• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہادِافغانستان سے متعلق حقائق اور سلفی تجزیہ

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


جہادِافغانستان سے متعلق حقائق
اور
سلفی تجزیہ

فضیلۃ الشیخ عبدالمالک الرمضانی الجزائری (حفظہ اللہ)
ترجمہ
طارق علی بروہی​


مختصر تعارف فضیلۃ الشیخ عبدالمالک بن احمد الرمضانی الجزائری (حفظہ اللہ)

یہ تحریر شیخ‌رمضانی حفظہ اللہ کی تقریر کا اردو ترجمہ ہے، تقریر کو یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتاہے۔


تقریرکا آغاز

سائل: الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد:
ہم اللہ تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں فضیلۃ الشیخ ابوعبداللہ عبدالمالک الرمضانی الجزائری حفظہ اللہ کے ساتھ اس اچھی ومبارک مجلس کو منعقد کرنے کی توفیق عنایت فرمائی، اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے اور توفیق مزید سے نوازے۔کیونکہ یہ اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں میں سے ہے کہ اس نے بالخصوص نوجوانوں کو ایسے علماء کرام کے ساتھ بیٹھنے کی توفیق دی اور خصوصاً اس پرفتن ودہشتگردی کے اس دور میں۔ جس میں ہما قسم کی بدعات نے سراٹھایا ہوا ہے(۔۔۔کلام غیر مفہوم۔۔۔)[1]۔ پس یہ اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے کہ ہمیں ایسی بہترین مجلس کی توفیق عطاء فرمائی۔ ہم نے کچھ ایسے سوالات کو شیخ سے جواب حاصل کرنے کی خاطر منتخب کیا ہے جن کی بالخصوص الجزائری نوجوانوں اور تمام سلفی نوجوانوں کو فی زمانہ اشد ضرورت وحاجت ہے۔ بہرحال اللہ تعالی ہمارا معاون ومددگار ہو۔

سوال 1: سائل کہتا ہے: شیخ صاحب اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے یہ بات آپ پر کچھ مخفی نہیں کہ جو کچھ آج دنیا میں ہورہا ہے قتل وغارت گری ودنگافساد، فواحش کا پھوٹ پڑنا اور خفیہ واعلانیہ اللہ تعالی کی معصیتوں کا ظہور۔اور بلاشبہ یہ تو وہ باتیں ہیں کہ جن کی پیشنگوئی پہلے ہی احادیث مبارکہ میں کردی گئی تھی۔ سلفی نوجوانوں (۔۔۔کلام غیر مفہوم۔۔۔) بدعات کی سرکشی جن کا علمبردار ابلیس لعین ہے مگر آپ پائیں گے کہ اس کی پیروی ہورہی ہے اور وہ انہیں مخبوط الحواس بنارہاہے (۔۔۔کلام غیر مفہوم۔۔۔) لیکن ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے لئے ایسے اہل علم کو زندہ رکھا ہے کہ جو اس سے اجتناب کرتے اور لوگوں کو بھی ان شیطانی ہتھکنڈوں سے بچاتے ہیں (۔۔۔کلام غیر مفہوم۔۔۔) وہ اپنی مخلصانہ نصیحتوں اور جو کچھ ان کے بس میں ہے کے ذریعے شیطان اور اس کے حواریوں وچیلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ان گمراہ ہونے والے نوجوانوں کو حقائق سے آگاہ کرکے ان کا ہاتھ تھام لیں ۔ کیونکہ ان فتنوں کی پیدائش کا سب سے بڑا سبب وہ لوگ ہوتے ہیں جو اسلام کی طرف دعوت دے رہے ہوتے ہیں جیسے اپنے گمان میں جہاد کرنے والے جہادی جو کہ فسادی ہیں (۔۔۔کلام غیر مفہوم۔۔۔) ہر اس چیز سے جس سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے اور انہیں ان فسادیوں سے بچائیں(۔۔۔کلام غیر مفہوم۔۔۔) اس کے باوجود ان کے بہت سے پیروی کرنے والے موجود ہیں۔شاید کہ ان دھوکے میں ڈالنے والوں میں سے تازہ ترین ونمایاں نام اسامہ بن لادن کا ہے۔ اسی لئے ہم آپ سے یہ امید کرتے ہیں کہ آپ ان نوجوانوں کو ایسی بیش قیمت نصیحت فرمائیں کہ کس طرح وہ(۔۔۔کلام غیر مفہوم۔۔۔) ان تاریک فتنوں میں سلامتی کی راہ اختیار کریں، اور وہ کس چیز میں مشغول رہیں اور کس کی طرف رجوع کریں۔ پھر ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ اس مذکور اسامہ بن لادن کی شخصیت پر خاص روشنی ڈالیں اور ان تباہ کن فتنوں میں مسلمانوں کو کیا مؤقف اختیار کرنا چاہیے؟ اللہ تعالی آپ کو تمام خیر کے ساتھ جزاء عطاء فرمائے۔

شیخ فرماتے ہیں:
الحمدللہ وصلی اللہ وبارک علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ ومن ولاہ:اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں کچھ چیزوں پر جو اس سوال کے شروع میں بیان کی گئی ہیں تنبیہ کرنا چاہوں گا۔

سوال سے متعلق بعض تنبیہات
اولاً:
سب سے پہلے یہ کہ یہ جائز نہیں کہ آپ اپنی دعوت کو محض نوجوانوں تک محصور کریں اس طور پر کہ جب بھی علم کا ذکر کیا تو ان کاخصوصی ذکر کیا، جب بھی جہاد کا ذکر کیا تو ان کا خصوصی ذکر کیا اور جب بھی دعوت کا ذکر کیا تو بھی ان کا ذکر کیا گیا۔اگرچہ بلاشبہ نوجوانوں کا طبقہ ایسا ہے کہ ان کے بارے میں خصوصی عنایت کرنے سے مستغنی نہیں ہوا جاسکتا لیکن اس کے باوجود یہ لائق نہیں کہ ہم اسلام کو محض انہی میں محصور کرکے رکھ دیں، بلکہ ہمیں کہنا چاہیے کہ تمام مسلمانوں کے لئے عموماً کیا نصیحت ہے۔ کیونکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت خود اپنے بڑوں کے تابع ہوتی ہے ۔ وہ خود سے کوئی پیش قدمی نہيں کرتے بلکہ یہ وہ اہل ذہانت، اہل تجربہ اور اہل علم وفضل ہوتے ہیں کہ جن کی وہ پیروی کررہے ہوتے ہیں[2]۔ اسی لئے اللہ تعالی نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو اس وقت بھیجا جب وہ اپنی عمر کی قوت وپختگی کو پہنچے۔ اللہ تعالی کا موسی علیہ السلام کے متعلق فرمان ہے کہ:

﴿وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ﴾ (القصص: 14)
(اورجب موسی علیہ السلام اپنی عمر کی پختگی کو پہنچ گئے اور پورے توانا ہوگئے ہم نے انہیں حکمت وعلم عطاء فرمایا، نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں)

اور اس پختہ عمر کی کچھ تشریح اس آیت میں فرمائی:
﴿حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ﴾ (الاحقاف: 15)
(یہاں تک کہ جب وہ پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہوجائے)

صرف یوسف علیہ السلام کے بارے میں "بَلَغَ أَشُدَّهُ" (اپنے جوانی کو پہنچے) بغیر "اسْتَوَى" (بھرپور پختگی) کے فرمایا:
﴿وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ﴾ (یوسف: 22)
(جب یوسف علیہ السلام اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے انہیں قوت فیصلہ اور علم دیا، ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں)

یہاں "اسْتَوَى" نہیں فرمایا (جیسا کہ موسی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا تھا) یہ اس خاص آزمائش کی وجہ سے تھا کہ جس آزمائش میں آپ علیہ السلام مبتلا کئے گئے تھے۔ یعنی وہ عمر کی پختگی میں پہنچنے سے پہلے ہی اپنی قوت کو پہنچے کہ اللہ تعالی نے انہیں اس وقت ہی قوت فیصلہ وعلم عطاء فرمادیا تھا۔ کیونکہ ان کی آزمائش ہر انسان میں پائی جانے والی عورتوں کی فطری شہوت کی نسبت سے کی گئی تھی ، اور یہ وہ شہوت ہے کہ جس میں دیگر لوگوں کے مقابلے میں ایک نوجوان زیادہ مائل ہوتا ہے اور فتنے میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ پس اللہ تعالی نے اس رسول کریم علیہ السلام کی عفت وپاکدامنی کو ظاہر کرنا چاہا کہ ان کی آزمائش عین اس وقت عروج پر پہنچی جب اس عمر میں شہوت بھی عروج پر ہوتی ہے۔مگر اسکے باوجود آپ علیہ السلام نے کیا فرمایا:

﴿قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (23) وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾ (یوسف: 23-24)
(یوسف نے کہا اللہ کی پناہ !وہ میرا رب ہے ، مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے، ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ اس عورت نے یوسف کی طرف قصد کیا اور یوسف بھی اس کاقصد کرتےاگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے، یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اوربےحیائی دورکردیں، بے شک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا)

یہ وہ فتنہ تھا کہ اللہ تعالی نے دوسروں سے ہٹ کر یوسف علیہ السلام کو آزمایا ۔ کیونکہ یہی ان کے نزدیک اس عمر میں سب سے زیادہ شدید وسخت تھا (۔۔کلام غیر مفہوم۔۔)۔
اگرچہ حالات کے پیش نظر لوگ نوجوانوں کا خصوصی ذکر کرتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں پختہ عمر کے افراداور ان بزرگوں کو خارج ازذکر نہیں کرنا چاہیے جو کہ اہل حکمت ہیں۔ بلکہ یہ تو اس نصیحت کے اولین مخاطبین میں سے ہیں کیونکہ یہی لوگ نوجوانوں کی قیادت کررہے ہوتے ہیں جو کچھ الجزائر میں ہوا اس میں بھی اکثر اسی طبقے کے لوگ نوجوانوں کو ابھاررہے تھے[3]۔ان نوجوانوں کے سامنےاگر صحیح دعوت پیش کی بھی جائے پھر بھی وہ جذبات پر چلنے والے کچی عقل کے ہوتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

‘‘حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ’’[4]
(کم عقل وکم سن) ان کے اسنان ( دانت) نئے نئے نکلے ہوں گے یعنی جوانی اور چھوٹی عمر کے ہوں گے[5]۔

اور ظاہر ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جوانی جنون (دیوانگی) کے حصوں میں ایک حصہ ہے۔اور یہ قول برحق ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ ایسے نوجوانوں کو پائیں گے کہ وہ جب خود کچھ دین پر چلنا شروع ہوجاتے ہیں اور استقامت اختیار کرتے ہیں تو بڑی عمر کے کبار علماء کرام پر بہتان طرازی شروع کردیتے ہیں کہ یہ جامد ہیں، دقیانوسی[6] ہیں جدت پسندی کے قائل نہیں، اور ان کی دعوت بہت بھاری ومشکل ہے ، اور ان کی پیروی کرنے سے دعوت مؤخر ہوتی ہے وغیرہ، ایسی باتیں عموماً یہ نوجوان ہی کرتے ہیں۔یہ اسی جوشیلے پن اور جنون کا شاخسانہ ہے کیونکہ یہ لوگ کبھی بھی اس کے ناقابل ستائش نتائج کی پرواہ نہیں کرتے۔

ثانیاً:
اس کے علاوہ نصیحت یہ ہے کہ بعض لوگ محض اپنی جماعتی ساتھیوں کو کہتے ہیں کہ فلاں بھائی یا فلاں بہن، اور یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ فلاں بھائی ہے یا بہن ہے تو اس کا معنی یہ ہوا جو اس کے علاوہ ہیں وہ دشمن ہیں، بایں صورت تو یہ بہت بڑی غلطی متصور ہوگی۔ یعنی یہ اصلی بھائیوں سے ہٹ کر ایک بھائی ہے تو اس کا کیا معنی ہوا؟ یہ تو اخوان المسلمین (اور دیگر دینی سیاسی وجہادی جماعتوں) کا طریقہ ہے ، کہ وہ دیگر جمعیتوں اور تنظیموں سے امتیاز کرنے کو اسے استعمال کرتے ہیں۔ یعنی پردہ دار لڑکی کو کہا جاتا ہے یہ بہن ہے اور جو پردہ دار نہیں تو بہن نہیں۔
یہ معاملہ تو اس طور پر بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کہ اس سے دیگر غیر جماعتی یا گنہگاروں کی تکفیر کا مفہوم تک نکل سکتا ہے [7] لیکن یہ لوگ اس کا شعور ہی نہیں رکھتے۔لہذا ایسا کہنا جائز نہیں کم از کم یہ کہہ سکتے ہیں کہ باپردہ لڑکی دوسروں‎ سے بہتر ہے دین دار ہے، استقامت اختیار کی ہے وغیرہ۔ اللہ تعالی تو فرماتے ہیں کہ ہم مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ جو کوئی بھی شہادتین کا اقرار کرے اور اسلام میں داخل ہوجائے تو وہ آپ کا بھائی ہے۔ البتہ ظاہر ہے کہ یہ اخوت نیک یا بد ہونے کی وجہ سے متابین (کم وزیادہ) ہوگی۔ لہذا اگر آپ محض بطور مثال ایسا کہتے ہیں تو اس میں ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں۔

