1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث ایام تشریق کی تحقیق : قسط اول

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از muddassirjamalra, ‏جولائی 29، 2020۔

  1. ‏جولائی 29، 2020 #1
    muddassirjamalra

    muddassirjamalra رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2017
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    ﷽ : الحمدلله رب وحدہ و الصلاۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ امابعد :

    *تحریر و تحقیق : ابو الماحی مدثر جمال راز السلَفی*

    چار دن قربانی والوں کے پیشوا کفایت الله سنابلی نے چار دن قربانی نامی کتاب خصوصاََ محدث زبیر علی زئی الحافظ رحمہ الله اور ان کے شاگردوں کے رد میں لکھی کتاب میں کئی جگہ شیخ زبیر رحمہ الله کا نام بےادبی سے لیا گیا ہے اور شاگردوں کو بھی کئی مقامات پر بےادبی سے مخاطب کیا گیا ہے .
    کفایت الله سنابلی کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی باطل تاویلات مخالف کے دلائل کو مشکوک و مردود ثابت کیا جائے تاکہ قارئین کو مغالطہ لگے کہ کفایت الله سنابلی کے پاس دلائل و براہین بھرے پڑے ہیں اور کفایت الله ہی جیت گیا . لیکن قارئین کرام ہم آپ کو بتا دیں کہ کفایت الله سنابلی اپنے باطل ظن کی بنیاد پر دوغلی پالیسی میں ماہر ہے اور اس میں اپنا ثانی نہیں رکھتا جیسا کہ ہم ثابت کرتے جائیں گے . ان شاء الله ہم قسط وار آپ کے سامنے سارا کفایت الله کا دوغلا پن اور جھوٹ و خیانتوں کی بھرمار پیش کرتے رہیں گے .
    بہرحال کفایت الله سنابلی کے چار دن قربانی کے دلائل کا قسط وار جواب پیش خدمت ہے الله تعالی ہمیں حق سمجھنے کی توفیق دے آمین اللھم آمین .

    کفایت الله سنابلی کی ص 49 کی دلیل اور اسکا جواب : ۔۔۔ ابو نصر التمار عبدالملک بن عبدالعزیز القشیری ۔۔۔ حدثنا سعید بن عبدالعزیز التنوخی عن سلیمان بن موسی عن عبد الرحمن بن ابی حسین عن جبير بن مطعم قال : قال رسول اللهﷺ كلُّ عرفاتٍ موقفٌ وارفَعوا عن عُرنةَ وكلُّ مزدلِفةَ موقفٌ وارفَعوا عن مُحسِّرٍ فكُلُّ فجاجِ منًى مَنحَرٌ و في كلِّ أيّامِ التَّشريقِ ذبحٌ . (صحيح ابن حبان ح ٣٨٥٤ و الکامل ابن عدی 3/1119 دوسرا نسخہ 4/261) •

    کفایت الله سنابلی نے لکھا " یہ حدیث مرفوع متصل صحیح ہے اسے امام ابن حبان نے صحیح کہا " (چار دن قربانی ص 49) .

    عرض ہے کہ یہ حدیث سنداََ و متناََ مضطرب ، منکر و ضعیف مردود ہے .

    پہلی علت : امام سعید بن عبدالعزیز التنوخی آخر عمر میں تغیر یعنی اختلاط کا شکار ہوگئے تھے .
    1) امام ابو مسھر رحمہ الله نے کہا " قد اختلط قبل موته " تاریخ ابن معین 2/204 .

    2) امام ابو داود رحمہ الله نے کہا " تغیر قبل موته " سؤالات ابو عبید الآجری 2/210 ت 1620 .

    3) حافظ ابن حجر رحمہ الله نے کہا " لکنه اختلط فی آخر امرہ " تقریب التھذیب ترجمہ 2358 .

    4) امام ذھبی رحمہ الله نے کہا " وقد اشارۃ حمزۃ الکنانی الی انه تغیر بآخرۃ " المعنی فی الضعفاء 1/380 ت 2426 .
    نیز دیکھئے میذان الاعتدال 2/149 .

    عبدالملک بن عبدالعزیز القشیری ابونصر التمار کا امام سعید بن عبدالعزیز التنوخی سے سماع قبل از اختلاط کسی بھی ٹھوس دلیل سے ثابت نہیں .
    طحاوی کی روایت میں عبدالله بن یوسف ہے ، عبدالله بن یوسف کا سماع بھی امام سعید بن عبدالعزیز التنوخی سے قبل از اختلاط ثابت نہیں .

    جو لوگ اس حدیث کے صحیح یا حسن ہونے کے دعوے دار ہیں وہ حضرات ابونصر التمار کا امام سعید بن عبدالعزیز التنوخی سے قبل از اختلاط سماع ثابت کریں .

    اگر کفایت الله سنابلی یا اسکے پیروکار یہ کہیں کہ امام ابن حبان رحمہ الله نے اسے اپنی " صحیح " میں بیان کیا ہے لہذا یہ قبل از اختلاط سماع پر محمول ہے .
    تو عرض ہے کہ اسکی کوئی ٹھوس دلیل نہیں کیونکہ جس طرح امام ابن حبان مجھاہیل کی توثیق میں متساہل ہیں اسی طرح احادیث کی تصحیح میں بھی متساہل ہیں امام ابن حبان رحمہ الله نے کئی سارے مختلط راویوں کی اختلاط والی روایت سے بھی حجت پکڑی ہے ، جس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں :

    امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں 1/423 ح 195 میں " ھشام بن ابی عبدالله حدثنا حماد بن ابی سلیمان " سے احتجاج کیا جبکہ حماد بن ابی سلیمان مشھور مختلط راوی ہے اور ھشام کا ان سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .
    نور الدین ھیثمی نے کہا " و لم یقبل من حدیث حماد الا ما رواہ عنہ القدماء : شعبۃ و سفیان الثوری ، و الدستوائی، ومن عدا ھؤلاء روا عنہ بعد الاختلاط . (مجمع الزوائد:1/ 120)

    اسی طرح امام عطاء بن السائب رحمہ الله کی روایت اپنی صحیح میں بیان کی (3/168 ح 425) جبکہ عطاء بن السائب مشہور مختلط راوی ہیں اور اس روایت میں انکے شاگرد اسماعیل بن ابراھیم ابو بشر بصری ہے انکا عطاء سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    امام ابن حبان رحمہ الله نے 5/149 ح 1841 میں *سعید* بن سماک بن حرب حدثنی ابی سماک بن حرب " سے حجت پکڑی جبکہ امام سماک رحمہ الله مختلط ہیں اور انکے بیٹے *سعید* کا ان سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں مزید سعید مجھول ہونے کے ساتھ مجروح بھی ہے .

