1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہمیہ کے عقائد

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد موسی, ‏مارچ 16، 2012۔

  1. ‏مارچ 16، 2012 #1
    محمد موسی

    محمد موسی رکن
    جگہ:
    یو -ایس -اے
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم ! درج ذیل اقتباس""اہل السنّۃ کون اورمُرجئہ کون ہیں؟ (آئمۂ سلف کی نظر میں)"" از ""الشیخ ابو عبد اللہ طارق"" سے لیا گیا ہے۔ مفصل مضمون اس سائٹ پر موجود ہے ۔http://www.sadiqeen.com
    جہمیہ​
    یہ لوگ جہم بن صفوان کے پیروکار ہیں یہ 128ھ میں قتل ہوا اسے مسلم بن احوذ مازنی نے مرو کے مقام پر قتل کرا دیا تھا۔
    من غالی منهم وقال إنه المعرفة وهو قول الجحهم بن صفوان و من وافقه ویلزم من قولهم هذا أن ابلیس و فرعون لعنهما الله تعالیٰ کانا مؤمنین کاملی الإیمان وأن معنی الکفر عندهم هو الجهل بالرب تعالیٰ فقط وهذا النوع أشد أنواع الأرجاء و أخطرها )(الموسوعۃ المیسرۃ:2؍1154)
    ’’ ان میں سے کچھ نے غلو اختیا رکیا او رکہا کہ ایمان معرفت ہے اور یہ جہم بن صفوان او راس کے موافق لوگوں کا قول ہے او ران کے اس قول سے لازم آتا ہے کہ ابلیس اور فرعون، ان پر اللہ کی لعنت ہو، مومن، کامل ایمان والے تھے، اور ان کے نزدیک کفر صرف رب تعالیٰ سے جہالت ہے او ریہ قسم إرجاء کی قسموں میں سے سب سے زیادہ سخت اور خطرناک ترین ہے۔‘‘
    امام ابن تیمیہ  لکھتے ہیں:
    وعند الجهمیة إذا کان العلم فی قلبه فهو مؤمن کامل الإیمان إیمانه کإیمان النبیین ولوقال و عمل ماذا (مجموع الفتاویٰ:7؍143)
    ’’ جہمیہ کے نزدیک جب دل میں (رب کے متعلق) علم ہے تو وہ کامل ایمان والا مومن ہے اس کا ایمان نبیوں کے ایمان کی طرح ہے اگرچہ وہ کچھ بھی کہے اور کرے۔ ان کے نزدیک عمل قلب بھی ایمان میں شامل نہیں ہے ۔‘‘
    جیسا کہ امام ابن تیمیہ  لکھتے ہیں:
    ومنهم من لا یدخلها فی الإیمان کجهم ومن اتبعه کالصالحی (الایمان :ص 155)
    ’’او ران کے نزدیک ایمان شئ واحد ہے دل میں ۔‘‘ (الایمان :ص 308)
    مزید فرماتے ہیں:
    الإیمان مجرد معرفة القلب وإن لم یقر بلسانه واشتد نکیرهم لذلك حتی أطلق وکیع بن الجراح وأحمد بن حنبل وغیرهما کفر من قال ذلك فإنه من أقوال الجهمیة (مجموع الفتاویٰ:7؍508)
    (ایک قول یہ ہےکہ ) ’’ایمان صرف معرفت قلب ہے اگرچہ زبان سے اقرار نہ بھی کرے (ائمہ سلف نے) بڑی شدت سے ان کی تردید کی ہے حتیٰ کہ وکیع بن جراح اور احمد بن حنبل نے ایسے لوگوں پر کفر کا اطلاق کیا ہے او ربلا شبہ یہ جہمیہ کے اَقوال میں سے ہے۔‘‘
    او رامام بخاریفرماتے ہیں:
    نظرت فی کلام الیهود والنصاریٰ والمجوس فما رأیت قوما أضل فی کفرهم من الجهمیة وإنی لأستجهل من لا یکفرهم إلا من لا یعرف کفرهم و قال ما أبالی صلیت خلف الجهمي والرافضی أم صلیت خلف الیهود و النصاریٰ (شرح السنۃ للبغوی:1؍194،195؛ خلق افعال العباد: رقم 31، 51)
    ’’میں نے یہود و نصاریٰ او رمجوس کے کلام میں غورو فکر کیا ہے پس میں نے کسی ایسی قوم کو نہیں دیکھا جو اپنے کفر میں جھمیہ سے بڑھ کر گمراہ ہوں اور جو ان کی تکفیر نہیں کرتا میں اس کو جاہل سمجھتا ہوں سوائے اس کے جسے ان کے کفر کا علم ہی نہ ہو، اور (مزید) فرماتے ہیں : مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں جھمی اور رافضی کے پیچھے نماز پڑھ لو ں یا یہودی اور عیسائی کے پیچھے۔‘‘
     
  2. ‏مارچ 16، 2012 #2
    محمد موسی

    محمد موسی رکن
    جگہ:
    یو -ایس -اے
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم ! جہمیہ کے عقائد کے بارے میں اگر کوئی صاحب معلومات رکھتے ہوں تو شیئر کریں ۔
    "" جہمیہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی تمام صفات کی نفی کرتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ اللہ ”وجود مطلق“ کا نام ہے‘ پھر اس کے لئے جسم بھی مانتے ہیں‘ جنت اور جہنم کے فناہونے کے قائل ہیں‘ ان کے نزدیک ایمان صرف ”معرفت“ کا نام ہے‘ اور کفر فقط ”جہل“ کا نام ہے‘ یہ اللہ تعالیٰ کے لئے جسم کے قائل ہیں‘ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کاکوئی فعل نہیں ہے‘ اگر کسی کی طرف کوئی فعل منسوب ہوتا ہے تو وہ مجازاً ہے۔ جہم بن صفوان‘ جعد بن درہم کا شاگرد تھا‘ جعد وغیرہ کا مذہب یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ نہیں ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ نہیں ہیں۔""(عقیدہ سفارینیہ: ۱/۹۱‘٩٢)
     
  3. ‏مارچ 16، 2012 #3
    محمد موسی

    محمد موسی رکن
    جگہ:
    یو -ایس -اے
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کو اس کی مخلوق پر بلندی اور معیت کو ثابت کرتے ہیں اور مخلوق میں حلول سے اللہ تعالی کو پاک قرار دیتے ہیں ۔ لیکن معطلۃ یعنی جہمیہ اور ان کے پیروکار اللہ تعالی کی مخلوق پر اس کے علو اور اس کے عرش پر مستوی ہونے کا انکار کرتے اور وہ یہ کہتے کہ اللہ تعالی ہر جگہ پر ہے ۔
     
  4. ‏مارچ 16، 2012 #4
    محمد موسی

    محمد موسی رکن
    جگہ:
    یو -ایس -اے
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    مختصر الصواعق المرسلة على الجهمية والمعطلة ،مؤلف : أبو عبد الله شمس الدين محمد بن أبي بكر بن أيوب بن قيم الجوزية
    http://www.waqfeya.com/book.php?bid=617
     
  5. ‏مارچ 16، 2012 #5
    قاسم

    قاسم مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2012
    پیغامات:
    34
    موصول شکریہ جات:
    97
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    موسی صاحب: ابن داود صاحب سے اس بارے میں بحث جاری ہے وہاں ملاحظہ ہوں جو دلیل مضبوط نظر آئے منتخب کرلینا ورنہ فضول میں دیوبندیوں اور بریلویوں میں خفت اٹھانی پڑیگی اس لئے کہ اس فورم میں بحث ومباحثہ ہی اس لئے ہورہی ہے کہ دلائل کا مکمل جانچ اور موازنہ ہو اور میں حیران ہوں کہ غیر مقلد ہو کے بھی فورم والوں کی تقلید کر رہے ہو خود تحقیق کرو دلائل ڈھونڈ نکالو اور چچچچچھا جاؤ
     
  6. ‏مارچ 16، 2012 #6
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    لگتا ہے قاسم بھائی تقلید کا سبق آپ کو ایک بار پھر پڑھانا ہی پڑے گا۔ہر دو چار دن بعد آپ بھول جاتے ہیں اور تقلید پر عجیب وغریب باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ایسی باتیں جس کی زد سیدھی آپ کے علماء کی باتوں پر پڑتی ہے۔شاہد نذیر بھائی اس سبق کے استاد بن جائیں آپ کے تو ایسا یاد ہوگا کہ کبھی بھول بھی نہیں پاؤ گے۔
     
  7. ‏مارچ 16، 2012 #7
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    اس تھریڈ کو جہمیہ زمرے میں منتقل کر دیا جائے۔
     
  8. ‏مارچ 16، 2012 #8
    محمد موسی

    محمد موسی رکن
    جگہ:
    یو -ایس -اے
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم ! محترم انس نضر صاحب ، اوپر تھریڈ میں جہمیہ سے متعلق امام ابن قیم کی کتاب کا لنک دیا ہے ۔آپ یا اگر کوئی اور بھائی "" جہمیہ "" سے متعلق کتب کے نام یہاں دے دیں ۔ مجھے امام بخاری اور امام دارمی کی جہمیہ کے رد پر کتاب چاہیے اگر انکا بھی لنک مل جائے تو ممنون ہوں گا ۔جزاک اللہ
     
  9. ‏مارچ 17، 2012 #9
    قاسم

    قاسم مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2012
    پیغامات:
    34
    موصول شکریہ جات:
    97
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    موسی صاحب : آپ نے جو بھی باتیں پیش کی ہیں وہ تاریخی ہیں اور تاریخ واقعات آپ لوگوں کے بغیر سند صحیح قبول نہیں لھذا یا سند پیش کرو یا یہ باتیں کتاب سمیت جیب میں رکھو۔شکریہ ۔گڈ مسلم صاحب : شاہد نذیر صاحب خوب جانتے ہیں کہ کس نے کس کو سبق سکھایا ہے بھائی ہمارا عقیدہ استواء کے بارے میں اور تمام متشابھات کے بارے میں تفویض کا ہے تفویض کا مطلب یہ ہے کہ یہ صفات اپنے معانی حقیقیہ پر محمول ہیں لیکن وہ معانی حقیقیہ ہمیں معلوم نہیں ، شاید اسی کو آپ تجہم کہتے ہیں
    آپ کا عقیدہ ہے کہ صفات کو اس کے معانی حقیقیہ پر محمول کیا جائیگا وہ معانی حقیقیہ معلوم ہیں تو اس کا آپ تعیین کریں کہ کونسے معانی حقیقیہ مراد ہیں ۔
    موسی صاحب بات صرف اس حد تک محدود رکھیں اور اپنا دعوی منقح کریں پھر دعوی پر دلائل و نتائج کی بات ہوگی ۔
     
  10. ‏مارچ 17، 2012 #10
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    خلق أفعال العباد والرد على الجهمية وأصحاب التعطيل ۔ محمد بن إسماعيل البخاري أبو عبد الله ۔ تحقيق۔ فهد بن سليمان الفهيد ۔ دار أطلس الخضراء
    خلق أفعال العباد والرد على الجهمية وأصحاب التعطيل ۔ محمد بن إسماعيل البخاري أبو عبد الله ۔ مؤسسة الرسالة
    خلق أفعال العباد والرد على الجهمية وأصحاب التعطيل ۔ محمد بن إسماعيل البخاري أبو عبد الله ۔ مؤسسة الرسالة ۔ آن لائن مطالعہ کے لئے

    الرد على الجهمية ۔ الإمام عثمان بن سعيد الدارمي تحقيق ۔ بدر البدر ۔ الدار السلفية - الكويت
    الرد على الجهمية ۔ الإمام عثمان بن سعيد الدارمي ۔ آن لائن مطالعہ کے لئے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں