• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حاضر و ناظر صرف اللہ کی ذات ہے. حاضر ناظر ہونا کسی نبی،رسول کی صفت نہیں

شمولیت
دسمبر 25، 2012
پیغامات
77
ری ایکشن اسکور
167
پوائنٹ
55
حاضر و ناظر کی تعریف سب سے پہلے :

ان دونوں الفاظ کا مطلب ہے " موجود " اور "دیکھنے والا" جب دونوں کو ملا کر استعمال کیا جائے گا تو مراد ہو گی وہ ذات جو ساری کائنات کو بیک وقت محیط کیئے ہوئے ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ ، ایک ایک چیز ، تمام حالات اول تا آخر اسکی نظر میں ہیں اور یہ صفت صرف ایک ذات کی ہے وہ ذات پاک صرف اللہ تعالٰی ہے ۔

--- حضرت ابراہیم علیہ السلام حاضر ناظر نہ تھے ---


1- Surah Hud 69,70

وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ 69؀ فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً ۭ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰي قَوْمِ لُوْطٍ 70؀ۭ
ا
ور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابرہیم) بھناہوا بچھڑا لے آئے ۔اب جو دیکھا کہ ان کے تو ہاتھ بھی اس کی طرف نہیں پہنچ رہے تو ان سے اجنبیت محسوس کر کے دل ہی دل میں ان سے خوف کرنے لگے (١) انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں (٢)۔

غور کرنے کی بات: اگر ابراہیم علیہ السلام اگر حاضر و ناظر ہوتے تو انہیں پتا ہوتا کہ یہ فرشتے ہیں اور ان کےلیے بچھڑا بھون کر نا لاتے۔ اور پھر انہیں خوف کیوں محسوس ہوا ؟؟؟ جب فرشتوں نے انہیں بتایا کہ ہم فرشتے ہیں تب حضرت ابراہیم کو پتا چلا ۔

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 599
حضرت ابراہیم جب اپنے خاندان کو اللہ کے حکم پر مکہ میں چھوڑ کر چلے گئے اور بہت عرصہ گرزنے کے بعد جب انہیں یاد ستائی اور حضرت ابراہیم اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنے کے تشریف لائے ( اس اوقت تک حضرت اسماعیل کا نکاح ہو چکا تھا) ، تو اسماعیل کو نہ پایا ان کی بیوی سے معلوم کیا تو اس نے کہا کہ وہ ہمارے لئے رزق تلاش کرنے گئے ہیں پھر ابراہیم علیہ السلام نے اس سے بسر اوقات اور حالت معلوم کی تو اس عورت نے کہا ہماری بری حالت ہے اور ہم بڑی تنگی اور پریشانی میں مبتلا ہیں (گویا) انہوں نے ابراہیم سے شکوہ کیا ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کردیں جب اسماعیل واپس آئے تو گویا انہوں نے اپنے والد کی تشریف آوری کے آثار پائے تو کہا کیا تمہارے پاس کوئی آدمی آیا تھا ؟ بیوی نے کہا ہاں! ایسا ایسا ایک بوڑھا شخص آیا تھا اس نے آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا اور اس نے ہماری بسر اوقات کے متعلق دریافت کیا تو میں نے بتا دیا کہ ہم تکلیف اور سختی میں ہیں اسماعیل نے کہا کیا انہوں نے کچھ پیغام دیا ہے؟ کہا ہاں! مجھ کو حکم دیا تھا کہ تمہیں ان کا سلام پہنچا دوں اور وہ کہتے تھے تم اپنے دروازہ کی چوکھٹ بدل دو اسماعیل نے کہا وہ میرے والد تھے اور انہوں نے مجھے تم کو جدا کرنے کا حکم دیا ہے لہذا تم اپنے گھر چلی جاؤ اور اس کو طلاق دے دی اور بنو جرہم کی کسی دوسری عورت سے نکاح کر لیا کچھ مدت کے بعد ابراہیم پھر آئے تو اسماعیل کو نہ پایا ان کی بیوی کے پاس آئے اور اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا وہ ہمارے لئے رزق تلاش کرنے گئے ہیں ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ اور ان کی بسر اوقات معلوم کی اس نے کہا ہم اچھی حالت اور فراخی میں ہیں اور اللہ کی تعریف کی ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا تمہاری غذا کیا ہے؟ انہوں نے کہا گوشت ابراہیم نے پوچھا تمہارے پینے کی کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا پانی، ابراہیم نے دعا کی اے اللہ! ان کے لئے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت وہاں غلہ نہ ہوتا تھا اگر غلہ ہوتا تو اس میں بھی ان کے لئے دعا کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص مکہ کے سوا کسی اور جگہ گوشت اور پانی پر گزارہ نہیں کرسکتا صرف گوشت اور پانی مزاج کے موافق نہیں آ سکتا ابراہیم نے کہا جب تمہارے شوہر آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور انہیں میری طرف سے یہ حکم دینا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ باقی رکھیں جب اسماعیل آئے تو پوچھا کیا تمہارے پاس کوئی آدمی آیا تھا ؟ بیوی نے کہا ہاں! ایک بزرگ خوبصورت پاکیزہ سیرت آئے تھے اور ان کی تعریف کی تو انہوں نے مجھ سے آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا پھر مجھ سے ہماری بسراوقات کے متعلق پوچھا تو میں نے بتایا کہ ہم بڑی اچھی حالت میں ہیں اسماعیل نے کہا کہ تمہیں وہ کوئی حکم دے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ آپ کو سلام کہہ گئے ہیں اور حکم دے گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازہ کی چوکھٹ باقی رکھیں اسماعیل نے کہا وہ میرے والد تھے اور چوکھٹ سے تم مراد ہو گویا انہوں نے مجھے یہ حکم دیا کہ تمہیں اپنی زوجیت میں باقی رکھوں ۔۔۔۔