اسامہ بن لادن کا تعارف

اب ہم اصل سوال کی جانب آتے ہیں:

اسامہ بن لادن علمی لحاظ سے بالکل متعارف نہیں، نہ کبھی کسی نے کہا کہ وہ عالم ہے بلکہ طالبعلم تک ہونے کا نہیں کہا جاسکتا۔ وہ ایک خون خرابہ کرنے والا اور انقلابی ذہنیت رکھنے والا شخص ہے۔ اس شخص کے سبب بہت سا خون نہ صرف افغانستان میں بلکہ پورے عالم میں بہا۔اور بے شک یہ سب اس شخص کے سر پر ایک بار ہے جسے وہ بروزقیامت اٹھانے والا ہے۔ اللہ تعالی نے اس شخص کو دولت جیسی نعمت سے نوازا تو بجائے اس کے کہ وہ اسے اللہ تعالی کے دین میں لوگوں کو داخل کرنے کے لئے استعمال کرتا اس نے اس کے برعکس اسے اللہ تعالی کے دین سے روکنے میں استعمال کیا۔ اور یہ ایک ایسی حرکت ہے کہ جسے اللہ تعالی نے کافروں تک کہ حق میں پسند نہيں چہ جائیکہ کوئی مسلمان ایسا کرے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ﴾ (الانفال: 36)
(کافر لوگ اپنا مال اللہ تعالی کی راہ سے روکنے میں خرچ کرتے ہیں، عنقریب وہ اسے خرچ کریں گے مگر وہ ان کے لئے حسرت کا باعث بنے گا، پھر وہ مغلوب کردئے جائیں گے، اور کافر لوگ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے)

یہ ایک بہت بڑی مصیبت ہے کہ انسان اللہ تعالی کی نعمت کو جس کام کے لئے وہ نعمت پیدا کی گئی ہے یا جس سے اللہ تعالی راضی ہوتا ہے اس کے علاوہ کاموں میں استعمال کرے۔ کیونکہ وہ اس سے اسلحہ خریدتا تھا۔

افغانی جہاد کا حال[8]
خانہ جنگی وخونریزی​
اور بعد اس کے کہ اللہ تعالی نے ان کے دشمن روسی کمیونسٹوں سےانہیں نجات بخشی ، پھر ان غیرمسلموں سے نجات پاکر یہ خود آپس میں لڑنے لگے۔ اس مدت میں مسلمانوں کے سات گروہ تھے جو خود ایک دوسرے ہی کو ذبح کرنے لگے۔ اگر کوئی مسلمان ان میں سے کسی گروہ کے کارکن کے ہاتھ لگ جاتا جو اس کے گروہ کے علاوہ کسی اور گروہ کی طرف انتساب رکھتا ہو تو وہ اس کا خون بہانے میں ذرہ بھی دریغ نہ کرتا۔ اللہ تعالی ہمیں عافیت میں رکھے۔ اور یہ بات درحقیقت اس جنگ کی ناکامی پر دلالت کرتی ہے جسے جہاد کا نام دیا جاتا تھا۔ کیونکہ اگر یہ واقعی جہاد ہوتا تو وہ اسے اس کے نتائج سے جان لیتے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی چیز کو اس کے ثمرونتیجہ سے تم پہچان سکتے ہو۔ اور کہاوت سے بھی بہتر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

‘‘إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ’’[9]
(اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے)

سبحان اللہ! ان کے جہاد کا خاتمہ وانجام تو اپنے دشمن روس سے آزادی ملنے کے بعد مسلمانوں کے قتل اور خون خرابے کی صورت میں ہوا۔
یہاں تک کہ مجھے بعض بھائیوں نے بتایا کہ افغانستان کی عوام روس سے آزادی کے بعد اب یہ تمنا کرتی ہے کہ روس ہی لوٹ کر آجائے وہ اس سے بہتر ہے کہ ان خون خرابہ کرنے والوں کی حکومت کے زیرسایہ رہا جائے۔ اور وہ خون کیوں نہ بہائیں جبکہ وہ اسے دین سمجھ کرکرتے ہیں۔ اس طرح تو انہوں نے ایک حرام اور بدعت دونوں کو جمع کردیا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَق﴾
(الانعام: 151، الاسرا: 33)
(اور کسی جان کو قتل نہ کرنا جس کاقتل کرنا اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے الا یہ کہ شرعی طور پر اس کو قتل کرنے کا حق بنتا ہو)

پھر کس طرح سے اپنے مسلمان بھائی کا تم قتل کرتے ہو محض اس لئے کہ وہ تمہارے مقابل یا مخالف گروہ میں ہے۔

طلبِ حکومت کی لالچ​
پھر اگرتمہارا جہاد محض اللہ تعالی کے لئے تھا تو مجاہدین کو چاہیے تھا کہ دوسروں سے ہٹ کر کم از کم وہ تو حکومت وکرسی کے طالب نہ ہوتے اور اسے چھوڑ دیتے یہ کہتے ہوئے کہ میں نے تو محض اللہ کی رضا اور اس کی راہ میں جہاد کیا تھا بس۔ یہ کیوں کہتے پھرتے ہیں کہ مجھے چاہیے مجھے چاہیے! چھوڑ دیں یہ سب، کہیں میں نے فی سبیل اللہ جہاد کیا تھا بس، اور کرسی وحکومت کے بھوکوں کے لئے یہ میدان چھوڑ دیں۔ لیکن نہیں، ہر گروہ کہہ رہا ہے میں حکومت کروں گا، سبحان اللہ!جبکہ ان شاء اللہ جو صحیح حزب اللہ (اللہ کی جماعت) تھے یعنی شیخ جمیل الرحمن[10]رحمۃ اللہ ان کی جماعت نے سب سے پہلے اس چیز کو چھوڑ دیا تھا ، جب انہوں نے دیکھا کہ محض ایک زمین کے قطعے کی خاطر یہ لوگ مکھیوں کی طرح اس پر بھنبھنا رہے ہیں، جبکہ انہیں خبر نہیں کہ ان باتوں کا انجام کار سوائے ندامت کے اور کچھ نہیں۔ یہ بہت سنگین معاملہ ہے ، سبحان اللہ! لیکن ان کی قلت حیاء وقلت مروت دیکھیں کہ حکومت وریاست کے بھوکے بنے پھر رہے ہیں، یہ تو قلت دینداری اور عدم خوف الہی کی دلیل ہے۔ اور انہی میں سے ایک اسامہ بن لادن بھی تھے اور ان کا (یا ان کے حامیوں کا)گروہ طالبان[11] بھی۔


طالبان کا عقیدہ ومنہج​
اور طالبان کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ وہ دیوبندی صوفی قبرپرست لوگ ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض صوفی نہ بھی ہوں لیکن بنیاد ان معدودے چند افراد پر نہیں رکھی جاتی کیونکہ حکم شاذ ونادر افراد پر نہیں بلکہ جماعت کی غالب اکثریت پر ہوتا ہے، چناچہ ان کی غالب اکثریت ایسی ہی ہے۔


بتوں کا انہدام : توحید کی غیرت یا سیاسی ڈرامہ؟​
اور ان بتوں[12] کے توڑنے کا معاملہ جو کہ درحقیقت ایک سیاسی ڈرامے کے سوا کچھ نہ تھا اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ مزار شریف تو اب تک موجودہے۔ جہاں لوگ دور دور سے مزار کی زیارت کا شرف حاصل کرنے آتے ہیں اور قبر میں مدفون ولی سے دعاء کرتے ہیں، فریاد کرتے ہيں، اور اس کی قبر کی اینٹوں اور قبے سے تبرک حاصل کرتے ہیں وغیرہ، یہ سب اب تک موجود ہے، اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد(۔۔الفاظ غیر مفہوم۔۔)۔ ان سب چیزوں کو تو انہوں نے منہدم نہیں کیا، کیا بھی تو ان کچھ قدیم بتوں کو جو بالکل بھولے بسرے ہوگئے تھے اور ان کی عبادت تک کرنے والے موجود نہ تھے۔ ایک طرف تو ان کو منہدم کرنا اور دوسری طرف ہم سے یہ امید لگائے بیٹھنا کہ ہم اس حکومت کی دنیا کے خلاف طرفداری کریں، سبحان اللہ!۔ یہ تو ایک برے اور سازشی طریقے سے لوگوں کی غیرت کو ابھارنا ہوا(یعنی ہائے دیکھو! ہم بت توڑ رہے ہیں اور دنیا کی مخالفتوں کے خلاف اہل توحید ہماری مدد نہیں کررہے وغیرہ!)۔
اور سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام کام تو مسلمان حکومت اور حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہوتا ہے (جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے اول روز ہی بتوں کو توڑ ڈالا تھا)[13]، پھر کس طرح آزادی کے دس یا نامعلوم کتنےبرس بعد آج طالبان حکومت کو یاد آرہا ہے کہ بتوں کو بھی توڑنا تھا! یعنی کیا یہ حکومت اتنے برس توحید کی اساس وبنیاد کے بغیر ہی چل رہی تھی! (اور پھر بھی اسلامی حکومت کا دعوی!)۔

کیا یہ جہاد اللہ کی توحید کے لئے تھا؟
توحید پرستوں سے سلوک

میں ان مشائخ کو جانتا ہوں جو اس دوران افغانستان گئے تھے جب وہ توحید سے متعلق بات کرتے تھے تو ابوزید کے افغانی مجاہدین ان پر بندوقیں تان لیتے تھے، سبحان اللہ!

﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّه﴾ (المؤمن: 28)
(کیا تم ایک شخص کو محض یہ کہنے پر قتل کرتے ہو کہ میرا رب (اور معبود) اللہ تعالی ہے!)

یعنی صرف اس وجہ سے کے وہ توحید پر بات کرتے ہیں! اس کے باوجود ان نام نہاد مجاہدین، تحریکیں برپا کرنے والے انقلابی لوگوں کا میڈیا ایسوں کے چہرے منور کرکے دکھاتا رہتا ہے۔توحید پرستی اور شرک کا خاتمہ تو ایک نعمت ہے پر وہ اس تحدیثِ نعمت (نعمت کے ذکر) کو کیوں چھپاتے ہیں، یا اگر ان کے دعوی کے مطابق وہ توحید پرست ہیں تو اس نعمت کو بیان کریں مگر کیا کریں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کیوں نہیں لوگوں کو جہاد کا حقیقی اسلامی فقہ بیان کرتے ہیں جبکہ وہ اس جہاد ہی کی تو دعوت دیتے ہیں۔ یعنی حقیقی اسلامی جہاد کا فقہ کیا ہے؟ ظاہر ہے جو دین کی حقیقت ہے وہی حقیقی جہاد کا بھی فقہ ہے اور وہ کیا ہے؟ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوت﴾ (النحل: 36)
(تحقیق ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت [14]کی عبادت سے بچو)

اگر کوئی شیخ ان کے ملک سےآئے اور وہ عالم ہو حالانکہ ان کے ملک جہالت سے اٹے پڑے ہیں پھر وہ عالم وہی بات کرے جس بہترین بات کا اللہ تعالی نے اپنے انبیاء ومرسلین علیہم السلام کو حکم فرمایا ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ (الانبیاء: 25)
(ہم نے آپ سے پہلے بھی جس رسول کو بھیجا اس کی طرف یہی وحی فرمائی کہ بے شک میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں پس تم میری ہی عبادت کرو)

توالٹا ان کا جہاد ایسے علماءِ توحید کے خلاف شروع ہوجاتا ہے، یہ مسلح لوگ کہتے ہیں کہ یا تو ان کو قتل کرو ورنہ ہم تمہیں بھی قتل کردیں گے۔ سبحان اللہ! یہ کونسا جہاد ہے؟۔ پھر اس کا یہ نتیجہ نہ ہو تو اور کیا ہو۔

توحید کی نشرواشاعت​
آپ خود ہی سوچیں کس چیز نے طالبان کو روک رکھا تھا کہ وہ پہلے ہی دن سے اس بات کا اعلان کردیتے کہ ہماری دعوت واضح سلفی سنی دعوت ہے۔ ہر چیز واضح طور پر بیان کرتے۔ پہلے ہی دن سے توحیدِ خالص کو واضح طور پر بیان کرتے، یہ کیا کہ اتنے برسوں بعد ایسے بتوں کو منہدم کیا جن کا ذکر تک لوگ بھول چکے تھے، سبحان اللہ!۔(الفاظ غیرواضح۔۔۔)۔ اپنی دعوت کو واضح بیان کرو، آخر کس چیز نے تمہاری زبانوں پر تالے لگا دئے ہیں؟ بیان کرو تمہارے پاس تو پورا ملک ہے اپنا آزاد میڈیا ہے پھر کیوں توحید بیان نہیں ہورہی؟۔ اس سے بھی عجیب بات کہ اگر تم کہو کہ وسائل کی کمی ہے[15] تو تمہارا ساتھی اسامہ بن لادن جتنے درہم ودینار درکار ہوں سے تمہاری مدد کرے گا، جس کے ذریعہ سے تم پورے عالم میں اپنی دعوت (اگر واقعی توحید کی دعوت ہے) نشر کرسکتے تھے، پھر کیوں اپنی دعوت کو واضح نہیں کرتے؟۔ ہاں، اسامہ کے معاونت نہ کرنے کی وجہ اس کا صوفی خاندان بھی ہوسکتا ہے، اور یہ بات بالکل معروف ہے!(کہ وہ ایک صوفی خاندان سے تعلق رکھتا ہے)۔