    صحیح ابن حبان 3/166 ح 423 جبکہ اس روایت میں امام عطاء بن السائب رحمہ الله کے شاگرد مسعر بن کدام ہے انکا امام عطاء بن السائب رحمہ الله سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    صحیح ابن حبان 3/278 ح 997 جبکہ اس روایت میں امام عطاء بن السائب رحمہ الله کے شاگرد ابو الاحوص سلام بن سلیم ہے انکا عطاء سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    صحیح ابن حبان 3/465 ح 1191 جبکہ اس روایت میں امام عطاء بن السائب رحمہ الله کے شاگرد عمر بن عبید الطنافسی ہیں انکا عطاء سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    صحیح ابن حبان 4/286 ح 1006 " یحیی بن طلحہ الیربوعی قال حدثنا شریک " سے احتجاج کیا جبکہ یحیی الیربوعی کا شریک بن عبدالله النخعی سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    صحیح ابن حبان 4/442 ح 1575 جبکہ اس روایت میں امام عطاء بن السائب رحمہ الله کے شاگرد حمید کے والد عبدالرحمن ہیں انکا عطاء سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    صحیح ابن حبان 4/476 ح 1599 جبکہ اس روایت میں امام عطاء بن السائب رحمہ الله کے شاگرد جریر بن عبدالحمید ہیں انکا عطاء سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    امام عطاء بن السائب رحمہ الله کے لیے تھذیب التھذیب و دیگر کتب اسماء الرجال کا مطلعہ کریں اوپر مزکورہ مثالوں میں جو شاگرد ہیں انکا کسی دلیل سے بھی عطاء سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    صحیح ابن حبان 4/251ح 1405 " آدم ابن ابی ایاس حدثنا شریک " سے احتجاج کیا جبکہ ابن ابی ایاس کا شریک سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    امام ابن حبان رحمہ الله نے 5/544 ح 2169 میں " مسعر بن کدام عن سماک بن حرب " حجت پکڑی جبکہ مسعر کا سماک سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    امام ابن حبان رحمہ الله نے 10/290 ح 4442 میں زید بن ابی انیسہ عن عبدالملک بن عمیر " سے حجت پکڑی جبکہ عبدالملک بن عمیر مشہور مختلط و مدلس ہیں اور ابن ابی انیسہ کا ان سے قبل از اختلاط سماع بھی ثابت نہیں .

    امام ابن حبان رحمہ الله نے 15/122 ح 6728 جریر بن حازم عن عبدالملک بن عمر " سے حجت پکڑی جبکہ جریر کا عبدالملک بن عمر سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    ثابت ہوا کہ امام ابن حبان رحمہ الله نے تساہل کی وجہ سے مختلط راویوں کی اختلاط کے بعد والی روایات کو بھی صحیح کہا ہے جبکہ کفایت الله سنابلی بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ مختلط راوی کی اختلاط کے بعد والی روایات ضعیف ہوتی ہیں دلائل و قرائن بھی اس پر شاھد ہیں . لہذا امام ابن حبان رحمہ الله کا " عبدالملک بن عبدالعزیز القشیری حدثنا سعید بن عبدالعزیز التنوخی " کو صحیح قرار دینا عبدالملک کے سعید التنوخی سے قبل از اختلاط روایت ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ تصحیح تساہل پر مبنی ہے اور قرائن کی روشنی میں مردود ہیں کیونکہ کسی بھی دلیل سے ابو نصر التمار کا سعید بن عبدالعزیز التنوخی سے قبل از اختلاط سماع ثابت نہیں .

    دوسری علت : امام سلیمان بن موسی الاموی الدمشقی رحمہ الله کا تفرد کفایت الله سنابلی کا اصول :
    کفایت الله سنابلی نے سیدنا ابن عباس رضی الله عنھما سے ایک ثابت شدہ قول کو مشکوک و ضعیف ثابت کرنے کے لیے درج ذیل شوشہ چھوڑا " یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں "المنہال بن عمرو" ہیں۔ یہ گرچہ صدوق ہیں بخاری کے رجال میں سے ہیں مگر متکلم فیہ ہیں متعدد محدثین نے ان پر کلام کیا ہے اور ضعفاء کے مؤلفین نے انہیں ضعفاء میں ذکر کیا ہے " عام حالت میں موصوف معتبر ہیں لیکن موصوف کے ایسے تفردات قابل قبول نہیں ہوں گے جن میں غلطی کا قوی احتمال ہو " چار دن قربانی کی مشروعیت ص 53 .

    اب آئے دیکھتے ہیں کہ کیا یہ راوی و روایت کفایت الله سنابلی کے اصول پر پوری اترتی ہے .
    اب کفایت الله سنابلی کی ہی زبان میں ہی عرض ہے کہ " امام سلیمان بن موسی بھی متکلم فیہ ہیں متعدد محدثین نے ان پر کلام کیا ہے اور ضعفاء کے مؤلفین نے انہیں ضعفاء میں ذکر کیا ہے "
    لہذا کفایت الله سنابلی کے اصول کے مطابق " عام حالت میں موصوف معتبر ہیں لیکن موصوف کے ایسے تفردات قابل قبول نہیں ہوں گے جن میں غلطی کا قوی احتمال ہو "
    اور کفایت الله سنابلی کی پیش کردہ روایت میں غلطی کا قوی احتمال موجود ہے جس تفصیل درج ذیل ہے :
    امام سلیمان بن موسی اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہیں اور انہوں نے ایسی روایات بیان کی ہیں جن میں انکا تفرد ہے .
    امام ابن جریج نے کہا " و کان سلیمان یفتی فی العضل و *عنده أحاديث عجائب* " التاریخ الاوسط للبخاری :(1476)
    مزید کہا " و عنده مناكير " التاریخ الکبیر :4/ 39 .

    سیدنا امام بخاری رحمہ الله تعالی نے بھی کہا " عنده مناكير " الضعفاء الصغیر ت 148 مع تحفۃ الاقویاء ص 51 .
    جرح و تعدیل کے معتدل ماہر فن امام ابو احمد ابن عدی رحمه الله امام سلیمان بن موسی کے تعلق سے فرماتے ہیں " فقيه راو حدث عنه الثقات وهو أحد العلماء *روى أحاديث ينفرد بها لا يرويها غيره* وھو عندی ثبت صدوق " سلیمان بن موسی فقیہ ہیں ثقه راویوں سے حدیث بیان کیں اور وہ علماء میں سے ایک ہیں اور *انہوں نے ایسی منفرد احادیث روایات کیں جو ان کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا* اور وہ میرے نزدیک ثبت اور صدوق یعنی قابلِ اعتماد سچے ہیں ۰
    الکامل ابن عدی 3/1119 دوسرا نسخہ 4/262 .

