• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہاز میں افطاری کرنے کا وقت

عمیر

تکنیکی ذمہ دار
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
714
پوائنٹ
199
السلام علیکم و رحمۃ اللہ،

میں کل کراچی سے لاہور کا سفر کر رہا ہوں میری فلائٹ شام 7:00pm کی ہے جبکہ کراچی میں افطاری کا وقت 7:23pm ہے.
اور اب سوال یہ ہے کہ اس کیس میں ہمارا افطاری کا وقت کیا ہو گا. کیا پائلٹ جس بھی وقت افطار کروائے کر لیں؟ یا اس پر کوئی فتوٰی موجود ہے؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اس کا ایک ”اصول“ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ آپ کا جہاز جس ”زمین“ کے اوپر سے گزر رہا ہے، آپ اُس زمین کے وقت غروب آفتاب کے مطابق افطار کریں گے۔
واللہ اعلم بالصواب
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
427
پوائنٹ
198
السلام علیکم و رحمۃ اللہ،

میں کل کراچی سے لاہور کا سفر کر رہا ہوں میری فلائٹ شام 7:00pm کی ہے جبکہ کراچی میں افطاری کا وقت 7:23pm ہے.
اور اب سوال یہ ہے کہ اس کیس میں ہمارا افطاری کا وقت کیا ہو گا. کیا پائلٹ جس بھی وقت افطار کروائے کر لیں؟ یا اس پر کوئی فتوٰی موجود ہے؟
ہوائی جہاز کا مسافر افطاری کب کرے گا

ہوائي جہاز کا مسافر کب روزہ افطار کرے گا ؟
Published Date: 2009-08-25
الحمد للہ
( جب کوئي شخص زمین پر غروب شمس ہونے پر روزہ افطار کرلے اورپھر ہوائي جہاز پرسفر کرے اورفضا میں سورج موجود دیکھے تواس پرلازم نہیں کہ وہ کھانے پینے سے گریز کرے کیونکہ وہ اپنے اس دن کے روزہ کو مکمل کرچکا ہے ، اس لیے کہ عبادت کومکمل کرنے کے بعد لوٹانے کی کوئي ضرورت نہیں ۔
اورجب سورج غروب ہونے سے چند منٹ قبل ہوائي جہاز اڑان بھرے تواگر کوئي شخص اپنے اس دن کے روزہ کو سفر میں پورا کرنا چاہے تو وہ غروب شمس سے قبل افطاری نہیں کرسکتا جب تک وہ سورج کو دیکھتا رہے گا افطاری نہ کرے بلکہ جہاں اورجس فضا میں اسے سورج غروب ہوتا نظر آئے وہاں ہی وہ افطاری کرے گا ۔
اوراسی طرح ہوائي جہاز کے کپتان کےلیے جائز نہیں کہ وہ صرف افطاری کرنے کے لیے ہوائي جہاز کی بلندی کم کرے تا کہ اسے سورج نظر نہ آسکے اوروہ افطاری کرلے ، کیونکہ ایسا کرنا ایک حیلہ ہے ، لیکن اگر وہ ہوائي جہاز کی کسی مصلحت کےلیے بلندی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے سورج کی ٹکیا غائب ہوجائے تو پھر اسے افطاری کرنے کی اجازت ہے ) ۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا بالمشافہۃ فتوی آپ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں کتاب ( سبعون مسئلۃ فی الصیام ) روزوں کے ستر مسائل ۔ کا مطالعہ کریں ۔
لجنۃ دائمہ ( مستقل فتوی کمیٹی ) کا فتوی ہے :
جب کوئي روزہ دار ہوائي جہاز میں ہو اوراسے گھڑی یا پھر ٹیلی فون کے ذریعہ اپنے قریب ترین ملک میں افطاری کے وقت کا علم ہوجائے کہ وہاں افطاری ہوچکی ہے لیکن وہ خود ہوائي جہاز کی بلندی کی وجہ سے فضا میں سورج دیکھ رہا ہو تو اسے اس وقت تک افطاری کرنا جائز نہیں جب تک سورج کی ٹکیا غائب نہیں ہوجاتی ۔
کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ پھر تم رات تک روزہ پورا کرو } ۔
اورروزہ دار جب تک سورج کی ٹکیا دیکھ رہا ہے اس وقت تک اس کی انتہاء نہیں ہوسکتی لھذا وہ سورج غائب ہونے پر ہی افطاری کرے گا ۔
لیکن جب کوئي شخص کسی ملک میں سورج غروب ہونے پر افطاری کرلے اورپھر جب ہوائی جہاز پر سوار ہوکرفضا میں پہنچے تو سورج دیکھنے پر اس کی افطاری قائم رہے گی ، کیونکہ اس کا حکم تو اسی ملک کا تھا جہاں سے اس نے اڑان بھری تھی اوراس وقت سورج غروب ہوچکا تھا ۔ ا ھـ
اورایک دوسرے فتوی میں فتوی کمیٹی کا فتوی ہے :
اگر کوئي شخص رمضان المبارک میں دن کے وقت روزہ کی حالت میں ہوائي جہاز کا سفر کر رہا ہو اوروہ اپنے روزہ کو پورا کرنا چاہے تو اس کے لیے غروب آفتاب سے قبل افطاری کرنا جائز نہیں ۔ ا ھـ
دیکھیں مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 136 - 137 ) ۔
واللہ اعلم .
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
السلام علیکم و رحمۃ اللہ،