سوال- اگر حضرت ابراہیم حاضر و ناظر تھے تو شام سے مکہ کوئی ایک ہزار میل کی مسافت طے کر کے بار بار کیوں آتے رے اپنے لخت جگر سے ملنے؟ وہ بار بار کیوں آ کر خیریت دریافت کرتے رہے ،اگر حاضر ناظر تھے تو وہیں ملک شام میں بیٹھ کر تمام حالات معلوم کر لیتے ، جب حضرت اسماعیل گھر نہ ملے تو پوچھنے کی کیا ضرورت انہیں کہ کدھر گئے ہیں حاضر ناظر تھے تو صرف گھر ہی کیوں آئے ملنے ادھر ہی کیوں نہ چلے گئے جدھر حضرت اسماعیل گئے ہوئے تھے ؟

--- حضرت لوط علیہ السلام بھی حاضر ناظر نہ تھے ---


Surah Hud 77

وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْۗءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ 7؀ وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ ۭ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ ۭ قَالَ يٰقَوْمِ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ ۭ اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ 78؀
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بہت مشکل کا دن ہے
اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آپہنچی، وہ تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی (١) لوط نے کہا اے قوم کے لوگو! یہ میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزہ ہیں (٢) اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں (٣)

سوال ۔ اگر حضرت لوط علیہ السلام حاضر و ناظر تھے اور علم غیب رکھتے تھے تو انہیں معلوم نہ ہوا کہ یہ تو فرشتے ہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے؟ انہیں تو پتا ہونا چاہیے تھا اگر وہ حاضر ناظر تھے کہ یہ فرشتے ہیں اور فلاں فلاں جگہ سے ہو کر آئے ہیں ۔ انہوں نے کیوں نکاح کے لیے بیٹیوں کو سامنے رکھا کہ یہ میرے مہمان ہیں ہیں انہیں چھوڑ دو؟


--- حضرت یعقوب علیہ السلام بھی حاضر و ناظر نہ تھے ---

Surah Yousaf 8-14

اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ۭ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِۨ Ď۝ښاقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ Ḍ؁قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ وَاَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ 10۝ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ 11؀ اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ 12 ؀ قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ 13 ؀قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالوں یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائیگی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔ ان میں سے ایک کہتے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ گیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو) ۔ (یہ مشورہ کرکے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ ابا جان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اسکے خیر خواہ ہیں؟.کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اسکے نگہبان ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جداہو جائے) اور مجھے یہ بھی خوف ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہو جاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے ۔وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑ یا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گے ۔

سوال۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی یہ منصوبے بنا رہے تھے تو حضرت یعقوب علیہ السلام کو پتا کیوں نہ چلا ؟؟ اگر پتا تھا پھر بھی بھیج دیا ؟ اور یہ بھی کہا کہ مجھے خوف ہے،ڈر ہے؟ نعوذ باللہ نعوذ باللہ کیا حضرت یعقوب علیہ السلام کوئی ڈرامہ کر رہے تھے یہ سب بول کر ؟؟؟؟؟

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 15؀ وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ 16۝ۭ قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ 17؀ وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ ۭ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ 18؀
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اسکو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور انکو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی ۔ (یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔ (اور) کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑ نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے ۔ اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا حقیقت الحال یوں نہیں تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو اچھا صبر اور وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔

سوال ۔جی کیا اس حرکت کا پتا نہ چلا انھیں؟؟؟ انہوں نے جا کر حضرت یوسف علیہ السلا م کو جا کر کنویں سے نکال کیوں نہ لیا اور 40 سال روتے رہے؟؟؟ نعوذ باللہ نعوذ باللہ بریلوی عقیدے کے مطابق تو بھر حضرت یعقوب ڈرامہ رتے رہے رو کر جبکہ انہیں پتا بھی تھا ؟؟ انہوں نے کیوں کنویں میں چھوڑ دیا اپنے لختِ جگر کو؟؟؟؟ جب وہ مصر میں چلے گئے تب کیوں نہ انہیں پتا چلا؟؟؟

باقی دلائل اگلی دفعہ ۔۔۔انشاء اللہ ۔
دعاوں میں یاد رکھیں ۔۔ شکریہ
 
شمولیت
دسمبر 25، 2012
پیغامات
77
ری ایکشن اسکور
167
پوائنٹ
55
۔۔۔حضرت موسٰی علیہ السلام بھی حاضر و ناطر نہ تھے ۔۔۔


سورۃ کہف آیت نمبر 60-64

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰي لِفَتٰىهُ لَآ اَبْرَحُ حَتّٰى اَبْلُغَ مَجْـمَعَ الْبَحْرَيْنِ اَوْ اَمْضِيَ حُقُبًا 60؀فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا 61؀فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَاۗءَنَا ۡ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا 62؀قَالَ اَرَءَيْتَ اِذْ اَوَيْنَآ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّىْ نَسِيْتُ الْحُوْتَ ۡ وَمَآ اَنْسٰنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِڰ عَجَبًا 63؀قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ڰ فَارْتَدَّا عَلٰٓي اٰثَارِهِمَا قَصَصًا 64؀ۙ

اور جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں۔ پھر جب وہ دونوں پہنچ گئے ان دونوں دریاؤں کے سنگم پر، تو وہ بھول گئے اپنی مچھلی کو، اور اس نے دریا میں ایک سرنگ کی طرح کا راستہ بنا لیا،۔ جب آگے چلے تو (موسی نے) اپنے خادم سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہو گئی ہے۔ خادم نے عرض کیا (اوہو!) دیکھا آپ نے (حضرت، یہ کیا ہوا) کہ جب ہم ٹھہرے تھے اس چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی (کے معاملہ) کو، اور شیطان نے مجھے ایسا بھلا دیا کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر بھی نہ کر سکا، اور (قصہ اس کا یہ ہوا کہ) وہ (زندہ ہو کر) دریا میں چلی گئی ایک عجیب سا (سرنگ نما) راستہ بناتی ہوئی،۔ (موسی نے) کہا یہی تو وہ (مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے۔


صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 123
عبداللہ بن محمد السندی، سفیان، عمرو، سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی کہتے ہیں کہ موسیٰ جو خضر سے ہم نشین ہوئے تھے، بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے، وہ کوئی دوسرے موسیٰ ہیں، تو ابن عباس نے کہا کہ (وہ) خدا کا دشمن جھوٹ بولتا ہے، ہم سے ابی بن کعب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ موسیٰ (ایک دن) بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ زیادہ جاننے والا میں ہوں، لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو خدا کے حوالے کیوں نہ کردیا، پھر اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ جاننے والا ہے، موسیٰ کہنے لگے اے میرے پروردگار! میری ان سے کیسے ملاقات ہوگی؟ تو ان سے کہا گیا کہ مچھلی کو زنبیل میں رکھو اور مجمع البحرین کی طرف چل پڑو، جب اس مچھلی کو نہ پاؤ تو سمجھ لینا کہ وہ بندہ وہیں ہے، موسیٰ علیہ السلام چلے اور اپنے ہمراہ اپنے خادم یوشع بن نون علیہ السلام کو بھی لے لیا، اور ان دونوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی، یہاں تک کہ جب پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں نے اپنے سر (اس پر) رکھ لئے اور سوگئے، مچھلی زنبیل سے نکل گئی اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا، بعد میں (مچھلی کے زندہ ہو جانے سے) موسیٰ اور ان کے خادم کو تعجب ہوا، پھر وہ دونوں باقی رات اور ایک دن چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ بے شک ہم نے اپنے اس سفر سے تکلیف اٹھائی اور موسیٰ جب تک کہ اس جگہ سے آگے نہیں گئے، جس کا حکم دیا گیا تھا، اس وقت تک انہوں نے کچھ تکلیف محسوس نہیں کی، ان کے خادم نے دیکھا تو مچھلی غائب تھی، تب انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کا واقعہ کہنا بھول گیا، موسیٰ نے کہا یہی وہ (مقام) ہے، جس کی تلاش کرتے تھے، پھر وہ دونوں اپنے قدموں پر لوٹ گئے، پس جب اس پتھر تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی کپڑا اوڑھے ہوئے یا یہ کہا کہ اس نے کپڑا اوڑھ لیا تھا، بیٹھا ہوا ہے موسیٰ نے سلام کیا تو خضر علیہ السلام نے کہا اس مقام میں سلام کہاں ؟ موسیٰ نے کہا میں (یہاں کا رہنے والا نہیں ہوں میں) موسی ٰہوں، خضر علیہ السلام نے کہا بنی اسرائیل کے موسی؟، انہوں نے کہا ہاں، موسیٰ نے کہا کیا میں اس امید پر تمہارے ہمراہ رہوں کہ جو کچھ ہدایت تمہیں سکھائی گئی ہے، مجھے بھی سکھلا دو، انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، اے موسی! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر (حاوی) ہوں کہ تم اسے نہیں جانتے وہ خدا نے مجھے سکھایا ہے اور تم ایسے علم پر حاوی ہو جو خدا نے تمہیں تلقین کیا ہے کہ میں اسے نہیں جانتا، موسیٰ نے کہا انشاء اللہ! تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے، اور میں کسی بات میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا، پھر وہ دونوں دریا کے کنارے کنارے چلے ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی، اتنے میں ایک کشتی ان کے پاس (سے ہو کر) گذری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو، خضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہچان لئے گئے اور کشتی والوں نے انہیں بے اجرت بٹھا لیا پھر (اسی اثنا میں) ایک چڑیا آئی، اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے ایک چونچ یا دو چونچیں دریا میں ماریں، خضر علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ میرے علم اور تمہارے علم نے خدا کے علم سے اس چڑیا کی چونچ کی بقدر بھی کم نہیں کیا ہے، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ کی طرف قصد کیا اور اسے اکھیڑ ڈالا، موسیٰ کہنے لگے، ان لوگوں نے ہم کو بے کرایہ (لئے ہوئے) بٹھا لیا اور تم نے ان کی کشتی کے ساتھ برائی کا) قصد کیا، اسے توڑ دیا، تاکہ اسکے لوگوں کو غرق کر دو، خضر علیہ السلام نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر صبر نہ کر سکو گے، موسیٰ نے کہا جو میں بھول گیا، اس کا مواخدہ مجھ سے نہ کرو اور میرے کام میں مجھ پر تنگی نہ کرو، راوی کہتا ہے کہ پہلی بار موسیٰ سے بھول کر یہ بات اعتراض کی ہوگئی، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر چلے، تو ایک لڑکا ملا جو اور لڑکوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام اس کا سر اوپر سے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھ سے اس کو اکھیڑ ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ ایک بے گناہ بچے کو بے وجہ قتل کردیا، خضر علیہ السلام نے کہا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس پہنچے، وہاں کے رہنے والوں سے انہوں نے کھانا مانگا، ان لوگوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہاں ایک دیوار ایسی دیکھی جو گرنے کے قریب تھی، خضر نے اپنے ہاتھ سے اس کو سہارا دیا اور اس کو درست کردیا، موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے، خضر بولے کہ (بس اب) یہی ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم کرے، ہم یہ چاہتے تھے کہ کاش موسیٰ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کا (پورا) قصہ ہم سے بیان فرماتا۔

اس پورے واقعے میں غور کرنے کی باتیں:

1- اگر موسٰی علیہ السلام حاضر و ناظر ہوتے تو انہیں پتا ہوتا کہ حضرت خضر علیہ السلام کس جگہ ہیں!
2-انہیں 'مجمع البحرین' دریاؤں کے ملنے کی جگہ کا بھی پتا ہوتا۔!
3- جب مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی گئی تھی تب بھی پتا چل جانا چاہیے تھا کہ مچھلی کہاں گئی۔
4-اگر معلوم بھی ہو گیا تا اتنی آگے جانے کی کیا ضرورت تھی ؟
5-پھر واپس بھی قدموں کے نشانوں پر چلتے آئے! جو حاضر و ناظر ہو اور علمِ غیب رکھتا ہو اور وہ قدموں کے نشانات دیکھتا ہو واپس جائے ؟ صریح البطلان بات ہے۔
6-پھر حضرت موسٰی کا بار بار حضرت خضر سے اعتراض کرنا کہ یہ کیوں کیا اور وہ کیوں کیا ؟؟؟؟

ثابت ہوا کہ حضرت موسٰی حاضر و ناظر تھے نہ علمِ غیب رکھتے تھے!