    سلیمان بن موسی کے تعلق سے توثیق نقل کرتے وقت کفایت الله سنابلی نے امام ابن عدی رحمه الله کا مکمل قول نقل ہی نہیں کیا بلکہ صرف آخری ٹکرا نقل کرنے میں ہی عافیت سمجھی ، آخر کیوں ؟

    توثیق کے چند اقوال نقل کرکے لکھا " بعض سے ان پرمعمولی جرح منقول ہے لیکن صریح اور واضح توثیق کے بالمقابل اسکی کوئی حیثیت نہیں "
    یہ اصولوب منھال بن عمرو کے تعلق سے کہاں گیا تھا جن پر بلا سبب و بلا دلیل کلام ہوا ہے جن کی آئمہ محدثین جرح و تعدیل (رحمھم الله) نے صریح اور واضح زبردست توثیق کی ہے ؟
    اور جناب نے ایک ثابت شدہ قولِ صحابی کا انکار کرنے کے لیے منھال پر ظلم کا پہاڑ توڑ دیا .
    امام ابو حاتم الرازی نے کہا " *محله الصدق* و فى حديثه بعض الاضطراب و لا أعلم أحدا من أصحاب مكحول أفقه منه و لا اثبت منه " الجرح والتعديل 4/142 .
    اس کا جواب دیتے ہوئے کفایت الله سنابلی نے لکھا " عرض ہے کہ ابو حاتم نے صرف ان کی بعض احادیث میں اضطراب بتلایا یعنی ان کی اکثر احادیث صحیح و سالم ہیں اور اصول حدیث کا بنیادی قانون ہے کہ حالت کا غالب حالت ہی کا اعتبار ہوتا ہے اس لیے غالب حالت کے اعتبار سے ان کی احادیث صحیح و سالم ہیں " انوار البدر ص 68 .
    ہوسکتا ہے جب کفایت الله سنابلی یا اسکے پیرو کار جواب لکھنے کی ناکام کوشش کریں تو جواب میں اس حدیث کو ثابت کرنے کے لیے انوار البدر ص 68 کی ہی بات یہاں بھی پیش کریں تو عرض ہے کہ صحیح ابن حبان کی یہ روایت ان ہی بعض احادیث میں شامل ہے جن میں اضطراب ہے جیسا ہم ان شاء الله ثابت کریں گے .

    حافظ ابن حجر نے کہا " ۔۔۔ فی حدیثه بعض لین " تقریب التھذیب رقم 2616 مع التحریر 2/79 .

    محمد بن اسحاق ابن مندہ نے کہا " فى حديثه بعض المناكير " فتح الباب فى الكنى والألقاب (390)
    ہوسکتا ہے کہ کوئی چار دن قربانی کا قائل کہے کہ " ابن مندہ و ابن حجر نے بھی سلیمان کی صرف بعض احادیث میں اضطراب بتایا ہے اسلیے وہی روایت منکر ہو گی جو قوی ادلہ و قرائن سے ثابت ہو گی نہ کہ مطلقاً "

    تو عرض ہے کہ قرائن ہی گواہ ہیں کہ یہ روایت بھی ان ہی بعض اضطراب والی روایات میں شامل ہے .
    جس پر تبصرہ پیش خدمت ہے :

    امام ابو احمد ابن عدی رحمه الله نے اس روایت کو امام سلیمان بن موسی رحمہ الله کی منکر و ضعیف روایات میں ذکر کیا یا بالفاظ دیگر اس طرح سمجھئیے کہ امام ابو احمد ابن عدی رحمه الله نے اس روایت کو منکر و ضعیف قرار دیا . الکامل ابن عدی 3/1119 دوسرا نسخہ 4/260،261 .
    اگر کفایت الله سنابلی یا اسکا کوئی پیروکار یہ کہے کہ اس روایت کو امام ابن عدی نے صرف باسند بیان کیا ہے منکر یا ضعیف نہیں کہا !
    تو عرض ہے کہ امام ابن عدی رحمه الله کا کسی راوی کے ترجمے میں اسکی روایات ذکر کرنے کا کیا مطلب ہے یہ آپ لوگ بحوالہ کفایت الله سنابلی محدثین سے اور کفایت الله سنابلی سے ہی مکمل بحث دیکھ لیں چانچہ کفایت الله سنابلی نے یزید کے دفاع میں لکھی ہوئی کتاب میں *الکامل فی الضعفاء و الرجال* کے تعلق سے لکھا " ۔۔۔۔۔۔ امام ابن عدی نے اس روایت کو ایک طریقہ سے مکمل ذکر کیا اور دوسرے طریقے کے ایک لفظ کو ذکر کیا ہے طریقہ *اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ یہ روایت دونوں طریق سے ان کے نزدیک منکر یعنی مردود ہے کیونکہ امام ابن عدی کا اس کتاب میں عمومی منہج یہی ہے کے وہ اس کتاب میں منکر روایت ہی ذکر کرتے ہیں یہ بات خود امام ابن عدی رحمہ اللہ اور دیگر اہل علم کی تصریحات سے ثابت ہے چناچہ ملاحظہ ہو
    خود امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کئی روایت سے متعلق کہا ہے کہ مجھے ان کی کوئی منکر روایت نہیں ملی کہ اس کا تذکرہ کروں مثلاً مهلب بن ابى حبيبة کا ذکر کر کے ان کی کوئی روایت نہیں ذکر کی ہے اور اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا " لم ار له حديثا منكر افاذكره "
    میں نے ان کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی کہ اس کا تذکرہ کروں
    امام ابن عدی رحمہ اللہ کے متعدد مقامات پر اس طرح کی صراحت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ عام طور پر ہر راوی کے ترجمے میں اس کے منکر روایات ذکر کرنے کا اہتمام کرتے ہیں دیگر اہل فن نے بھی امام ابن عدی کا یہی طرز عمل بتلایا ہے چنانچہ ملاحظہ ہو
    امام ذہبی رحمہ اللہ المتوفي ٧٤٨ نے کہا " ويروي في الترجمة حديثا او احاديث مما استنكر للرجال
    امام ابن عدی راوی کے ترجمے میں اس کی منکر احادیث میں سے ایک یا کئی حدیث ذکر کرتے ہیں

    تاج الدین سبکی المتوفي ٧٧١ نے کہا " وذكر في كل ترجمة حديثا فاكثر من غرائب ذلك الرجال ومناكيره "
    امام ابن عدی ہر راوی کے ترجمے میں اس کی غریب ومنکر احادیث میں ایک یا اس سے زائد کا تذکرہ کرتے ہیں .
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ المتوفی ٨٤٢ ه‍ نے کہا " ومن عادته فيه ان يخرج الاحديث التي انكرت على الثقاة او على غير الثقة "
    اس کتاب میں امام ابن عدی کی عادت یہ ہے کہ وہ ثقہ یا غیر ثقہ کی منکر احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں

    *امام ابن عدی رحمہ اللہ اور دیگر اہل فن کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوگئی کے امام ابن عدی رحمہ اللہ عمومی طور پر راوی کے ترجمے میں منکر روایات ہی ذکر کرتے ہیں اس لیے اگر انہوں نے کسی راوی کے ترجمے میں کوئی روایت ذکر کی خواه وہ وہاں پر صراحت کے ساتھ اسے منکر کہیں یا نہ کہیں بہر صورت ان کے عمومی طرز عمل سے ان کے نزدیک اس روایت کو منکر ہی سمجھا جائے گا الا یہ کہ خود امام ابن عدی ہی کسی خاص روایت کے بارے میں صحت کا فیصلہ دے دیں اور زیر بحث روایت کو امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ایک طریق سے ذکر کیا ہے اور دوسرے طریق کا بھی ایک حصہ ذکر کیا ہے لہذا یہ روایت دونوں طرق سے امام ابن عدی رحمہ اللہ کے نزدیک منکر یعنی مردود ہی شمار ہوگی
    رہا زبیر علی زئی صاحب کا کسی حدیث کو اپنی تحقیق سے صحیح قرار دے کر یہ استدلال کرنا کہ امام ابن عدی راوی کے ترجمے میں صحیح احادیث بھی ذکر کرتے ہیں تو اس تعلق سے اول تو یہ عرض ہے کہ آپ کی تحقیق میں کوئی روایت صحیح ہے تو اس سے یہ کہا لازم آیا کہ ابن عدی رحمہ اللہ کی تحقیق میں بھی یہ روایت صحیح ہے؟ مودبانہ گزارش ہے کہ یہاں امام ابن عدی کی تحقیق کی بات ہو رہی ہے اس لیے اس مقام پر اپنی تحقیقات کو اپنے پاس ہی محفوظ رکھے ورنہ آپ دن رات کسی روایت کو صحیح کرتے رہے اس سے وہ روایت صرف آپ ہی کی نظر میں صحیح ہوگی نہ کہ آپ کے صحیح کہنے سے امام‌ ابن عدی رحمہ اللہ کی نظر میں بھی صحیح ہوجائے گی

    دوسری بات یہ عرض ہے کے امام ابن عدی کا عمومی طرز عمل منکر روایت ہی پیش کرنا ہے اس لیے اگر کسی راوی کے ترجمے میں کوئی روایت مذکور ہو اور امام ابن عدی رحمہ اللہ کی نظر میں اس کے صحیح ہونے کا کوئی اشارہ یا دلیل خود امام ابن عدی کی طرف سے نہ ملے تو امام ابن عدی رحمہ اللہ کے عمومی طرز عمل کی رو سے یہ روایت منکر ہی شمار ہوگی اور ہم جس روایت پر بات کر رہے ہیں اس روایت سے متعلق امام ابن عدی کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے کہ ان کی نظر میں یہ روایت صحیح ہے اس لئے ان کے عمومی طرز عمل کے تحت ان کے نظر میں اسے منکر یعنی مردود ہی مانا جائے گا .
    چند سطور بعد کفایت الله نے مزید لکھا " چوتھا حوالہ ہم نے امام محمد بن طاہر ابن قیسرانی رحمہ اللہ کا پیش کیا تھا اور انہوں نے امام ابن عدی کی ذکر کردہ روایت مع یزید والے الفاظ کو نقل کیا ہے اور امام ابن عدی کی کتاب الکامل میں اس روایت کے ذکر ہونے کی یہ وجہ بتلائی ہے کہ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اسے منکر قرار دیا ہے اور اس نکارت کا دفاع نہیں کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ خود امام ابن قیسرانی کے نظر میں بھی یہ روایت منکر یعنی مردود ہے " .
    یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ ص 201،202،203 .
    کفایت الله سنابلی کی اس لمبی بحث سے ثابت ہوا کہ " ایام تشریق والی روایت امام ابن عدی رحمہ الله کے نزدیک منکر و مردود ہے کفایت الله سنابلی کا کسی حدیث کو اپنی باطل تاویلات والی *تحکیک* سے صحیح قرار دینے سے وہ حدیث صحیح نہیں ہوگی اسلیے عرض ہے کہ کفایت الله اپنی *تحکیکات* کو اپنے پاس ہی محفوظ رکھے ورنہ آپ دن رات کسی روایت کو صحیح کرتے رہے اس سے وہ روایت صرف آپ ہی کی نظر میں صحیح ہوگی نہ محدثین کی نظر میں .

    ان آئمہ محدثین کے حوالے سے اور بقول کفایت الله سنابلی کے یہ بات ثابت ہوگئی کہ امام ابن عدی رحمہ اللہ عمومی طور پر راوی کے ترجمے میں منکر روایت ہی ذکر کرتے ہیں اس لیے اگر انہوں نے کسی راوی کے ترجمے میں کوئی روایت ذکر کی خواه وہ وہاں پر صراحت کے ساتھ اسے منکر کہیں یا نہ کہیں بہر صورت ان کے عمومی طرز عمل سے ان کے نزدیک اس روایت کو منکر ہی سمجھا جائے گا *لہذا " عرفاتٍ موقفٌ وارفَعوا عن عُرنةَ وكلُّ مزدلِفةَ موقفٌ وارفَعوا عن مُحسِّرٍ فكُلُّ فجاجِ منًى مَنحَرٌ في كلِّ أيّامِ التَّشريقِ ذبحٌ " والی روایت امام ابن عدی رحمہ اللہ کے نزدیک منکر یعنی مردود روایت ہے .

    اب کفایت الله سنابلی اور ان کے پیروکاروں کو اس روایت کے منکر و مردود تسلیم کرنے کے تعلق سے کیا خیال ہے ؟

    امام ابن عبد البر رحمہ الله (ت ٤٦٤) نے کہا " وھو حدیث في إسناده اضطراب " التمهيد ١٢‏/١٣١ •
    مزید کہا " روي منقطعاً و متصلاً واضطرب فيه " الاستذكار ٤‏/٢٤٦ •

    اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ روایت مضطرب و منکر مردود روایت ہے .

    کفایت الله سنابلی نے لکھا " بعض حالات میں صدوق کی منفرد روایت کے مردود ہونے پر اہل فن کے اقوال : اس طرح کے راوی کی روایت بلکہ بسا اوقات ثقہ راوی کی روایت بھی بعض حالات میں قرائن کی بنا پر رد کی جاتی ہے :
    امام ذہبی رحمہ اللہ المتوفي ٧٤٨ نے کہا "وان تفرد الثقة المتقون يعد صحيحا غريبا *وان تفرد الصدوق ومن دونه يعد منكرا* وان اكثار الراوي من الاحاديث التي لا يوافق عليها لفظا او اسنادا يصيره متروك الحديث "
    اگر ثقہ ومضبوط حافظہ والا راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت صحیح غریب ہوگی اور *اگر صدوق یا اس سے کم تر راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت منکر شمار ہوگی* اور جب کوئی راوی بکثرت ایسی روایت بیان کرنے لگے جس کی لفطی یا معنوی متابعت نہ ملے تو ایسا راوی متروک قرار پائے گا . (چار دن قربانی ص 196،197)
    اب آئے کفایت الله سنابلی کے اس اصول اور اپنی تائید میں امام ذھبی رحمہ الله وغیرہ کے اقوال جو انہوں نے نقل کئے ہیں کیا سليمان بن موسى اترتے ہیں :

    امام ابو حاتم الرازی نے کہا " *محله الصدق* و فى حديثه بعض الاضطراب و لا أعلم أحدا من أصحاب مكحول أفقه منه و لا اثبت منه " الجرح والتعديل 4/142 .