میں کل کراچی سے لاہور کا سفر کر رہا ہوں میری فلائٹ شام 7:00pm کی ہے جبکہ کراچی میں افطاری کا وقت 7:23pm ہے.
اور اب سوال یہ ہے کہ اس کیس میں ہمارا افطاری کا وقت کیا ہو گا. کیا پائلٹ جس بھی وقت افطار کروائے کر لیں؟ یا اس پر کوئی فتوٰی موجود ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اگر افطاری سے قبل جہاز میں سوار ہوا ، تو جب تک جہاز میں سورج نظر آرہا ہے ،وہ افطار نہیں کرسکتا ، جب وہاں سورج غروب ہوگا اس وقت ہی افطار کرسکے گا ،کیونکہ بندہ جہاں ہوتا اسی جگہ کے لحاظ سے احکام لاگو ہوتے ہیں ،
اس پر درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں ::
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :
ہوائي جہاز کا مسافر کب روزہ افطار کرے گا ؟
جواب ::
الحمد للہ
( جب کوئي شخص زمین پر غروب شمس ہونے پر روزہ افطار کرلے اورپھر ہوائي جہاز پرسفر کرے اورفضا میں سورج موجود دیکھے تواس پرلازم نہیں کہ وہ کھانے پینے سے گریز کرے کیونکہ وہ اپنے اس دن کے روزہ کو مکمل کرچکا ہے ، اس لیے کہ عبادت کومکمل کرنے کے بعد لوٹانے کی کوئي ضرورت نہیں ۔
اورجب سورج غروب ہونے سے چند منٹ قبل ہوائي جہاز اڑان بھرے تواگر کوئي شخص اپنے اس دن کے روزہ کو سفر میں پورا کرنا چاہے تو وہ غروب شمس سے قبل افطاری نہیں کرسکتا جب تک وہ سورج کو دیکھتا رہے گا افطاری نہ کرے بلکہ جہاں اورجس فضا میں اسے سورج غروب ہوتا نظر آئے وہاں ہی وہ افطاری کرے گا ۔

اوراسی طرح ہوائي جہاز کے کپتان کےلیے جائز نہیں کہ وہ صرف افطاری کرنے کے لیے ہوائي جہاز کی بلندی کم کرے تا کہ اسے سورج نظر نہ آسکے اوروہ افطاری کرلے ، کیونکہ ایسا کرنا ایک حیلہ ہے ، لیکن اگر وہ ہوائي جہاز کی کسی مصلحت کےلیے بلندی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے سورج کی ٹکیا غائب ہوجائے تو پھر اسے افطاری کرنے کی اجازت ہے ) ۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا بالمشافہۃ فتوی آپ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں کتاب ( سبعون مسئلۃ فی الصیام ) روزوں کے ستر مسائل ۔ کا مطالعہ کریں ۔

لجنۃ دائمہ ( مستقل فتوی کمیٹی ) کا فتوی ہے :

جب کوئي روزہ دار ہوائي جہاز میں ہو اوراسے گھڑی یا پھر ٹیلی فون کے ذریعہ اپنے قریب ترین ملک میں افطاری کے وقت کا علم ہوجائے کہ وہاں افطاری ہوچکی ہے لیکن وہ خود ہوائي جہاز کی بلندی کی وجہ سے فضا میں سورج دیکھ رہا ہو تو اسے اس وقت تک افطاری کرنا جائز نہیں جب تک سورج کی ٹکیا غائب نہیں ہوجاتی ۔

کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ پھر تم رات تک روزہ پورا کرو } ۔

