• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ پر اعتراض

Talha Salafi

مبتدی
شمولیت
ستمبر 19، 2018
پیغامات
48
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
28
@اسحاق سلفی جزاک اللہ خیرا کثیرا بہت خوب فرمایا،

بلکہ کل ہی ایک ویڈیو میں ہمارے ہندوستان کے معروف عالم شیخ رضاء الله بن عبد الکریم المدنی حفظہ اللہ نے ایسے لوگوں پر سخت تنقید کی اور فرمایا کہ یہ بندہ گمراہ ہے، جو فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے،

اور شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اپنے زمانے کے عظیم محدث تھے،
 

Talha Salafi

مبتدی
شمولیت
ستمبر 19، 2018
پیغامات
48
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
28
اس بات پر کسی بھی اہل علم کی کوئی دو رائے نہیں کے شیخ محترم زبیر علی زئی ہوں یا کوئی اور ہوں اِن لوگوں سے علمی انداز میں اور دلائل کی بنیاد پر اختلاف کیا جا سکتا ہے،

مگر کوئی بندہ جسکو قرآن کی ایک آیت بھی پڑھنا نہیں آتی ہو وہ کسی مولوی کی کتاب سے کوئی اعتراض اٹھا کر اُسکو خوب پھیلائے اور علماء پر ۔کی تنقیص کرتا پھرے یہ غیر مناسب بات ہے،
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,630
ری ایکشن اسکور
740
پوائنٹ
290
اس بات پر کسی بھی اہل علم کی کوئی دو رائے نہیں کے شیخ محترم زبیر علی زئی ہوں یا کوئی اور ہوں اِن لوگوں سے علمی انداز میں اور دلائل کی بنیاد پر اختلاف کیا جا سکتا ہے،

مگر کوئی بندہ جسکو قرآن کی ایک آیت بھی پڑھنا نہیں آتی ہو وہ کسی مولوی کی کتاب سے کوئی اعتراض اٹھا کر اُسکو خوب پھیلائے اور علماء پر ۔کی تنقیص کرتا پھرے یہ غیر مناسب بات ہے،
بس اتنی گذارش هے گر ناگوار نا گذرے کہ ایسوں کا رد بهی مناسب طریقہ سے کیا جائے خصوصا الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتی جائے ۔
پسند آئی بات آپکی
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,096
پوائنٹ
412
بس اتنی گذارش هے گر ناگوار نا گذرے کہ ایسوں کا رد بهی مناسب طریقہ سے کیا جائے خصوصا الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتی جائے ۔
پسند آئی بات آپکی
میرا ماننا یہ ہے کہ رد کرکے اہمیت نہ دی جائے۔ بلکہ صرف اصلاح کی کوشش کی جائے۔ لیکن آج کل ہوتا یہ ہے کہ لوگ مناظر اسلام بننے لگتے ہیں۔ اور تمام بات چیت کو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر اپنی شیخی بگھارتے ہیں۔ اس تعلق سے اس مضمون کا مطالعہ مفید ہوگا۔ ان شاء اللہ
 
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
848
ری ایکشن اسکور
22
پوائنٹ
65
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، بحیثیت ایک باپ:

[یہ محدّث العَصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے سب سے چھوٹے بیٹے حافظ معاذ علی زئی کی تحریر ہے، جو کہ ماہنامہ الحدیث شمارہ 115 صفحہ 42 پر شائع ہوئی تھی]

میرے والد محترم جنھیں دنیا محقق دوراں، ذہبی زماں، محدث العصر اور شیخ الاسلام کے طور پر جانتی ہے بحیثیت ایک باپ بڑے ہی نفیس، شفیق اور محبت وشفقت کرنے والے انسان تھے۔ وہ اپنی اولاد سے ہی کیا نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلتے ہوئے ہر بچے کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آتے اور علمی مصروفیت کے باوجود پوری توجہ دیتے اور اکثر چھوٹے بچوں کو اٹھابھی لیتے تھے۔
ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: آپ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں، ہم تو نہیں لیتے۔ آپ نے فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کر کرسکتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری:۵۹۹۸، صحیح مسلم:۲۳۱۷)
والد محترم یقینا ان لوگوں میں سے تھے جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے رحم سے بھر دیاہے۔ آپ کے جیب اور کمرے میں عموماً ٹافیاں وغیرہ ہوتیں جو آپ بچوں میں تقسیم کرتے رہتے تھے۔
آپ کا زیادہ وقت تحقیق اور مطالعہ میں گزرا۔علمی اور تحقیقی مصروفیات کی وجہ سے عام طور پر آپ صرف کھانے کے اوقات میں ہی گھر جایا کرتے تھے۔ وہ اول وقت کے طعام کو ترجیح دیتے تھے۔ ہر کام وقت پر کرنا اُن کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک اہم وصف تھا۔
اپنے تمام بچوں سے وہ بہت زیادہ محبت کرتے تھے تاہم وہ دین کے معاملے میں بہت سخت تھے۔ پیار ومحبت کے باوجودآپ دینی وشرعی معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے۔ہمیں توحید وسنت پر قائم رہنے اور نیک صالح اعمال کرنے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔
جب بچوں میں جھگڑا ہوتا تو کہتے کہ گواہوں کو پیش کرو۔ آپ کی ان باتوں سے ہم بڑے حیران ہوتے تھے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے جھگڑا خود ہی رفع دفع ہو جاتا۔ کوئی بچہ سوچے سمجھے بغیر کسی دوسرے پر الزام نہیں لگا سکتا تھا۔
آپ سبزی بالخصوص کدو اور شلجم بہت پسند کرتے تھے۔ گوشت ان کی پسندیدہ خوراک تھی۔ آپ ثرید بنا کر یعنی چُوری کر کے کھانا کھایا کرتے تھے کیونکہ اسے نبی کریم ﷺ نے افضل ترین غذا قرار دیا ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (۵۴۱۸) وغیرہ۔
اگر کوئی بچہ کھانے کی پلیٹ کو مکمل صاف نہ کرتا تو آپ سب سے پہلے اُس پلیٹ کو صاف کرتے تھے۔آپ کے اس عمل سے ہماری اصلاح ہوجاتی اور ہم آیندہ کے لئے محتاط ہوجاتے تھے۔ اپنے عمل کے ذریعے سے بچوں کی بہترین تربیت بڑا کارگر ذریعہ ہے جسے آپ کبھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔
اگر کبھی روٹی قدرے جل جاتی تو آپ اسے خود کھالیتے اور فرماتے کہ میں نہیں چاہتا میرے بچے جلی ہوئی روٹی کھائیں۔
تندوری روٹی انھیں بہت پسند تھی۔
کھیرے آپ کی فریج میں ہر وقت موجود رہتے۔ فروٹوں میں خربوزہ انھیں سب سے زیادہ پسند تھا۔
گرمیوں میں تقریباً روزانہ آم لے آتے اور گھر کے صحن میں رات کو کھلے آسمان تلے سب گھر والوں کے ساتھ کھاتے۔ دادا ابو بھی ساتھ موجود ہوتے تھے۔اس دوران میں آپ داداابو کے ساتھ سیاست پر ہلکا پھلکا تبصرہ بھی کرتے تھے۔
بچوں میں مجھ (معاذ) سے وہ سب سے زیادہ بے تکلف تھے۔ وہ ہر بات میں میری رائے ضرور لیتے۔ زیادہ تر اردو اور انگلش کے الفاظ کی جانچ مجھ سے کرواتے، باوجودیکہ وہ انگلش اور اردو میں انتہائی زیادہ مہارت رکھتے تھے۔اس میں آپ کا مقصود میری حوصلہ افزائی ہی تھا۔
میں اگر کسی چیز کا مشورہ دیتا تو فوراً قبول کر لیتے۔
مجھے کسی بات پر کبھی مجبور نہیں کیا اورمیری پسند کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے تھے۔
آپ مجھے کہا کرتے تھے کہ پڑھائی زیادہ ضروری ہے۔ پہلی کلا س سے لے کر گریجوایشن تک ہر امتحان کے بعد میرے نمبر اور پیپرخود چیک کرتے اور وہ ہمیشہ یہ جملہ کہا کرتے تھے: ’’معاذ فیل ہوتے ہوتے رہ گیاہے‘‘۔ وہ دوسرے بچوں پر بھی ایسا ہی تبصرہ کرتے تھے۔
گریجوایشن کے بعد مجھے کئی بار کہا کہ یونیورسٹی میں داخلہ لے لوں۔ وہ ٹائم ضائع کرنے کے سخت مخالف تھے۔
تعلیم کے معاملے میں وہ مجھے اور تمام بچوں کو مکمل سپورٹ کرتے تھے۔ وہ ہر بچے کی تعلیم کے قائل تھے اور کسی میں تفریق نہیں رکھتے تھے۔
میں نے والد محترم کے قائم کردہ مدرسہ میں ہی مکمل قرآن حفظ کیا ہے۔ ایف ایس سی کے بعد آپ کی شدید خواہش تھی میں کسی جامعہ میں باقاعدہ درس نظامی کروں اور وفاق المدارس السلفیہ کے امتحانات بھی پاس کروں، چنانچہ اسی غرض سے آپ نے مجھے لاہور بھی بھیجا تھا، لیکن شومئی قسمت کہ میں کسی وجہ سے وہاں نہ پڑھ سکا، لیکن جب واپس آیا تو آپ نے اس کا بہترین حل یہ سوچا کہ مجھے خود پڑھانا شروع کردیا اور ساتھ ہی مدرسے کے مختلف اساتذہ کے سپرد کردیا جس کے نتیجے میں وفاق المدارس السلفیہ (خاصہ) تک ممتاز حیثیت میں پاس کرچکا ہوں اور اپنی یہ تعلیم جاری رکھنے کے لئے پُر عزم بھی ہوں۔ (ان شاء اللہ)
میں نے کئی دفعہ اُن کے ساتھ سفر کیا ہے، اگرچہ ان کے تمام اسفار علمی نوعیت ہی کے ہوتے تھے لیکن میرا سب سے یادگار سفر لاہور کا تھا، جب میں تقریباًبارہ (۱۲) سال کا تھا۔ وہ دس دن کے دورے پر مجھے ساتھ لے گئے تھے۔ ہم لاہور میں مولانا مفتی مبشر احمد ربانی کے پاس رہے۔وہاں سے واپسی پر دریائے جہلم میں بھی ہم نے کشتی میں سفر کیا۔ وہاں مقامی علماء بھی ہمارے ساتھ تھے۔ پھر وہاں سے آزاد کشمیر گئے۔ آزاد کشمیر میں انھیں ایک مجاہد نے اپنی AK-47 چلانا سکھائی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ اس کی شہادت کے لئے دعا کریں۔واپسی پر مری کے خطرناک موڑوں سے ہوتے ہوئے ہم حضرو پہنچے۔ وہ کافی یادگار سفر تھا۔
راستے میں مجھے ہر جگہ کے بارے میں بتاتے ۔مجھے ان کے ساتھ اکیلے سفر کرنا بہت پسند تھا۔
وہ ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر سمجھاتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سکول جاتے ہوئے یا واپسی پر کسی سے بھی کوئی چیز لے کر نہیں کھانی۔ سخت گرمیوں میں دوپہر کو اکیلا گھر سے باہر نکلنے سے منع فرماتے تھے۔ ساری زندگی ہمیں کبھی شام کی نماز کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ وہ ہر روز شام کی نماز کے بعد تمام بچوں کی گھر میں موجودگی کو چیک کرتے تھے۔
میں نے جب موٹر سائیکل چلانا سیکھا تو بار بار مجھے کہا کرتے تھے کہ آہستہ چلایا کرو۔ جلدی کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ حضرو کے اڈہ کے قریب جو موڑ ہے وہاں آہستگی سے دیکھ کر کراس کرنا، وہ کافی خطرناک موڑ ہے۔لوگوں کے بارے میں وہ تبصرہ کرتے تھے کہ ’’لوگ اندھا دھند موٹرسائیکل چلاتے ہیں‘‘۔
اُن کی یہ خواہش بھی تھی کہ میں گاڑی چلانا سیکھ لوں۔ انھوں نے سیکھنے کے بارے میں مجھے کئی بار کہا تھا۔ میں نے گاڑی چلانا اُن کی زندگی کے آخری ایام میں ہی سیکھ لیا تھا مگر افسوس انھیں نہیں بتا سکاکیونکہ وہ سرگودھا چلے گئے تھے۔
مجھے اکیلا راولپنڈی، اسلام آباد یا لاہور سفر کرنے کی کبھی اجازت نہیں دی۔ ہمیشہ اپنے کسی شاگرد کو ساتھ بھیجتے تھے اور راستے میں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ٹیلی فون کر کے لوکیشن معلوم کرتے۔ واپسی پر اُس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک میں گھر پہنچ کر انھیں اطلاع نہیں کر دیتا تھا۔
آپ انتہائی زیادہ محبت کرنے والے باپ تھے۔
ہمیں ابو نے بڑوں کا ادب کرنا سکھایا تھا۔ لوگ ہمیں شرمیلا کہا کرتے تھے مگر حقیقت میں بڑوں کا ادب، اورلغویات و فضولیات سے اجتناب ہوتا تھا۔
پورے گاؤں میں ہماراواحد گھرانہ تھا جہاں خاندان کا کوئی دس سال سے بڑا لڑکا داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ ہمارے خاندان میں یہ رواج تھا کہ لوگ بغیر پردہ کے ہر گھر میں چلے جایا کرتے تھے لیکن والدمحترم نے اس سلسلے میں ہمیشہ شرعی احکام پر سختی سے عمل کیا اور کروایا، رسم ورواج اور لوگوں کی باتوں کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کی۔
اگر کسی شادی میں غیر شرعی امور ہوتے مثلاً گانے باجے وغیرہ توہمیں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔
اگر کسی کی وفات ہو جاتی اور جمعرات کو غیر اسلامی وبدعی امور کے چاول وغیرہ دینے کوئی آتا تو گھر کے باہر سے ہی وہ لوٹا دیئے جاتے ہیں۔
میرا زیادہ تر وقت ابو کے پاس لائبریری میں گزرا ہے، جہاں میں ان کی نگرانی میں انٹرنیٹ استعمال کرتا تھا۔ آپ جانتے تھے کہ مجھے زیادہ کمپیوٹر کا شوق ہے پھر بھی جب وہ کوئی نئی کتاب (یا کتابیں) لاتے تو مجھے اکثر اوقات خود آکر بتاتے اور دکھاتے تھے۔
میں نے انٹرنیٹ سے اُن کے لئے کافی کتابیں ڈاون لوڈ کی تھیں۔ وہ مجھے ساتھ ساتھ بتا دیا کرتے تھے کہ کس کتاب کی انھیں سخت ضرورت ہے اور کیوں؟
تنبیہ:
وہ کمپیوٹر پر سافٹ ویئر یا کتب کو صرف جلدی حوالہ تلاش کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگر انھوں نے کمپیوٹر پر کبھی بھروسا نہیں کیا۔ وہ ہمیں لائبریری سے کتابیں نکال کر حوالے دکھاتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’مکتبہ شاملہ‘‘ قابلِ بھروسا نہیں ہے۔ اس میں کافی غلط حوالے ہیں جو شاید کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ سے رہ گئے تھے۔
ان کے دن کی روٹین کچھ اس طرح تھی:
1. وہ اکثر اوقات سحری کو (تقریباً ڈھائی تین بجے) اُٹھ جایا کرتے تھے اور نماز تہجد کے بعد تحقیق شروع کر دیتے تھے۔
2. اگر طبیعت بوجھل ہوتی تو نماز کے بعد تھوڑا سو جاتے تھے۔تاہم زیادہ تر وہ تحقیق جاری رکھتے تھے۔
3. سردیوں میں عموماً سورج طلوع کے وقت ناشتہ کرتے تھے۔
4. ناشتے کے بعد اکثر اوقات کمپیوٹر پرکمپوزر سے خود غلطیاں لگواتے تھے۔
5. گیارہ بجے دوپہر کے کھانے کے لئے گھر چلے جاتے تھے۔
6. کھانے کے بعدکبھی کبھارظہر کی نماز تک آرام کرتے تھے۔ جسے ’’قیلولہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
7. دوپہر کے بعد اکثر اوقات تحقیق کرتے تھے۔
8. عصر کی نماز کے بعد بھی تحقیق جاری رکھتے تھے۔ تاہم اکثر اوقات مغرب کی نماز سے تقریباً گھنٹہ پہلے ضرورت کی اشیاء کے لئے بازار چلے جاتے یا حافظ شیر محمدحفظہ اللہ کے ساتھ سیر کو نکل جاتے تھے۔
8. مغرب کی نماز کے فوراً بعد شام کا کھانا کھاتے تھے۔ کھانے کے بعد لائبریری میں چلے جاتے اور اس دوران میں وہ مطالعہ کرتے تھے یا کبھی خطوط کے جوابات دیتے تھے۔
10. عشاء کی نماز کے بعد بھی اکثر اوقات مطالعہ جاری رکھتے۔ تاہم وہ جلد ہی سو جاتے تھے اور نماز عشاء کے بعد دیر تک جاگنے اور بات چیت کو ناپسند کرتے تھے۔
مغرب کی نماز کے بعد کسی کو بھی لائبریری میں داخلے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ یہ وقت مطالعہ کے لئے خاص تھا اور آپ بڑے اہتمام سے مطالعہ کرتے تھے۔
جب کمپوزر موجود نہ ہوتا تو وہ مجھے مضامین کی سیٹنگ کرنے کے لئے بلا لیتے تھے۔
ہماری کوئی ایسی جائز خواہش نہیں تھی جو انھوں نے پوری نہ کی ہو (بشرطیکہ وہ ان کے بس میں ہو)۔
وہ گھر میں کسی قسم کی رسم کے قائل نہیں تھے۔
مدرسہ کا ایک روپیہ بھی اپنے اوپر یا بچوں پر استعمال کرنا حرام سمجھتے تھے۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے، مگر ایک اٹل ترین حقیقت ہے جس کے کئی گواہ ہیں۔
مجھے کبھی اجازت نہیں تھی کہ لائبریری سے چھوٹی سی USB کی تار گھر لے جاؤں۔ وہ کہا کرتے تھے، اگر ضرورت ہے تو مجھ سے رقم لے لو اور بازار سے نئی لے آؤ۔
لائبریری سے کتب لے جانے کی اجازت کسی کو نہیں تھی۔تاہم مجھے کبھی انھوں نے منع نہیں کیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے ’’معاذ میری ہر چیز استعمال کر سکتا ہے چاہے وہ فروٹ ہوں یا کوئی بھی ذاتی استعمال کی چیز‘‘۔
میں نے زندگی میں کبھی جیب خرچ کی تنگی محسوس نہیں کی۔ وہ ہر مہینے خود ہی بچوں کو استعمال کے لئے رقم دیتے تھے۔ البتہ ہم انھیں صحیح اوراحتیاط سے استعمال کرتے تھے۔یہ اُن کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ ہم بُرے لوگوں اور بُرے کاموں سے ہمیشہ دُور رہے۔ والحمدللہ
ہمیں اُن پر فخر تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
بحیثیت باپ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ایک عظیم ترین انسان تھے۔
اللّٰہم اغفرلہ وارحمہ۔ رب ارحمھما کما ربینی صغیرًا
اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ 115 صفحہ 42 تا 48
 
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
848
ری ایکشن اسکور
22
پوائنٹ
65
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کچھ یادیں :
ابوبکر قدوسی ۔۔
پیشگی معذرت مضمون خاصا طویل ہے ، ہمت سے پڑھا جائے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
میری تب تک ان سے ایک آدھ ملاقات ہی رہی ہوگی۔ کوئی ایسی بے تکلفی نہ تھی۔
لیکن تب تو ان سے کوئی ایسا گہرا تعلق بھی نہ تھا جب پہلی بار ان کا فون آیا کہ :
’’میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں، کسی کام سے۔‘‘
میں کچھ حیران سا ہوا کہ مجھ سے ایسا کیا کام ہو گا کہ اتنی دور سے سفر کر کے آئیں گے۔ میں نے کہا کہ
’’تشریف لے آیئے، میں حاضر ہوں۔‘‘
شائد اگلے روز ہی چلے آئے۔ ان کے ساتھ ایک اور دوست تھے جن سے میرا نیا نیا مگر اچھا تعلق تھا ...بیٹھے اور ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو گئیں ...کچھ ہی دیر میں اپنی آمد کا مقصد بتانے لگے۔
اِدھر پنجاب کے ایک صاحب نے ، جو خود بھی خاصے معروف عالم دین تھے ، ان صاحب سے حدیث کی ایک کتاب کے ترجمے کا کام کروایا تھا۔ اب جب یہ کام کو نپٹا چکے تو وہ صاحب لینے سے انکاری تھے۔ میں نے عرض کی کہ
’’جن صاحب نے ان سے اتنا لمبا چوڑا کام کروا لیا ، ان کا اب کیا موقف ہے؟‘‘
تو زبیر صاحب نے بتایا کہ:
’’ان کے مالی حالات خراب ہوگئے، ورنہ وہ کسی طے شدہ بات سے انکار نہیں کرتے ، لیکن کہتے ہیں کہ میرے پاس جب پیسے ہی نہیں تو میں کہاں سے دوں..؟‘‘
میں نے پوچھا کہ ’’اس سلسلے میں میرے لیے کیا حکم ہے، میں کس طرح آپ کے کام آسکتا ہوں؟‘‘
.کمال سادگی سے کہنے لگے: ’’میں نے اتنی دور سفر اس لیے کیا ہے کہ ان صاحب کو میں نے پہلے سے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ غم نہ کریں میں ابوبکر کو آپ کا مسودہ بیچ دوں گا۔‘‘
میں زبیر صاحب کی سادگی اور صاف گوئی پر ہنس دیا اور سوال کیا کہ ’’کتنے روپے ہوں گے اس کام کے؟ ‘‘
انہوں نے جو دام بتائے سن کر میں حیران سا ہو گیا۔ بس اتنا کہے دیتا ہوں کہ اس وقت جہاں میں رہتا ہوں ، وہاں تب اتنے میں ایک پلاٹ آ جاتا تھا میں نے انکار کیا کہ ’’ حضرت اتنے کا کام نہیں ، میں نہیں لینے کا۔‘‘ زبیر صاحب بولے ’’میں جانتا ہوں کہ کئی گنا مہنگا معاملہ ہوا ہے۔ میں نے خوشدلی سے ہنستے ہوئے عرض کی
’’حضرت معاملہ ان کا طے ہوا ہے، جو بازار کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے، اب سزا کے لیے میرا انتخاب کیوں؟‘‘ ان کے لہجے میں اس قدر خلوص تھا کہ میں اندر ہی اندر ہار گیا بولے:
’’آپ نہ لیں گے تو فریقین آپس میں الجھیں گے...علم بدنام ہو گا ، دین داروں کا مذاق بنے گا..میں نے اتنا لمبا سفر اسی لیے کیا ..اور سنیے! آپ کی طرف سے میں ہاں بھی کر چکا ہوں ، اب بولیے.؟‘‘
میں نے قہقہہ بلند کیا اور کہا ’’جو مزاج یار میں آئے، مجھے منظور ہے۔‘‘ اور مسودہ ان کے ہاتھ سے لے لیا....