    امام ابن حجر رحمہ الله نے سليمان بن موسى کے تعلق سے کہا " صدوق فقیه ۔۔۔۔۔۔ " تقریب التھذیب رقم 2616

    امام أبو نعيم الأصبهاني رحمه الله نے کہا : سلیمان الأشدق و منھم *الصدوق الأصدق* الفقيه الأحذق ۰۰۰۰ سليمان بن موسى الأشدق رضى الله تعالى عنه " حليةالأولياء 6/87 ۰

    امام ذھبی رحمه الله نے کہا " صدوق " ( من تکلم فیہ وھو موثق ص 94 ت 148 و دیوان الضعفاء ص 176 ت 1783 ) .

    امام ابن عبدالھادی المقدسی رحمه الله نے کہا " ۔۔۔۔۔۔۔ بل ھو امام صدوق " تنقیح التحقیق لابن عبدالھادی المقدسی 34/287 .
    ثابت ہوا سليمان بن موسى بھی صدوق درجے کے راوی ہے .
    کفایت الله سنابلی نے ایک ثقہ راوی کی روایت کو مشکوک بنانے کے لیے لکھا " الغرض یہ راوی صدوق کے درجے پر ہے اور متکلم فیہ ہے ایسے راوی کے بعض تفردات قرائن کی روشنی میں مردود ہوتے ہیں یہی حال اس راوی کا اس روایت میں ہے کیونکہ قرائن اس کی بیان کردہ اس بات کے مردود ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں " (چار دن قربانی ص 19) .
    تو جناب آپ کی زبان میں ہی عرض ہے کہ سلیمان بن موسی کی زیر بحث روایت پر امام ابن عبد البر رحمہ الله نے " وھو حدیث في إسناده اضطراب " التمهيد ١٢‏/١٣١ و " روي منقطعاً و متصلاً واضطرب فيه " الاستذكار ٤‏/٢٤٦ کا حکم لگایا ہے اس لیے انکی یہ مفرد روایت حجت نہیں بلکہ مضطرب ، منکر و مردود ضعیف ہے کیونکہ قرائن ان کی بیان کردہ اس روایت کے مردود ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں . اور بقول آپ کے جو اپنی تائید میں آپ نے امام ذھبی کا قول نقل کیا ہے کہ " *اگر صدوق یا اس سے کم تر راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت منکر شمار ہوگی* "
    تو جناب سلیمان بن موسی صدوق راوی بھی زیر بحث روایت میں منفرد ہے اور محدثین نے بھی اس روایت کو مضطرب و منکر ضعیف قرار دیا ہے تو آپ کے بیان کردہ اصول کے مطابق بھی یہ روایت منکر مردود شمار ہوگی لہذا آپ جواب کا حق نہیں رکھتے بلکہ آپ کی تمام تاویلات باطل و مردود ہیں .

    سلیمان بن موسی کے پاس عجیب و غریب اور منفرد روایات تھی
    امام ابن جریج نے کہا " و کان سلیمان یفتی فی العضل و *عنده أحاديث عجائب* " التاریخ الاوسط للبخاری :(1476) .

    امام ابو احمد ابن عدی رحمه الله نے امام سلیمان بن موسی کے تعلق سے فرماتے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔ *روى أحاديث ينفرد بها لا يرويها غيره ۔۔۔۔۔ " *انہوں نے ایسی منفرد احادیث روایات کیں جو ان کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا* .
    الکامل ابن عدی 3/1119 دوسرا نسخہ 4/262 .
    مکمل قول پیچھے گزر چکا ہے .

    امام ابن رجب رحمہ اللہ نے کہا :
    (سليمان) بن موسى الدمشقي، الفقيه، يروي الأحاديث بألفاظ مستغربة .(شرح علل الترمذي 2/834)
    سلیمان بن موسی فقیہ ہیں عجیب الفاظ سے احادیث روایت کرتے ہیں .
    اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ سليمان بن موسى نے تفرد میں عجیب و غریب روایات بیان کی ہیں لہذا یہ روایت ان کی منکر و ضعیف مردود روایات میں سے ہے اور مضطرب ہے جیسا کہ ثابت کردیا گیا .
    لیجئے قرائن قرئن کی بات کرنے والے کفایت الله سنابلی اور اس کے پیروکاروں کے اصولوں و قرئن کی روشنی میں ہم نے اس روایت کو مردود ثابت کردیا لہذا کفایت الله سنابلی اور اسکے مقلدین جواب دینے کا حق نہیں رکھتے .

    ایک اور علت الزامی جواب : کفایت الله سنابلی نے ایک راوی کی توثیق کا حوالہ تقریب التھذیب سے دیتے ہوئے لکھتے ہیں " حافظ ابن حجر رحمہ الله آپ کے بارے میں محدثین کے اقوال کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں " چار دن قربانی ص ۷۸،۷۹ .
    اسی طرح ایک اور راوی کے تعلق سے تقریب التھذیب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا " حافظ ابن حجر رحمہ الله ان کے بارے میں محدثین کے اقوال کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ " انوار البدر ص 236 .
    گویا کہ تقریب التھذیب میں بقول کفایت الله سنابلی حافظ ابن حجر رحمہ الله جرح و تعدیل پر محدثین کے اقوال کا خلاصہ بیان کرتے ہیں تو اب آئے اس کفایتی اصول پر پھر سے سليمان بن موسى کو پرکھتے ہیں .
    حافظ ابن حجر رحمہ الله نے سليمان بن موسى کے بارے میں کہا " ۔۔۔۔۔ خویلط قبل موت بقلیل " تقریب التھذیب ترجمہ نمبر 2616 .

    اس قول کے مطابق سليمان بن موسى موت سے پہلے مختلط ہوگئے تھے .
    تو جناب ایک اور اختلاط اب امام سعید بن عبدالعزیز التنوخی کا ان سے قبل از اختلاط سماع ثابت کیجئے .

    اگر کفایت الله سنابلی یا اسکے پیروکار یہ کہے کہ قلیل اختلاط ہوا تھا تو عرض ہے کہ جناب اس بات کا ادنی ثبوت بھی موجود نہیں کہ امام سعید بن عبدالعزیز التنوخی نے اس قلیل اختلاط سے پہلے سنا تھا اور بقول کفایت الله سنابلی " *اگر صدوق یا اس سے کم تر راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت منکر شمار ہوگی* " اس لیے اس سے مسلہ اور مشکوک ہوجاتا ہے کیونکہ سليمان بن موسى کے پاس منکر و منفرد عجیب و غریب روایات تھی اور یہ قلیل اختلاط ان میں مزید اضطراب کا اضافہ کردیتا ہے لہذا کفایت الله سنابلی کے اس اصول " *اگر صدوق یا اس سے کم تر راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت منکر شمار ہوگی* " اس سے مزید اس روایت میں اضطراب ثابت ہوجاتا ہے .
    اگر کفایت الله سنابلی یا اسکے پیروکار یہ کہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ الله کا یہ قول غیر ثابت اقوال کی بنیاد پر مبنی ہے اسلیے سلیمان کا قلیل اختلاط ثابت نہیں تو عرض ہے کہ جناب پھر کیوں آپ تقریب التھذیب کے حوالے سے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں حافظ ابن حجر رحمہ الله محدثین کے اقوال کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور پھر آپ تقریب التھذیب کا حوالہ دیتے ہیں .
    لہذا آپ جواب دینے کا حق نہیں رکھتے .
    یہ سب آپ کے اصول کے مطابق الزامی جواب تھا برائے مہربانی دوغلا پن چھوڑ دیں .

    تنبیہ : تحقیق راحج میں سلیمان بن موسی الاموی الاشدق رحمہ الله ثقه صدوق حسن الحدیث اور قابل حجت ہیں *الا کے ادلہ و قرائن سے ان کی روایت میں نکارت و خطا و شذوذ ثابت ہو جائے تو وہ روایت ضعیف و منکر ہوگی* .
    اور الحمدلله کفایت الله سنابلی کی پیش کردہ روایت کو ہم ادلہ و قرائن سے منکر و ضعیف مردود ثابت کرچکے ہیں بلکہ کفایت الله سنابلی کے اصولوں سے بھی ہم اس روایت کو مردود ثابت کرچکے ہیں .

    اس حدیث پر محدثین کرام کی مزید جرح :

    1) امام ابو بکر البزار رحمہ الله (ت ٢٩٢)، نے کہا " ابن أبي حسين لم يلق جبير بن مطعم " البحر الزخار ٨‏/٣٦٤ •
    2) امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ الله نے کہا " وَرُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ يَشُدُّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( «كُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ» ) رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، *وَفِيهِ انْقِطَاعٌ* زاد المعاد في هدي خير العباد 2/291 .

    3) امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    " ان عبد الرحمن بن أبی حسین هذا لم أعرفه ، لکن ابن حبان ذکرہ علی قاعدتہ فی الثقات .
    اس عبدالرحمن بن ابی حسین کو میں نہیں جانتا ، لیکن ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے اپنے خاص اصول کے تحت الثقات میں ذکر کیا ہے
    (سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 5/618)

    4) شعيب الأرنؤوط نے کہا " رجال السند رجال الشيخين، غير سليمان بن موسى، وهو صدوق . وفيه أيضاً *عبد الرحمن بن أبي حسين : لم يوثقه غير ابن حبان، ولم يرو عنه غير سليمان بن موسى ثم هو لم يلق جبير بن مطعم* " تخريج صحيح ابن حبان ٣٨٥٤ •

    اگر کفایت الله سنابلی یا اسکے پیروکار کہے کہ امام ابن حبان رحمہ الله اسے صحیح قرار دیا ہے لہذا یہ متصل ہے کیونکہ تصحیح اتصال سند کی دلیل ہے لہذا یہ منقطع نہیں بلکہ متصل ہے .

    تو عرض ہے کہ امام ابن حبان رحمہ الله تصحیح میں بھی متساہل ہیں اور امام ابن حبان رحمہ الله نے کئی منقطع و مرسل روایات کو بھی صحیح قرار دیا ہے
    مثلاََ : 2/232 ح 482 کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام مکحول رحمہ الله نے سیدنا ابوثعلبہ الخشنی رضی الله سے نہیں سنا .
    12/368 ح 5557 کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ اس میں بھی یہی علت موجود ہے .
    12/481 ح 5665 کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام مکحول رحمہ الله کا مالک بن یخامر سے سماع ثابت نہیں .

    صحیح ابن حبان ح 3164 جبکہ سلیمان بن موسی کی سیدنا جابر رضی الله عنہ سے روایت مرسل و منقطع ہے .

    لہذا امام ابن حبان رحمہ الله کی تصحیح سے اس حدیث کے اتصال پر دلیل لینا درست نہیں کیونکہ انہوں نے کئی منقطع و مرسل روایات کی بھی تصحیح کر رکھی ہے جیسا کہ دلائل سے انکا منقطع و مرسل ہونا ثابت ہے .

    اس حدیث میں چونکہ عبد الرحمن ابن ابی حسین مجھول ہے اور اسکی توثیق اور تصحیح حدیث امام ابن حبان متساہل رحمہ الله کے علاوہ کسی بھی ماہر ناقد فن سے ثابت نہیں مزید اس راوی کی سیدنا جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے ملاقات ثابت نہیں تو کفایت الله سنابلی اور اس کے پیروکارو اس راوی کی توثیق پر درج ذیل کھوکھلے دلائل دیتے ہیں :
    ۱) اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ الله نے اپنی صحیح ابن حبان (ح ٣٨٥٤) میں ذکر کیا ہے .
    ۲) امام ابن حزم نے عبد الرحمن ابن ابی حسین کی مذکورہ روایت سے اپنی کتاب المحلی میں حجت پکڑی ہے . (المحلی لابن حزم ١٩٩/٥]
    ۳) امام ابن ملقن رحمہ اللہ نے عبد الرحمن بن ابی حسین کی زیر بحث حدیث کو اپنی کتاب تحفة المحتاج (٥٣٢/١) میں ذکر کیا ہے
    اور امام ابن ملقن نے اپنی اس کتاب میں صرف صحیح و حسن احادیث کو ہی ذکر کیا ہے۔
    لہذا یہ روایت منقطع نہیں بلکہ متصل ہے اور عبد الرحمن ابن ابی حسین بھی ثقہ ہے کیونکہ حدیث کی تصحیح سند کے راویوں کی توثیق ہوتی ہے .

    جواب : امام ابن حبان رحمہ الله توثیق مجاہیل میں متساہل ہیں اور یہ بات کفایت الله سنابلی کو بھی تسلیم ہے .
    اب وہ اسکا یہ جواب دیتے ہیں کہ انہوں نے تو اس کی حدیث کی تصحیح بھی کی ہے اور صحیح میں انکا منھج الگ ہے اس میں وہ صرف ثقہ ، عادل و ضابط راوی کی ہی حدیث لیتے ہیں لہذا تساہل کا اعتراض صحیح نہیں ہے . اور اس حوالے سے کفایت الله سنابلی نے کئی صفات سیاہ کرڈالے .

