• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہیز ایک معاشرتی لعنت!

ناظم شهزاد٢٠١٢

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 07، 2012
پیغامات
258
ری ایکشن اسکور
1,532
پوائنٹ
120
جہیز

جہیز کے لفظی معنی تیاری یا سامان کی تیاری کے ہیں۔ہندی میں اسے ''دان''یا ''کنیا دان''کہتے ہیں جس کے معنی ''خیرات'' کے ہیں۔اسلام سے پہلے عربوں میںجہاں اور بہت سی برائیاں پائی جاتی تھیں وہاں لڑکیوںکو زندہ درگور کر بھی عام تھا۔غیرت کے نام پر لوگ اپنی ہی بیٹیوں کو زمین میںزندہ دفن کر دیتے تھے کہ کوئی انہیں بیٹی کاباپ ہونے کا طعنہ نہ دے۔اسی طرح بیٹیوں کو باپ کی جائیداد میںسے کوئی حصہ نہیں ملتا تھا۔اسلام نے نہ صرف عورتوں کا جائیداد میں حصہ مقرر کیا بلکہ بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دیا۔
عورت کی زبوں حالی صرف عرب کے علاقے تک محدود نہ تھی بلکہ مصر،عراق،روم اور یونان(جسے تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا ہے) میں بھی عورت کو تحقیر کا نشانہ بنایا جاتارہا۔ہندو معاشرے میں بھی عورت کو نہ صرف باپ کی جائیداد سے محروم رکھا گیا بلکہ شادی کے بعد اگر اس کا خاوند فوت ہوجائے تو اسے بھی بعض اوقات اس کے ساتھ آگ میں جلناپڑتا۔عورت چونکہ باپ کی وارث نہیں بن سکتی تھی اس لیے والدین بوقتِ شادی حسبِ استطاعت اپنی بیٹی کو ''دان''کے نام پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرتے۔اور جن لڑکیوں کے والدین ''دان'' کی سکت نہ رکھتے ان کی بیٹیوں کو معاشرہ بیوی کی حیثیت سے قبول کرنے سے عاری تھا۔
٧١٢ء محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ جب برصغیر میں اسلام کا سورج طلوع ہوا تو یہی ''دان '' ''جہیز'' کے نام میں تبدیل ہوگیا۔چونکہ اب یہ کام کرنے والے صرف ہندو نہیں بلکہ مسلمان بھی تھے۔وہاں سے چلتی ہوئی یہ رسم آج شادی کا لازمی جز بن چکی ہے ۔اور اس سے بڑی افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ''جہیز''کے جواز کے لیے اسلام کے شجر تلے پناہ ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ کی شادی کے موقع پر دیے جانے والے سامان کو جہیز سے تعبیر کرتے ہوئے اسے اسلامی رسم باور کراتے ہیں۔حالانکہ یہ استدلال بالکل بے بنیاد ہے۔واقعہ یوں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تواپنا گھر بار سب کچھ مکہ چھوڑ آئے۔ مدینہ میں آپ مالی لحاظ سے مکہ کی نسبت اتنے مستحکم نہ تھے۔جب آپ کا رشتہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے طے ہوا تو اس وقت آپ کے پاس صرف ایک تلوار ،ایک گھوڑا اور ایک زرہ تھی۔حضور علیہ السلام نے حضرت علی کو زرہ بیچ دینے کا حکم دیا جسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خریدا ۔ان پیسوں سے آپ نے چند گھریلوں استعمال کی بنیادی چیزیں خرید یں۔
اس واقعہ سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں:
١۔ اگر کوئی شخص نیک ہو اگرچہ غریب ہو اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔
٢۔ ازدواجی زندگی میں استعمال ہونے والی چیزوں کا بندوبست کرنا مرد کی ذمہ داری ہے ۔
اس واقعہ سے جہیز کی حلت کی بجائے حرمت ثابت ہورہی ہے ۔کہ جہیز کی تیاری خاوند کی ذمہ داری ہے نہ کہ بیوی اور اس کے گھر والوں کی۔لہٰذا اس روایت سے استدلا ل کرنے والوںکو عقل کے ناخن لینے چاہیں۔
باپ کی وارثت میں بیٹیوں کا ایک معین حصہ قرآن نے مقرر کیا ہے ۔اس کی طرف تو کوئی توجہ نہیں کی جاتی بلکہ اگر کوئی مطالبہ کردے تو اسے معیوب تصور کیا جاتاہے۔ اس کے برعکس جہیز کے بغیر شادی کا تصور بھی ناممکن ہے۔معاشرے میں کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی صرف اس لیے وقت پر نہ ہو سکی کہ ان کے والدین ان کے جہیز کا بندوبست نہ کرسکے۔چند امیر لوگوں کو چھوڑ کر بے شمار لوگوں کی زندگیاں اپنی بیٹیوں کا جہیز تیار کرنے میں گزر جاتی ہیں۔بلکہ اکثر اوقات قرض لے کر اس ہندوانہ رسم کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔اور اگر کوئی خدا ترس اس رسم کو ختم کرنے کے لیے قدم اٹھائے تو اسے معاشرے کی طرف سے زبردست طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
تو آیئے! عہد کریں جہاں تک ممکن ہو سکے ہم اس رسم کو ختم کرنے میں اپنا کردار اداکریں اور لوگوں میںاس کی حقیقت کا شعور بید ار کریں۔تاکہ ہم بھی اس معاشرے کا حصہ بن جائیںجس کی بنیاد آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے محمد رسول اللہ نے رکھی تھی۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔(آمین)
 