بس میں حیران ہو رہا تھا زبیر صاحب نے اس بات کے لیے، کہ دین داروں کا مذاق نہ بنے، کتنا لمبا سفر کیا اور ان کو مجھ پر کیونکر ایسا اعتماد تھا کہ گھر سے ہی میری طرف سے اقرار بھی کرکے چلے آئے۔ بس اسی کے بعد ان سے محبت کا رشتہ شروع ہوا جو دم آخر تک قائم رہا۔
ایک صدی پرانا قصہ ہے کہ افغانستان سے ایک خاندان ہجرت کرکے اٹک کی نواحی بستی حضرو کے ایک گاؤں ’’پیرداد‘‘ میں آکر آباد ہوا۔ ’’پیرداد‘‘ جس کو تب گاؤں بھی نہیں کہا جاسکتا تھا، محض چند گھرانوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا ڈیرہ تھا اور اس میں یہ خاندان آن بسا۔ اسی خاندان کے ایک صاحب حاجی مجدد خاں کے ہاں ۲۵ جون ۱۹۵۹ء کو ہمارے یہ ممدوح حافظ زبیر علی زئی پیدا ہوئے اور محض ستاون برس کی عمر میں اس حیات ناپائیدار کا سفر مکمل کرکے ۱۰ نومبر ۲۰۱۳ء کو واپس ہولیے۔ اپنی زندگی کے آخری بیس بائیس سال آپ نے علمی طور پر بھرپور زندگی گزاری۔ آپ کا امتیاز تھا کہ آپ نے اپنی محنت اور مسلسل تحقیق سے عام لوگوں میں بھی درست اور نادرست کی طلب اور جستجو پیدا کردی۔
حضرو شہر اب بہت پھیل چکا ہے اور پیرداد کو اپنے دامن میں سمیٹ چکا ہے۔ اس پیرداد میں آپ کے والد کی کپڑے کی دکان تھی جب کہ کاروبار کے ساتھ ساتھ حاجی صاحب مذہبی سیاست میں بھی حصہ لیتے۔ حاجی مجدد خان کا تنظیمی تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔ جب کہ حافظ زبیر علی زئی کا تمام علاقہ اور خاندان مسلکاً حنفی المشرب تھے۔ یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ کب اور کس طرح آپ تقلیدی جمود سے نکل کر عمل بالحدیث کی وادی ذی شان میں داخل ہوئے، لیکن یہ خبر ہے کہ اس راہ عشق میں جو جو کٹھن مقام آتے ہیں وہ سب آپ کو طے کرنے پڑے۔ مقامی علمایے کرام سے تحصیل علم کے بعد جب آپ نے مسلک اہل حدیث اختیار کرلیا تو آپ کے وہی اساتذہ کرام آپ کے شدید مخالف اور ناقد ہوگئے جو کبھی آپ سے بہت محبت کرتے تھے اور پھر:
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس زنداں، کبھی رسوا سر بازار
قصہ مختصر آپ کو خاصے مشکل حالات سے گزرنا پڑا اور وہ مشکلیں تب سوا ہوگئیں جب ایک روز والد مکرم بھی ناراض ہوگئے۔
ہوا کچھ یوں کہ و الد کو جماعت اسلامی نے ملکی انتخابات میں بطور امیدوار کھڑا کردیا۔ لامحالہ والد کی خواہش تھی اور تقاضا بھی کہ آپ ان کی انتخابی مہم کا حصہ بنتے۔ سو انہوں نے آپ کو حکم دیا کہ آپ انتخابی مہم کی نگرانی کریں۔ شیخ زبیر علی زئی نے تمام تر احترام کے ساتھ جواب دے دیا کہ ’’میں اس کام کو حرام سمجھتا ہوں تو کیونکر اس کا حصہ بنوں گا۔‘‘
اس وقت تو والد چپ رہے۔ لیکن الیکشن کے نتائج آنے پر سارا غصہ زبیر صاحب پر ہی نکل گیا۔ حاجی صاحب جماعت اسلامی کے ’’معمول‘‘ کے مطابق انتخابات ہار چکے تھے اور آپ تو جانتے ہیں انتخاب ہارنے والا امیدوار سب سے خطرناک اپنے گھر والوں کے لیے ہوتا ہے۔ ایسے ہی ہمارے جماعت اسلامی کے دوست جب کہیں سے ہزیمت اٹھا کے واپس پلٹتے ہیں تو ان کا غصہ بھی سلفیوں پر نکلتا ہے۔ حاجی صاحب نے بھی اپنا غصہ ہمارے نئے نئے سلفی محقق پر نکال دیا اور شیخ زبیر علی زئی کو گھر چھوڑنا پڑا۔ جی ہاں! حاجی صاحب نے آپ کو ’’گھربدر‘‘ کردیا۔ آسمان جیسے سر پر آن پڑا ہو لیکن یہ مشکل دن ہم سب اور آپ کے لیے اچھے ثابت ہوئے اور ہمارے شیخ لاہور چلے آئے۔ ہمارے ایک دوست اسلام آباد میں ہوتے ہیں اور ایک اخبار چلاتے ہیں۔ میرے ہم نام ابوبکر صدیق۔ وہ شیخ زبیر کو لے کر دارالسلام چلے آئے اور یوں ایک بڑے شہر میں، کہ جو صدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ تھا، آپ کے زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔
ادھر پیچھے جب حاجی صاحب کا الیکشن کا غم کچھ کم ہوا تو شفقت پدری نے آنا ستایا اور بیٹے کی یاد آنے لگی۔ اب بیٹے کو گھر سے خود نکالا تھا اور پٹھان کی غیرت واپس کیسے بلاتی۔ لیکن بیٹا تو بیٹا ہوتا ہے۔ ہمارے علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدm نے ایک بار کہا تھا:
’’بیٹے کی محبت باپ سے پوچھو یا اس سے کہ جس کو دے کر واپس لے لیا ہو۔‘‘
واقعی بیٹے سے باپ کی محبت بہت عجیب ہوتی ہے۔ بلاشبہ ماں کی محبت کی مثالیں دی جاتی ہیں لیکن باپ کی محبت میں عجیب سورج جیسی تپش ہوتی ہے کہ یہ محبت زندگی میں آکر ہر شے روشن کردیتی ہے اس کے بنا زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ماں کی محبت کو چاندنی کی نرم روشنی سے تشبیہ دے سکتے ہیں لیکن باپ کی محبت کو میں نے سورج کی مثال اس لیے دی کہ زندگی کی نمو اس سے ہے۔ جب کبھی بیٹے دور ہوجاتے ہیں یا رخصت تو ایسے ہی ہوتا جیسے اس زندگی دیتے سورج کو گرہن لگ گیا ہو۔ حاجی مجدد خان بھی بیمار ہوگئے۔ بیٹے کی جدائی نے بستر پر ڈال دیا۔
تیرے ہجر میں اے فہم و ذکاء کے یوسف
کتنی آنکھیں ہیں کہ یعقوب ہوتی جاتی ہیں
حافظ زبیر علی زئی کو خبر ہوئی تو بھاگے ہوئے واپس گئے۔ ناراض والد سب ناراضیاں بھول چکے تھے۔ بستر پر بیمار لیٹے تھے لیکن یوسف کی قمیص کا آنا ماحول کو بدل دیتا ہے آنکھوں میں بینائی آجاتی ہے، یہاں تو بیٹا خود آگیا تھا۔ اٹھ بیٹھے، بیماری رخصت ہوئی۔ بیٹے کو گلے لگایا اور حکم دیا کہ اب کہیں نہیں جانا۔ لیکن حافظ زبیر علی زئی دارالسلام کے ساتھ ساتھ معاہدہ کرچکے تھے اور بہت سے علمی کام شروع تھے۔ انہوں نے والد سے لاہور میں رہنے کی اجازت طلب کی جو با دل نخواستہ انہوں نے دے دی۔
اس کے بعد آپ سال بھر سے کچھ زیادہ لاہور میں رہے۔ اور کچھ عرصے بعد باقاعدہ ملازمت ترک کرکے درالسلام سے رخصت ہوئے۔ البتہ انہوں نے دارالسلام کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت کام جاری رکھا اور یوں آپ کی تحقیق کے ساتھ دارالسلام کی بہت سی کتب شائع ہوئیں۔
حافظ زبیر علی زئی دارالسلام سے منسلک ہوگئے۔ اب ان کا مکتبہ قدوسیہ آنا جانا خاصا بڑھ گیا۔ وہ مسکراتے ہوئے آتے اور بیٹھ جاتے۔ ظاہر ہے مکتبے پر کتابوں کی باتیں ہی ہوتی یا اہل علم کے تذکرے ہوتے۔ لیکن ہمارے مزاج کے سبب محفل خشک نہ رہتی۔ خشک مزاج تو وہ بھی نہ تھے لیکن نسبتاً سنجیدہ ضرور تھے۔ بہت زیادہ مذاق پسند نہ کرتے جبکہ ہماری محفل اس کے برعکس رہتی۔ سو ان کے آنے کا ہم اتنا احترام ضرور کرتے کہ اس پر مزاح مجلس کو کچھ سنجیدہ کرلیتے۔ لیکن ایسا بالکل نہ تھا کہ اب بالکل ہی خشک ماحول ہوجاتا۔ آخر ان کو بھی ہمارے مزاج کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑتے۔
یہاں ایک دلچسپ واقعہ یاد آرہا ہے جو اسی مجلے میں آپ عمر فاروق قدوسی کے مضمون میں تفصیل سے پڑھ سکیں کہ کس طرح وہ رات کو ہمارے گھر ٹھہرے اور ساتھ میں مولانا محمد حسین ظاہری بھی تھے۔ مجلس اپنے رنگ پر تھی۔ ظاہری صاحب ہمارے مزاج آشنا اور ہم ان کے۔ حافظ زبیر علی زئی پریشان ہوئے اور صبح بتائے بغیر نکل لیے۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ کچھ غلط ہوگیا۔ لیکن اس کے بعد یہ ضرور ہے کہ ان کو اندازہ ہوگیا ہماری مجلس میں ضرورت سے زیادہ سنجیدگی ایک ممنوعہ شے ہے اور پھر آپ بھی اس رنگ میں رنگ گئے اب وہ مکتبہ قدوسیہ آتے اور کھل کر ہنستے بولتے۔
ایک روز مکتبہ قدوسیہ تشریف لائے۔ کچھ دیر نشست ہوئی پھر میں ان کو لے کر اپنے دفتر کی طرف چل پڑا۔ میں ان کے ساتھ ساتھ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اور بولے جارہا تھا۔ وہ تھے کہ ہمیشہ کی مسکان لبوں پر لیے میری باتوں کا جواب دے رہے تھے۔ میں نے ان کو کہا کہ مکتبہ قدوسیہ نے اردو زبان میں پہلی بار تفسیر ابن کثیر کمپیوٹر کی کمپوزنگ کے ساتھ شائع کی تھی۔ اب یہ جی چاہ رہا ہے کہ اس تفسیر کو ازسر نو اس طرح شائع کیا جائے کہ اس میں تحقیق اور تخریج بھی شامل کردی جائے۔
زبیر علی زئی اس کی تائید کر رہے تھے۔ لیکن اس حوصلہ افزائی کے ساتھ انہوں نے کمال مہربانی یہ کی کہ اپنے ساتھ آنے والے نوجوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ان کو جانتے ہیں؟ یہ نصیر احمد کاشف ہیں اور آپ کے کام کے بندے ہیں۔‘‘
میری نگاہوں میں سوال دیکھ کر بولے کہ
’’نصیر احمد کاشف نے آپ کے طبع شدہ نسخے پر بہت کام کر رکھا ہے۔‘‘