    تو عرض ہے کہ امام ابن حبان نے کئی مجھول راویوں کی روایت کو بھی اپنی صحیح میں جگہ دی کیا وہ بھی عادل و ضابط ہیں ؟
    مثلاََ الضحاک العافری مجھول کی روایت کو اپنی صحیح میں روایت کیا (الاحسان 16/381 ح 7381) .

    حصین الحمیری کو ثقات میں ذکر کیا اور اس کی روایت کو اپنی صحیح میں روایت کیا (الاحسان 4/256 ح 1410) وغیرہ .

    *سعید* بن سماک بن حرب حدثنی ابی سماک بن حرب " سے حجت پکڑی5/149 ح 1841 جبکہ *سعید* بن سماک بن حرب مجھول ہے .
    تو کیا *سعید* بھی ثقہ ، عادل و ضابط ہیں ؟
    جبکہ سعید " مجھول ہونے کے ساتھ مجروح بھی ہے الجرح و التعدیل 4/32 .

    لہذا امام ابن حبان رحمہ الله کا کسی *مجھول* راوی کی روایت کو اپنی صحیح میں لینے سے اس راوی کے ثقہ ، عادل و ضابط ہونے کی دلیل نہیں جب تک دوسرے آئمہ فن سے اسکی توثیق ثابت نا ہو .

    کفایت الله سنابلی کی پیش کردہ دوسری توثیق :
    حافظ ابن الملقن (المتوفی : 804) نے اپنی کتاب تحفۃ المحتاج میں یہ روایت درج کی ہے ۔۔۔۔ اور اس کتاب کے مقدمہ میں آپ فرماتے ہیں : اس کتا ب میں میری شرط یہ ہے کہ میں اس میں صرف صحیح یا حسن حدیث ہی ذکر کروں گا ۔۔۔۔ ''

    محترم شیخ حافظ محمد طاہر بن محمد حفظہ الله کی تحریر نظر سے گزری جنہوں نے اس تصحیح کا جواب دیا ہے چند الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ ہم وہی سے نقل کرتے ہیں :

    جواب اولاََ : عرض ہے کہ حافظ ابن الملقن آٹھویں صدی ہجری کے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ کسی راوی کی توثیق و تضعیف کے حوالے سے متقدمین کے محتاج ہیں،لہذا ان کی توثیق کو بطور تائید تو پیش کیا جاسکتا، لیکن بطورِ دلیل نہیں .

    ثانیاََ : عرض ہے کہ حافظ ابن الملقن نے صحیح یا حسن روایت کی جو شرط عائد کی ہے اس میں یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ ان کے نزدیک صحیح یا حسن کی تعریف کیاہے ؟؟؟ مجاہیل کی توثیق کے لئے ابن الملقن صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق کو ہی کافی خیال کرتے ہیں اور اسی پر اعتماد کرتے ہیں :
    اس کی بہت سی مثالیں ان کی کتب میں موجود ہیں چند حوالے پیش خدمت ہیں
    ١ ۔ فرماتے ہیں : قلت : شماس بن لبید لیس مجہولاً ، لان ابن حبان ذکرہ فی ثقاته.
    '' شماس بن لبید مجہول نہیں کیونکہ ابن حبان نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے ''
    (التوضیح الرشید لشرح الجامع الصحیح : 27/75)
    ٢ ۔ اسی طرح فرماتے ہیں :
    عبد الرَّحْمَن بن میسرَۃ لَیْسَ بِمَجْہُول ؛ بل هوَ مَعْرُوف ثِقَة، ذکرہ أَبُو حَاتِم بن حبَان فِی ثقاته .
    ''عبد الرحمن بن میسرہ مجہول نہیں بلکہ مشہور ثقہ ہیں ، انہیں ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔''
    (البدر المنیر : 2/209) .
    دیکھئے صرف امام ابن حبان رحمہ الله کے ثقات میں ذکر کرنے کی وجہ سے عبد الرحمن بن میسرہ کو مشہور ثقہ بتا رہے ہیں کتنی عجیب بات ہے
    ٣۔ ایک جگہ فرماتے ہیں :
    بشر بن ثابت بصری بزار ثقة، ذکرہ ابن حبان فی ثقاته . وقال أبو حاتم : مجہول .
    ''بشربن ثابت بصری بزار ثقہ ہے ،(کیونکہ) ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے، (البتہ ) ابوحاتم نے کہا : مجہول ہے۔''
    (التوضیح لشرح الجامع الصحیح : 7/486)
    ثالثا ً :
    ثابت ہوا کہ حافظ ابن الملقن کی جس کتاب سے یہ ضمنی توثیق و تصحیح ثابت کرنے کی سعی کی گئی ہے اس کتاب میں ابن الملقن نے کتنے ہی مجہولین کی روایات کو صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ کی تصحیح و توثیق کی بنیاد پر نقل کر رکھا ہے ، اور زیر بحث روایت بھی اسی قبیل سے ہے . چند مزید مثالیں پیشِ خدمت ہیں :
    ١ ۔ حافظ الملقن نے صرف امام بن حبان کی تصحیح پر اعتماد کر کے ایک روایت کو نقل کیا (تحفۃ المحتاج : 39) جبکہ اس میں ایک مجہول راوی ''حصین الحمیری ''موجود ہے ۔اور اسے حافظ ابن حجر و ذہبی رحمہمااللہ نے مجہول قرار دیا ہے۔
    ٢۔ اسی طرح سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کوصرف ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق کی وجہ سے نقل کیا ، جبکہ اس میں مجہول راوی موجودہے . (تحفۃ المحتاج : 993)
    ٣۔ عتاب بن حنین کی روایت کو صرف ابن حبان رحمہ اللہ کی تصحیح کی وجہ سے نقل کیا۔ جبکہ عتباب مجھول ہے (تحفۃ المنہاج : 743)
    ٤۔ ایک سخت ضعیف روایت کے متعلق ابن حبان رحمہ اللہ کو وہم ہوا (الفروسیۃ لابن القیم : 288، ارواء الغلیل : 5/335) لیکن چونکہ انہوں نے اسے اپنی صحیح(4689) میں نقل کیا تھا تو اسی بنیاد پر ابن الملقن نے بھی اسے نقل کر دیا ۔(تحفۃ المحتاج : 1736)
    ٥۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے وہم کی بنا پر ایک مرسل روایت کو نقل کیا (ابن حبان : 2361، الضعیفہ للالبانی : 9/430) تو ابن الملقن نے بھی اسے نقل کر دیا ۔(تحفۃ المحتاج : 1532)
    معلوم ہوا کہ حافظ ابن المقلن نے تحفۃ المحتاج میں کئی ایک احادیث کو صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق و تصحیح کی بنیاد پر ذکر کیا ہے اور زیر بحث حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے چونکہ اپنی صحیح میں روایت کیا ہے لہذا اسی کی بنیاد پر حافظ ابن المقلن نے اسے ذکر کر دیا۔