--- حضرت سلیمان علیہ السلام بھی حاضر و ناظر نہ تھے---

Surah Namal 20,21,22
وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَآ اَرَى الْهُدْهُدَ ڮ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَاۗىِٕـبِيْنَ 20؀لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّهٗٓ اَوْ لَيَاْتِيَنِّيْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ 21؀فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۢ بِنَبَاٍ يَّقِيْنٍ 22؀

آپ نے پرندوں کی دیکھ بھال کی اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا؟ کیا واقعی وہ غیر حاضر ہے؟ (١)یقیناً میں اسے سزا دونگا، یا اسے ذبح کر ڈالوں گا، یا میرے سامنے کوئی صریح دلیل بیان کرے۔کچھ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آکر اس نے کہا میں ایک ایسی چیز کی خبر لایا ہوں کہ تجھے اس کی خبر ہی نہیں، (١) میں سبا کی ایک سچی خبر تیرے پاس لایا ہوں۔

Surah Namal 27,28

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ 27؀اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ 28؁

(سلیمان نے) کہا (اچھا) ہم دیکھیں گے تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے. یہ میرا خط لے جا اور اسے انکی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں.

سوال۔ جی حضرت سلیمان علیہ السلام حاضر ناظر تھے؟ اگر تھے تو انہوں نے ہد ہد کا کیوں پوچھا کہ وہ کدھر ہے؟؟کیوں کہا کہ وہ میرے پاس صحیح وجہ بیان کرے اپنے غیر حاضر ہونے کی؟؟ کیا حاضر و ناظر کی نظر سے کوئی چیز اوجھل ہوتی ہے؟؟حتٰی کے ہد ہد نے بھی کہ دیا کہ میں ایسی خبر لایا ہوں جسے آپؑ بھی نہیں جانتے! حضرت سلیمان اگر ہر جگہ حاضر ناظر ہوتے یا علم غیب رکھتے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ملکہ سبا کون ہے اور کدھر ہے؟انہوں نے ہد ہد و دوبارہ بھی بھیجا یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا یہ کیوں کیا انہوں نے؟ انہیں تو پتا ہونا چاہیے تھا کہ یہ سچا ہے۔!

یہاں سے بھی بات نکھر کر سامنے آگئی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بھی حاضر و ناظر نہ تھے ۔۔

انشاء اللہ جلد ہی اور دلائل پیش کروں گا کہ " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی حاضر و ناظر نہ تھے " ۔۔

دعاؤں میں یاد رکھیں ۔۔ اللہ نگہبان
 

جنید

رکن
شمولیت
جون 30، 2011
پیغامات
27
ری ایکشن اسکور
71
پوائنٹ
54
بھائی یہ تو اچھی بات ہےکہ آپ نے مخلوق کے حاظر ناظر ہونے کا رد کردیا مگر یہ عقیدہ اپنی اصل پر باطل ہے۔

اللہ تنہا ہے، اور جدا ہے اورنہ مخلوق سے متصل ہےاور نہ محلول اور عرش پر مستوی ہے، اپنی مشیت کے تحت نزول بھی فرماتا ہے
اُس کا احاطہ صفاتی ہے۔ اُس نے وجود کے اعتبارسے مخلوق کو محیط نہیں کیا ہوا،بلکہ اپنےعلم و قدرت سے احاطہ کیا ہوا ہے اپنی مخلوق کا۔
اور وہ مخلوق سے قریب ہے سنے اور دیکھنے اوراُن کی مدد کرنے کے اعتبار سے

معلوم ہوا ہے کہ عقیدہ حاظر ناظر اولاً جہمی بدعت تھی ثانیاً بریلوی، کوثری بدعت ۔

دلائل معلوم کرنے ہوں تو فورم کے فورم بھر پڑے ہیں۔
 
شمولیت
دسمبر 25، 2012
پیغامات
77
ری ایکشن اسکور
167
پوائنٹ
55
میں نے کب کہا کہ "وجود" سے احاطہ کیے ہوئے ہے؟

میں نے بھی یہی کہا کہ محیط کیے ہوئے اس طرح کہ "کائنات کا ایک ایک ذرہ ، ایک ایک چیز ، تمام حالات اول تا آخر اسکی نظر میں ہیں اور یہ صفت صرف ایک ذات کی ہے وہ ذات پاک صرف اللہ تعالٰی ہے"