میں نے نصیر احمد کاشف سے کام کی تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ’’تفسیر ابن کثیر میں تفسیر کے دوران امام ابن کثیر جہاں بھی کوئی قرآنی آیت ذکر کرتے ہیں میں نے اس کا حوالہ لکھ دیا ہے اور یوں قرآنی آیات کی مکمل تخریج ہوچکی ہے۔‘‘
یقینا یہ ایک اچھا آغاز اور ایک اچھا شگون تھا۔ میں نصیر احمد کاشف کے سر ہوگیا۔ ان کی رہائش راول پنڈی میں تھی۔ میرا اصرار تھا کہ ابھی سفر کو نکل جائیں اور تفسیر ابن کثیر کا یہ نسخہ لے کر آئیں۔ شیخ زبیر علی زئی a کی تائید اور میرے اصرار کے سبب وہ راولپنڈی کو روانہ ہوگئے اور شاید اگلے روز ہی تفسیر ابن کثیر کا اپنا نسخہ لے کر آگئے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اردو دان حلقے میں تخریج و تحقیق کے کام کا ابھی مطالبہ کم ہی تھا۔ بلکہ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ تفسیر ابن کثیر کے عربی نسخوں میں بھی ابھی تخریج و تحقیق کا کام شاید نہیں آیا تھا۔ صرف ایک نسخہ جو غالباً ترکی سے شائع ہوا تھا اس میں قرآنی آیات کی تخریج کا کچھ اہتمام تھا۔ میں نے وہ حاصل کیا لیکن برادر نصیر احمد کاشف کا کام زیادہ بہتر اور جامع تھا۔
اب میں شیخ زبیر علی زئی کے سر ہولیا کہ نصیر احمد کاشف سے کہیں کہ مجھے تفسیر میں موجود احادیث کی تخریج بھی کرکے دیں۔ یہ نسبتاً مشکل بلکہ خاصا مشکل کام تھا۔ لیکن شیخ زبیر علی زئی کی دلچسپی سے یہ کام ممکن ہوگیا۔ انہوں نے نصیر احمد کاشف کو یہ کام کرنے کا کہا اور یوں یہ تحقیق و تخریج شروع ہوگئی۔
یہ تمام کام ہم نے عربی نسخے پر کیا اور بعد میں اس کو اردو ترجمے پر منتقل کروالیا۔ مقصد یہ تھا کہ عربی نسخہ بھی بعد ازاں شائع کیا جائے۔ محنت شاقہ کے بعد تفسیر ابن کثیر کی تخریج مکمل ہوچکی تھی۔ اگلے مرحلے میں، میں نے محترم شیخ ابوالحسن مبشر احمد ربانیd سے درخواست کی کہ آپ اپنی نگرانی میں ان تخریج شدہ احادیث پر حکم لگوادیں۔ یعنی صحیح اور ضعیف کی نشاندہی کروادی جائے۔ انہوں نے برادر عزیز مبشر حسین لاہوری کے ذمے یہ کام لگادیا اور اپنی نگرانی میں اپنے ادارے میں یہ کام مکمل کروایا۔
یہ کام بظاہر بہت آسان لگتا ہے لیکن ایسا آسان نہیں تھا۔ مشکل ترین کام خشت اول کا رکھنا ہی ہوتا ہے۔ اس کے لیے مضبوط ارادہ مطلوبہ وسائل اور ہمت مردانہ چاہیے ہوتی ہے۔
اب تو اس طرح کے کام بہت آسان ہوگئے ہیں۔ کمپیوٹر اور مکتبہ شاملہ کی مدد شامل حال رہتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بہت سی کتب جو اب عربی میں تخریج اور تحقیق کے ساتھ شائع ہوتی ہیں۔ بس ان کو نقل کرنا اور اردو قالب میں ڈھالنا ہوتا ہے جو ظاہر ہے بہت آسان کام ہے اور اس میں دماغ سوزی ہوتی ہے اور نہ بہت زیادہ محنت۔
تفسیر ابن کثیر میں بیشتر احادیث کے معاملے میں شیخ ناصر الدین البانیa کی تحقیق پر اکتفاء کیا گیا۔ البتہ مسند احمد بن حنبل پر شیخ البانیa کا کام موجود نہ تھا اس کے لیے الشیخ شعیب ارناؤط کے کام کو پیش نگاہ رکھا گیا۔ لیکن بعض روایات ایسی تھی کہ جن میں ان بزرگوں کے کام پر نظر ثانی کی ضرورت تھی۔ اس لیے ہم نے پھر شیخ زبیر علی زئیa سے رابطہ کیا۔
ان کی پیار بھری مسکراہٹ ان کے مزاج کا حصہ بن چکی تھی۔ کم از کم میرے لیے تو ان کا معاملہ ہمیشہ بڑے بھائی والا رہا۔ شفقتوں کا سلسلہ، محبتوں کی نرم نرم رم جم پھوار مجھے ہمیشہ سیراب کرتی رہی۔ سو اس بار بھی ایسا ہی تھا۔ انہوں نے اس کام میں مکمل تعاون کیا۔ جن جن احایث پر ہمیں ان کی رائے اور تحقیق کی ضرورت تھی انہوں نے وہ کام کردیا۔ سو کسی بھی زبان میں تفسیر ابن کثیر کا تحقیق و تخریج کے ساتھ پہلا نسخہ تیار تھا۔
اصل میں کچھ معاملے بندے کے مقدر میں ہوتے ہیں، ان کا ہونا طے ہوچکا ہوتا ہے لیکن اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ کب اور کیسے ہونا ہے۔ مکتبہ قدوسیہ سے نکل کے ساتھ والی عمارت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں مسلسل باتیں کر رہا تھا۔ میرا ان سے عجیب سا رشتہ تھا کہ لفظوں میں لکھنا ایسا آسان نہیں ہے۔ اور نہیں معلوم کب یہ رشتہ طے ہوا، کب اسے محبت کی کھیتی ملی، بلند ہوگیا۔ لیکن کچھ ایسا ضرور تھا کہ جو ہٹ کے تھا۔ وہ جب میرے پاس آتے تو میں بولتا ہی چلا جاتا بہت سی باتیں ہوتیں اور کہے جاتا اور وہ بیشتر وقت مسکراتے اور میری باتوں پر ہنستے رہتے۔ خیر مسکراہٹ تو ان کی ذات کا حصہ تھی۔ ممکن ہے کہ کوئی اس بات کو مبالغہ پر محمول کرے کیوں کہ ان کا ظاہری تاثر بہت سنجیدہ اور شاید تھوڑا تھوڑا غصے والے آدمی کا رہا ہوگا۔ ہوگا، ایسا ہوگا لوگوں کی نظر، میں ہم نے تو ان کو بہت مہربان، مسکرانے والا پایا۔
بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ بندے کا عمومی تاثر اس کی ذات سے مختلف ہوتا ہے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی ذات کا تاثر ان کے رعب کے سبب اور دبدبے کی وجہ سے ایسا ہی تھا کہ جیسے بہت غصے والے ہوں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ مزاج کے اتنے ہی نرم بہت محبت کرنے والے، اپنے کارکنان کے لیے بے انتہا شفقت اپنے دل میں رکھے ہوئے۔ حافظ زبیر علی زئی a کا معاملہ بھی یہی تھا۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ انسان اپنے عقائد کے دفاع کے لیے ہمہ وقت کمربستہ ہوتا ہے۔ باطل بات اور غلط دلیل کو برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کی یہ مستعدی بسا اوقات تاثر چھوڑ دیتی ہے کہ شاید مزاج میں تلخی ہوگی حالانکہ:
’’یہ بندہ دو عالم سے خفا تیرے لیے ہے۔‘‘
ویسے حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ مزاج کی تلخی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے دین کی غیرت ہوتی ہے اور حافظ زبیر علی زئی میں یہ غیرت بہت بڑھی ہوئی تھی۔ جب علم، فہم اور شعور حاصل ہوجاتا ہے تب یہ غیرت مزید بڑھ جاتی ہے۔ لیکن جب وہ علم کی وادیوں کے شناور نہ بنے تھے تب بھی ان کا معاملہ ایسا ہی تھا۔ ان کے علاقے حضرو اور اٹک کے بہت سے لوگ بحری جہازوں پر ملازمت کو جاتے تھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک علاقے کے لوگ کوئی ذریعہ معاش اختیار کرتے ہیں تو ’’دیکھا دیکھی‘‘ اس علاقے کے دیگر لوگ بھی اس راہ پر چل پڑتے ہیں۔
ابتدائی جوانی میں حافظ زبیر علی زئی تلاش معاش کے لیے اس راہ نکل گئے اور ایک بحری جہاز پر ملازم ہوگئے۔ اس طرح کی ملازمت کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بندے کو دنیا دیکھنے کا موقع مل جاتا اور دیگر تہذیبوں سے بھی آشنائی ہوتی ہے۔ انسان کے معاشرتی علم میں اضافہ اور شعور کی نگاہ میں وسعت آتی ہے۔ ان سفروں میں ہمارے محترم شیخ نے یونانی زبان بھی سیکھ لی۔ ان کی ذہانت کے سبب یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے یہ زبان بہت کم مدت میں سیکھی ہوگی۔
ایک روز جہاز کے عرشے پر بیٹھے تھے کہ کسی اطالوی ملاح نے اپنی زبان میں خدا کو برا کہا۔ حافظ زبیر علی زئی کا موقف تھا کہ اللہ کہا جائے، گاڈ (God) یا خدا۔ جب مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو تکریم بھی ہر لفظ کے ساتھ کرنا ہوگی۔ آپ کی غیرت اللہ کے اس یونانی نام کی بھی توہین برداشت نہ کرسکی اور آپ اس ملاح سے الجھ پڑے۔ بات زبانی تکرار سے نکل کر دو بدو لڑائی تک جاپہنچی۔ اس دوران جہاز کے کپتان کو خبر ہوئی تو وہ بھاگا اور آکر اس لڑائی کو ختم کروایا۔ اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ابتداء سے ہی بہت دینی غیرت کے حامل تھے۔ سو یہی غیرت حصول تعلیم کے بعد بھی آپ کے شامل حال رہی۔ غیرت کے اس مظاہرے کو عموماً لوگ مزاج کی تلخی پر محمول کرتے ہیں جو کہ درست نہیں۔
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کچھ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا ’’میرے‘‘ لیے ہے
مزاج کہاں کا تلخ تھا ذاتی زندگی میں انتہائی بااخلاق آدمی تھے۔ کوئی مہمان آتا یا سوال کرنے والا تو اس سے انتہائی عزت سے پیش آتے۔ حافظ ندیم ظہیر نے یہ واقعہ بیان کیا کہ معروف دیوبندی عالم حبیب اللہ ڈیروی ان کی لائبریری کو دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔ حبیب اللہ ڈیروی مولانا سرفراز صفدر کے شاگرد تھے اور اہل حدیث کے باب میں ان کے ہاں خاصی سختی پائی جاتی تھی۔ ان کی آمد کی خبر ملتے ہی حافظ زبیر علی زئی ان کے استقبال کو نکلے۔ بہت اچھے طریقے سے پیش آئے۔ مہمان کا جو اکرام ہوتا ہے اس کا مکمل اہتمام کیا اور اپنی لائبریری کے دروازے کھول دیے۔ باہم گفت و شنید ہوئی۔ حبیب اللہ ڈیروی بتانے لگے کہ وہ حافظ زبیر علی زئی کی کتاب ’’نور العینین‘‘ کا جواب لکھ رہے ہیں۔ اس پر حافظ زبیر علی زئی نے ان سے کہا کہ جواب لکھنے میں ان کی اس کتاب کا تازہ نسخہ پیش نگاہ رکھا جائے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی بعض تحقیقات سے رجوع کیا ہے۔ مگر یہ دلچسپ بات ہے کہ جب ڈیروی صاحب نے جواب لکھا تو حافظ زبیر صاحب کی اس بات کا احترام نہ کیا۔ حالانکہ یہ حافظ زبیر علی زئی کا حق تھا اور علمی دیانت کا تقاضا بھی۔
اصل میں لوگ رواداری کا غلط مفہوم لیتے ہیں اور جو اس خود ساختہ معیار پر پورا نہ اترے اس پر عدم رواداری کا فتویٰ جڑدیتے ہیں۔ تسلیم! کہ حافظ زبیر علی زئی اپنی تحریر اور تقریر میں اس درجہ نرمی کا مظاہرہ نہ کرسکے جس کی لوگ ان سے توقع کرتے تھے لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ انہوں نے دوسرے مسالک کے بزرگوں پر تنقید میں ان پر بے جا الزامات عائد کیے ہوں یا ان کے بارے میں بدزبانی کی ہو؟؟ حافظ زبیر علی زئی کی تنقید بلاشبہ سخت ہوتی لیکن کبھی بھی اخلاق کی حدود و قیود سے باہر نہ ہوتی تھی۔
ویسے بھی وہ میدان مناظرہ کے آدمی تھے اور مناظر ایک حد سے زیادہ نرمی پر اتر آئے تو کم از کم مناظرہ کبھی نہیں جیت سکتا۔ ذاتی زندگی میں وہ اپنے ہم مسلک افراد، شاگردوں اور غیر مسلک کے عوام و خواص کے لیے انتہائی بااخلاق آدمی تھے۔
اپنے شاگردوں سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کے کھانے اور ذاتی ضروریات تک کا خیال رکھتے۔ اگر کبھی ان کے ادارے میں کھانا بننے میں تاخیر ہوجاتی تو گھر کو بھاگے جاتے اور گھر میں جو کھانا موجود ہوتا لے کر آجاتے اور سب کے سامنے رکھ کر انہیں کھانے کی دعوت دیتے۔ طوالتِ مضمون کا خوف ہے لیکن مختصراً اس سے متعلقہ کچھ باتیں عرض کرتا ہوں۔
حافظ زبیر علی زئی کا یہ عمل شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین محدث دہلویm کے عین نقش قدم پہ رکھا ہوا قدم تھا کہ حضرت میاں صاحب مدرسے کے طالب علموں کے لیے خود گھر سے کھانا اٹھائے چلے آرہے ہوتے اور ان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہ ہوتی کہ ان کا منصب اس سے بلند تر ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ اپنی زندگی کے آخری برس علامہ احسان الٰہی ظہیر m نے نماز عید میں قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کا اعلان کیا۔ چونکہ اس کے لیے کوئی باضابطہ پلاننگ نہیں کی گئی تھی تو کھڑے کھڑے انہوں نے پوچھا کہ مرکز لارنس روڈ پر آج عید کے دن کون اس کام کے لیے بیٹھے گا۔ اب عید کا دن اور لڑکپن کی عمر۔ لیکن میں نے اور دو دوستوں نے عرض کی کہ ’’علامہ صاحب ہم بیٹھیں گے۔‘‘ ہم کھالیں جمع کرنے کے لیے ادھر جاکر بیٹھ گئے۔ آج اس واقعے کو بتیس برس گزر گئے تب عید کے دن لارنس روڈ سنسان پڑا تھا۔ اس کے پاس کوئی ہوٹل تک نہ تھا اور بھوک کے مارے برا حال۔ ابھی ہم سوچ رہے تھے کہ اس کا کیا علاج کیا جائے کہ علامہ صاحب اپنی گاڑی میں کھانے کا برتن لیے مسکراتے ہوئے اترے۔ خود گاڑی چلا کر آئے، اترے تو ہاتھ میں کھانا پکڑا ہوا… یہ ہوتے ہیں دلوں کے سوداگر۔
میری آنکھوں میں تب بھی پانی تھا اور آج لکھتے ہوئے بھی آنکھوں میں قوس قزح کے رنگ بکھر بکھر جارہے ہیں اور اپنے کھانے کا قصہ سناتے ہوئے حافظ ندیم ظہیر کی بھیگی بھیگی آنکھیں مجھے نظر آرہی تھیں کہ جب شیخ زبیر علی زئی ان کے لیے کھانے اٹھا اٹھا کر لاتے تھے۔
شاگردوں کے لیے شیخ زبیر علی زئی بہت نرم گوشہ رکھتے، نہایت محبت سے پیش آتے ان کی ضروریات کا دھیان رکھتے، ان کی خوشی، غمی میں شریک ہوتے۔ دکھ درد بانٹنے، علمی اختلاف کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرتے۔ ایک بار حافظ ندیم ظہیر کے ساتھ ایصال ثواب کے مسئلے پر بحث ہوگئی۔ امام ابن تیمیہm کے ایک قول کا حوالہ دے کر شیخ زبیر علی زئی نے ایصال ثواب کی اس بیان کردہ صورت کو جائز قرار دے دیا۔ حافظ ندیم ظہیر نے آپ سے اختلاف کیا۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک پروگرام میں جانا ہوا۔ حافظ ندیم ظہیر ساتھ تھے۔ شیخ زبیر علی زئی کسی جگہ بھی جاتے تو لوگ ان کے گرد اکٹھے ہوجاتے یا درس ہوتا تو بعد از درس سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اب اتفاق دیکھئے کہ ایک سوال ایصال ثواب کے بارے میں آگیا تو آپ نے اپنا موقف بیان کردیا۔ دیکھا جائے تو یہ کافی تھا لیکن آپ نے اپنے شاگرد کی عزت افزائی کی، اس کو اہمیت دی اور جواب کے آخر میں کہا کہ
’’بھائی میرا تو یہ موقف ہے، لیکن حافظ ندیم ظہیر اس سے اختلاف کرتے ہیں اور یہ اس صورت کو جائز نہیں سمجھتے۔‘‘
شاگرد کے ذکر سے یاد آیا کہ جب شروع شروع میں وہ مکتبہ قدوسیہ آتے تو بارہا ان کے منہ سے ایک جملہ سنا ’’فلاں نے فلاں کو پھکی دی‘‘ شروع شروع میں تو مجھے یہ بات سمجھ نہ آئی۔ ایک روز ایک مشترکہ دوست سے یا شاید ان سے بھی پوچھا کہ آخر یہ پھکی کیا ہوتی ہے جو آپ ہر وقت کھلاتے رہتے ہیں۔ وضاحت پر لطف تھی۔ یعنی فلاں بندہ کسی سبب شرمندہ ہوا۔ لیکن دلچسپ قصہ اس روز ہوا کہ کسی واقعے کے سبب نصیر احمد کاشف نے کچھ شوخ ہوکر کہہ دیا کہ
’’شیخ صاحب یہ تو پھر آپ کے لیے پھکی ہوگئی‘‘
بندے کا مزاج ہمیشہ یکساں نہیں رہتا اور نہ تحمل ہر وقت ایک سا۔ حافظ زبیر علی زئی اس روز ناراض ہوگئے اور بہت دن تک کیفیت یہ رہی کہ نصیر احمد سے بس کام کی بات کرتے اور قدرے گھٹے گھٹے رہتے۔ ایک روز ایک درخت کے نیچے چارپائی ڈالے آرام کر رہے تھے پاس بہت سے شاگرد موجود۔ آپ موت کی باتیں کرنے لگے۔ نصیر احمد کاشف نے پاس سے کہا کہ
’’شیخ صاحب ہماری تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عمر بھی آپ کو لگادے۔‘‘
بس دل کا موسم بدل گیا، چارپائی سے اٹھے اور نصیر احمد کو گلے سے لگالیا۔
حافظ زبیر علی زئی اپنے شاگردوں کی ضروریات کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ اگر وہ چھٹی پر گھر جاتے تو جاتے وقت ان کی جیب میں پیسے ڈال دیتے کہ خرچ کے لیے رکھ لینا۔ حافظ ندیم ظہیر کے والد بیمار ہوئے تو حضرو سے گوجرانوالہ تیمار داری کے لیے آگئے اور چلتے وقت ان کی جیب میں پانچ ہزار روپے ڈال دیے کہ ہسپتال میں بہت خرچ ہوتا ہے۔ ایک ہفتے بعد ہی حافظ ندیم ظہیر کے والد کی وفات ہوگئی تو دوبارہ دوسرے شاگردوں سے گاڑی بھر کے جنازے کے لیے گوجرانوالہ آئے۔
مجھے نابینا محدث وزیر آبادی شیخ پنجاب مولانا عبد المنان وزیر آبادی یاد آگئے کہ نابینا تھے اور دلی میں حبش خان کے پھاٹک میں قائم مدرسے میں جاکر میاں نذیر حسینm کے ہاں داخل ہوگئے۔ ایک روز بارش تھی اور بیت الخلاء جانا تھا۔ نابینا طالب علم برستی برسات میں دیواروں کو ٹٹولتا اور راستہ کھوجتا بیت الخلاء کو چلا۔ نابینا ہیں اور بارش بھی لیکن یہی دو مصیبتیں تو نہ تھیں کہ سدراہ ہوتیں۔ آگے ایک بیل بھی راہ روکے بیٹھا تھا۔ عبد المنان پریشان کھڑے ہیں کہ اتنے میں ایک مہربان ہاتھ آگے بڑھا اور تھام لیا۔ دل میں کلمہ شکر کہہ کے بیت الخلاء کو چل دیے۔ راہبر تب تک باہر کھڑا رہا جب تک فارغ نہ ہولیے۔ واپسی پر وہی مہربان ہاتھ تھا اور سہولت سے حافظ عبد المنان اپنے بستر آن پہنچے۔ ساتھی نے پوچھا:
’’عبد المنان جانتے ہو یہ کہ مہربان ہاتھ کس کا تھا؟‘‘
’’میں کیا جانوں؟ عبد المنان نے سادگی سے جواب دیا۔
’’عبد المنان یہ شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی تھے۔ جو آپ کو بیت الخلاء تک لے کر گئے اور واپس چھوڑنے آئے۔
مہربان اور شفیق استاد بھلا باپ سے کم ہوتے ہیں۔
حافظ زبیر علی زئی سے جو برسوں پہلے ملاقات ہوئی تھی اس نے ہمارے مابین ایک گہرا اور دلی تعلق قائم کردیا۔ وہ ہم سے محبت کرتے اور ہم ان کا احترام کرتے۔ ان کی محبت کا ایک سبب تو ان کی ہمارے والد محترم سے محبت تھی جس کا وہ کھلا اظہار کرتے اور دوسرا سبب شاید وہ واقعہ جو آپ اس مضمون کے شروع میں پڑھ چکے ہیں کہ ان کا خیال تھا کہ میں نے کتاب کے ترجمے کے جھگڑے میں ان کی بہت عزت کی تھی جب وہ قضیدے لے کر میرے پاس آئے تھے۔
