• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حديث تقتل عماراً الفئة الباغية کا تواتر

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75
السلام علیکم

اس روایت کے بارے میں یہ قول ملا مجھے

_ وقال الذهبي في سير أعلام النبلاء (1/421): ( وفي الباب عن عدة من الصحابة فهو متواتر ).

_ وقال ابن حجر في فتح الباري (1/543) : ( روى حديث تقتل عماراً الفئة الباغية جماعةٌ من الصحابة ، منهم : قتادة بن النعمان كما تقدم ، وأم سلمة عند مسلم ، وأبو هريرة عند الترمذي ، وعبد الله بن عمرو بن العاص عند النسائي ، وعثمان بن عفان وحذيفة وأبو أيوب وأبو رافع وخزيمة بن ثابت ومعاوية وعمرو بن العاص وأبو اليسر وعمار نفسه وكلها عند الطبراني وغيره ، وغالب طرقها صحيحة أو حسنة ).

http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=9545

یعنی حافظ ابن حجر رح کے بقول 13 صحابہ نے یہ روایت نقل کی اور امام ذہبی نے اسے متواتر کہا

مگر مجھے منہاج السنہ جلد 7، صفحہ 51 پر شیخ الاسلام کا یہ قول ملا

وَقَدِ احْتَجُّوا بِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» " وَهَذَا الْحَدِيثُ خَبَرُ وَاحِدٍ أَوِ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ وَنَحْوِهِمْ، وَلَيْسَ هَذَا مُتَوَاتِرًا (2) . وَالنَّصُّ عِنْدَ الْقَائِلِينَ بِهِ مُتَوَاتِرٌ، فَيَا لِلَّهِ الْعَجَبُ كَيْفَ سَاغَ (3) عِنْدَ النَّاسِ احْتِجَاجُ شِيعَةِ عَلِيٍّ بِذَلِكَ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَحْتَجَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِالنَّصِّ؟

کیا یہ حدیث متواتر مانی جاتی ہے ؟

شکریہ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,534
پوائنٹ
791
کیا یہ حدیث متواتر مانی جاتی ہے ؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
واضح ہو کہ :
جملہ : (تَقْتُلُهُ الفِئَةُ البَاغِيَةُ) ‘‘ یعنی عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔
ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے ، جو صحیح بخاری میں ایک جگہ اس طرح ہے :
حدثنا مسدد قال:‏‏‏‏ حدثنا عبد العزيز بن مختار قال:‏‏‏‏ حدثنا خالد الحذاء عن عكرمة قال لي ابن عباس ولابنه علي:‏‏‏‏ انطلقا إلى ابي سعيد فاسمعا من حديثه فانطلقنا فإذا هو في حائط يصلحه فاخذ رداءه فاحتبى ثم انشا يحدثنا حتى اتى ذكر بناء المسجد فقال:‏‏‏‏ كنا نحمل لبنة لبنة وعمار لبنتين لبنتين فرآه النبي صلى الله عليه وسلم فينفض التراب عنه ويقول:‏‏‏‏"ويح عمار تقتله الفئة الباغية يدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار"قال:‏‏‏‏ يقول عمار:‏‏‏‏ اعوذ بالله من الفتن.
(صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 447 )
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے عکرمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے اور اپنے صاحبزادے علی سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان کی احادیث سنو۔ ہم گئے۔ دیکھا کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے باغ کو درست کر رہے تھے۔ ہم کو دیکھ کر آپ نے اپنی چادر سنبھالی اور گوٹ مار کر بیٹھ گئے۔ پھر ہم سے حدیث بیان کرنے لگے۔ جب مسجد نبوی کے بنانے کا ذکر آیا تو آپ نے بتایا کہ ہم تو (مسجد کے بنانے میں حصہ لیتے وقت) ایک ایک اینٹ اٹھاتے۔ لیکن عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا، افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اورحافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں :
’’ واعلم أن هذه الزيادة لم يذكرها الحميدي في الجمع وقال إن البخاري لم يذكرها أصلا وكذا قال أبو مسعود قال الحميدي ولعلها لم تقع للبخاري أو وقعت فحذفها عمدا قال وقد أخرجها الإسماعيلي والبرقاني في هذا الحديث قلت ويظهر لي أن البخاري حذفها عمدا وذلك لنكتة خفية وهي أن أبا سعيد الخدري اعترف أنه لم يسمع هذه الزيادة من النبي صلى الله عليه وسلم فدل على أنها في هذه الرواية مدرجة والرواية التي بينت ذلك ليست على شرط البخاري ‘‘
جان لیجئے کہ :
یہ اضافی جملہ (تقتله الفئة الباغية ) امام حمیدی رحمہ اللہ نے ’’ الجمع بين الصحيحين ‘‘ میں اس حدیث کے ساتھ ذکر نہیں کیا ،اور کہا کہ امام بخاری نے بھی اصل میں اسے نقل نہیں کیا ۔اور حمیدی ؒ نے کہا کہ شاید صحیح بخاری سرے سے واقع ہی نہیں تھا ،یا پہلے تھا پھر امام نے اس کو(اپنی شرط پر نہ ہونے کے سبب ) حذف کردیا،
جبکہ یہ جملہ اس حدیث میں امام اسماعیلی اور امام برقانی نے بیان کیا ہے ۔حافظ صاحب فرماتے ہیں :میں جہاں تک سمجھا ہوں بخاری اسے عمداً حذف کیا ہے ۔اور حذف کرنے کی وجہ ایک پوشیدہ نکتہ ہے ،وہ یہ کہ ابو سعید ؓخدری نے اعتراف کیا ہے کہ یہ اضافی ٹکڑا انہوں نے نبی کریم سے نہیں سنا، تو واضح ہوا کہ یہ جملہ اس روایت میں مدرج ہے ، اور جو روایت اس کی وضاحت کرتی ہے وہ بخاری کی شرط پر نہیں تھی ‘‘ انتہی