اورروزہ دار جب تک سورج کی ٹکیا دیکھ رہا ہے اس وقت تک اس کی انتہاء نہیں ہوسکتی لھذا وہ سورج غائب ہونے پر ہی افطاری کرے گا ۔

لیکن جب کوئي شخص کسی ملک میں سورج غروب ہونے پر افطاری کرلے اورپھر جب ہوائی جہاز پر سوار ہوکرفضا میں پہنچے تو سورج دیکھنے پر اس کی افطاری قائم رہے گی ، کیونکہ اس کا حکم تو اسی ملک کا تھا جہاں سے اس نے اڑان بھری تھی اوراس وقت سورج غروب ہوچکا تھا ۔ ا ھـ

اورایک دوسرے فتوی میں فتوی کمیٹی کا فتوی ہے :

اگر کوئي شخص رمضان المبارک میں دن کے وقت روزہ کی حالت میں ہوائي جہاز کا سفر کر رہا ہو اوروہ اپنے روزہ کو پورا کرنا چاہے تو اس کے لیے غروب آفتاب سے قبل افطاری کرنا جائز نہیں ۔ ا ھـ

دیکھیں مجموع فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 136 - 137 ) ۔

واللہ اعلم .
https://islamqa.info/ur/37670
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور الامارات حکومت کے محکمہ اوقاف و مذہبی امور کا فتوی بھی یہی ہے
الهيئة العامة لشئون الاسلامية والاوقاف
عنوان الفتوى: الإفطار في الطائرة بين بلدين
عند العودة من العمرة أكون بالطائرة أثناء المغرب والعشاء فهل أفطر على توقيت الإمارات أم على توقيت السعودية؟

نص الجواب
رقم الفتوى
6954
18-سبتمبر-2009

الحمدلله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف المرسلين سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد..

فاعلم يا أخي السائل الكريم بارك الله بك وجزاك الله خيراً، وجعلك من عباده الصالحين:

يفطر الصائم المسافر بالطائرة إذا غربت الشمس في مكانه من الجو، ولا علاقة له بتوقيت البلد التي سافر منها، ولا البلد التي يتجه إليها، ولا البلد التي يحلق فوقها لأن الله سبحانه وتعالى قد علق الإفطار والإمساك بتَبَيُّن الصائم غروبَ الشمس وطلوعَ الفجر؛ فقال تعالى: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾ [البقرة: ١٨٧].

وعن عمر بن الخطاب رضى الله عنه قال: قال النبى صلى الله عليه وآله وسلم: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ» متفق عليه، وهذا كله يدل على أن العبرة في الإفطار تحقق الصائم من غروب الشمس إمّا حسَّاً برؤيته هو أو بخبر من يُعتَدُّ به في ذلك.

ومن المعلوم أن الإنسان كلما ارتفع عن سطح الأرض تأخر غروب الشمس فى حقه، وذلك بسبب كُرَوِيّة الأرض، وحينئذٍ فمقتضى القواعد الشرعية أنه لا إفطار حتى تغرب الشمس فى حق الصائم نفسه، جاء في كتاب تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق للزيلعى الحنفي: " رُوِيَ أَنَّ أَبَا مُوسَى الضَّرِيرَ الْفَقِيهَ صَاحِبَ (الْمُخْتَصَر) قَدِمَ الإِسْكَنْدَرِيَّة، فَسُئِلَ عَمَّنْ صَعِدَ عَلَى مَنَارَةِ الإِسْكَنْدَرِيَّةِ فَيَرَى الشَّمْسَ بِزَمَانٍ طَوِيلٍ بَعْدَمَا غَرَبَتْ عِنْدَهُمْ فِى الْبَلَدِ، أَيَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفْطِرَ؟ فَقَالَ: لا، وَيَحِلُّ لأَهْلِ الْبَلَدِ؛ لأَنَّ كُلاًّ مُخَاطَبٌ بِمَا عِنْدَهُ ". والله أعلم.
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
غروب آفتاب سے نصف گھنٹہ پہلے جہاز نے پرواز شروع کی ۔۔
شروع از بتاریخ : 02 November 2013 08:59 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رمضان میں ریاض ایئر پورٹ سے غروبآفتاب سےقریبا نصف گھنٹہ پہلے ہوائی جہازان شاء اللہ پرواز شروع کرے گا،ہم ابھی سعودیہ کی فضا ہی میں ہوں گے جب اذان مغرب شروع ہوجائے گی توکیا ہم اس وقت روزہ افطارکردیں ؟اوراگرہم ابھی تک سورج کو دیکھ رہے ہوں اوراکثر وبیشتر صورتوں میں ایسے ہی ہوتا ہے توکیا ہم ابھی حالت روزہ ہی میں رہیں اوراپنے ملک جاکر افطار کریں یا محض سعودیہ کی اذان کے مطابق افطار کریں؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب غروب آفتاب سے قبل طیارہ مغرب کی طرف پرواز شروع کردے توآپ کو روزہ ہی کی حالت میں رہنا ہوگاحتی کہ فضا میں سورج غروب ہوجائے یا آپ کسی ایسے شہر میں اترپڑیں جہاں سورج غروب ہوچکاہو کیونکہ نبی کریمﷺکا ارشاد ہے کہ ‘‘جب رات ادھر سے آجائے اوردن ادھر سے چلا جائے اورسورج غروب ہوجائے توروزہ دارنے روزہ افطارکردیا۔’’ (متفق علیہ)