کہ اللہ کے علم کی وسعت اتنی ہے کہ وہ پوری کائنات پر محیط ہے اس کی وجہ سے ۔۔۔
 
شمولیت
جولائی 17، 2013
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
6
اہلسنت کا عقیدۂ حاضر و ناظر
حضورﷺ کے حاضر و ناظر ہونے میں اہلسنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ کے لئے جو لفظ حاضر و ناظر بولا جاتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ حضورﷺ کی بشریت مطہرہ ہر جگہ ہر ایک کے سامنے موجود ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں جس طرح روح اپنے بدن کے ہرجزو میں ہوتی ہے۔ اسی طرح روح دوعالمﷺ کی حقیقت منورہ ذرات عالم کے ہر ذرہ میں جاری وساری ہے۔
جس کی بناء پر حضورﷺ اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوتے ہیں اور اہل اﷲ اکثر وبیشتر بحالت بیداری اپنی جسمانی آنکھوں سے حضورﷺ کے جمال مبارک کا مشاہدہ کرتے ہیں اور حضورﷺ بھی انہیں رحمت اور نظر عنایت سے سرخرو محظوظ فرماتے ہیں۔ گویا حضورﷺ کا اپنے غلاموں کے سامنے ہونا سرکارﷺ کے حاضر ہونے کے معنی ہیں اور انہیں اپنی نظر مبارک سے دیکھنا حضورﷺ کے ناظر ہونے کا مفہوم ہے۔
معلوم ہوا کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ اپنے روضہ مبارک میں حیات حسی و جسمانی کے ساتھ زندہ ہیں اور پوری کائنات آپﷺ سامنے موجود ہے اور اﷲ تعالیٰ کی عطا سے کائنات کے ذرے ذرے پر آپﷺ کی نگاہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی عطا سے جب چاہیں، جہاں چاہیں جس وقت چاہیں، جسم و جسمانیت کے ساتھ تشریف لے جاسکتے ہیں۔
ہم محفل میلاد کے موقع پر کرسی حضورﷺ کے لئے نہیں بلکہ علماء و مشائخ کے بیٹھنے کے لئے رکھتے ہیں۔ صلوٰۃ و سلام کے وقت اس لئے کھڑے ہوتے ہیں تاکہ باادب بارگاہ رسالتﷺ میں سلام پیش کیا جائے اور ذکر رسولﷺ کی تعظیم اور ادب کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور ہم ’’اشہدان محمد رسول اﷲ‘‘ پر نہیں بلکہ حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح پر کھڑے ہوتے ہیں۔ حضورﷺ کی آمد کے لئے کھڑے نہیں ہوتے۔