اور حافظ صاحب نے جس روایت کے متعلق کہا
جو روایت اس کی وضاحت کرتی ہے،کہ ابو سعید ؓخدری نے بیان کیا ہے کہ یہ اضافی ٹکڑا انہوں نے نبی کریم سے نہیں سنا
وہ روایت صحیح مسلم میں اس طرح ہے :
حدثنا محمد بن المثنى، وابن بشار - واللفظ لابن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن أبي مسلمة، قال: سمعت أبا نضرة، يحدث عن أبي سعيد الخدري، قال: أخبرني من هو خير مني، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعمار، حين جعل يحفر الخندق، وجعل يمسح رأسه، ويقول: بؤس ابن سمية «تقتلك فئة باغية»
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مزید تفصیلات ۔ان شاء اللہ اگلی نشست میں عرض کرتا ہوں
 

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75
اسحاق بھائی، اللہ آپ کو جزائے خیر دے
بہت بہت شکریہ
میں اگلی نشست کا منتظر ہوں
آپ سے بہت سیکھا ہے
ماشاءاللہ
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,695
ری ایکشن اسکور
757
پوائنٹ
290
اسحاق بھائی، اللہ آپ کو جزائے خیر دے
بہت بہت شکریہ
میں اگلی نشست کا منتظر ہوں
آپ سے بہت سیکھا ہے
ماشاءاللہ
علم والوں کی عزت اسی طرح کی جاتی ہے اور انہیں دعائیں دی جاتی ہیں ۔ ہمارے اچہے افعال کا صلہ والدین کو بهی ملتا هے اور وہ بہی اجر منجانب اللہ پاتے ہیں ۔ آپکا خواب کا انداز آپکی عمدہ تربیت کا مظہر ہے ۔ دوسرے بہی آپ سے تربیت پاتے ہیں ، دیکیں اچہے اخلاق کتنے مفید ہیں آپکے اکاونٹ میں پلس پوائنٹس ان شاء اللہ شروع ہو گئے ۔ اللہ ہم سب کو بہتر ہدایت دے ۔ علمائے دین کے درجات میں بلندی دے جو ہماری کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اصلاح اور تربیت کرتے ہیں ۔ اللہ آپکے والدین کو جزائے خیر دے ۔
والسلام
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,534
پوائنٹ
791
مگر مجھے منہاج السنہ جلد 7، صفحہ 51 پر شیخ الاسلام کا یہ قول ملا
وَقَدِ احْتَجُّوا بِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» " وَهَذَا الْحَدِيثُ خَبَرُ وَاحِدٍ أَوِ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ وَنَحْوِهِمْ، وَلَيْسَ هَذَا مُتَوَاتِرًا (2) . وَالنَّصُّ عِنْدَ الْقَائِلِينَ بِهِ مُتَوَاتِرٌ، فَيَا لِلَّهِ الْعَجَبُ كَيْفَ سَاغَ (3) عِنْدَ النَّاسِ احْتِجَاجُ شِيعَةِ عَلِيٍّ بِذَلِكَ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَحْتَجَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِالنَّصِّ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
منہاج السنہ دراصل ایک رافضی ( ابن المطهر ) کے جواب میں لکھی گئی ہے ، اس کتاب کا پورا نام «منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية» ہے ،
اور اس میں اکثر امام ابن تیمیہ الزامی جواب دیتے ہیں، یا مخالف کی دلیل یا عقیدہ پر کوئی اشکال پیش فرماتے ہیں جسے سمجھنے کیلئے اکثر پوری فصل یا باب کو بغور دیکھنا پڑتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث کا مذکورہ ٹکڑا «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» بھی امام صاحب نے منہاج السنہ میں کئی جگہ مختلف سیاق و سباق میں نقل فرمایا ہے ۔
مثلاً ::
منہاج السنہ کی چوتھی جلد میں لکھتے ہیں :
فَالْخَوَارِجُ وَالْمَرْوَانِيَّةُ وَكَثِيرٌ مِنَ الْمُعْتَزِلَةِ وَغَيْرُهُمْ يَقْدَحُونَ فِي عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. وَكُلُّهُمْ مُخْطِئُونَ فِي ذَلِكَ ضَالُّونَ مُبْتَدِعُونَ. وَخَطَأُ الشِّيعَةِ فِي الْقَدْحِ فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَعْظَمُ مِنْ خَطَأِ أُولَئِكَ.
فَإِنْ قَالَ الذَّابُّ عَنْ عَلِيٍّ: (* هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَاتَلَهُمْ عَلِيٌّ كَانُوا بُغَاةً، فَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: " «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» " وَهُمْ قَتَلُوا عَمَّارًا
فَهَهُنَا لِلنَّاسِ أَقْوَالٌ: مِنْهُمْ مَنْ قَدَحَ فِي حَدِيثِ عَمَّارٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأَوَّلَهُ عَلَى أَنَّ الْبَاغِيَ الطَّالِبُ، وَهُوَ تَأْوِيلٌ ضَعِيفٌ۔۔۔الخ

یعنی خوارج اور مروانی اور اکثر معتزلہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی عیب جوئی کرتے ہیں ۔اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں سراسر غلطی و خطا اور گمراہی و بدعت میں مبتلا ہیں ۔
اور اس کےمقابل شیعہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی برائی بیان کرنے کے جرم میں مبتلا ہیں ۔

اور دفاع علیؓ میں سرگرم کوئی یہ کہے کہ : جن لوگوں سے جناب علی نے جنگ کی وہ باغی تھے ،کیونکہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جناب عمار کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا ،، اور پھر (اسی حدیث کے مصداق ) انہوں نے عمار کو قتل کردیا ۔
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں : یہاں (اس حدیث کی تطبیق و مصداق میں ) لوگوں کے کئی اقوال ہیں ، کچھ تو سرے سے اس حدیث کو صحیح نہیں سمجھتے ،اور کچھ تاویل کرتے ہیں ،کہ اس میں ’’ باغی ‘‘ سے مراد ۔۔طالب ۔۔(یعنی اپنے حق کا مطالبہ کرنے والا ) ہے،جبکہ یہ تاویل ضعیف ہے ،، انتہی (منہاج السنہ ج ۴ ص 390 )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور چند صفحے آگے چل کر یہی بات دوبارہ فرماتے ہیں :
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِعَمَّارٍ: " «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "
فَبَعْضُهُمْ ضَعَّفَهُ، وَبَعْضُهُمْ تَأَوَّلَهُ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعْنَاهُ: الطَّالِبَةُ
‘‘
(منہاج السنہ ج ۴ ص ۴۰۵ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور چند صفحے مزید آگے اسی حدیث کو لکھ کر فرماتے ہیں :

وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ .، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ".
، لَكِنْ فِي كَثِيرٍ مِنَ النُّسَخِ لَا يُذْكَرُ الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ، بَلْ فِيهَا: " «وَيْحَ عَمَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» ". وَلَكِنْ لَا يَخْتَلِفُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ أَنَّ هَذِهِ الزِّيَادَةَ هِيَ فِي الْحَدِيثِ.۔۔۔الخ