صفحہ 282

محدث فتویٰ
 

عمیر

تکنیکی ذمہ دار
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
714
پوائنٹ
199
السلام علیکم و رحمۃ اللہ،

جزاکم اللہ، ماشاءاللہ کافی فائدہ ہوا آپ لوگوں سے پوچھ کر. کیونکہ جہاز میں کافی کنفیوژن تھی. کئی لوگوں نے تو سورج کی روشنی ہی میں کراچی کے افطار ٹائم پر افطاری کر لی.
اللہ سب کا روزہ قبول فرمائے آمین.
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم و رحمۃ اللہ،

جزاکم اللہ، ماشاءاللہ کافی فائدہ ہوا آپ لوگوں سے پوچھ کر. کیونکہ جہاز میں کافی کنفیوژن تھی. کئی لوگوں نے تو سورج کی روشنی ہی میں کراچی کے افطار ٹائم پر افطاری کر لی.
اللہ سب کا روزہ قبول فرمائے آمین.
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کو کم از کم ایک بار جہاز میں ممکنہ لوگوں تک مذکورہ مسئلہ بیان کر دینا چاہیئے تھا.
ویسے پائیلٹ کی طرف سے کوئی اعلان وغیرہ نہیں ہوا؟
 

عمیر

تکنیکی ذمہ دار
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
714
پوائنٹ
199
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کو کم از کم ایک بار جہاز میں ممکنہ لوگوں تک مذکورہ مسئلہ بیان کر دینا چاہیئے تھا.
ویسے پائیلٹ کی طرف سے کوئی اعلان وغیرہ نہیں ہوا؟
جی نعیم بھائی باقاعدہ فلائٹ اٹینڈینٹ نے سب کو بتایا تھا اور سورج غروب ہونے کے بعد پائلٹ نے اناؤنس بھی کیا. اتفاقاً میرے کروم کے کیشے میں یہ پیج موجود تھا جو کہ میں نے اپنی اگلی سیٹ والے صاحب کو دکھایا مگر وہ پہلے ہی روزہ کھول چکے تھے.
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
میں کل کراچی سے لاہور کا سفر کر رہا ہوں میری فلائٹ شام 7:00pm کی ہے جبکہ کراچی میں افطاری کا وقت 7:23pm ہے.
آپ نے لکھا کہ 15 جون 2016 کو
کراچی میں افطاری کا وقت 7:23pm ہے، لیکن یہ وقت تو اسلام آباد سے اٹک تک کیلئے تھا،اور ہمارا کراچی سے غروب آفتاب کا فرق تقریبا آٹھ دس منٹ کا ہے ، یعنی کراچی میں آٹھ منٹ بعد غروب ہوتا ہے
 

عمیر

تکنیکی ذمہ دار
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
714
پوائنٹ
199
آپ نے لکھا کہ 15 جون 2016 کو
کراچی میں افطاری کا وقت 7:23pm ہے، لیکن یہ وقت تو اسلام آباد سے اٹک تک کیلئے تھا،اور ہمارا کراچی سے غروب آفتاب کا فرق تقریبا آٹھ دس منٹ کا ہے ، یعنی کراچی میں آٹھ منٹ بعد غروب ہوتا ہے
اسحاق بھائی، اس مرتبہ میں بھی حیران ہوں کیونکہ اس مرتبہ لاہور اور کراچی کا فرق بھی صرف 12منٹ کا ہے.
کراچی کے اوقات نماز اٹیچ کر دیے ہیں
 

اٹیچمنٹس

Top