گھیر دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ ، وہ اس کی طرف دوبارہ گئے اور (واپس آکر) عرض کیا: تیری عزت کی قسم! مجھے ڈرہے کہ اس سے کوئی نجات نہیں پائے گا بلکہ اس میں داخل ہوگا''۔​

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔​
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " تحاجت الجنة والنار فقالت النار : أوثرت بالمتكبرين والمتجبرين وقالت الجنة : فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم وغرتهم . قال الله تعالى للجنة : إنما أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي وقال للنار : إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي ولكل واحدة منكما ملؤها فأما النار فلا تمتلئ حتى يضع الله رجله . تقول : قط قط قط فهنالك تمتلئ ويزوى بعضها إلى بعض فلا يظلم الله من خلقه أحدا وأما الجنة فإن الله ينشئ لها خلقا
" . متفق عليه ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت ودوزخ نے آپس میں بحث وتکرار کی چنانچہ دوزخ نے تو یہ کہا کہ مجھے سرکش ومتکبر اور ظالموں کے لئے چھانٹا گیا ہے اور جنت نے یہ کہا کہ میں اپنے بارے میں کیا کہوں میرے اندر بھی تو وہی لوگ داخل ہوں گے جو ضعیف وکمزور ہیں ۔ لوگوں کی نظروں میں گرے ہوئے ہیں اور جو بھولے بھالے اور فریب میں آجانے والے ہیں ۔ (یہ سن کر ) اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت کے اظہار کا ذریعہ اور میرے کرم کی آماجگاہ کے علاوہ اپنے بندوں سے جس کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہتا ہوں اس کے لئے تجھے ہی ذریعہ بناتا ہوں ۔ اور دوزخ سے فرمایا تو میرے عذاب کا محل ومظہر ہونے کے علاوہ کچھ نہیں میں اپنے بندوں میں سے جس کو عذاب دینا چاہتا ہوں اس لئے تجھے ہی ذریعہ بناتا ہوں اور میں تم دونوں ہی کو لوگوں سے بھردوں گا البتہ دوزخ کے ساتھ تو یہ معاملہ ہوگا کہ وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک کہ اس پر اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں نہ رکھ دے گا ، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ رکھ دے گا تو دوزخ پکار اٹھے گی کہ بس ، بس، بس، اس وقت دوزخ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بھر جائے گی اور اس کے حصوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا جائے گا (پس وہ سمٹ جائے گی ) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا رہا جنت کا معاملہ تو (اس کے بھرنے کے لئے ) اللہ تعالیٰ نئے لوگ پیدا کردے گا ۔ ( بخاری ومسلم​
 
Last edited by a moderator:

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بنا يوما الصلاة ثم رقي المنبر فأشار بيده قبل قبلة المسجد فقال : " قد أريت الآن مذ صليت لكم الصلاة الجنة والنار ممثلتين في قبل هذا الجدار فلم أر كاليوم في الخير والشر " . رواه البخاري
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دن ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، پھر منبر پر چڑھے اور مسجد کے قبلہ کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کرکے فرمایا کہ ابھی جب میں نے تمہیں نماز پڑھائی تو مجھے اس دیوار کے سامنے کے حصہ میں جنت اور دوزخ کی تمثیلیں دکھائی گئیں واقعہ یہ ہے کہ میں نے جتنی اچھی چیز اور جتنی بری چیز آج دیکھی ہے اس جیسی اچھی اور بری چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ (بخاری)
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
امام بخاری باب بندھتے ہیں
: كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الجَنَّةِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ)
کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی (باب : جنت کا بیان اور یہ بیان کہ جنت پیدا ہوچکی ہے۔)

امام طحاوی فرماتے ہیں

جنت و جہنم بیدا کی جاچکی ہے ۔اور یہ کبھی نابودنہ ہوگی۔اللہ نے مخلوق کو بیدا کرنے سے پہلے ہی جنت و جہنم کو پیدا کرلیا تھا۔اور پھر پر دور میں جانے والے انسانوں کو پیدا کیا۔پس جس جو چاہا اپنے فضل سےجن کا حقدار بنایا۔اور جس کو چاہا عدل و انصاف سے جہنم کا حقدار بنایا۔ہر انسان وہی کام سرانجام دیتا ہے ،جس کے لیے اس اسے فارغ کردیا گیا ہو ۔اور اس سے وہی کچھ ہوتاہے۔ جس کے لیے بیدا کیا گیا ہو۔ (عقیدہ طحاویہ)
ی موجودۃ الان واشار بذالک الی الرد علی من زعم من المعتزلۃ انہا لا توجد الایوم القیامۃ و قد ذکر البخاری فی الباب روایات کثیرۃ دالۃ علی ماترجم بہ فمنہا مایتعلق بکونہا موجودۃ الان و منہا مایتعلق بصفتہا واصرح مما دکرہ فی ذالک مااخرجہ احمد و ابوداؤد باسناد قوی عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لما خلق اللہ الجنۃ قال لجبرئیل اذہب فانظر الیہا....الحدیث ( فتح الباری )
اسی طرح دوزخ دونوں موجود ہیں، جملہ اہل سنت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے۔ حافظ صاحب فرماتے ہیں۔ یعنی جنت اب موجود ہے اور اس میں معتزلہ کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ جنت قیامت ہی کے دن پیدا ہوگی۔ مصنف نے یہا ںکئی احادیث ذکر کی ہیں۔ جن سے جنت کا وجود ثابت ہوتا ہے اور بعض احادیث جنت کی صفات سے متعلق ہیں اور اس بارے میں زیادہ صریح وہ حدیث ہے جس کو احمد اور ابوداؤد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب اللہ پاک نے جنت کو پیدا کیا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا کہ جاؤ اور جنت کو دیکھ
 
شمولیت
جولائی 07، 2014
پیغامات
155
ری ایکشن اسکور
49
پوائنٹ
91

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
جہنم کے دو سانس !!!

عن أبِيْ هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال : قال رسُوْلُ الله صلى الله عليه وسلم :اشْتَكَت النار إلى رَبِها فقالَتْ : ياربِ أكَلَ بَعْضِيْ بَعْضًا , فَأذِنَ لَهَا نَفْسَيْن :نَفْس فِيْ الشِتَاء وَنَفْس فِيْ الصَيْفِ فهو أشَد مَا تَجِدُوْن مِن الحَر وأشَد مَا تَجِدُوْنَ مِن الزَمْهَريْر ۔

{صحیح البخاری :537المواقیت ، صحیح مسلم :617المساجد}


ترجمہ :

سیدنا ابوہریر ۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا : اے میرے رب ؛ میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا تو اللہ تعالی نے {سال میں }اس کے لئے دو سانس لینے کی اجازت دے دی ، ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسری سانس گرمی کے موسم میں ، چنانچہ یہی وجہ ہے جو تم شدید گرمی محسوس کرتے ہو اور یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے تم شدید سردی محسوس کرتے ہو ۔

{صحیح بخاری وصحیح مسلم }
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی علیہ وسلم نے فرمایا:
کوئی خاتون جو اپنے شوہر کو ایذاء پہنچائے تو جنت کی حوریں جو اس مرد کے لئے مختص ہیں وہ کہتی ہیں:
" اللہ تجھے برباد کرے اس کو مت ستا وہ تیرے پاس چند روز کے لیے اترا ہے اور قریب ہی ہے کہ تجھ کو چھوڑ کر (واپس) ہمارے پاس لوٹ آئے گا۔"
(سنن ابن ماجہ, كِتَابُ النِّكَاحِ , بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُؤْذِي زَوْجَهَا, شیخ الالبانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔ )
 
شمولیت
دسمبر 11، 2015
پیغامات
42
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
30
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
الشيخ صحاب میرا ایک سوال ہے
الله تعالى نے آگ کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔؟؟
 
Top