بہت زیادہ محبت میں بھی کبھی ایسے موڑ آجاتے ہیں کہ راستہ کٹھن اور پرصعوبت ہوجاتا ہے۔ ایک روز مجلہ ’’الحدیث‘‘ ملا تو اس میں ان کی طرف سے ایک اعلان شائع ہوا۔ اس کو پڑھ کر مجھے بہت غصہ آیا۔ اعلان کا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ ان کی طرف سے صرف وہی کتب معتبر ہیں کہ جسے مکتبہ الحدیث حضرو شائع کرے گا یا مکتبہ اسلامیہ کی طرف سے شائع کی جائیں گی یا یہ کہ صرف وہ کتب کہ جن کے آخر میں ان کے دستخط ثبت ہوں گے۔ بات صرف یہاں تک رہ جاتی تو گوارا تھی لیکن اس اعلان کے بعد کچھ کتب کی فہرست بھی دی گئی تھی جس میں مکتبہ قدوسیہ کی دو کتابیں بھی شامل تھیں ایک تفسیر ابن کثیر اور دوسری ’’عبادات میں بدعات‘‘۔ اعلان پڑھ کر مجھے بہت غصہ آیا۔ غصے میں زیادہ تاثر افسوس کا تھا کہ کہ لوگ کیا جانیں گے کہ میں نے حافظ زبیر علی زئی کا نام کیا غلط طور پر شامل کرلیا تھا۔ یعنی مجھے کاروباری معاملے کی ایسی پرواہ نہ تھی لیکن اپنی ساکھ کی بہت پرواہ تھی۔ ممکن تھا غصے میں ان کو فون کرتا مگر ناراضی کے سبب رک گیا۔
محبت کے رشتوں میں ناراضی ایسی ہی ہوتی ہے کہ انسان کچھ کہہ بھی نہیں پاتا۔ بہت دن رکا رہا پھر ایک دن بیٹھے بیٹھے دل میں غبار اٹھا تو ان کو فون ملادیا۔ ان کے اعلان کو کئی ماہ گزر چکے تھے میں بات کرنے سے رکا رہا۔ آج جب بات کی تو میں نے ادب اور احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے سب کچھ کہہ دیا۔ جو اعلان میں نے پڑھا وہ ان کے گوش گزار کیا اور اس کے بعد اپنا بھرپور احتجاج۔ ممکن ہے وہ کچھ حیران بھی ہوئے کہ اتنے ماہ بعد بیٹھا رہا اور آج ناراض ہورہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں نے ارادے کے تحت ان کو فون کیا بھی نہ تھا، بس ایک دم دل میں غبار اٹھا اور فون ملادیا۔ میں جب سب کچھ کہہ چکا تو جواب میں ان کی آواز میں بھی شاید وہ ابدی اور ملکوتی حسن بھری مسکراہٹ اتر آئی۔ ہاں مجھے یقین ہے کہ میرے بولنے کے دوران وہ مسکراتے رہے ہوں گے وہ سفر میں تھے، ہنستے ہوئے کہنے لگے:
’’مجھے لاہور آنے دیں۔ بیٹھ کر ساری بات بتاؤں گا کہ اس اعلان کے اسباب کیا ہوئے اور ہاں آپ تفسیر ابن کثیر پر میرا نام لکھے رکھیں۔ سفر میں ہوں تفصیلی بات آکر کروں گا ناراض نہ ہوا کریں۔‘‘
اک طلوع آفتاب دشت و چمن سحر سحر
یعنی عجیب بات تھی کہ میں غصے میں فون کر رہا تھا اور وہ ہنستے جارہے تھے۔ ویسے ہے نا زیادتی کی بات کہ بندہ غصہ بھی نہیں کرسکتا۔ میرے دل میں بھی بھلا ان کے لیے کیا شکوہ رہ جانا تھا۔ بس ایسے لگا جیسے کوئی گلے لگے ہوئے ہو میرے کان میں کچھ کہہ رہا ہے۔
’’آپ میری تنہائی کی دعاؤں میں نام کے ساتھ شریک ہو۔‘‘
ہاں یہ ان دنوں کی بات ہے جب آپ دارالسلام لاہور میں ہوتے تھے۔ ان دنوں ان کا اردو بازار آنا جانا خاصا تھا۔
میں نہیں جانتا اس وقت ان کے دل کی کیا کیفیت تھی۔ عصر کی گھڑی تھی ہم مکتبہ قدوسیہ پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ دنیا جہان کی باتیں۔ وقت کم ہوتا اور باتیں بہت زیادہ اس روز بھی ایسا ہی تھا۔ کچھ یہ بھی تھا کہ بہت دن بعد آئے تھے۔ رخصت ہونے لگے تو میرے گلے سے لگ گئے۔ پاس آکے ہولے سے کان میں بولے:
’’آپ میری تنہائی کی دعاؤں میں نام کے ساتھ شریک ہو۔‘‘
آج جب بھیگی برسات آنکھوں سے یہ لکھ رہا ہوں اور آنسوؤں کے سبب لفظ قوس و قزاح میں ڈھل رہے ہیں تو بار بار جانے کوئی کانوں میں سرگوشیاں کر رہا ہے کہ میں اس کی دعاؤں کا شریک ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان کی نظر میں ایسا معتبر اور اہم کیوں کر ہوگیا تھا لیکن مجھے جاننے کی ضرورت بھی کیا ہے۔
بس کبھی کبھی یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے دل و دماغ میں وہ پہلی باضابطہ ملاقات کوئی ایسا تاثر ضرور چھوڑ گئی تھی کہ وہ یوں شفقت کرتے تھے اور بھول بھی کیسے پاتے کہ ان کا حافظہ تھا بھی تو بہت کمال کا۔
بہرحال مجھے جو شکوہ ان سے پیدا ہوا تحقیق احوال کے بعد وہ جاتا رہا۔ اصل میں وہ مناظرے اور ’’اردو‘‘ کے میدان کے آدمی تھے اور ناقدین کی ہمہ وقت ان پر نظر رہتی تھی۔ دوسری طرف تحقیق ان کا میدان تھا اور بہت بار ایسا ہوتا کہ آپ اپنی تحقیق سے رجوع کرچکے ہوتے۔ لیکن مخالفین ان کی پرانی تحاریر کو پیش کرکے ہنگامہ بپا کیے رکھتے۔ حتیٰ کہ ایک کتاب بھی شائع ہوئی ’’زبیر علی زئی اپنی تحریر کے آئینے میں‘‘ حافظ زبیر علی زئی کوئی پچھلے کمرے میں چھپ کر اپنی سابقہ تحریر سے رجوع نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اپنے رسالے میں ایسی وضاحت کیا کرتے لیکن مجرمانہ طور پر اس بات کو نظر انداز کیا جاتا۔ علمی دنیا میں اپنی سابقہ تحریر یا تحقیق کو ترک کرنا کسی طور پر باعثِ آزار و شرمندگی نہیں بلکہ یہ تو صاحبان علم کی عظمت کی نشانی ہے۔ لیکن ان کے ناقدین اس بظاہر ’’تناقض‘‘ کو ان کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے اس پر آپ نے مجلہ الحدیث میں مذکورہ اعلان شائع کروایا۔
حافظ زبیر علی زئی کس کمال کا حافظہ رکھتے تھے کہ آپ کو یہ بات سن کر حیرت ہوگی کہ قریب آٹھ سو صفحات کی ایک اردو انگریزی لغت ان کو زبانی یاد تھی۔ لغت یاد کرنا تو ایسا ضروری نہیں ہوتا لیکن لڑکپن کے شوق ہوتے ہیں شاید اس شوق کے سبب ہی وہ یہ کام کرگزرے۔ حافظے کی اس مضبوطی کا انہوں نے بہترین استعمال تب کیا جب وہ قرآن کریم حفظ کرنے کی طرف متوجہ ہوئے۔ دل چاہا کہ قرآن حفظ کرلیا جائے تو قرآن پکڑا اور گھر میں گھس گئے۔ اب بس قرآن تھا اور حافظ صاحب۔ صبح و شام قرآن یاد کیا جارہا ہے۔ یوں زبیر علی زئی اب حافظ زبیر علی زئی تھے۔ آپ حیران ہوں گے انہوں نے محض چار ماہ کی مدت میں یہ قرآن یاد کیا۔
حافظے کی مضبوطی کی ایسی مثالیں ہمیں اسلاف میں تو جابجا ملتی ہیں لیکن اس دور پرفتن میں اب کم کم دیکھنے میں آتی ہیں۔ امام شافعیa حافظے کی مضبوطی کے لیے کہا کرتے تھے کہ ’’گناہ ترک کردیے جائیں۔‘‘ ہم نے ماضی قریب میں ایسی بعض شخصیات کا مشاہدہ کیا یا ذکر سنا اور پڑھا کہ جن کے حافظے بہت کمال ہوتے ہیں۔ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیa کا محض ایک ماہ میں قرآن یاد کرنا معروف ہے۔ محدث زماں حضرت حافظ محمد گوندلویa کے حافظے کی بابت بھی محیر العقول واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ میرے والد محترم جامعہ سلفیہ سے فارغ ہوکر مولانا محمد اسماعیل سلفیa کے کہنے پر جب تدریس کے لیے گوجرانوالہ آئے تب انہوں نے ایک رمضان میں بائیس پارے یاد کرکے سنائے تھے۔ یہ بات انہوں نے مجھے خود بتائی کہ میں تمام دن لگا کے پارہ یاد کرتا اور رات تراویح میں سناتا۔ بائیس پارے یاد کرکے چھوڑ دیا۔ چند برس پہلے میرے تایا زاد عبد المجید شاکر نے بھی اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ان دنوں ان کے ساتھ ہی گوجرانوالہ میں قیام پذیر تھے اور جب بائیس روز گزر گئے تو کہنے لگے ’’میں بہت تھک گیا ہوں۔‘‘
میرے والد محترم اسماء الرجال اور حدیث کی تحقیق و تخریج میں خاصی مہارت رکھتے تھے۔ انتہائی متقی انسان تھے۔ بلکہ ان کے نام کے ساتھ قدوسی کے لاحقے کا سبب بھی یہی بنا کہ میاں محمد باقرa کے مدرسے میں ان کے استاد محترم مولانا محمد یعقوب ان کی نیکی اور تقویٰ کے سبب ان کو محبت سے قدوسی کہا کرتے تھے۔ جس کو آپ نے بعد ازاں اپنے نام کا حصہ بنالیا۔ ہمیں یہ لفظ ’’قدوسی‘‘ وراثت میں مل گیا اور بنا کوئی نیک عمل اب ہم بھی ’’قدوسی‘‘ ہیں۔ والد محترم کی شہادت کے بعد ایک بار مولانا محمد یعقوب کی دختر محترم ہمارے گھر تشریف لائیں تو انہوں نے بتایا کہ مولانا قدوسی کی جوانی کا یہ عالم تھا کہ غیر محرم خواتین کو آتے دیکھ کر منہ پر رومال رکھ لیا کرتے تھے۔ اس سبب مولانا یعقوب ان کو قدوسی کہنے لگے۔
حافظ زبیر صاحب نے ایک ذاتی ڈائری بنا رکھی تھی جس میں اپنے ہم عصر علما کی ثقاہت اور عدم ثقاہت کا لکھ رکھا تھا۔ وہ یہ ڈائری یا کتاب کسی کو نہ دکھاتے تھے۔ ایک روز مجلس میں ان کے منہ سے گوجرانوالہ کے ایک مولانا کے بارے میں نکل گیا کہ وہ غیر ثقہ ہیں۔ میرا قہقہہ بلند ہوگیا اور کہا کہ:
’’حضرت آپ کے حوالے سے یہ بات روایت کی جاسکتی ہیں؟‘‘
اس پر جلدی سے بولے کہ ’’نہیں نہیں بالکل بھی ایسا نہیں کرنا۔‘‘ الحمد للہ وہ دن اور آج کا دن میری زبان سے ان مولوی صاحب کا نام اس حوالے سے نہیں نکلا۔ اس مجلس میں ہی میں نے ان کو مزید ’’چھیڑتے‘‘ ہوئے پوچھا کہ مولانا عبد الخالق قدوسی آپ کی اس کتاب کے ثقات میں سے ہیں؟ اس پر اپنی مخصوص ملکوتی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے بولے:
’’وہ تو بہت متقی انسان تھے میری ان سے ایک ملاقات ہے اور ان کے تذکرے سنے ہیں، بہت ثقہ آدمی تھے‘‘ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حافظ زبیر a کی اس ڈائری میں علمائے کرام کی ذات کے حوالے سے کوئی منفی بات درج نہ تھی اور نہ کسی کی شخصی کمزوریوں کا تذکرہ تھا۔ یہ ان علمائے کرام کا خالصتاً علمی مقام کے تذکار کا مجموعہ تھا۔
ایک دلچسپ قصہ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے حوالے سے بھی سنتے جائیے۔ بعض افراد کا خیال تھا کہ علامہ شہید کے بارے میں حافظ زبیر علی زئی شاید کوئی مثبت نکتہ نظر نہ رکھتے ہوں اور ان کے خیال کا سبب یہ تھا کہ علامہ m کی داڑھی چھوٹی تھی لیکن وہاں تو منظر ہی الگ تھا کہ
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب ہی اس کی زلف کے اسیر ہوئے
ایک روز حافظ زبیر علی زئی کلاس میں پڑھا رہے تھے کہ ایک طالب علم نے، کہ جو علامہm کا کچھ ناقد تھا، سوال پوچھا کہ
’’آپ کا علامہ احسان الٰہی ظہیر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ‘‘
اس طالب علم کا خیال تھا کہ حافظ صاحب علامہ صاحب کے بارے میں کوئی منفی بات کریں گے اور مقصود اس کا اس سوال سے کلاس میں موجود دوسرے ساتھی حافظ ندیم ظہیر کو زچ کرنا تھا۔ حافظ ندیم ظہیر علامہ سے بہت محبت کرتے تھے اور جن کو علامہ سے محبت ہوتی ہے ان کا یہ مسئلہ بہرحال ہوتا ہے کہ پھر ان کا ذکر بھی کرتے رہتے ہیں اور کچھ ’’مجبور محض‘‘ اس بات سے بہت جلتے ہیں۔ اب حافظ زبیر زئی بولے:
’’علامہm ثقہ آدمی تھے، حافظ تھے۔‘‘
اور اس کے بعد علامہ شہید کی بہت تعریف کی، اور ساتھ اپنا چشم دید واقعہ سنایا ۔ حافظ زبیر علی زئی بتاتے ہیں اور ان سے حافظ ندیم ظہیر روایت کرتے ہیں:
’’امام حرم مکی شیخ عبد اللہ بن سبیّل پاکستان تشریف لائے تھے اور انہوں نے جامعہ اثریہ جہلم بھی آنا تھا۔ شیخ ابن سبیّل تقریر کر رہے تھے جبکہ علامہ احسان الٰہی ظہیر بھی سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ میں دیکھ رہا تھا کہ علامہ سٹیج پر مسلسل مصروف تھے۔ کبھی کسی سے بات کر رہے تھے اور کبھی کسی سے۔ یعنی کہ مسلسل مصروف تھے۔ شیخ کی تقریر ختم ہوئی تو سٹیج سے اعلان ہوا کہ اب علامہ احسان الٰہی ظہیر امام کعبہ کی تقریر کا ترجمہ کریں گے۔‘‘ حافظ زبیر علی زئی کہتے ہیں کہ
’’میں بہت حیران تھا کہ یہ کس طرح ترجمہ کرپائیں گے کہ تقریر تو یہ سن ہی نہیں رہے تھے۔ میرے لیے مگر حیرت کی بات تھی کہ علامہm نے بغیر کوئی نکات لکھے زبانی شیخ کی تقریر کا ترجمہ کیا اور چونکہ میں نے بہت توجہ سے تقریر سنی تھی سو حیرت اس بات کی تھی کہ علامہm نے شیخ کی تقریر کا من و عن ترجمہ کیا۔‘‘
حافظ زبیر علی زئی کی علامہ احسان الٰہی ظہیر سے محبت کا ایک اور واقعہ یہ تھا کہ آپ نے ایک بار اپنی بستی میں تبلیغی جلسہ کروایا۔ اس جلسے میں آپ نے علامہ شہید کے فرزند حافظ ابتسام الٰہی ظہیر کو مدعو کیا۔
بات حافظ زبیر علی زئی m کے حافظے کی چل رہی تھی اور بہت دور نکل گئی۔ شیخ زبیر علی زئی کی ذہانت اور حافظے کے بارے میں تو کوئی دوسری رائے نہیں تھی۔ البتہ ایک واقعہ بہت دلچسپ ہے کہ جب آپ نے باقاعدہ درس نظامی کی سند حاصل کرنے کے لیے امتحا ن دینا چاہا تو مدرسے کی انتظامیہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ ہوا یوں کہ آپ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں آخری سال کے آخر میں شامل ہوئے۔ سالانہ امتحان کو ابھی تین ماہ باقی تھے۔ مدرسے کے منتظم تب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہm تھے اور مولانا اپنے مزاج کے آدمی تھے۔ بہت صائب الرائے اور صاحب الرائے۔ حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر بھی آپ کی رائے کا احترام کرتے۔ انہوں نے آپ کو درس نظامی کے امتحان میں بٹھانے سے صاف انکار کردیا۔ جب کہ آپ کی صلاحیتوں اور ذہانت کے پیش نظر آپ کے استاد حضرت حافظ عبد المنان نور پوریm اور حافظ عبد السلام بھٹوی نے آپ کو امتحان میں شامل کرنے پر اصرار کیا۔ اس انکار و اصرار میں آپ کے استادان محترم کو کامیابی ہوئی اور مولانا عبداللہm نے اس مطالبے کو تسلیم کرلیا۔ جب امتحان کا نتیجہ آیا تو شیخ زبیر علی زئی نے اول پوزیشن حاصل کی۔
شیخ زبیر علی زئی نے اپنے استادوں کا صرف امتحانی نتیجے میں ہی مان نہیں رکھا آپ ان کا احترام بھی بہت کرتے تھے۔ افسوس استاد کے احترام کا یہ رواج یا کلچر اب کمزور ہوتا جارہا ہے۔ حافظ زبیر علی زئی کا عالم یہ ہوتا تھا کہ حضرت حافظ عبد المنان نور پوریm سے اگر کسی مسئلے میں اختلاف بھی ہوتا تو احترام سے سر جھکائے رکھتے۔ حافظ عبد المنانm بھی مسکراتے ہوئے کہتے کہ ’’تحقیق کی بابت تو آپ زیادہ جانتے ہیں لیکن مسئلہ اس طرح ہے۔‘‘ اس پر حافظ زبیر علی زئی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکالیتے اور اختلاف نہ کرتے۔
خود حافظ عبد المنان نور پوریm بھی اپنے استادوں کا اس طرح احترام کرتے۔ مولانا عبد الحمید ہزاروی آپ کے استاد تھے۔ اب عام لوگ حافظ عبد المنان نور پوری کے زیادہ چہرہ شناس تھے۔ اگرکسی مجلس میں استاد شاگرد اکٹھے ہوجاتے تو لوگ حافظ نور پوری کی طرف سوال جواب کے لیے لپکتے۔ لیکن حافظ صاحب کسی سوال کا جواب نہ دیتے اور اشارہ سے اپنے استاد محترم کی طرف کرتے کہ ’’ان سے پوچھیے۔‘‘ یہ بھی ایک طرح کا اکرام اور احترام تھا کہ استاد کی موجودگی میں جواب نہیں دینا۔
بہت برس گزرے میں شیخ مبشر احمد ربانی کے ہمراہ شیخ الحدیث مفتی عبید اللہ خان عفیف کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان دنوں ہم مکتبہ قدوسیہ کے زیر اہتمام قرآن کریم کے حواشی ’’توضیح القرآن‘‘ پر کام کروانا چاہ رہے تھے۔ اس کی نظر ثانی کروانا مطلوب تھی۔ ہم دونوں مفتیِ مکرم کے پاس گئے۔ اب مفتی صاحب صرف خاندانی طور پر بلوچ نہیں ہیں بلکہ اپنی مجلس میں گاہے اس کا عملی مظاہرہ بھی کرجاتے کہ آپ کسی بلوچ کی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ اپنے فتاویٰ کے مسودے کا اس روز ان کو یاد آگیا جو مبشر احمد ربانی صاحب کے تساہل کا شکار تھا۔ اب مفتی صاحب غصے میں آگئے اور حسب مزاج ’’چھوٹے مفتی‘‘ یعنی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ کی مزاج پرسی کردی۔ مجھے یاد ہے کہ مفتی صاحب بہت غصے میں بول رہے تھے اور مبشر احمد ربانی سر جھکائے سن رہے تھے کہ جیسے منہ میں زبان نہیں اور بدن میں دم نہیں۔
اہل علم کا اپنے اساتذہ کرام اور صاحبان علم کا احترام کرنا ہمیشہ سے ہی شیوہ رہا ہے۔ ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ کہ تقویٰ میں ان کی کوئی مثال نہیں اور علم کے پہاڑ ہیں۔ آپ اپنے برادر بزرگ علامہ احسان الٰہی ظہیر کی جوتیاں اٹھایا کرتے تھے۔ ایک بار علامہ m نے اپنی والدہ محترمہ سے آکے کہا بھی کہ
’’جب فضل الٰہی میری جوتیاں اٹھاتا ہے تو مجھے بہت شرم آتی ہے۔‘‘
اور میں نے خود مرکز اہل حدیث لارنس روڈ پر ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ کو بھاگ کر مولانا اسحاق بھٹی کی جوتیاں اٹھاتے دیکھا ہے لیکن مولانا اسحاق بھٹی نے ڈاکٹر صاحب کی یہ کوشش کامیاب نہ ہونے دی اور اپنے جوتے جلدی سے خود سنبھال لیے۔
ایک بار حافظ زبیر علی زئی سیالکوٹ مولانا محمد علی جانبازm سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز m نے سنن ابن ماجہ کی ضخیم عربی شرح ’’انجاز الحاجہ‘‘ کے نام سے لکھی ہے جو الحمد للہ ان کی زندگی میں مکتبہ قدوسیہ نے شائع کی تھی اور بارہ جلدوں میں مکمل ہوئی۔ حافظ زبیر علی زئی کا قد نسبتاً چھوٹا تھا جبکہ مولانا محمد علی جانباز مقابلاً دراز قامت تھے۔ رخصت ہوتے وقت حافظ زبیر علی زئی نے مولانا کا ماتھا چومنے کی کوشش کی۔ اب اپنے پنجوں کے بل یہ کھڑے ہوکر بھی ان کے ماتھے تک نہ پہنچ سکے تو اس پر مولانا نے ان کی مشکل آسان کی اور خود جھک گئے، یوں یہ ’’مشکل مرحلہ‘‘ طے ہوا۔ اس طرح جب آپ اپنے استاد محترم حافظ عبد المنان نور پوریm سے ملتے تو ان کا بھی یوں ہی اکرام و احترام کرتے اور محبت سے ان کا ماتھا چومتے۔
یہ مضمون میں اوپر درج کردہ سطور تک لکھ چکا تھا کہ آج ابھی نماز مغرب کے بعد ایک دعوت پر حافظ ندیم ظہیر سے ملاقات ہوگئی۔ میں نے تذکرہ کیا کہ یہ مضمون لکھ چکا ہوں اور کل آپ کے حوالے کردوں گا اور گفتگو کا رخ حافظ زبیر علی زئی کی طرف چل نکلا۔ بتانے لگے کہ حافظ زبیر علی زئی آپ دونوں بھائیوں سے بہت محبت رکھتے تھے۔ کہا کرتے کہ ’’یہ قدوسی برادران صحیح معنوں میں غیور اہل حدیث ہیں‘‘ اور ساتھ برادر عمر فاروق قدوسی کی کتاب کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ زبیر علی زئی کی رائے بتانے لگے۔ شیخ زبیر علی زئی کا مزاج تھا کہ کسی کی کتاب پسند آتی تو ایک آدھ بار فون کردیتے۔ پسند کرتے تعریف کرتے اور بات ختم۔ لیکن برادر عمر فاروق قدوسی کی کتاب ’’کچھ مزید کرم فرمائیاں‘‘ آپ کو بہت زیادہ پسند آئی تھی۔ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ کتاب پڑھی اور عمر فاروق قدوسی کو فون کردیا کہ کمال کتاب لکھی ہے آپ نے۔ حافظ ندیم ظہیر تو یہ بھی بتا رہے تھے کہ ان کو عمر فاروق قدوسی کا سفر نامہ ’’عروس البلاد بغداد میں‘‘ بہت پسند تھا اور اس کی بہت تعریف کرتے تھے۔
ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا ایک روز شام ڈھلے شیخ زبیر علی زئی مکتبہ قدوسیہ آئے۔ شام ڈھل ہورہی تھی اور ہمارے شیخ محترم کا چہرہ بھی کچھ اترا ہوا اور کچھ ناراض سے۔ کچھ دیر میں بھی ذرا بہتر ہوئے تو غم کی وجہ بتانے لگے۔ آج ان سے دارالسلام کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ آپ نے سنن اربعہ پر جو تحقیقی کام کیا ہے اس پر صرف آپ کا نام نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کام پر نظر ثانی کرکے اور مزید اضافے کرکے ایک لجنہ علمیہ یعنی علماء کی کمیٹی کو تحقیق کے طور پر شائع کیا جائے گا۔ ادارے کا مقصود تھا کہ چند معروف نام بھی ساتھ شامل کردیے جائیں تاکہ کتاب کچھ ’’بارعب‘‘ ہوجائے اور مارکیٹنگ آسان ہوجائے۔ میں چونکہ خود بھی ایک ناشر ہوں اس لیے دارالسلام کی مجبوری کو آسانی سے سمجھ سکتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ دارالسلام کے مدیر عبد المالک مجاہد صاحب کو جہاں اللہ تعالیٰ نے بہت سے وسائل سے نوازا ہے وہیں اس سے بڑے دل سے بھی نوازا ہے۔ کتاب کی تیاری سے لے کر طباعت تک بہت کھلے دل سے پیسے خرچ کرتے ہیں اور بہت محنت سے مطلوبہ معیار حاصل کرتے ہیں اور یوں دارالسلام کے ماتھے پر بہت سے درخشندہ ستارے جھومر بن کر سجے ہیں۔ یوں زر کثیر خرچ کرنے والے کچھ نہ کچھ تحفظات اگر رکھ بھی لیں تو اس میں کوئی اتنی عیب کی بات نہیں لیکن جس نے تحقیق و تخلیق کی محنت کی ہوتی ہے اس کے لیے یہ بہت تکلیف دہ بات ہے اور حقیقت بھی یہ تھی کہ تب تک شیخ زبیر علی زئی علما میں تو معروف ہونا شروع ہوچکے تھے لیکن عوام الناس ابھی ان کے مقام و مرتبہ اور علم کی گہرائی سے آگاہ نہیں ہوئے تھے۔ قصہ مختصر معمولی رد و کد کے بعد شیخ زبیر کی تحقیق کے ساتھ ہی یہ کتابیں شائع ہونا شروع ہوئیں تھی۔ اب تک سنن اربعہ کی طباعت کا کام مکمل ہوگیا۔ حافظ زبیر علی زئی کی تحقیق کے ساتھ ساتھ محترم عبد المالک مجاہد کے عمدہ ذوقِ طباعت کے سبب بہترین کتب لوگوں کے لیے منظر عام پر آئیں۔ مجھے اس شام حافظ زبیر علی زئی کا بجھا بجھا چہرہ یاد آرہا ہے اور ساتھ ان کے الفاظ تو ابھی بھی بے ساختہ ہنسی آرہی ہے انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں ’’ابھی تمہیں کوئی جانتا نہیں‘‘ اور اللہ کے فیصلے ہیں کہ پھر بہت جلد یہ عالم ہوا کہ برصغیر کے اردو دان حلقے میں بہت سے لوگ ان کی تحقیق شدہ کتب کو شیخ البانی کی کتب پر ترجیح دینے لگے۔
یہاں مجھے علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ جب انہوں نے الشیعہ والسنہ لکھی اور طباعت کا ارادہ کیا تو اس کے لیے دو صفحات کراچی کے ایک دیوبندی عالم دین سے لکھوانے کا ارادہ کیا۔ علامہ یہ ارادہ کرچکے تو ان کے ایک برادر اصغر نے پاس سے مشورہ دیا کہ آپ کی کتاب کو ان دو صفحات کی احتیاج نہیں۔ اس رائے کے سبب علامہ نے یہ ارادہ ترک کردیا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ علامہ شہید کا نام چار دانگ عالم گونجا اور وہ ان ’’ضرورتوں‘‘ سے بہت آگے نکل گئے۔ مجھے احساس ہورہا ہے کہ یہ داستان عشق بہت طولانی ہورہی ہے۔
عبارت مختصر! قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے۔
گرمیاں رخصت ہورہی تھیں اور موسم میں خنکی اتر رہی تھیں۔ راتیں ٹھنڈی ہورہی تھیں اور سردیاں ہمیشہ اداس کردینے والی ہوتی ہیں مگر یہ اداسی جیسے ٹھہر جانے کے لیے آئی تھی۔ سردیوں کی راتوں کے اداس تذکرے سے مجھے وہ دن یاد آگئے کہ جب میرے والد محترم کو دنیا سے رخصت ہوئے کچھ ماہ ہوگئے تھے اور پہلی پہلی سردیاں آرہی تھیں کہ ایک روز نہ جانے عثمان قدوسی اور ابوالحسن نے کہاں سے یہ پنجابی کے اشعار سن لیے اور مل کر پڑھنے لگے۔ بچے تھے ان کو معلوم نہ ہی نہ تھا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں:
باغاں چا لگیاں امبیاں
دن ہوگئے چھوٹے چھوٹے
راتاں ہوگیا لمبیاں
اسی رہ گئے کلم کلے
میرے دوست باغوں میں آموں پر بُور آگیا ہے۔ دن چھوٹے ہوگئے ہیں اور راتیں لمبی اور تمہارے رخصت ہونے سے ہم اکیلے رہ گئے ہیں۔
ایسے ہی اداس کرنے والی سردیوں کا آغاز تھا۔ یہ ۱۹ستمبر ٢٠١٧ کا دن تھا۔ ہمارے حافظ زبیر علی زئی بھلے چنگے تھے کہ بلڈ پریشر بڑھ گیا، ان دنوں آپ سرگودھا میں تھے۔ برین ہیمرج اور فالج کا حملہ تھا۔ آپ کی طبیعت کی خرابی کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ آپ کو کسی بڑے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ دو تجاویز سامنے آئیں۔ ایک لاہور اور دوسری اسلام آباد کے بارے میں تھی۔ حضرو، اٹک کی قربت کے پیش نظر اسلام آباد جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام آباد کے ہسپتال میں آپ کو داخل کروادیا گیا۔ اس دوران کبھی آپ ہوش میں آجاتے اور کبھی بے ہوش ہوتے۔
اس حالت میں بھی آپ کی دین کے لیے محبت اور غیرت کا یہ عالم تھا کہ ایک صاحب آپ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ وہ صاحب پولیس میں ملازم تھے اور داڑھی نہیں رکھی ہوئی تھی۔ آپ نے آنکھیں کھولیں ان کی طرف شناسا نظروں سے دیکھا اور اشارے سے کہا کہ داڑھی کیوں کٹوائی ہے اس کو بڑھالیں۔ ان صاحب نے احترام و تسلیم سے سر جھکالیا۔ جانے کس دل سے آپ نے ان کو یہ نصیحت کی تھی کہ چند روز بعد وہ صاحب دوبارہ آئے تو داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ ان صاحب نے آپ کو بتایا کہ داڑھی رکھ لی ہے۔ اس پر اس فالج زدہ حالت میں بھی آپ کے چہرے پر خوشی کے تاثرات نمایاں ہوگئے۔
اچھا آپ نے وہ واقعہ تو سن رکھا ہوگا جب سیدنا عمرt کو قاتل نے خنجر مارے اور آپ کا پیٹ کٹ گیا۔ اس کٹے جسم کے ساتھ آپ بمشکل ایک آدھ روز زندہ رہے اور اس حالت میں آپ کے پاس ایک نوجوان تیمار داری کو آیا۔ اس کا لباس ٹخنوں سے نیچے اتر رہا تھا۔ سیدنا عمرt نے اس تکلیف کے عالم میں بھی اس غلطی کو نظر انداز نہیں کیا۔ ہمارے حافظ زبیر علی زئی نے بھی اپنی اس بیماری میں اس سنت فاروقی کو تازہ کیا اور ایمانی غیرت کا ثبوت دیا۔
حافظ زبیر علی زئی تقریباً پچاس دن ’’امید و بیم‘‘ کی کیفیت میں رہ کر ۱۰ نومبر ۲۰۱۷ء کو رخصت ہوئے۔ مومن کے لیے دنیا قید خانہ ہوتا ہے۔ بندہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے گویا دکھوں کے دن کٹ جاتے ہیں۔ ساری تکلیفیں دور ہوجاتی ہیں پچاس دن آپ نے بہت تکلیف کے کاٹے۔ فیض احمد فیض نے لکھا تھا:
درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نے
ہر رگ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بن مو سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دور ترے صحن میں گویا
پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر
حسن مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا
میرے ویرانۂ تن میں گویا
سارے دکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر
سلسلہ وار پتا دینے لگیں
رخصت قافلۂ شوق کی تیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دل داری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا
 
Top