اہل بدعت کی پہچان​
اللہ کی قسم مگر یہ سب باتیں آپ کو اس سرزمین میں جہاد کی غرض سے جانے سے نہیں روکتیں؟!، سبحان اللہ!۔ جو کوئی بھی خونی وانقلابی علمبردار ہوتا ہے تو تم اس کے ساتھ لگ جاتے ہو اور اس کی پشت پناہی شروع کردیتے ہو، حالانکہ تم اس کی حقیقت کو جانتے بھی نہیں۔

میں نے تقریباً چار سال پہلےاس کا ایک مقالہ ایک یمنی میگزین "المحرر" میں پڑھا ، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے یہود کی اتنی خدمت کی ہے کہ جتنا خود یہود اپنی نہیں کرسکے، یہ اسامہ بن لادن کا کلام ہے۔ سبحان اللہ! یعنی جو اہل سنت نہیں بلکہ آئمہ اہل سنت جیسے شیخ ابن باز رحمہ اللہ پر اس طرح طعن درازی کرے کیا وہ اہل سنت میں سے ہوسکتا ہے؟! جیسا کہ سلف کہا کرتے تھے کہ:
‘‘سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ’’[16]
(ہمارے سامنے اپنے ساتھیوں یا پیشوا لوگوں کا نام تو لو)

یعنی وہ لوگوں کو جن علماء کی طرف وہ منسوب ہوتے تھے اس سے پہچان لیتے تھے۔ یا جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:
(جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ حماد بن سلمہ رحمہ اللہ[17] پر طعن کررہا ہے تواس شخص کے دین پر قدغن لگاؤ)۔

یا فرمایا: (وہ شخص سچا نہیں ہوسکتا)۔

ایسا کیوں کہا کیونکہ وہ اپنے شہر کے امام پر طعن کررہا ہے اور ان کے بارے میں غلط کلام کررہا ہے۔ اسی طرح سے سلف لوگوں کا امتحان آئمہ سلف کے بارے میں پوچھ کر لیا کرتے تھے۔ کیونکہ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (جو کوئی ہم سے اپنی بدعت کو چھپائے گا وہ ہم سے اپنی صحبت تو نہیں چھپا سکتا)۔ ان کے علاوہ سلف میں سے کسی نے فرمایا: (اہل اہوا (خواہش پرست/بدعتی) ہر چیز کو ہم سے چھپا سکتے ہیں (سوائے کس کے؟) سوائے اپنی دوستی کے)۔ سبحان اللہ! اہل بدعت ہر چیز کو مخفی رکھ سکتے ہیں سوائے اپنی دوستی ومیلان کے۔ وہ کیوں نہیں چھپا سکتے کیونکہ جب وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے تو لازماً اس کی صحبت اختیار کریں گے ۔ جب وہ اس کی صحبت میں رہتا ہے، وہیں اس کا آنا جانا ہے۔ اور اس کے برعکس اہل سنت پر اتہام لگانا، ان سے دوری اختیار کرنا یا پھر ان کے قریب رہتے ہوئے بھی ان پر طعن کرتے رہنا گویا کہ ان کے طعن درازی کے لئے دنیا میں سوائے اہل سنت کے اور کوئی رہ ہی نہیں گیا۔


شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی ابن لادن کے بارے میں رائے​
میں نے مجلہ "البحوث الاسلامیۃ" عدد 50[18]میں پڑھا جو یہاں سعودی سے شائع ہوتا ہے کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ اسامہ بن لادن، سعد الفقیہ اور محمد المسعری کے منہج پر تنقید فرماتے ہیں۔ یہ تینوں لوگ اہل سنت کے علماء سے استفادہ حاصل کریں اور اپنے برے منہج سے توبہ کرکے اللہ تعالی اور سنت کی جانب رجوع کریں۔ پھر مسلمانوں کو ان کی تحریر پڑھنے یا تقریر سننے سے منع فرماتے ہیں۔ اور آپ سب شیخ ابن باز رحمہ اللہ کو بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے اس قول کوآپ امام بخاری رحمہ اللہ کے اس قول کے مانند قرار دے سکتے ہیں کہ جب وہ کہتے ہیں کسی کے بارے میں "فیہ نظر" (اس کے بارے میں کچھ نظر ملاحظات ہیں) تو علماء اہلحدیث یعنی محدثین کہتے ہیں کہ جب امام بخاری رحمہ اللہ کسی کے بارے میں یہ کہہ دیں کہ "فیہ نظر" تو اس سے مکمل طور پر دستبردار ہوجاؤ کیونکہ وہ منکر الحدیث ہوتا ہے ناکہ صرف ضعیف۔ اسی طرح سے اگر ایک شخص جو ابن باز رحمہ اللہ جیسا ہو کہ جن کی عفتِ لسان معروف ومشہور ہو اور لوگوں کی غلطیاں تلاش کرنے کی ٹوہ میں نہیں لگے رہتے، اور اس وقت تک کسی کے بارے میں کلام نہیں فرماتے جب تک مکمل تحقیق نہ کرلیں، ساتھ ہی ساتھ اسی بات کے بارے میں بولتے یا تنبیہ فرماتے ہیں جس کے پس پردہ بہت ہی خطرناک باتیں پوشیدہ ہوں۔

اسامہ وطالبان بدعتی وظالم لوگ ہیں​
ہم ان سے کہتے ہیں کہ طالبان بلاشبہ ظالم لوگ ہیں۔ اسی طرح سے اسامہ بن لادن ظالم شخص ہے اور بدعتی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
‘‘لَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا’’[19]
(جس کسی نے کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہے)[20]

پھر بدعتی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ خون خرابہ کرنے والا شخص بھی ہے یعنی وہ مسلمانوں کے خون بہانے میں شریک ہے۔پس اللہ تعالی نے بھی ان پر ان سے بھی بدتر یعنی امریکہ کو مسلط کردیا قطع نظر اس کے کہ وہ پہلے اسی امریکہ سے مدد لیا کرتے تھے اور ہمیں اس بارے میں پورا یقین وجزم ہے(یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے)۔اور عنقریب واقعات وحالات بھی اسے ظاہر کرہی دیں گےکیونکہ ہم تو صرف اسی کے بارے میں کچھ کہہ سکتے ہیں جوکچھ ہمارے سامنے ہے (الفاظ غیر مفہوم۔۔۔)۔

کیا ایک شخص کی وجہ سے تمام مسلمانوں کی جان خطرے میں ڈالنا دینی غیرت وحمیت ہے؟​
پھر کچھ اہل علم کہتے ہیں یا ان سے نقل کیا جاتا ہے کہ آخر کیوں طالبان ایک پورے ملک کے عوام کو بچاتے ہوئے اس ایک شخص کو حوالے نہیں کررہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر اس شخص میں واقعی کوئی دینی غیرت اور مسلمانوں کی خاطر غیرت ہوتی تو کس طرح سے وہ ایک معاشرے کی پہلے ترتیب کرتا ہے یعنی اس نے جو افغانی عوام کو ترتیب دی جس کے ذریعے سے انہوں نے اپنے ملک سےکمیوسٹوں کو ماربھگایا(الفاظ غیرمفہوم۔۔۔) تو کیسے وہ ان کی ترتیب کرتا ہے پھر انہی کو مرنے کے لئے امریکہ کے آگے پیش کردیتا ہے۔او رآخر کس طرح سے ایک پورے معاشرےوعوام کو محض ایک شخص کی قیمت پر ذبح کروایا جاسکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب ان باتوں کا وقت کہاں! اب تو امریکہ نے کچھ کہنے سننے کو باقی ہی نہیں چھوڑا ہے کہ ہم سوچیں، سوال کریں، دلائل دیں اور فرق بیان کریں کہ یہ جہاد دفاع ہے یہ طلب نہیں، امریکہ نے تو اسلام کے لئے کچھ کرسکنے کا موقع ہی نہیں چھوڑا ہے وہ تو بس انتہائی تیزی میں سب کچھ کرگزرنا چاہتا ہے۔اور آپ نوجوانوں کے جذبات تو جانتے ہی ہیں کہ وہ یہ کہتے ہیں یہ سوچنے کا وقت نہیں کہ مسلمان کہاں سے جہاد شروع کریں اور کہاں سے جہاز پرواز کریں اور کہاں سے اسلحہ آئے، ہمارے ملک وعوام کی تو یہ حالت ہے کہ لڑو یا مرو بس، اور واقعی اب کتنے ہزار مسلمان مررہے ہیں، سبحان اللہ۔ یہ کیسے مسلمان ہیں! کیوں یہ اب تک اپنی جماعتوں سے نہیں پوچھتے کہ جو نام نہاد مسلمانوں اور جہاد کے لئے غیرت کااظہار کرتے رہتے ہیں کہ اب تک ان کے بڑے بڑے اس ایک شخص کے نہ دینے کے امتحان میں مرے جارہے ہیں (الفاظ غیر مفہوم۔۔۔) لیکن اب تک وہ اس ایک شخص کو دینے کو تیار نہیں۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
کیا کسی مسلمان کو کسی کافر کے حوالے کرنا بہرصورت غیراسلامی عمل ہے؟​

یہاں تک کہ ان ہی میں کسی نے مجھ سے کہا جب میں فرانس کے سفر پر تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ اسامہ کو امریکہ کے حوالے کردینا چاہیے۔
میں نے کہا کہ میں نے ایسا کہا تو نہیں ہے مگر ہاں بات صحیح ہے اور بعض اہل علم نے کہی ہے۔

اس نے کہا سبحان اللہ! کیسے یہ علماء ہمیں کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک مسلمان کو کافروں کے حوالے کردیں! یہ تو کافروں سے موالات ودوستی ہے جو کہ کفرہے[21]۔
میں نے کہا یہ موالات (دلی دوستی) میں سے نہیں۔مجھے تو کبھی ان کے عقلوں پر تعجب ہوتا ہے اس میں موالات کہاں سے آگئی(۔۔الفاظ غیرمفہوم)
اس نے کہا آپ نے یہ کہا وہ کہا وغیرہ۔۔۔

میں نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کو پکڑ کر کافروں کے حوالے کیا تھا کہ نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجندل، ابوبصیر وغیرہ کو حوالے کیا تھا یہ بات معلوم ومعروف ہے ۔
اس نے مجھے جواب نہیں دیا، جیسا کہ آپ ان کے بارے میں جانتے ہیں۔

میں نے پھر کہا مجھے جواب دو، مگر اس نے جواب نہیں دیا۔پھر جذباتی باتیں کرنے لگا کہ میں بروزقیامت آپ کا گریبان پکڑوں گا اللہ تعالی کے سامنے کے آپ جہاد کی مخالفت کرتے تھے وغیرہ۔۔میں نے پھر کہا جواب تو دے دو ۔۔۔
اس نے کہا وہ تو اللہ تعالی کا حکم تھا۔۔۔

میں نے کہا صحیح مگر تم مجھے اس حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو جواب دو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مسلمانوں پر کافروں کو غلبہ دے دیا۔ اس سے تو جواب نہيں بن پڑا لیکن اگر وہ اپنی فکر والی جماعت کے شبہات سے اگر تھوڑا بہت واقف ہوتا تو یہ جواب دیتا کہ وہ تو ایک عہد تھا اور عہد سے وفا کرنا ضروری ہے۔

میں نے ان میں سے بعض سے کہا کہ سبحان اللہ! اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے شراب پینے کے بارے میں عہد کرلیتے نعوذباللہ تو کیا اسے وفا کرتے ہوئے شراب پینا آپ پر واجب ہوتا؟ بالکل نہیں وہ ہرگز نہ پیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے کہ


‘‘كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ’’[22]
(ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے)۔۔(الفاظ غیر مفہوم۔۔)

میرا ان سے سوال یہ ہے جس کا اب تک جواب نہیں ملا کہ میں تم سے اس بارے میں نہیں پوچھ رہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کیا تھا جسے وفا کرنا تھا وغیرہ بلکہ میرا سوال تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے معاہدے کی بنیاد ہی کیوں رکھی؟ کیونکہ اگر ایک مسلمان کو کافر کے حوالے کرنا الولاء والبراء (اللہ تعالی کے لئے دوستی ودشمنی) کے عقیدے کو توڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص کافر ہوجاتا ہے تو پھر کس طرح سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے معاہدے پر دستخط فرمائے، کیا نعوذباللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں تھے یا بھول گئے تھے؟ کیوں دستخط فرمائے اس کا جواب دو، ان کے پاس آج تک اس کا جواب نہیں۔