یعنی اس کو بخاری ایک اور سند سے بھی روایت کیا ہے ،لیکن اکثر نسخوں میں یہ حدیث اس جملہ «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» کے بغیر موجود ہے،اور اس میں صرف
یہ کہا گیا ہے کہ :افسوس ! عمار ان کو جنت کی طرف بلائے گا ،اور وہ عمار کو جہنم کی طرف دعوت دیں گے ،،
( امام فرماتے ہیں کہ :) لیکن علم حدیث کے حاملین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں یہ «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» اس حدیث کا حصہ ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,695
ری ایکشن اسکور
757
پوائنٹ
290
بسم اللہ الرحمن الرحیم
منہاج السنہ دراصل ایک رافضی ( ابن المطهر ) کے جواب میں لکھی گئی ہے ، اس کتاب کا پورا نام «منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية» ہے ،
اور اس میں اکثر امام ابن تیمیہ الزامی جواب دیتے ہیں، یا مخالف کی دلیل یا عقیدہ پر کوئی اشکال پیش فرماتے ہیں جسے سمجھنے کیلئے اکثر پوری فصل یا باب کو بغور دیکھنا پڑتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث کا مذکورہ ٹکڑا «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» بھی امام صاحب نے منہاج السنہ میں کئی جگہ مختلف سیاق و سباق میں نقل فرمایا ہے ۔
مثلاً ::
منہاج السنہ کی چوتھی جلد میں لکھتے ہیں :
فَالْخَوَارِجُ وَالْمَرْوَانِيَّةُ وَكَثِيرٌ مِنَ الْمُعْتَزِلَةِ وَغَيْرُهُمْ يَقْدَحُونَ فِي عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. وَكُلُّهُمْ مُخْطِئُونَ فِي ذَلِكَ ضَالُّونَ مُبْتَدِعُونَ. وَخَطَأُ الشِّيعَةِ فِي الْقَدْحِ فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَعْظَمُ مِنْ خَطَأِ أُولَئِكَ.
فَإِنْ قَالَ الذَّابُّ عَنْ عَلِيٍّ: (* هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَاتَلَهُمْ عَلِيٌّ كَانُوا بُغَاةً، فَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: " «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» " وَهُمْ قَتَلُوا عَمَّارًا
فَهَهُنَا لِلنَّاسِ أَقْوَالٌ: مِنْهُمْ مَنْ قَدَحَ فِي حَدِيثِ عَمَّارٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأَوَّلَهُ عَلَى أَنَّ الْبَاغِيَ الطَّالِبُ، وَهُوَ تَأْوِيلٌ ضَعِيفٌ۔۔۔الخ

یعنی خوارج اور مروانی اور اکثر معتزلہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی عیب جوئی کرتے ہیں ۔اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں سراسر غلطی و خطا اور گمراہی و بدعت میں مبتلا ہیں ۔
اور اس کےمقابل شیعہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی برائی بیان کرنے کے جرم میں مبتلا ہیں ۔

اور دفاع علیؓ میں سرگرم کوئی یہ کہے کہ : جن لوگوں سے جناب علی نے جنگ کی وہ باغی تھے ،کیونکہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جناب عمار کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا ،، اور پھر (اسی حدیث کے مصداق ) انہوں نے عمار کو قتل کردیا ۔
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں : یہاں (اس حدیث کی تطبیق و مصداق میں ) لوگوں کے کئی اقوال ہیں ، کچھ تو سرے سے اس حدیث کو صحیح نہیں سمجھتے ،اور کچھ تاویل کرتے ہیں ،کہ اس میں ’’ باغی ‘‘ سے مراد ۔۔طالب ۔۔(یعنی اپنے حق کا مطالبہ کرنے والا ) ہے،جبکہ یہ تاویل ضعیف ہے ،، انتہی (منہاج السنہ ج ۴ ص 390 )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور چند صفحے آگے چل کر یہی بات دوبارہ فرماتے ہیں :
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِعَمَّارٍ: " «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "
فَبَعْضُهُمْ ضَعَّفَهُ، وَبَعْضُهُمْ تَأَوَّلَهُ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعْنَاهُ: الطَّالِبَةُ
‘‘
(منہاج السنہ ج ۴ ص ۴۰۵ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور چند صفحے مزید آگے اسی حدیث کو لکھ کر فرماتے ہیں :

وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ .، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ".
، لَكِنْ فِي كَثِيرٍ مِنَ النُّسَخِ لَا يُذْكَرُ الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ، بَلْ فِيهَا: " «وَيْحَ عَمَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» ". وَلَكِنْ لَا يَخْتَلِفُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ أَنَّ هَذِهِ الزِّيَادَةَ هِيَ فِي الْحَدِيثِ.۔۔۔الخ

یعنی اس کو بخاری ایک اور سند سے بھی روایت کیا ہے ،لیکن اکثر نسخوں میں یہ حدیث اس جملہ «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» کے بغیر موجود ہے،اور اس میں صرف
یہ کہا گیا ہے کہ :افسوس ! عمار ان کو جنت کی طرف بلائے گا ،اور وہ عمار کو جہنم کی طرف دعوت دیں گے ،،
( امام فرماتے ہیں کہ :) لیکن علم حدیث کے حاملین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں یہ «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» اس حدیث کا حصہ ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جزاك الله خيرا ۔
واضح تماما
 

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75
السلام علیکم

آصف صاحب !مہربانی ہو گی کہ آپ جو بات کرنا چاہتے ہیں، وہ پیش کر دیں
اور موضوع سے بحث کو نہ ہٹائیں

جو بات آپ بتانا چاہ رہے ہیں، وہ اسحاق بھائی نے بالکل شروع میں کر دی تھی۔ ان کا آغاز ہی اس سے تھا

اورحافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں :
’’ واعلم أن هذه الزيادة لم يذكرها الحميدي
اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کا جواب بالکل واضح کر دیا تھا، جو کہ اسحاق بھائی نے پیش بھی کیا
مگر آپ نے اس کی طرف توجہ نہ دی

شیخ الاسلام نے فرمایا

وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ .، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ".
، لَكِنْ فِي كَثِيرٍ مِنَ النُّسَخِ لَا يُذْكَرُ الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ، بَلْ فِيهَا: " «وَيْحَ عَمَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» ". وَلَكِنْ لَا يَخْتَلِفُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ أَنَّ هَذِهِ الزِّيَادَةَ هِيَ فِي الْحَدِيثِ.۔۔۔الخ

یعنی اس کو بخاری ایک اور سند سے بھی روایت کیا ہے ،لیکن اکثر نسخوں میں یہ حدیث اس جملہ «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» کے بغیر موجود ہے،اور اس میں صرف
یہ کہا گیا ہے کہ :افسوس ! عمار ان کو جنت کی طرف بلائے گا ،اور وہ عمار کو جہنم کی طرف دعوت دیں گے ،،
( امام فرماتے ہیں کہ :) لیکن علم حدیث کے حاملین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں یہ «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» اس حدیث کا حصہ ہے ،
امام بخاری رحمہ اللہ نے حذف کیا یا نہیں
یہ قطعی نہیں بلکہ یہ نسخوں کا اختلاف ہے

خود حافظ ابن حجر فرماتے ہیں

لَكِن وَقع فِي رِوَايَة بن السَّكَنِ وَكَرِيمَةَ وَغَيْرِهِمَا وَكَذَا ثَبَتَ فِي نُسْخَةِ الصَّغَانِيِّ الَّتِي ذَكَرَ أَنَّهُ قَابَلَهَا عَلَى نُسْخَةِ الْفَرَبْرِيِّ الَّتِي بِخَطِّهِ زِيَادَةٌ تُوَضِّحُ الْمُرَادَ وَتُفْصِحُ بِأَنَّ الضَّمِيرَ يَعُودُ عَلَى قَتَلَتِهِ وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَلَفْظُهُ وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوهُمْ الْحَدِيثَ


میری عربی اتنی اچھی نہیں مگر جو مجھے سمجھ آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ

ابن سکن اور کریمہ وغیرہ کے نسخہ میں، اور اسی طرح نسخہ صغانی میں، جنہوں نے یہ کہا تھا کہ انہوں نے اپنے نسخہ کو فربری کے نسخہ سے تقابل کر کے لکھا، زیادہ ہے جو کہ وضاحت کرتی ہے کہ یہ ضمیر پلٹتی ہے ان کے قتل کی جانب جو کہ اہل شام کی جانب سے ہے، اور اور وہ لفظ ہیں، ویح عمار تقتلہ الفئہ الباغیہ یدعوھم ۔۔۔۔

اگر میرے ترجمے یا سمجھ میں کوئی غلطی ہو، تو اصلاح کر دیں

شکریہ
 

آصف حسین

مبتدی
شمولیت
جنوری 27، 2016
پیغامات
24
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
25
وعلیکم السلام ۔۔۔۔ جناب میرا یہ لنک شیر کرنے مقصد صرف اتنا تھا تاکہ دوسرے فریق کی بات بھی سامنے آئے ۔۔۔

ویسے جن الفاظ کا ذکر آپ کر رہے ہے کہ بخاری کے بعض نسخوں میں وہ موجود نہیں تو وہ صحیح ابن حبان سے بھی ثابت ہے اور علامہ ابن حجر نے خود فتح الباری میں کہا کہ ابی سعد الخدری نے یہ الفاظ کسی اور صحابی سے سنے تھے اسکا نام بھی بولا ہے ۔۔۔۔ لہذا اندارج والا مسلہ ہی باطل ہوگا کیونکہ صحابہ کی مرسلات بھی حجت ہے
 
Top