P

pakdausheezain

مہمان
[EN][/ENG]
اسلام علیکم جزاک کم اللھ احسن اجزا
[MENTION][/MENTION]
ا
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
جہیز کا مطالبہ واقعی غلط بات ہے لیکن انسان اپنی خوشی سے بہن یا بیٹی کو ضروریات زندگی کی اشیاء خرید کر دے تو اس بات کی ممانعت میں ابھی تک کتاب و سنت کی رو سے کوئی دلیل سامنے نہیں آئی۔کسی کی ذاتی رائے حجت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے دلیل حجت ہے۔اس پر روشنی ڈالیے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو زرہ بیچی تھی کیا وہ حق المھر کے لیے نہیں تھی؟
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,608
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
دس لاکھ کا جہیز۔۔۔
پانچ لاکھ کا کھانا۔۔۔
گھڑی پہنائی۔۔۔
انگھوٹھیb پہنائی۔۔۔
ولیمے والے دن ناشتہ۔۔۔
مکلاوہ کھانا دیگیں۔۔۔
بچہ پیدا ہونا پر خرچہ۔۔۔
بیٹی ہے یا سزا ہے کوئی۔۔۔؟

مرد ہو ناں۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔کرو یہ سب خرچہ خود۔۔۔اور کرو چار شادیاں۔۔۔!!
سنت کیا صرف چار شادیوں پر ہی یاد ہے۔۔؟
باقی سنتوں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے کیا۔۔؟

وہ اکثر اس لیے باپ سے فرمائشیں نہیں کرتی تھی کہ پہلے ہی اسکی شادی کا خرچ اور جہیز بناتے بناتے اسکا باپ مقروض ہونے والا تھا۔۔۔!!

منگنی کے بعد اکثر لڑکے والے آتے رہتے تھے اور مہمان نوازی کرتے کرتے اس کی ماں تھک چُکی تھی۔۔۔مگر پھر بھی خالی جیب کے ساتھ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہر آنے والے کو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھلاتی اور خوش کر کے بھیجتی تھی

کبھی نند ، کبھی جیٹھانی ، کبھی چاچی ساس تو کبھی مامی ساس۔۔۔ہر رشتے کو یکساں احترام دلانے کے لیے وہ الگ الگ ٹولیوں میں آتے رہتے۔۔۔!!

ایسے میں شام کو اسکے بابا جب گھر آتے تو انکے پاس خاموش بیٹھ کر انکا سر دبانے لگتی ، مانو جیسے باپ کو ہمت دلا رہی ہو یا یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ سوری بابا میری وجہ سے آپ قرض لینے پر مجبور ہیں۔۔۔!!

شادی کی تاریخ فکس کرنا ایک تہوار بن چکا ہے، لڑکی والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنے لوگ آئیں گے، انکے کھانے پینے کے علاوہ سب کیلیئے کپڑے خرید کر رکھنے ہوتے ہیں چاہے 5 لوگ ہوں یا 50۔۔۔!!

پھر بارات پر لڑکی کے باپ کو 10 بندے گھیر کر پوچھتے ہیں، جی کتنے بندے آ جائیں۔۔۔؟؟؟ کیا بولے گا وہ۔۔۔؟؟؟

اگر 100 کہے تو جواب ملتا ہے 200 تو ہمارے اپنے رشتہ دار ہیں پھر محلے دار لڑکے کے دوست....!!کچھ نہیں تو 400 افراد تو مجبوراً لانے پڑیں گے ساتھ........!!
اب لڑکی کا باپ کیا کہے۔۔؟ مت لانا۔۔؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔؟؟؟

پھر فرسودہ نظام میں بارات والے دن لڑکی کے ساتھ 2 دیگیں کھانا بھی بھیجنا ہے، جہیز بھی خود بنا کر چھوڑ کر آنا ہے اور ہو سکے تو بیڈ، صوفہ وغیرہ سجانے کیلیئے لڑکی کے بھائیوں کو بھیج دیجئے گا.....!!

لو مسلمان پاکستانیوں....!! یوں ہوتی ہے ایک بیٹی گھر سے رُخصت...!! اب اس کا آگے سسرال میں کیا مول ہوگا، یہ اکثر ہم سنتے ہی رہتے ہیں۔۔۔!!

ہاتھ جوڑ کر التجا ہے مت کریں ایسا، توڑ دیں یہ رسمیں جن سے ایک باپ توبہ کرے کہ اسکو بیٹی نہ پیدا ہو....

چھوڑ دیں یہ ہندوانہ رسمیں کہ بیٹیاں ماں باپ کی غربت دیکھ کر اپنی شادی کا خیال ہی دل سے نکال دیں....!!

اپنے بیٹے کیلیئے سادگی سے نکاح کر کے بہو لا کر دیکھیں، اپنی بیٹی بھی یونہی سادگی سے رخصت کرکے دیکھیں، سکون ملے گا...!!
اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ بیٹیاں حضرت فاطمہ (رض) جتنی لاڈلی نہیں ہیں، نا یہ بیٹے حضرت علی(رض) جتنے محترم....!!

آنے والی نسل کہ زندگی آسان بنا دو یارو۔۔۔!!
لڑکوں سے کہتاہوں جہیز مت لینا۔۔۔!!

اپنی ہونے والی بیٹی پر ترس کھانا جو کل کو تمہارے خراب حالات سے اتنی ہی پریشان ہوسکتی ہے جتنی آج تمہاری ہونے والی بیوی پریشان ہے....!!

اللہ نے تمہیں مرد پیدا کیا ہے،
کما کر اپنی بیوی کو خوشیاں خرید کر دینا......!!

آپ کا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے گروپوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے
10 یا 15 گرپوں میں شیئر کریں
میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر یا کاپی کرتے ہیں۔۔۔!!
آج اپنے معاشرے کا یہ تلخ پہلو کیوں نہ شیئر کریں۔۔۔؟

آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں۔۔۔!!

کیا پتہ کسی کے دل میں اتر جائے یہ بات۔⚘۔۔
شکریہ⚘
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دیں آمین
 
Top