ان کے سارے مناقشے وبحث آپ سے اسی بات پر ہوتی رہے گی یہ معاہدے سے پہلے یہ بعد میں یہ یوں یہ یوں۔۔۔(غیرمفہوم الفاظ) ہم یہ کہتے ہیں کہ آخر اس معاہدے پر دستخط کیوں فرمائے کہ ایک مسلمان اگر قریش کی طرف سے مدینہ آئے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب ہوگا کہ اسے قریش کے حوالے کردیں اور اس کے برعکس اگر کوئی کافر قریش کے پاس چلا جائے گا تو وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں لوٹائیں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو قبول فرمایا، مگر کیوں کیسے مجھے جواب دو؟

ہوسکتا ہے ان میں سے سب سے عقلمند یہ جواب دے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مصلحت جانی اس میں تو ایسا کیا ورنہ اصل تو یہی ہے کہ ایک مسلمان کو کبھی بھی کافر کے حوالے نہ کیا جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے :

‘‘الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ’’[23]
(ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے جو نہ اس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ ظالم کے حوالے کرتا ہے)۔

لیکن کہتے ہیں کہ مصلحتاً یعنی دعوت کی مصلحت ومحافظت کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کے دلی محبت (ولایت) کے بغیر یہ معاہدہ فرمایا۔ اور یہی بات ہمارے علماء کہتے ہیں کہ مصلحتاً ایسا کرو کیونکہ ایک پورے ملک وعوام کی جانوں کی حفاظت کی مصلحت (حالانکہ اس میں اور بھی بہت سے مصلحتیں پنہاں ہیں) ایک شخص کی جان کی حفاظت کی مصلحت پر ترجیح رکھتی ہے۔اور یہ بھی دیکھیں اگر فرض کریں امریکہ آجاتا ہے اور وہی اسلام کے خلاف جہاد کے خلاف فتنے نئے سرے سے پھر جنم لیں گے[24]، جیسا کہ یمن میں ہوا، سوڈان والجزائر میں ہوا۔ الجزائر میں انہوں نے(اسامہ کے ساتھیوں نے) اپنے کارندے بھیجے جو ایسا ایسا اسلحہ ساتھ لائے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خود الجزائر کے افواج تک کے پاس نہیں! لیکن حاصل کیا ہوا، ایسا جدید اسلحہ کافروں کے لئے چھوڑ کر بھاگ گئے(تو درحقیقت ان کافروں کی مسلم ممالک کے خلاف مدد کون کررہا ہے!)۔اور کہا امریکہ نے کہ اسامہ نہیں ملا، اور اب تک یہی کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ جہاں کہیں خون خرابہ ہویہ شخص اور اس کا ذکر موجود ہوتا ہے مگر پھر بھی کہتے رہتے ہیں ملا نہیں، سبحان اللہ العظیم! یہ بہت ہی عجیب وغریب بات ہے۔

اگر یہ شخص کوئی نیک شخص اور عالم ہی کیوں نہ ہوتا تب بھی حکمت اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ اپنے آپ کو حوالے کردے حالانکہ درحقیقت وہ تو عالم سے بھی کم تر ہے، کہ جس کا ذکر مجالس میں سوائے برائی وشر اور اس سے لوگوں کو خبردار کرنے کے ہوتا ہی نہیں۔یہ بہت ہی عجیب بات ہے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ کیسی سوچ رکھتے ہیں۔ کیوں اب یہ لوگ مصلحت کے راہ پر آنے کی بات کرتے ہیں۔ ابھی آپ کہتے ہیں کہ ہم اس شخص کو حوالے نہیں کریں گے اور یہاں وہاں پوری دنیا سے شروفساد کے لیڈران تمہارے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ اور نتیجہ کیا ہوا عوام سب قتل ہوئی اور جو باقی رہ گئے وہ اپنا ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے ، یہاں تک کہ ان کے بعض لوگوں نے شیخ المحسن سے کہا یا شیخ جہاد ہورہا ،جہاد ہورہا ہے، یہ ہے، وہ ہے وغیرہ اور میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ مل کر جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ شیخ نے جواب دیا کہ تم کیسے افغان کے ساتھ مل کر جہاد کرسکتے ہو حالانکہ حالت یہ ہے کہ افغان خود اپنے ملک سے فرار ہورہے ہیں! سبحان اللہ یہ کیسی عجیب بات ہے!۔


کمزوری کی حالت میں کبھی بھی جہاد فرض نہیں

کیا اللہ تعالی نے ہم پرفرض کیا ہے کہ ہم دشمن کے خلاف جہاد کریں جبکہ ہم کمزوری کی حالت میں ہوں؟اللہ تعالی تو فرماتے ہیں:
﴿الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (الانفال: 66)
(اب اللہ تعالی نے تم پر تخفیف کی اور یہ جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے، پس اگر اب تم میں سے سوصبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دوسو پر اور اگر ہزار صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دوہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے ، اور بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)[25]

اسی لئے فقہاء کرام فرماتے ہیں اگر ہمارے دشمن ہمارے دوگنا سے زیادہ ہوں تو ہمارے لئے جنگ سے فرار جائز ہے۔ لیکن یہ لوگ کہتے ہیں نہیں، ہم اس کے قائل نہیں۔ تم لوگ حکومت کے خادم وخوشامدی ہو، فاسق ہو، بزدل ہو، بلکہ منافق ہو، بلکہ ہوسکتا ہے تم مرتد ہو کیونکہ تم کافروں سے موالات ودوستی کرتے ہو، یہ لوگ ایسا کہتے ہیں!۔اگر ہم کمزور ہوں تو اللہ تعالی نے ہمیں معذور قرار دیا ہے پھر تم کس طرح سے کہتے ہو کہ ہم پر واجب ہے فرض ہے کہ امریکی طیاروں کے نیچے اپنی جانیں دیتے رہیں اور جو اس سے راضی نہ ہو اس کی تکفیر کرکے خوش ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ یہ تو بہت عجیب بات ہے۔ کیسے یہ لوگ اب تک یہی سوچتے ہیں کہ تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہاں جاکر قتال کریں، معلوم نہیں یہ کیسے ایسی نامعقول باتیں سوچ لیتے ہیں۔ اگر ہم کمزور ہیں تو کبھی بھی ہم پر جہاد فرض نہیں کہ ہم دشمن کے خلاف لڑیں اللہ تعالی نے کبھی بھی ہمیں اس کا پابند نہیں کیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ (النساء: 77)
(کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو بند رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو)

اور اس کے علاوہ بھی بہت سے دلائل موجود ہیں۔
جو کچھ میں کہنا چاہتا تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ جہاد کی فقہ کو بالکل نہیں سمجھتے بلکہ یہ محض اپنے جذبات کی پکار پر لبیک کہنا جانتے ہیں، اسی کے مطابق بات کرتے ہیں اور اسی پر ایسے مگن ہیں کہ ایسا لگتا ہے گویا کہ ہم محض اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ ہم دشمن کو بتاتے رہیں کہ ہم تم سے انتقام لیں گے۔


کیا یہ دفاعی جہاد کہلایا جاسکتا ہے​
سوال: ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ دفاعی جہاد ہے؟
جواب: چاہے دفاعی جہاد ہو وہ بھی ہم نہیں کہتے کہ تمام مسلمانوں پر واجب ہوتا ہے کہ وہ سب کے سب نکل کر افغانیوں کا دفاع کریں اور نہ کرنے پر تمام قائدین مجرم قرار پائيں۔ ہم اس سوچ کے حامی نہیں۔

دفاعی جہاد میں بھی طاقت شرط ہے​
سوال: کیا افغانیوں پر فرض ہے؟
جواب: ہاں افغانیوں کے لئے جائز ہے بلکہ ان کے لئے تو ہجرت بھی جائز ہے کہ وہ اپنے ملک کو چھوڑ جائیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں کمزور تھے تو وہ بھی اپنا وطن چھوڑ گئے تھے، ہم یہ نہیں کہیں گے کہ بزدلی کی وجہ سے نعوذباللہ۔ لہذا اگرانہیں اپنی جانوں کا خطرہ ہو تو بھلے واجب نہیں بھی ہو بہرحال جائز تو ہے۔ میں آپ کے سامنے اس کی ایک مثال بیان کرتا ہوں جب مسلمان مکہ مکرمہ میں کمزوری کی حالت میں تھے تو کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اونٹ کی اوجھڑی تک ڈال دی تھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سربسجود تھے۔ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ‘‘ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ لَوْ كَانَتْ لِي مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ الله [26](اور میں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا اور اگر میری کوئی طاقت یا پشت پناہی ہوتی تو میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمر سے اٹھا پھینکتا) یعنی وہ اس وقت ایک کمزوری کی حالت میں تھے جو کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ چناچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور اسے اٹھا کر پھینک دیا کیونکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے تھیں۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اگرچہ ان لوگوں کے نزدیک ایک صاحب جاہ وحشمت تھے مگر وہ بھی یہی کہہ پائے کہ: ‘‘أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ’’[27] (کیا تم ایک شخص کو محض اسی لئے مارے دیتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب (معبود) اللہ تعالی ہے) یعنی انہیں اللہ تعالی کا خوف دلا کر ڈرایا دھمکایا مگر اس ظلم کا بدلہ نہیں لے پائے کیونکہ وہ کمزوری کی حالت میں تھے۔ آج تک کسی اہل علم نے یہ نہيں کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تقصیر وکوتاہی کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع نہیں کیا،کسی نے ایسا نہیں کیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزوری کی حالت میں تھے۔اللہ تعالی تو رحیم ہے اور فرماتا ہے:

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرۃ: 286)
(اللہ تعالی کسی جان پر اس کی طاقت ووسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا)

یہ تو محض ایک مثال تھی جو میں نے ذکر کی اس مسئلے کے تعلق سے۔ البتہ وہ شخص کہ جس کے گھر میں دشمن گھس آئے اور وہ اس کا دفاع کرے (جسے یہ لوگ دلیل بناتے ہیں) تو وہ صحیح ہے مگر اس کے لئے یہ تو جائز نہیں کہ دوسروں کو برابھلا کہے اور منافق ہونے کی تہمتیں لگاتا پھرے۔



دینی ومادی قوت کے بغیر وہ دفاع کر بھی کیسے سکتے ہیں؟!​
اور وہ دفاع کریں گے بھی کیسے ان کے پاس تو اسلحہ بھی نہیں۔ یعنی مادی قوت کے لحاظ سے بھی مسلمان کمزور ہے، اللہ المستعان۔ اور اس پر مزید یہ کہ وہ اسلحہ تو خود اپنے دشمنوں سے درآمد کرتے ہیں! اس صورت میں تو اس بات کی مزید تاکید ہوجاتی ہے کہ یہ لوگ بہت زیادہ کمزوری کی حالت میں ہیں چاہے دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا۔ دین کی لحاظ سے کمزوری تو واضح ہے کہ یہ طالبان آج تک اپنے صوفی طریقے جیسے غیر اللہ سے دعاء کرنا اور اس جیسے دوسرے شرک وبدعات وغیرہ پر قائم ہیں۔ سبحان اللہ! یہ کونسی دینداری ہے؟۔ حالانکہ اس افغانی جہاد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ اس روئے زمین پر سب سے افضل وبہتر جہاد ہے اور سب سے زیادہ اسی پر توجہ دی جاتی تھی، تو پھر جو اس سے کم تر ہو تو اس کا خود ہی سوچ لیں کیا حال ہوگا۔۔ (الفاظ غیر واضح)۔اور کہا جاتا ہے کہ روس سے آزادی سے پہلے جتنے مجاہدین وہاں جمع ہوئے تھے اتنے شاید موجودہ کسی جہاد میں نہیں ہوئے اس کے باوجود اس کانتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ سبحان اللہ! ایسے کیوں ہوا۔ کیونکہ ان کا جہاد توحید کے قیام کے لئے نہیں تھا، اگر ہوتا تو وہ اس طرح سے ذلیل نہ ہوتے۔ اگر ان کا حقیقی اسلامی جہاد ہوتا تو کیسے اللہ تعالی انہیں آزادی کے بعد بے یارومددگار چھوڑ سکتا تھا جبکہ حالت یہ ہوئی کہ آزادی کے بعد اور زیادہ خون بہا وہ بھی مسلمانوں کا آپس میں۔۔(الفاظ غیر مفہوم)۔۔کیسے اللہ تعالی انہیں ان کے دشمنوں سے چھڑا کر ایسی ذلت میں مبتلا کرسکتا ہے جس میں وہ جنگ کے دوران بھی نہ تھے!یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالی ایسی امت کی مدد کرے جو اس کے دین کی مدد نہ کرتی ہو۔ اور وہ سب سے پہلی چیز جس کے ذریعہ سے اللہ کے دین کی مدد ہوتی ہے وہ اللہ تعالی کی توحید ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي﴾ (الممتحنۃ: 1)
(اگر تم واقعی میری راہ میں جہاد کے لئے اور میری رضا چاہتے ہوئے نکلے ہو)

سبحان اللہ! جہاد سے متعلق کوئی بھی آیت آپ پڑھ جائیں آپ اس میں یہ حقیقت ضرور موجود پائیں گے۔

کیا ان کے لئے دعاء کرنا جائز ہے​
سوال: کیا ہم دعاء کے ذریعہ ان کی نصرت کرسکتے ہیں؟
جواب: بالکل وہاں کی عوام مسلمان ہیں اور آپ مسلمانوں کے لئے نجات کی دعاء بلاشبہ کرسکتے ہیں۔

سوال: اور طالبان کے لئے بھی؟
جواب: طالبان تو بدعتی لوگ ہیں اور اس فتنے وفساد کا سبب بھی وہی ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ ہم وہاں کی عوام کے لئے اس قسم کی ہر چیز سے نجات کی دعاء کریں گے (یعنی چاہے امریکہ سے نجات ہو یا طالبان سے)۔ کیونکہ اگر دشمن چلے جائے اور ان کی جگہ یہ طالبان وہاں کی عوام پر غالب آجائیں تو وہ اپنے شرکیہ عقائد ہی پھیلانے کا سبب بنیں گے۔البتہ ہم وہاں کی عوام کے لئے نجات کی دعاء کریں گے ۔ اگر وہ طالبان جیسوں سے بھی خلاصی پاتے ہیں تو اچھی بات ہے وہ ایک بدعتی گروپ سے نجات پاجائیں گے، ہمیں ان بدعتیوں کی کوئی حاجت وپرواہ نہیں۔ لیکن عوام عام مسلمان ہیں ان کے لئے نجات کی دعاء کے ساتھ ساتھ اشیاء خوردونوش بھی بھیجی جاسکتی ہیں،یہ ضروری ہے ۔

آل سعود سے متعلق یہ حقائق کیوں چھپائے جاتے ہیں​
جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک بات سے دوسری بات نکلتی ہے تو مجھے ایک اور نکتہ یاد آیا جب میں فرانس کے سفر پر تھا تو بعض لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ سعودیہ اور پاکستان وغیرہ نے اپنے فوجی اڈے وغیرہ امریکہ کو دئے تاکہ طالبان مجاہدین کو مارا جاسکے۔ میں نے کہا یہ افکار کتر بیونت کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں اور میں یہ نہیں کہتا کہ تم نے بلکہ تمہاری جماعت نے یہ زہر تمہارے دلوں میں بھرا ہے ۔ کیونکہ وہ ایسی باتوں کو دلی طور پر پسند کرتے ہیں اور سعودی حکومت سے تو انہیں یہود ونصاری سے بڑھ کر نفرت ہے، اس لئے یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ تمام تحریک چلانے والے انقلابی لوگ سعودی حکومت پر ضرور طعن کرتے ہیں۔سعودی کی خلاف زہر اگلنا تو ان کا معروف وطیرہ ہے۔جو خیر وہاں ہے، شرک کا خاتمہ، توحید کا نفاذ، سلفی سنی کتب کی نشر واشاعت وغیرہ کبھی بھی ذکر نہیں کریں گے[28]۔بلکہ عین ممکن ہے کہ یہ تکفیری لوگ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو (جن سے یہ اپنے مقصد کے لئے بہت کچھ نقل کرتے رہتےہیں) آل سعود ہی کی وجہ سے جان پائیں ہیں۔ وہ تو شاید جانتے بھی نہ ہو ں بس بنا جانے شیخ الاسلام شیخ الاسلام کرتے رہتے ہوں۔کیونکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقریباً تمام کتب کی طباعت آل سعود ہی نے کروائی ہے۔ سبحان اللہ! یہ لوگ کسی کی شکرگزاری واحسان مندی کرنا جانتے ہی نہیں۔ حالانکہ آل سعود ان سے اس کا کبھی مطالبہ کرتے بھی نہیں۔ بہرحال لوگ حق کو اس کے اہل سے پہچان ہی لیتے ہیں(بھلے کوئی احسان فراموشی وناشکرگزاری کرتا پھرے)۔اور اس کا انکار یا اسے چھپائے رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

میں نے اس شخص سے کہا کیا ان تحریک چلانے والے انقلابی جہادی لوگوں نے کبھی ایسی باتیں بھی نشر کی یا منظر عام پر لائے کہ سب سے زیادہ سعودی عرب نے اشیاء خوردونوش، کپڑوں اور پیسوں سے لدھے ہوئے ہوائی جہاز وہاں بھیجے؟ ظاہر بات ہے اس نے کہا ہرگز نہیں! ہم تو یہ باتیں جانتے ہی نہیں وہ ہم سے بھی باتیں چھپا دیتے ہیں۔ میں نے چلو صحیح ہے پہلے معلوم نہيں تھی اب میں تمہیں بتارہا ہوں۔ اور میں یہ سب اس لئے نہیں بتارہا کہ تم آل سعود کو پہچانو بلکہ اس لئے بتارہا ہوں تاکہ تم انہیں پہچانو جو آل سعود کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔ تاکہ تم جان لو کہ ان کے یہاں انصاف کا کیا معیار ہے۔ اور خود ان کے پاس کیا ہے؟ نہ صحیح معنوں میں جہاد ہے، نہ معاونت ہے، نہ اعانت ہے ان میں سے کوئی بھی چیز ان کے پاس نہیں۔ اگر کچھ ہے تو وہ بس کلام کرنا، بڑی بڑی باتیں کرنا، بحث مباحثے کرنا۔ جبکہ دوسری طرف جو اپنا مال بے دریغ خرچ کررہے ہیں کم از کم ہر ادارے کی طرف سے سعودی کے ایک ہوائی جہاز ادویات وغیرہ سے لدھا ہوا تو ضرور بھیجا گیا ہےاس کے باوجود یہ لوگ (اتنے اچھے ہیں کہ) ہرگز نہیں چاہتے کہ لوگوں کو یہ باتیں معلوم ہوں ، سبحان اللہ العظیم۔ پھر ان کے مقابلہ میں آخر کونسی خیر وبھلائی ہے جو تم کرتے ہو! یہی کہ ہر کوئی تمہارے نظر میں کافر ہے کیونکہ وہ فلاں کی تکفیر میں تمہاری ہمنوائی نہيں کرتا۔پس یہ وہ نقصانات اور فتنے ہیں جو افغانستان کے حالات سے جنم لئے ہیں۔ان کے نزدیک آج تک پاکستانی حکومت کافر ہے اور کوئی دوسری ریاست فاسق ہے اور تیسری بھی کافر ہے وغیرہ۔ کس لئے؟ کیونکہ شاید کے اس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کی ہوگی، اور الولاء والبراء اور جو آخر تک ان کے مخصوص مسائل اور عنوانات ہیں پر بات کرکر کے آخر میں تکفیر پھر خلاص معاملہ ختم۔ بہرحال یہ وہ فتنہ ہے جو پھیل چکا ہے اور جس کا ذکر ہم نے اپنی اس تقریر میں کیا ہے۔
جزاکم اللہ خیرا واحسن اللہ الیکم


بدعتی سے خبردار کرنے کے بارے میں ایک قاعدہ​
سوال: ایک مسلمان کو کس قدر ردود کے مسئلہ سے تعلق رکھنا چاہیے؟ مثلاً اگر کسی ملک میں ایک شخص یا داعی ہے جس پر علماء کرام نے کلام کیا ہے لیکن وہ داعی میرے ملک میں معروف نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کیسٹیں عام ہیں، توکیا پھر بھی طالبعلم ہے واجب ہے کہ اس کا حال لوگوں کو بیان کرے یا پھر بس حسب ِحاجت ایسا کرنا چاہیے؟

جواب: اس کا فیصلہ اس شخص کی دعوت کے حساب سے کیا جائے گا۔ کہ آیا اس کی دعوت پھیلی ہوئی ہے، پھیل رہی ہے یا نہیں۔ کیونکہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ خوارج عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود نہ تھے مگر پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان سے امت کو ڈرایا۔ لہذا ہر وہ شر وبرائی جس کا واقع ہونے کا قوی امکان موجود ہو اس سے خبردار کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ جیسا کہ کہاوت مشہور ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ اگر شر اور بدعت پھیل جائے امت میں پھر آپ آئیں اس کا علاج کرنے کے لئے تو بہت سے لوگ اس بدعت پر اور اہل بدعت پر آپ کا کلام نہیں لیں گے اور اس صورت میں اصلاح بہت کٹھن ہوگی۔ لیکن اگر آپ بدعت کے وقوع سے پہلے ہی اس سے خبردار کردیں تو یہ زیادہ سلامتی کا باعث ہوگا۔ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کوئی بدعتی جماعت موجود نہ تھی مگر اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبۂ جمعہ میں بدعت سے خبردار فرماتے کہ:

‘‘إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ’’[29]
(سب سے بہتر بات اللہ تعالی کی بات ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین امور وہ ہیں جو دین میں نئے نکالے جائیں، اور دین میں ہر نیا کام بدعت ہے)

اور آخر تک جو حدیث ہے۔ حالانکہ اس وقت کوئی بھی بدعتی جماعت موجود نہ تھی، سبحان اللہ! پھر بھی اس سے خبردار فرمایا۔ لہذا علماء کرام فرماتے ہیں کہ بدعت اگر موجود ہو تو اس سے خبردار کرنا واجب ہے، لیکن اگر موجود تو نہ ہو مگراس کے وجود میں آنے کا ڈر ہو تو بھی خبردار کرنا چاہیے۔(الفاظ غیر مفہوم۔۔) کیونکہ اگر ایک شخص کی دعوت عام ہورہی ہو اور وہ لوگوں میں باتیں کرتا ہو بھلے خطبہ ہی کیوں نہ دیتا ہو اس سے خبردار کرنا واجب ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے اگر اس کا حال بتانے سےخیر کے بجائے شر زیادہ پھیلنے کا خطرہ ہو تو ایسا نہیں کیا جائے گا ۔۔ (الفاظ غیرمفہوم)۔۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
کیا اسلامی حکومت کی اقامت فرض ہے؟​

سوال: اللہ تعالی کے اس فرمان کا صحیح معنی کیا ہے:
﴿الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ﴾ (الحج: 41)
(یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں غلبہ دے دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ ادا کریں گے)
اس آیت سے بعض لوگ استدلال کرتے ہیں کہ اسلامی حکومت کی اقامت کی جدوجہد کرنا واجب ہے اسی دینی قاعدہ کے بنیاد پر کہ "مالم یتم الواجب الا بہ فھو الواجب" (جس کام کے بغیر کوئی واجب ادا نہ کیا جاسکے تو وہ کام خود بھی واجب ہوجاتا ہے) (جیسے نماز کے لئے وضوء کرنا) کیا یہ استدلال صحیح ہے؟


جواب: بہرحال میں اس آیت سے ان کا استدلال سمجھ نہیں پایا۔۔۔

سائل: شیخ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں اگر ہم انہیں زمین پر غلبہ دے دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور نماز قائم کرنا اللہ تعالی کی عبادت میں سے ہے جو بناحکومت کی اقامت کے قائم ہونا ممکن نہیں؟

جواب: (یہ تو عجیب بات ہے) کیا نماز بناحکومت کی اقامت کے قائم نہیں ہوسکتی! (غیر مفہوم الفاظ۔۔) یہ غلط بات ہے کیونکہ اگر ہم ایسا کہیں گے تو ۔۔ (غیرمفہوم الفاظ)۔۔اکثر انبیاء کرام علیہم السلام ہماری نظر میں نماز قائم کرنے والے اور زکوۃ دینے والے نہ تھے۔۔(غیرمفہوم الفاظ)۔۔کیونکہ اکثر انبیاء کرام علیہم السلام کو زمین میں حکومت حاصل نہیں ہوئی۔۔(غیرمفہوم الفاظ) ۔۔

نفاذ شریعت کے لئے کیا خونہ خرابہ کرنا یا سیاسی کشمکش میں پڑنا نبوی منہج ہے​
لیکن اگر بالفرض ہم ان کی یہ بات مان بھی لیں تب بھی ہم کہتے ہیں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اسلامی حدود نافذ ہوں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس تک پہنچنے کا راستہ کونسا اپنایا جائے۔ اللہ کی شریعت کا نفاذ، فیصلے شریعت کے مطابق ہونے کا وجوب وغیرہ یہ تو وہ باتیں ہیں کہ اس کے بارے میں ہمارے درمیان بات کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ ہم سب اس پر متفق ہیں۔ ہم سب ہی کہتے ہیں کہ تحکیم شریعت فرض ہے لیکن جو اصل مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ اس تک پہنچنے کے لئے کونسا راستہ اختیار کیا جائے ۔(غیرمفہوم الفاظ۔۔)وہ لوگ خون خرابہ اور سیاست والا مسلک اپنانا چاہتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی اصلاح خون بہا کرفرمائی؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت قتل وقتال سےشروع کی ؟جواب ہے نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو شروع میں قتال سے منع فرمایا گیا تھا:

﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ (النساء: 77)
(کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو بند رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو)

یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت نے سیاست سے دعوت شروع کی کہ قریش کے سرداروں کے ساتھ ان کے اجتماعات میں شریک ہوتے ہوں ، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں بھی ایک معزز گھرانےسے تعلق رکھتے تھے اور اپنی قوم کے مقربین میں سےتھے، پھر کیا آپ نے ایسا کیا؟ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشکش بھی کی گئی تھی کہ ہم آپ کو حکومت دے دیں گے، اور سب سے خوبصورت عورت سے شادی کروادیں گے، اور آپ کو سب پر مسلط کردیں گے، اتنا اتنا مال دیں گے اور آخر تک جو پیش کشیں انہوں نے کی[30]۔ تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قبول فرمایا؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ تو ان کے منصب نبوت کے خلاف تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر اکتفاء فرمایا کہ وہ اللہ تعالی کے رسول رہیں جو اس کے پیغامات اور اس کا دین لوگوں تک پہنچاتے ہیں ۔ اور ہم ان لوگوں سے کہتے ہیں چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ شریعت کا نفاذواجب ہے لیکن اسلامی حکومت کی اقامت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کا طریقہ ومسلک اختیار کرو، حالانکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ یہ حکومت کی اقامت واجب نہیں کہ اس قسم کی بات کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ:

﴿فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ﴾ (المؤمن: 77)
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کیجئے بے شک اللہ تعالی کا وعدہ برحق ہے۔ پس یا تو ہم آپ کو اس چیز میں سے کچھ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا پھر ہم اسے قبل ہی آپ کو وفات دے دیں، پلٹنا تو ہماری ہی طرف ہے)[31]

ہم آپ کو دکھا دیں اس سے مراد ہے یہی زمین پر غلبہ اور نصرت ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دیں یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دکھائیں بلکہ ان کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آئيں انہیں دکھا دیں، اوریہی مطلوب ہے۔

جب طائف والے واقعے میں پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور فرمایاکہ:
‘‘ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فَمَا شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا[32] ’’
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مرضی ہو وہ مجھے حکم فرمائیں : کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت ہوتو وادئ طائف والوں کو ان دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دیا جائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (ہرگز نہیں)، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں گے)۔

سبحان اللہ! ان جیسا ہوتا تو کہہ دیتاہاں انہیں پیس کر رکھ دو اورمجھے کرسی وحکومت دے دو! (الفاظ غیر مفہوم۔۔۔) پس مجھے ان سے امید ہے جو ان کے بعد آئيں گے اور میں ان موجودہ لوگوں کی اذیتوں پر صبر کروں گا۔ یہ بہت عظیم اخلاق ہے۔

لوگوں میں صحیح دین کی تعلیم عام کرنا ہی صحیح منہجِ اصلاح ہے​
اخوان المسلمین (یا جماعت اسلامی وغیرہ) جو دعوت واصلاح چاہتی ہے انہیں بھی چاہیے کہ لوگوں کو اصل دین بیان کریں ۔ ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ فی زمانہ لوگوں کی ایک غالب اکثریت اللہ کے دین سے بالکل جاہل ہے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ایسے بھی اسلامی ملک ہيں جو بناکسی عالم کے جی رہے ہیں! تو پھر خود ہی سوچ لیجئے کہ جو علماء سے کم اور ان کے تحت ہوتے ہیں ان کا کیا حال ہوگا ۔ ارے بھائی یہاں تو (علماء کے بجائے صرف) انقلابی لیڈران ہیں، پھر ان کے ماتحتوں کا کیا حال ہوگا۔ پھر کیسے تصور کیا جائے کہ یہ صحیح دین کی تعلیم دیں گے۔اللہ تعالی کافرمان ہے:

(مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ) (آل عمران: 79)
(کسی بشر کے لئے یہ لائق نہیں کہ اللہ تعالی تو اسے کتاب، حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں کو یہ کہنے لگے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، البتہ وہ یہ کہے گا کہ ربانی (اللہ والے) بن جاؤ ، تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب)

یہ حق ہے اور یہی طریقہ ہے۔
واللہ تعالی اعلم سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین

اسامہ بن لادن اور نعمت الہی کی ناقدری​
اسی طرح سے ایک دوسرے مقام پر شیخ رمضانی حفظہ اللہ اپنی کیسٹ "الأسئلة الأماراتية" میں فرماتے ہیں:
افسوس ہے کہ اسامہ بن لادن بری شہرت کی وجہ سےمشہور ہے نہ کہ خیر کی وجہ سے۔خون بہانا اس کی وجہ شہرت بن چکی ہے جس کے نقش قدم اب بھی افغانستان میں باقی ہیں۔ یہ وہ شخص ہے کہ جسے اللہ تعالی نے مال جیسی نعمت عطاء فرمائی تو اس نے اس مال کو اس چیز میں خرچ کرنے کے بجائے جس سے امت کی اصلاح ہو اس چیز میں خرچ کیا جس سے فساد ہو۔بلاشبہ اس کی مثال تو ایسی مثال ہے کہ:

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ﴾ (الانفال: 36)
(کافر لوگ اپنا مال اللہ تعالی کی راہ سے روکنے میں خرچ کرتے ہیں، عنقریب وہ اسے خرچ کریں گے مگر وہ ان کے لئے حسرت کا باعث بنے گا، پھر وہ مغلوب کردئے جائیں گے، اور کافر لوگ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے)

اس میں شاہد یہ ہے کہ اگر یہ شخص واقعی کسی دین داری یا عقل پر ہوتا تو وہ اپنا مال اس چیز پر لگاتا جس سے امت کی اصلاح ہو خصوصاً علم کی ترویج پر۔جس کی طرف ہم لوگوں کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ امت کو آج شرعی علم کی شدید حاجت ہے۔ کیونکہ اگر اس امت کے پاس کچھ صحیح شرعی علم ہوتا تو کبھی بھی اس قسم کے خارجی افکار کی جانب مائل نہ ہوتی۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس شخص نے اپنا مال اللہ کی رضا کے برخلاف استعمال کیا، اگر وہ فضول خرچی واسراف میں اسے لگا دیتا تب بھی وہ بروزقیامت اس کے لوگوں کا خون بہانے جیسے گناہ سے کم تر ہوتا۔میں ایک شخص کو بہت قریبی طور پر جانتا ہوں جو مدینہ نبویہ سے میرے پاس آیا اور کہا: میں الجزائر کی مسلح جماعت سے تعلق رکھتا تھا۔ ہمارے پاس ایک شخص اسامہ بن لادن کی طرف سے بھیجا گیا جو الجزائر میں جہاد کی نبض چیک کرنے آیا تھا۔ اور چاہتا تھا کہ ایسا جدید اسلحہ یہاں داخل کرے جو کہ الجزائری فوج تک کے پاس میسر نہ تھا۔ وہ الجزائر میں اسے مزید فساد کو بڑھکانے کے لئے داخل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن الحمدللہ اسے رب العالمین نے راستے ہی سے ہٹا دیا۔ اس طور پر کہ اس شخص کو اس مسلح جماعت (جیا) نے اس وقت ٹکڑےٹکڑے کردیا جب انہوں نے محسوس کیا کہ اس کے دل میں اس جماعت کے تعلق سے کوئی کینہ ہے اور وہ سمجھتا ہے اس جہاد میں کچھ خرابی ہے۔

اور اس شخص کو آپ جانتے ہیں کہ اس نے سوڈان اور اس کے علاوہ دیگر ممالک میں فتنہ وتفرقہ برپا کیا ہوا ہے۔الحمدللہ سعودی حکومت نے اس سے اس کی جنسیت بھی واپس لے لی ہے۔کیونکہ وہ اس کا اہل نہیں بلکہ ایک فتنہ باز شخص ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ کسی خیر پر ہوتا تو وہ علماء کرام کی جانب رجوع کرتا کہ ان سے تعاون حاصل کرے، اور ان پر طعن نہ کرتا۔یہی بات لازم ہوتی ہے ہر اس شخص پر جو خیر کا کام کرنا چاہتا ہے۔

کیا ابن لادن جیسے لوگوں کو میڈیا پر آنے کا موقع دینا چاہیے​
پھر ایک سائل نے دوبارہ شیخ سے سوال پوچھا:
سوال: کیا ان جیسے لوگوں کو ذرائع ابلاغ (میڈیا) کے ذریعہ بات کرنے کا موقع دینا چاہیے؟
جواب: ہرگز نہیں، کیونکہ نہ تو وہ عالم ہے، نہ طالبعلم ہے، اور نہ ہی کوئی خیر کے کام کرنے والا شخص ہے، نہ امن کی حالت میں نہ جنگ کی حالت میں۔ تو پھر اگر ہم اس شخص کو میڈیا پر بات کرنے کا موقع دیں گے تو بھلا یہ کس چیز کی طرف دعوت دے گا! یعنی ناوہ عالم ہے، نہ طالبعلم ہے اور نہ ہی خیر کا کام کرنے والا کوئی شخص!۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
حواشی


[1]: کیسٹ میں بہت پرانی اور ہلکی کوالٹی میں ہونے کی وجہ سے بہت سے مقامات پر کلام غیرمفہوم ہے، مگر اس کے باوجود کلام کا مکمل مفہوم سمجھنا سہل ہے اور اس کی افادیت میں فرق نہ پڑنے کی وجہ سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

[2]: اس کا مشاہدہ بآسانی کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ تمام انقلابی جماعتوں اور تحریکوں کے قائدین یہی پختہ عمر کے لوگ ہوتے ہیں جن کی نوجوان پیروی کرتے ہیں۔

[3]: الجزائر میں ہونے والے حکومت کے خلاف خروج کی طرف اشارہ ہے۔

[4]: صحیح بخاری 3611

[5]: ہمارے ملکوں میں بھی اکثر خودکش حملہ آوروں کی عمر بمشکل 10-15 سال ہوتی ہے۔

[6]: دقیانوسی کا معنی ہے قدامت پسند، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اصحاب کہف جن کا قصہ قرآن کریم میں مشہور ہے ان کے دور کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، پس جب وہ نوجوان قریب تین سو سال کی طویل نیند کے بعد غار سے بیدار ہوکر باہر نکلے تو وہی پرانے سکے لے کر بازار گئے لوگوں نے دیکھ کر کہا یہ تو قدیم یعنی دقیانوس کے دور کی بات ہے۔ لہذا اس وجہ سے اب قدامت پسندی کو دقیانوسی بھی کہا جاتا ہے۔

[7]: کیونکہ اللہ تعالی نے قتل کرنے جیسے بدترین جرم کرنے والے کو مقتول کا بھائی قرار دیا :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (البقرۃ: 178)
(اے ایمان والو تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد، آزاد کے بدلے , غلام , غلام کے بدلے عورت ,عورت کے بدلے، ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہیے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہیے، تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے، اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے دردناک عذاب ہوگا)

[8]: یہ تقرر اس وقت کی ہے جب افغانستان پر طالبان حکومت باقی تھی اور 9/11 کا واقعہ رونما ہونے کے بعد امریکہ اسامہ کو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا تھا۔ لہذا تقریر میں بیان کردہ کچھ حالات وواقعات کو اس تناظر میں سمجھنا چاہیے۔

[9]: صحیح بخاری 6607

[10]: شیخ جمیل الرحمن افغانی رحمۃ اللہ کی جماعت کا نام جماعۃ ا لدعوۃ الی القرآن والسنۃ تھا۔ سلفی العقیدہ تھے اور سلفی علماء کرام جیسے شیخ ابن بازو البانی رحمہم اللہ وغیرہ نے آپ کی تائید فرمائی تھی(مجموع فتاوی شیخ ابن باز25/4، 6/29، 27/222)، اور بعض نے آپ کے ساتھ مل کر دعوت وجہاد کیا تھا جیسے شیخ ربیع رحمہ اللہ۔ آپ کو الیکشن وانتخابات میں حصہ لینے پر ان نام نہاد اسلامی جماعتوں نے مجبور کیا حالانکہ وہ اس کے قائل نہ تھے مگر نہ ماننے کی صورت میں وہ لوگ اس سلفی دعوت کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ مگر الحمدللہ آپ کو اس میں بھی کامیابی ہوئی اور 1410ھ میں کنڑ، نورستان وغیرہ میں صحیح اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی گئی قبروں مزاروں کو منہدم کیا گیا، شرعی حدود کا نفاذ کیاگیا، تحفیظ قرآن کے مدارس قائم کئے، مجلہ المجاہد جاری کیا کہ جس میں علماء کرام کا کلام شائع ہوتا تھا وغیرہ۔ مگر یہی طالبان، امریکی ایجنٹ حکمت یار، اسامہ، اخوان المسلمین (جماعت اسلامی) اور رافضی شیعہ وغیرہ کہ جن کے دل اس صحیح سلفی دعوت کے خلاف بغض وعناد سے بھرے ہوئے تھے نے انہیں جمعہ نماز سے قبل 1412ھ میں ایک مصری شخص کے ہاتھوں قتل کروادیا۔ یہ حکمت یار وہ ہيں کہ جن کے اقوال اسامہ کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کی جگہ جماعت اسلامی کا امت اخبار شائع کرتا تھا۔ شیخ مقبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ افغانی جہادی معسکرات میں تربیت حاصل کرنے والے دیوبندی صوفی قبرپرست ہیں جن کا یہ منشور تھا کہ کمیونسٹ روسیوں کے نکل جانے کے بعد ہم وہابیوں کا خاتمہ کریں گے کہ جنہوں نے ہماری عوام کے عقائد بگاڑے ہیں۔ بلکہ یہ وہابی تو کمیونسٹ سے زیادہ خطرناک ہیں۔ اورشیخ کا قتل کیا جانا پہلے سے طے شدہ تھا ان تمام گروپوں اور اخوان المسلمین کے یہاں، کہ ان کے قتل سے پہلے ہی نشر کردیا تھا کہ کل وہ قتل ہوں گے۔ شیخ ربیع فرماتے ہیں : ان کی دعوت شیخ محمد بن عبدالوہاب کی دعوت کے مشابہہ تھی۔ تفصیل کے لئے دیکھیں کتاب "مقتل الشیخ جمیل الرحمن" (شیخ جمیل کی قتال گاہ) از شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ اور شیخ ربیع رحمہ اللہ کی کتابیں "جماعۃ واحدۃ لاجماعات"، "النقد منھج شرعی"، "مؤقف الشیخ ربیع من الاحداث"،"حقیقۃ المنھج الواسع عند ابی الحسن"، "قاعدۃ نصحح ولانھدم عند ابی الحسن"، "اھل الحدیث ھم الطائفۃ المنصورۃ"۔

[11]: جو عرب ممالک میں القاعدہ کے نام سے سرگرم ہے۔

[12]: اس مشہور واقعے کی طرف اشارہ ہے جب افغانستان میں طالبان حکومت نے بدھا کے بت توڑے تھے۔

[13]: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا:
‘‘دَخَلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ ، وَيَقُولُ: جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ’’
(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ (360) بت نصب تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی چھڑی سے توڑنا شروع کردیا اور یہ تلاوت کرتے جاتے: حق آگیا اور باطل بھاگ ، حق آگیا اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہوسکا اور نہ آئندہ کچھ ہوسکتا ہے). أخرجه البخاري 46- كتاب المظالم، حديث (2477) وغیرہ۔

غلبہ ملنے پر فوراً بتوں اور مزاروں سے زمین کی تطہیر سے متعلق مزید نبوی آثار کے مطالعہ کے لئے پڑھیں کتاب "دعوت الی اللہ میں انبیاء کرام کا منہج" از شیخ ربیع المدخلی رحمہ اللہ علیہ جو ویب سائٹ اصلی اہلسنت پر موجود ہے۔

[14]: طاغوت کی تشریح کے لئے دیکھیں اصل اہل سنت ڈاٹ کام پر شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا آرٹیکل۔

[15]: حالانکہ وسائل موجود ہے جب امریکہ سے باتیں کرنی ہوں یا مسلم ممالک کے حکمرانوں کی تکفیر کرنی ہو تو ان کا میڈیا کافی متحرک ہوتا ہے۔پاکستان میں بھی ان کی ریڈیو نشریات اور پورے کے پورے اخبارات شائع ہوتے رہے ہیں۔جیسے ضرب مومن اخبار کا گویا کام ہی افغانی طالبانی صوفی حکومت کے گن گانا تھا۔

[16]: مقدمہ صحیح مسلم

[17]: حماد بن سلمہ بن دینار بصری ہیں۔مشہور آئمہ میں سے ہیں۔ ثقہ وعابد ہیں لیکن آخر عمر میں کچھ حافظہ کمزور ہوگیا تھا۔ 167ھ میں وفات پائی۔

[18]: مکمل حوالے یہ ہیں مجلة البحوث الإسلامية العدد50 ص 7-17 اور مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ج 9 ص 100 جو ویب سائٹ اصل اہلسنت ڈاٹ کام پر کتاب "خوارج کے اوصاف "میں موجود ہے۔

[19]: صحیح بخاری 1870، صحیح مسلم 1979، یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔

[20]: یہی بات شیخ احمد النجمی رحمہ اللہ نے اپنے فتوی میں فرمائی جب ان سے طالبان کا اسامہ کو پناہ دینے سے متعلق استفسار کیا گیا، یہ فتوی ویب سائٹ اصلی اہلسنت ڈاٹ کام پر موجود ہے۔

[21]: کافروں سے دوستی وان کی مدد کرنا بہرصورت کفر نہیں۔ اگر وہ دنیاوی تجارتی معاملہ وغیرہ ہے تو وہ موالات دوستی نہیں بلکہ معاملات ہے جو جائز ہے۔ اگر وہ دنیاوی غرض کی خاطر ہے جیسے رشوت ودیگر مفادات تو حرام ہے۔ اور اگر اس لئے ہے کہ اسلام پسپا ہو اور کفر کا غلبہ ہو ان کے دین کی حمایت میں کوئی ایسا کرے تو یہ کفر اکبر ہے جس سے انسان دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ تفصیل کے لئے پڑھیں شرح نواقض اسلام از شیخ صالح الفوزان وشیخ صالح السحیمی (حفظہما اللہ) اور "التفصیل فی موالات الکفار" از شیخ صالح السحیمی۔

[22]: بخاری 2563، ابن ماجہ 2521 یہ الفاظ ابن ماجہ کے ہیں، دیکھیں صحیح ابن ماجہ 2059، صحیح نسائی3451۔

[23]: صحیح بخاری 2442، صحیح مسلم 2583

[24]: اور ایسا ہی ہوا یہ تقریر امریکی حملے سے پہلے کی ہے اور اس کے بعد کے حالات سب کے سامنے ہیں نہ مسلمان بچے، نا ملک، اور اب تو نا اسامہ جس پر کسی تبصرے کی ضرورت ہی نہیں۔

[25]: حالانکہ اسی آیت سے پہلے اللہ تعالی نے ایک کے مقابلے میں دس کا توازن رکھا تھا
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُون﴾ (الانفال: 66)
(اے نبی مومنوں کو جہاد پر ابھاریں، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ کافر قوم کے دوسو پر اور اگر سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ ہزار پر غالب آئیں گے کیونکہ یہ کافر ایسی قوم ہیں کہ جو سمجھ ہی نہیں رکھتے)
مگر پھر کمزوری کے سبب اسے کم کرکے دو کے مقابل ایک کا توازن مقرر فرمایا۔

[26]: صحیح مسلم 1795

[27]: اس واقعے میں ہے کہ عتبہ بن ابی معیط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں اپنی چادر ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے دور ہٹا کر یہ فرمایا۔ (صحیح بخاری 3678)

[28]: ڈاکٹر اسرار احمد کہتےہیں: سعودی تو وائس رائے آف امریکہ ہیں، اور عرب خون جب جوش مارے گا تو سب سے پہلے اٹھ کر انہیں قتل کریں گے۔ (تنظیم اسلامی ویب سائٹ پر تقاریر، مجلہ میثاق، ندائے خلافت وغیرہ) حزب تحریر کے آل سعود کے خلاف پمفلٹ یہاں شائع ہوتے رہتے ہیں۔شیعہ کی وال چاکنگ اور پوسٹرز کو تو شہر میں اب بھی دیکھا جاسکتا ہےکہ آل سفیان آل سعود امریکی ایجنٹ ہیں رافضیوں کو قاتل کررہے ہیں، بحرین لہو لہو وغیرہ۔ صوفی محمد کہتے ہیں کہ: سعودی کو اسلامی حکومت نہیں مانتا وہ بھی قرآن و سنت سے منحرف ہے میں صرف افغانستان کواسلامی حکومت مانتا تھا۔ (جیونیوز انٹرویو)امریکہ سے دوستی کرنے والے آل سعود کا کفر اور دیگر تکفیری مواد ویب سائٹ موحدین ڈاٹ ٹی کے پر ابن لادن، ایمن الظواہری، ابوبصیر طرطوسی، ابوقتادہ، المقدسی، العواجی، طارق بن عبدالحلیم، ابو یحیی اللیبی، محمد انور العوالقی وغیرہ اور اس کے علاوہ بہت کچھ اس بات پر شاہد ہے۔

[29]: الفاظ کی کمی زیادتی کے ساتھ صحیح بخاری 1469، صحیح مسلم 870، صحیح نسائی 1577 وغیرہ میں یہ مشہور روایت موجود ہے۔

[30]: اس حدیث کی جانب اشارہ ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
‘‘اجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ يَوْمًا َقَالُوا: انْظُرُوا أَعْلَمَكُمْ بِالسِّحْرِ وَالْكَهَانَةِ، وَالشِّعْرِ، فَلْيَأْتِ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي قَدْ فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَشَتَّتَ أَمْرَنَا وَعَابَ دِينَنَا، فَلْيُكَلِّمْهُ فَلْيَنْظُرْ مَاذَا يَرُدُّ عَلَيْهِ، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا غَيْرَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَقَالُوا: أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ، فَأَتَاهُ عُتْبَةُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ خَيْرٌ أَمْ عَبْدُ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، ثُمَّ قَالَ: أَنْتَ خَيْرٌ أَمْ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: فَإِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ هَؤُلاءِ خَيْرٌ مِنْكَ، فَقَدْ عَبَدُوا الآلِهَةَ الَّتِي عِبْتَهَا، وَإِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ خَيْرٌ مِنْهُمْ، فَتَكَلَّمْ حَتَّى نَسْمَعَ قَوْلَكَ ، إِنَّا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا سَخْلَةً قَطُّ أَشْأَمَ عَلَى قَوْمِهِ مِنْكَ، فَرَّقْتَ جَمَاعَتَنَا، وَشَتَّتَ أَمْرَنَا، وَعِبْتَ دِينَنَا، وَفَضَحْتَنَا فِي الْعَرَبِ، حَتَّى لَقَدْ طَارَ فِيهِمْ أَنَّ فِي قُرَيْشٍ سَاحِرًا، وَأَنَّ فِي قُرَيْشٍ كَاهِنًا، وَاللَّهِ مَا نَنْتَظِرُ إِلَّا مِثْلَ صَيْحَةِ الْحُبْلَى، أَنْ يَقُومَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ بِالسُّيُوفِ حَتَّى نَتَفَانَى.أَيُّهَا الرَّجُلُ، إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِك الْحَاجَةُ، جَمَعْنَا لَكَ حَتَّى تَكُونَ أَغْنَى قُرَيْشٍ رَجُلا وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكَ الْبَاءَةُ، فَاخْتَرْ أَيَّ نِسَاءِ قُرَيْشٍ شِئْتَ، فَلْنُزَوجَنَّكَ عَشْرًا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَرَغْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ حم، تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ حَتَّى بَلَغَ ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾.فَقَالَ عُتْبَةُ: حَسْبُكَ حَسْبُكَ مَا عِنْدَكَ غَيْرُ هَذَا؟ قَالَ: لا ، فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ، فَقَالُوا: مَا وَرَاءَكَ؟ فَقَالَ: مَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَرَى أَنْ تُكَلِّمُونَهُ أَلا قَدْ كَلَّمْتُهُ، قَالُوا: فَهَلْ أَجَابَكَ؟ قَالَ: لا وَالَّذِي نَصَبَهَا بَنِيَّةً مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ أَنْذَرَكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ، قَالُوا: وَيْلَكَ يُكَلِّمُكَ رَجُلٌ بِالْعَرَبِيَّةِ لا تَدْرِي مَا قَالَ؟ قَالَ: لا وَاللَّهِ مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ ذِكْرِ الصَّاعِقَةِ’’ (المنتخب من مسند عبد بن حميد (ص:208)، رقم(1141)، ومسند أبي يعلى الموصلي (ل101)، كلاهما عن أبي بكر بن أبي شيبة، حدثنا علي بن محمد عن الأجلـح عـــن = الذيال بن حرملة الأسدي عن جابر رضی اللہ عنہ مرفوعاً. قال ابن كثير في تفسيره (7/151) بعد أن ساق الحديث بإسناده عن عبد بن حميد وأبي يعلى: وقد ساقه البغوي في تفسيره بسنده عن محمد بن فضيل عن الأجلح وهو ابن عبد الله الكندي وقد ضعف بعض الشيء عن الذيال...لكن الحافظ قال عنه في التقريب (1/46): صدوق شيعي من السابعة، وقال الذهبي في الكاشف (1/99): وثقه ابن معين وغيره وضعفه النسائي وهو شيعي. وشيخه الذيال قال الحافظ عنه في تعجيل المنفعة (ص:84): ((عن جابر وابن عمر والقاسم بن مخيمرة، وعنه فطر بن خليفة وحصين والأجلح وحجاج بن أرطأة: وثقه ابن حبان)). وبقية رجال الإسناد ثقات.)

(قریش ایک دن جمع ہوئے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کسی اچھے جادو جاننے والے کاہن اور شاعر شخص کو لاکر اس شخص( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بات کرائی جائے، جس نے ہماری جماعت میں پھوٹ ڈال دیا، شیرازہ منتشر کر ڈالا اور ہمارے دین میں عیب نکالے ۔تاکہ دیکھا جائے کہ وہ کیا جواب دیتا ہے۔تمام نے کہا: ان خصائل کا حامل صرف عتبہ بن ربیعہ ہے۔ لوگوں نے کہا: اے ابو الولید !آپ کوشش کر کے دیکھیں، عتبہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد!صلی اللہ علیہ وسلم ‘آپ بہترہیں یا (آپ کے والد)عبداللہ؟’‘آپ خاموش رہے’پھر کہا: ‘آپ بہتر ہیں یا(آپ کے دادا) عبدالمطلب ؟’آپ پھر بھی خاموش رہے ،پھر کہا:‘اگر آپ انہیں اپنے سے بہتر مانتے ہیں تو انہوں نے بھی انہیں خداؤں کی پرستش کی ہے جن کے عیب آپ بیان کر رہے ہیں، اگر آپ اپنے کو ان سے بہتر سمجھ رہے ہوں تو آپ ارشاد فرمائیں ہم سنیں گے، کیوں کہ ہم نے آج تک آپ کی قوم میں کوئی کمزوری وبزدلی نہیں دیکھی جو آپ سے زیادہ بد شگون ہو، آپ نے ہماری جماعت میں پھوٹ ڈال دی، صفوں میں انتشار پھیلایا ،ہمارے دین میں عیب نکالے اور ہمیں عرب میں رسوا کر دیا، یہاں تک کہ لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ قریش میں ایک جادو گر پیدا ہوا ہے اور کاہن نکلا ہے، اللہ کی قسم! اب ہمیں اس کے علاوہ کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ ہم ایک دوسرے پر تلواریں سونت کر پل پڑیں اور آپس میں ہی ایک دوسرے کو فنا کے گھاٹ اتار دیں، اے شخص! اگر آپ کی کوئی ضرورت ہو تو بتادیں تاکہ دولت کے انبار آپ کے قدموں پر لگادیں اور آپ مکہ کے سب سے بڑے رئیس اور مال دار بن جائیں، اگر حسین و جمیل عورتوں کی خواہش ہے تو قریش کی ایک نہیں دس عورتوں سے شادی کرادیں گے ’۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘کیا آپ فارغ ہوگئے؟’اس نے کہا: ‘ہاں’۔ آپ نے فرمایا:‘اب میری سنو’۔ اس نے کہا: ‘ٹھیک ہے سنوں گا’۔ آپ نے فرمایا:
﴿بسم اللہ الرحمن الرحیم : حم۔تَنزِيلٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ۔وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُونَ﴾ (سورۃ فصلت:1-5)
(شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ حم، یہ رحمن اور رحیم کی طرف سے نازل کی ہوئی ایسی کتاب ہے جس کی آیات کھول کھول کر بیان کر دی گئی ہیں، عربی قرآن، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں، جو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر نے منہ موڑا اور وہ سنتے نہیں ہیں، کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو اس کے لئے ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے ،ہمارے کانوں میں بہرا پن ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ حائل ہے ،تم اپنا کام کرو، ہم بھی اپنا کام کریں گے)

عتبہ دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیک لگا کر چپ چاپ سنتا رہا، جس وقت آپ اس پر پہنچے :
﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾ً (سورۃ فصلت:۱۳)
(اگر اب بھی یہ رو گردانی کریں تو آپ فرمادیں میں تمہیں اس کڑک سے ڈراتا ہوں جو عادو ثمود کے کڑک کی طرح ہوگی )

عتبہ نے سنا تو چلا اٹھا : بس کریں، بس کریں، کیا آپ کے پاس اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ نے فرمایا: کچھ نہیں ۔ عتبہ اٹھا اور قریش کے پاس آیا، لوگوں نے پوچھا کیا خبر لائے ہو؟اس نے کہا: ہر وہ بات جو تم اس سے کرنا چاہتے تھے ،میں نے کی ،لوگوں نے کہا: پھر اس نے کیا جواب دیا؟ اس نے کہا: رب کعبہ کی قسم! میں اس کی کوئی بات سمجھ نہیں سکا سوائے اس کے کہ اس نے اس کڑک سے ڈرایا ہے جو عاد اور ثمود کی کڑک کی طرح ہے۔ لوگوں نے کہا: افسوس وہ تم سے عربی میں بات کر رہا تھا اور تم اتنا بھی سمجھ نہیں پائے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم !میں کڑک کے سوا کچھ سمجھ نہیں سکا).

[31]: دوسری آیت میں جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ تھا اس کا بھی ذکر فرمایا:
﴿وَإِنْ مَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ﴾ (الرعد: 40)
(اور اگر ہم آپ کو اس میں سے کچھ دکھا دیں جس کا ہم انہیں وعدہ دیتے ہيں یا پھر اس سے قبل ہی موت دے دیں، بہرحال آپ کے ذمہ تو واضح پیغام پہنچا دینا ہے اور ہماری ذمہ کرم پر ہے ان کا حساب لینا )

[32]: صحیح بخاری 3231، صحیح مسلم 1797

تمام مواد اصلی اہل سنت ویب سائٹ سے حاصل کیا گیا۔

بشکریہ: اردو مجلس فورم
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
235
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
88
واہ بھائی واہ سرکاری مولوی کی ہرزہ سرائی خوب ہے سعودی عرب کی تو ساری دولت امریکہ لوٹ لوٹ کر لے گیا اویہ بے چارے وہاں سعودیوں کے خوف سے تو گنگ ہو گئے البتہ اسامہ مظلوم انکو مل گیا ہے۔ ان سر کاری دین فروش مولویوں نے اس امت کو تباہ کیا ہے ۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,347
پوائنٹ
180
جہادِافغانستان سے متعلق حقائق اور سلفی تجزیہ
سبحان اللہ اب تجزیہ بھی سلفی ہونے لگا۔کہیں وہ نوبت نہ آجائے کہ خوردونوش بھی سلفی ہوجائے۔

پیسوں سے لدھے ہوئے ہوائی جہاز وہاں بھیجے
کسی اورنے بھی کبھی یہ بات سنی ہے سعودی حکومت نے پیسوں سے لدے ہوائی جہاز افغانستان بھیجے تھے؟

حکومتیں اپنے مفادات کے تابع ہواکرتی ہیں اورحاکمان شہر وملک اپنے ذاتی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں۔ اسلام کے نام کی رٹ ان کیلئے ایک بھونپو سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
 

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
جمشید اپنے کام سے کام رکھا کرو

دیوبندیوں کا جہاد

اللہ اپنے دین کا کام فاجر اور فاسق سے بھی لے سکتا ہے۔اس لئے دیوبندیوں کا جہادکرنا ہر گز اس بات کی علامت یا دلیل نہیں کہ یہ لوگ حق پر ہیں۔کفریہ اور شرکیہ عقائد رکھنے کی وجہ سے انکا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا انہیں ذرہ برابر فائدہ نہیں دے گا۔جہاد ہو یا کوئی دوسری نیکی، اللہ کی بارگاہ میں صرف صحیح العقیدہ لوگوں کی مقبول ہوتی ہے۔

بعض نادان لوگوں کا خیال ہے کہ چند دیوبندیوں کو چھوڑ کر باقی دیوبندی عقائد کی خرابی میں مبتلا نہیں۔ان دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ ان کی نری خوش فہمی ہے اور حقیقت اسکے برعکس ہے۔ دیوبندیوں کو باآسانی دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک ان علماء اور طلباء کا گروہ جو نہ صرف اپنے کفریہ مذہبی عقائد سے پوری طرح باخبر ہے اور ان عقائد باطلہ کو حق جانتاہے بلکہ عام عوام کو بھی ان غلط نظریات و عقائد کی طرف دعوت دیتا ہے۔ دوسرا وہ گروہ جسے ہم عوام کہہ سکتے ہیں جو عموماً کچھ عقائد سے بے خبر ہوتا ہے لیکن جب انکے خراب مذہبی عقائد کی نشاندہی کی جاتی ہے تو وہ بغیر علم کے تاؤیل کرتا ہے حتی کہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود بھی اپنے کفریہ اور شرکیہ عقائد رکھنے والے اکابرین سے براء ت اور بے زاری کا اظہار نہیں کرتابلکہ الٹا ان اکابرین کو حق پر جانتا اور انکی نجات کا عقیدہ رکھتا ہے۔اس گروہ کا حکم بھی پہلے گروہ والا ہے۔ کیونکہ جس طرح کفر اور شرک سے براء ت ضروری ہے اسی طرح کفر اور شرک کے حاملین سے بے زاری اور لاتعلقی بھی لازمی ہے۔

پس موجودہ کفریہ اور شرکیہ عقائد کے ساتھ ان دیوبندیو ں کی نمازبھی مردود ہے اور جہاد بھی۔بہت سے لوگ طالبان دیوبندیوں سے بہت ہمدردی رکھتے ہیں حالانکہ یہ لوگ بہت ظالم ، بدعقیدہ اور اہل حدیث سے شدید بغض رکھنے والے ہیں۔سید طیب الرحمن زیدی حفظہ اللہ کے طالبان کے بارے میں زاتی مشاہدات پیش خدمت ہیں جو ہمارے دعویٰ پر مضبوط دلیل ہے۔ملاحظہ ہو:

طالبان کا جہاد

راقم جہاد سے عرصہ 12 سال منسلک رہا ہے۔ قریب سے تمام افغانی تنظیموں کو دیکھا ہے۔کشمیر کی وادی میں کشمیریوں کی جہادی تنظیموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

وہ وقت کبھی نہیں بھولتا:
01۔ جب طالبان دیوبندیوں نے افغانستان میں عرب کے شہزادوں کو کنڑ میں چھری کے ساتھ ذبح کیا تھا۔
02۔ جب طالبان دیوبندیوں نے شیخ جمیل الرحمن رحمہ اللہ (امیر جماعت الدعوۃ والسنتہ افغانستان) کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔
03۔ جب طالبان دیوبندیوں نے مال غنیمت سمجھ کر سلفیوں کا مال لوٹ لیا تھا۔
04۔ جب طالبان دیوبندیوں نے صوبہ کنڑ کی اسلامی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا۔
05۔ جب طالبان دیوبندیوں نے مدارس و مساجد اور قرآن کو جلادیا تھا۔
06۔ جب طالبان دیوبندیوں نے بٹگرام میں اہل حدیث مسجد کو آگ لگا دی تھی۔
07۔ جب طالبان دیوبندیوں نے بٹگرام کی مسجد کے میڑیل کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا تھا۔
08۔ جب طالبان دیوبندیوں نے عبدالحکیم شہر موصوف کی مسجد کو آگ لگا دی تھی۔
09۔ جب طالبان دیوبندیوں نے عبدالحکیم شہر کو تین دن تک اہل حدیث کی دشمنی میں سیل رکھنے کی کوشش کی تھی۔
10۔ جب طالبان دیوبندیوں نے میلسی شہر میں مسجد توحید اہل حدیث پر حملہ آور ہونے کے لیے بریلویوں کے ساتھ اجتماعی جلوس کا اعلان کیا تھا۔
11۔ جب طالبان دیوبندیوں نے مرکز اہل حدیث2 /G-11 اسلام آباد پر حملہ کردیا تھا۔
12۔ جب طالبان دیوبندیوں نے حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
13۔ جب طالبان دیوبندیوں کے مفتی عبدالسلام نے کہا تھا افغانستان میں بھی تمہیں ماراتھا اب پاکستان میں بھی تمہیں ماریں گے۔
14۔ جب طالبان دیوبندیوں نے فجر کی نماز کے وقت دکتور سید طالب الرحمن حفظہ اللہ پر قاتلانہ حملہ کیاتھا۔
15۔ جب طالبان دیوبندیوں نے کراچی کی جامع مسجد اور مدرسہ جامعہ الدراسات پر قبضہ کر لیا تھا۔
16۔ جب طالبان دیوبندیوں نے ایبٹ آباد میں مسجد اہل حدیث کی تعمیر اپنے دور حکومت میں رکوائی تھی۔
17۔ جب طالبان دیوبندیوں نے ایبٹ آباد کی مسجد اہل حدیث پر تعمیر کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔
18۔ جب پاکستانی طالبان دیوبندیوں نے افغانی طالبان کے ساتھ مل کر شاہ خالد کو قتل کیا تھا۔
19۔ جب پاکستانی طالبان نے شاہ خالد کے معسکر کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا تھا۔
20۔ جب طالبان دیوبندیوں نے شیخ عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کو کئی ماہ تک قید وبند کی مصیبت میں مبتلا کیا تھا۔
21۔ جب طالبان دیوبندیوں نے مفتی عبدالرحمن رحمانی رحمہ اللہ کو اور ان کی بیوی محترمہ کو ذود کوب کیا تھا۔
22۔ جب طالبان دیوبندیوں نے افغانستان میں رفع الیدین کرنے پر ہاتھ اور انگلی شہادت حرکت دینے پر انگلی کاٹ دی تھی۔
23۔ طالبان کی حکومت میں جب سلفی علماء کا وفد ہوٹل کے کمرے میں بند نماز پڑھتا تھاکہ طالبان اس نماز کو پسند نہیں کرتے فتنہ کا ڈر ہے۔
24۔ طالبان حکومت کے قائم ہونے کے بعد پاکستان کے دیوبندیوں نے علی الاعلان کہنا شروع کردیاتھا ’’اب سلفیوں تمہاری باری ہے‘‘ کیا طالبان کی حکومت کا قیام سلفیت کے خاتمے کا پیغام ہے۔
(نماز میں امام کون؟ از سید طیب الرحمن زیدی، صفحہ 147)
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,965
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
412
جس کی بھی سنو وہی دلائل رکھتا ہے۔
ایسا ہرگز نہیں کہ حق بھی دلائل رکھتا ہو اور باطل بھی ۔بلکہ باطل پرست دلائل کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں اسے جاننے کے لئے ٹائپسٹ بھائی آپکو اپنا علم بڑھانا چاہیے۔
 
Top