بعد از وصال تصرف فرمانا
حدیث شریف: حضرت سلمیٰ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں۔ میں حضرت ام سلمیٰ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی، وہ رو رہی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور سید عالمﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپﷺ کی داڑھی مبارک اور سر انور گرد آلود تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یارسول اﷲﷺ کیا بات ہے؟ آپﷺ نے فرمایا میں ابھی حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت میں شریک ہوا ہوں
(ترمذی شریف، جلد دوم، ابواب المناقب، حدیث نمبر 1706، صفحہ نمبر 731، مطبوعہ فرید بک لاہور)
ف: حضورﷺ کا یہ فرمانا کہ میں ابھی حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت میں شریک ہوا ہوں۔ اس بات کی طرف دلالت کرتا ہے کہ بعد از وصال ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے حیات کی ضرورت ہے لہذا حضورﷺ بعد از وصال بھی حیات ہیں۔
دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ حضورﷺ وصال کے بعد بھی اپنے رب جل جلالہ کی عطا کی طاقت سے جب چاہیں، جہاں چاہیں تشریف لے جاسکتے ہیں۔
حاضر وناظر کے متعلق اکابر شارحین اور علمائے اسلام کا عقیدہ
شارح بخاری علامہ امام قسطلانی علیہ الرحمہ اور شارح موطا علامہ امام زرقانی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ حضورﷺ کی ظاہری زندگی اور آپ کے پردہ فرمانے کے بعد اس میں کوئی فرق نہیں کہ آپ اپنی امت کا مشاہدہ فرماتے ہیں اور آپ کو ان احوال ونیات وعزائم و خواطر وخیالات کی بھی معرفت و پہچان ہے اور اﷲ کے اطلاع فرمانے سے یہ سب کچھ آپ پر ایسا ظاہر ہے جس میں کوئی خفا و پردہ نہیں
(شرح مواہب لدنیہ جلد 8 ص 305)
شارح مشکوٰۃ شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ علماء امت میں سے کسی کا بھی اس میں اختلاف نہیں کہ آپﷺ بحقیقت حیات دائم و باقی اور اعمال امت پر حاضر وناظر ہیں اور متوجہان آنحضرتﷺ کو فیض پہنچاتے اور ان کی تربیت فرماتے ہیں
(حاشیہ اخبار الاخیار صفحہ نمبر155)
اﷲ تعالیٰ اور حضورﷺ کے حاضر وناظر ہونے میں امتیازی فرق
اﷲ تعالیٰ کی تمام صفات مستقل اور بالذات ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی کوئی صفت غیر مستقل اور عطائی نہیں، بندوں کی صفت مستقل اور بالذات نہیں بلکہ بندوں کی صفات غیر مستقل اور عطائی ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ حضورﷺ کا حاضر وناظر ہونا رب کریم کی عطا سے ہے بالذات نہیں۔ جب آپ کی تمام صفات عطائی ہیں تو اﷲ تعالیٰ کی ذاتی صفات سے برابری کیسے جب ذاتی اور عطائی صفات میں برابری نہیں تو یقیناًشرک بھی لازم نہیں آئے گا۔
تنبیہ
اﷲ تعالیٰ کو حقیقی معنی کے لحاظ سے حاضر و ناظر کہا ہی نہیں جاسکتا اور نہ ہی اﷲ تعالیٰ کے اسماء گرامی میں سے کوئی اسم گرامی حاضر وناظر ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کو مجازی معنی کے لحاظ سے حاضر و ناظر کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ حاضر کا حقیقی معنی یہ ہے کہ کوئی چیز کھلم کھلا بے حجاب آنکھوں کے سامنے ہو، جب اﷲ تعالیٰ حواس اور نگاہوں سے پاک ہے تو یقیناًاسے حقیقی معنی کے لحاظ سے حاضر نہیں کہا جاسکتا۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
''لاتدرکہ الابصار'' آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں۔
اسی طرح ناظر کا بھی اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے اﷲ تعالیٰ پر اطلاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ناظر مشتق ہے۔
نظر سے اور نظر کا حقیقی معنی یہ ہے:
النظر تقلیب البصر والبصیرۃ لادراک الشئی وروئیۃ
کسی چیز کو دیکھنے اور ادراک کرنے کے لئے آنکھ اور بصیرت کو پھیرنا
حقیقی معنی کے لحاظ سے ناظر اسے کہتے ہیں جو آنکھ سے دیکھے۔ اﷲ تعالیٰ جب اعضاء سے پاک ہے تو حقیقی معنی کے لحاظ سے اﷲ تعالیٰ کو ناظر کہنا ممکن ہی نہیں، اسی وجہ سے لاینظر الیہم یوم القیمۃ کی تفسیر علامہ آلوسی نے روح المعانی میں یوں کی
لایعطف علیہم ولایرحم
کہ اﷲ تعالیٰ کفار پر مہربانی اور رحم نہیں فرمائے گا۔
مقام توجہ
جب اﷲ تعالیٰ کو حقیقی معنی کے لحاظ سے حاضر وناظر کہنا ہی ممکن نہیں تو واویلا کس بات کا کہ حضورﷺ کو حاضر وناظر ماننے سے شرک لازم آئے گا۔ میں تو اکثر کہتا ہوں کہ ہمارے اﷲ تعالیٰ کی شان بہت بلند وبالا ہے۔ ہم نبی کریمﷺ کو اﷲ تعالیٰ کا بندہ اور مخلوق اور رب کریم کا محتاج سمجھ کر جتنی بھی آپ کی تعریف کریں، اﷲ تعالیٰ سے برابری لازم نہیں آئے گی کیونکہ وہ معبود، خالق اور غنی ہے۔
ہاں ان کو فکر ہوسکتی ہے جن کے نزدیک خدا کا علم محدود ہے وہ معاذ اﷲ مخلوق اور محتاج ہے۔ یقیناًان کے نزدیک نبی کریمﷺ کی زیادہ شان ماننے سے اﷲ تعالیٰ کی برابری لازم آئے گی۔ لیکن بفضلہ تعالیٰ ہمیں کوئی فکر نہیں کیونکہ ہمارا اﷲ تعالیٰ وہ ہے جس کے متعلق شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ''برتر از خیال اوقیاس و گمان وہم'' اﷲ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جو خیال و قیاس و گمان و وہم سے بالاتر ہے۔
اب فرق واضح ہوا کہ اﷲ تعالیٰ مکان، جسم، ظاہر طور پر نظر آنے، حواس سے مدرک ہونے کے بغیر ہر جگہ موجود ہے جو اس کی شان کے لائق ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے وہ حاضر ہے اور اپنے بندوں پر رحمت و مہربانی کرنے کے لحاظ سے وہ ناظر ہے۔ نبی کریمﷺ اپنے مزار شریف میں اپنی جسمانیت کے ساتھ موجود ہیں ۔آپ کی امت اور اس کے اعمال و احوال آپ کے سامنے ہیں۔ آپ اپنے حواس سے امت کے اعمال و احوال کو ادراک کررہے ہیں۔
اگر نبی کریمﷺ کی شان ناپسند ہو تو اس کا علاج تو کچھ نہیں ورنہ روز روشن کی طرح عیاں ہوا کہ جسم، مکان، حدوث و امکان حواس میں آنے اور حواس کے ذریعے ادراک کرنے سے پاک ذات اور جسم، مکان، حدوث، امکان حواس میں آنے اور حواس سے ادراک کرنے کی محتاج ذات میں کوئی محتاج برابری کا ذرہ بھر بھی تماثل نہیں۔
محمد شہزاد قادری ترابی :: ماہانہ تحفظ جنوری 2011

پیارے بھائی اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور مجھے اس حدیث کی صحت بھی معلوم کرنی ہے ۔ براہ کرم آپ مجھے اس کا جواب ضرور دیں۔

حدیث شریف: حضرت سلمیٰ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں۔ میں حضرت ام سلمیٰ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی، وہ رو رہی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور سید عالمﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپﷺ کی داڑھی مبارک اور سر انور گرد آلود تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یارسول اﷲﷺ کیا بات ہے؟ آپﷺ نے فرمایا میں ابھی حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت میں شریک ہوا ہوں
(ترمذی شریف، جلد دوم، ابواب المناقب، حدیث نمبر 1706، صفحہ نمبر 731، مطبوعہ فرید بک لاہور)
 

محمد وقاص گل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 23، 2013
پیغامات
1,033
ری ایکشن اسکور
1,711
پوائنٹ
310
حدثنا أبو سعيد الأشج حدثنا أبو خالد الأحمر حدثنا رزين قال حدثني سلمى قالت : دخلت على أم سلمة وهي تبكي فقلت ما يبكيك ؟ قالت رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم تعني في المنام وعلى رأسه ولحيته التراب فقلت ما لك يا رسول الله قال شهدت قتل الحسين آنفا
قال هذا حديث غريب
قال الشيخ الألباني : ضعيف

یہ حدیث مناقب کے باب میں حدیث نمبر 3771 میں موجود ہے اور ضعیف ہے۔۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
جناب حنان بن عاصم صاحب

سوال ہے کہ جو عقیدہ حاضر و ناظر کا آپ کا نبی کریم صل الله علیہ وسلم کے بارے میں ہے - کیا باقی انبیا کرام کے بارے میں بھی یہی ہے - کیا ان کی روحیں بھی اسی طرح دنیا میں زمان و مکان کی قید سے آزاد گھومتی پھرتی ہیں -؟؟؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ثابت کیجیے اور اگر نا میں ہے - تو اس کا مطلب ہے کہ نبی کریم صل الله علیہ وسلم اور دوسرے انبیا ء بشریت میں ایک دوسرے سے مختلف تھے -

قرآن میں تو الله کا ارشاد ہے -


وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ سوره الفرقان ٢٠
اور ہم نے تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے -


یعنی نبی کریم صل الله علیہ وسلم اور باقی انبیاء کرام ایک دوسرے سے مختلف نہیں تھے -

ترمزی کی جو حدیث آپ نے بیان کی ہے قرانی نص کے خلاف ہے. احدیث نبوی کو پرکھنے کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ وہ حدیث جو قرآن کی صریح نص کے خلاف ہو رد کر دی جائے گی - روح کی تجدید سے متعلق قرآن میں الله کا واضح ارشاد پاک ہے-


وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ سورۃ المومنون ۱۰۰
اور ان کے آگے اس دن تک برزخ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے


نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب قیامت قائم ہو گی تو سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی -اور میں لوگوں میں سب سے پہلے اٹھایا جاؤں گا - (متفق علیہ)-

نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی روح اس وقت سب سے اعلی مقام پر عالم بالا میں موجود ہے اور قیامت کے دن واپس آپ صل الله علیہ وسلم کے جسم میں ڈالی جائے گی-قرآن میں الله کا ارشاد ہے

-
أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي سوره الفجر
ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح - اپنے رب کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی -پس میرے بندو ں میں شامل ہوجا - اور پھر میری جنت میں داخل ہوجا


جب کہ شہید کے بارے میں الله کا بیان ہے کہ :

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَرَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سوره ال عمران ١٢٩
وہ جو لوگ الله کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ اور اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں ۔


الله کے انبیا ء شہدا سے افضل ہوتے ہیں- اس لئے ان کا اپنے رب کا ہاں اس سے بھی بلند مرتبہ ہوتا ہے -اور یہ قرانی اصول نہیں کہ انبیاء کی ارواح اپنے اعلی مقام کو چھوڑ کر ادنی مقام کی طرف یعنی دنیا میں تشریف لائیں-
 
Top