    کفایت الله سنابلی کی اگلی دلیل : جناب نے لکھا "
    ''امام ابن حزم الاندلسی (المتوفی : 456) رحمہ اللہ نے المحلی میں اس راوی کی اسی حدیث سے حجت پکڑی .
    عرض ہے کہ ابن حزم رحمہ اللہ جس راوی سے حجت پکڑیں وہ ان کے نزدیک ثقہ ہوتا ہے یہ قاعدہ یا تو ابن حزم کی طرف سے اغلبیت پر محمول ہے یا وہ خود بھی اپنے اس اصول کا التزام نہیں کر سکے .
    یہ روایت " المحلی میں " ۔۔۔۔۔۔۔ عبدالملک بن عبدالعزیز عن سلیمان بن موسی عن عبدالرحمن بن ابی حسین ۔۔۔۔۔۔۔ کے طرق سے ہے .
    عبدالملک بن عبدالعزیز ابو نصر نے سلیمان بن موسی کو نہیں پایا لہذا یہ منقطع سند ہے .
    المحلی کی اس روایت میں وہ متن ہی نہیں جو صحیح ابن حبان میں ہے " فكُلُّ فجاجِ منًى مَنحَرٌ و في كلِّ أيّامِ التَّشريقِ ذبحٌ " یہ الفاظ المحلی میں موجود نہیں ہیں ہے یعنی جو کفایت الله سنابلی کے مطلب کا ہے وہ اس سند سے منقول ہی نہیں لہذا یہ روایت متن کے اعتبار سے بھی مضطرب ہے .

    اس سے یہ بھی پتا چلا کہ ابن حزم رحمہ اللہ منقطع روایات تک سے حجت پکڑتے ہیں جو کہ صحیح نہیں لہذا انکی طرف سے تصحیح و یہ حوالہ پیش کرکے مجھول راوی کی توثیق ثابت کرنے کی یہ ناکام کوشش ہے
    اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں :
    مثلا : ناحیة بن کعب کے متعلق فرماتے ہیں :
    ناجية بن کعب مجہول . (المحلی :1/472)
    پھر اسی راوی کی بیان کردہ روایت کو صحیح قرار دیا . (المحلی : 3/338)
    اسی طرح عمارہ بن خزیمہ کے متعلق فرمایا :
    عمارۃ بن خزیمة وهو مجہول .
    (المحلی : 7/229 ، تہذیب التہذیب : 7/416)
    پھر دوسری جگہ خود ہی ان کی ایک روایت کو قابل حجت و صحیح قرار دیا. (المحلی : 9/221)
    ایک جگہ فرماتے ہیں : احمد بن خالد الوہبی و هو مجہول .
    پھر اسی راوی کی ایک حدیث سے حجت پکڑی ہے ۔
    (حجۃ الوداع : 4)
    ثابت ہوا کہ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ کی جس کتاب سے یہ ضمنی توثیق و تصحیح ثابت کرنے کی ناکام سعی کی گئی ہے اس کتاب میں امام ابن حزم رحمہ اللہ نے کتنے ہی *مجہولین* کی روایات کی تصحیح و توثیق بھی کر رکھی ہے لہذا امام ابن حزم رحمہ اللہ کا اس روایت کو " المحلی " میں ذکر کرنے کی بنیاد پر اسے صحیح یا حجت سمجھ لینا خطا ہے جب تک راوی کی معتبر توثیق ثابت نہ ہو .

    کفایت الله سنابلی نے لکھا " واضح رہے کسی بھی محدث نے جبیر بن مطعم سے عبدالرحمن بن ابی حسین کے سماع کا انکار نہیں کیا ۔۔۔ ص 86 .
    مزید کفایت الله سنابلی نے پورا زور لگایاہے کہ امام احمد ، امام البزار رحمھم الله وغیرہ سے وہم ہوا ہے کہ سند میں عبدالرحمن کا بیٹا عبدالله ہے .

    جواب : عرض ہے کہ سند میں موجود عبدالرحمن مزکور مجھول ہے ثقات ابن حبان کے علاہ اسکا ترجمہ کتب اسماء الرجال میں موجود نہیں جب راوی ہی مجھول ہے اسکے حالات معلوم نہیں تو کسی سے اسکے سماع کا اثبات ہی محل نظر ہے رہا امام ابن حبان رحمہ الله کا " عبد الرحمن بن ابی حسین عن جبير بن مطعم " حدیث کی تصحیح کرنا تو یہ تساہل پر مبنی ہے اوپر ہم چند حوالوں سے ثابت کر آئے ہیں کہ امام ابن حبان رحمہ الله نے منقطع و مرسل روایات کی بھی تصحیح کر رکھی ہے لہذا امام ابن حبان رحمہ الله کی تصحیح کی بنیاد پر اسکے اتصال پر اور عبد الرحمن بن ابی حسین کے سیدنا جبير بن مطعم رضی الله سے سماع پر دلیل لینا صحیح نہیں .
    اور کسی بھی واضح صریح دلیل سے ثابت نہیں کہ عبد الرحمن بن ابی حسین کا سیدنا جبير بن مطعم رضی الله سے سماع ثابت ہے ، راوی ہی مجہول ہے کتب رجال میں ترجمہ موجود نہیں ثابت کیا کرو گے ؟
    امام ابن حبان رحمہ الله تصحیح میں بھی متساہل ہیں یہ بات اوپر چند حوالوں سے ہم نے ثابت کی ہے مثلاََ مختلط راویوں کی اختلاط کے بعد والی روایات کو صحیح میں لینا ، مجھول کی روایت سے حجت پکڑنا مزید یہ کہ امام ابن حبان نے کئی ایک رواۃ پر جرح کی اور پھر ان کی روایت کو اپنی صحیح میں جگہ دی مثلاََ :
    سوید بن عبدالعزیز الاسلمی پر امام ابن حبان رحمه الله نے " کثیر الخطاء فاحش الوھم ۔۔۔۔۔ " وغیرہ الفاظ سے سخت جرح کی (المجروحین 1/350) .
    تو دوسری طرف اپنی صحیح میں ان سے روایت لی (11/495 ح 4856) . و 4689 .
    سماک عن عکرمۃ " طرق مضطرب ہے یہ بات کفایت الله سنابلی کو بھی تسلیم ہے لیکن امام ابن حبان نے اس طرق سے بھی کئی جگہ حجت پکڑی ہے .
    لہذا امام ابن حبان رحمہ الله کی تصحیح تساہل پر مبنی ہے جس سے اس روایت کے اتصال پر دلیل لینا صحیح نہیں .
    الحمدلله اس مضمون میں ہم نے محدثین ، اصول حدیث اور کے کفایت الله سنابلی کے اصول سے ثابت کیا کہ یہ روایت مضطرب ، منکر ، مردود و ضعیف ہے .

    Sent from my vivo 1726 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں