• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث توسل عثمان بن حنیف (بجواب اسد الطحاوی حنفی)

Difa-Hadees1

مبتدی
شمولیت
فروری 16، 2022
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
محترم اسد الطحاوی صاحب نے اس روایت کے صحیح ہونے کے حوالے سے اپنا موقف وضاحت اور دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے مگر
ہمارا موقف اس حوالے سے مختلف ہے جو ہم ذیل میں وضاحت اور دلائل کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

ہمارے مطابق یہ روایت ایک راوی کے زیادۃ الثقات کی بنیاد پر شاذ مردود ہےاس میں ایک روای نے تمام رواۃ سے ہٹ کر اس روایت میں اضافہ کیا ہے جو اور کسی روای نے نقل نہیں کیا ہے مگر سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کن کتب میں بیان ہوئی ہے ہے
Hadees ummi(yum wa alail(imam nisai).png
Riwayat Sunan ibn maja(1385).png

Hadees ummi(yum wa alail(imam nisai).png

سنن ابن ماجہ, عمل اليوم والليلة للنسائی
دیگر حوالاجات
جامع ترمذی 3578
مسند احمد 17242-17240 4/138
النسائی الکبری 10606-10604
المستدرک حاکم 1909،1929،1930

اس روایت کو ابو جعفر خطمی عمیر بن یزید بن عمیر بن حبیب سے اس کے چار تلامذہ نے نقل کیا ہے

شعبہ بن الحجاج

روح بن القاسم

ھشام بن ابی عبداللہ سنبر الدستوائی

حماد بن ابی سلیمان

اور اس میں صرف روح بن القاسم کے ایک شاگرد شبیب بن سعید نے اس روایت میں یہ اضافہ کیا ہے اور وہ بھی ہر جگہ اس اضافے کو بیان نہیں کیا ہے اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے سب سے پہلے ہم اس بات پر نظر ڈالتے ہیں کہ ابو جعفر خطمی کے چار شاگردوں سے جس جس نے بھی یہ روایت بیان کی ہے کسی نے بھی اس میں اضافہ نقل نہیں کیا ہے سب نے اس کو ایک ہی طریقہ پر الفاظ کی کم بیشی کے ساتھ اسی طرح بیان کیا ہے

شعبہ بن الحجاج: سےروایت بیان کرنے والے تلامذہ

عثمان بن عمر() جامع ترمذی 3578، سنن ابن ماجہ1385،

17240 مسند احمد)

سنن النسائی الکبریٰ 10605

روح بن عباد: ٘مسند احمد 17241

محمد بن جعفر غندر: المستدرک الحاکم 1909



ھشام بن ابی عبداللہ سنبر الدستوائی کے تلامذہ

معاذ بن ھشام(بیٹا) النسائی الکبریٰ 10606



حماد بن سلمۃ کے تلامذہ

مومل بن اسماعیل: مسند احمد 17242

حبان بن ھلال الباھلی البصری(النسائی الکبریٰ 10604)



روح بن القاسم کے تلامذہ

عون بن عمارۃ (مستدرک الحاکم 1929)

شبیب بن سعیدالمستدرک الحاکم 1930)

ان میں عثمان بن عمر، روح بن عباد، حبان بن ھلال محمد بن جعفر غندر عندالجمہور ثقہ ہیں اور باقی سب صدوق حسن الحدیث ہیں اور ان میں فقط عون بن عمارۃ ضعیف ہے ان تمام رواۃ میں سے کسی نے بھی اس روایت میں یہ اضافہ بیان نہیں کیا یہاں تک کہ شبیب بن سعید سے مستدرک الحاکم میں یہ روایت اس کے بیٹے احمد بن شبیب بن سعید کے طریق سے روایت کی ہے مگر اس میں اس نے خود اس واقعہ کا اضافہ نہیں کیا ہے یہ اضافہ امام طبرانی نے اور امام یعقوب الفسوی نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے چنانچہ جب اتنے سارے ثقہ اور صدوق رواۃ نے یہ اضافہ نقل نہیں کیا، تو کیا وہ سب اس کو بھول گئے اور صرف شبیب بن سعید نے اس کو یاد رکھا تو اب یہ دیکھنا ہوگا شبیب بن سعید کے بارے میں محدثین کرام کیا فرماتے ہیں کیا اس کا ضبط اتنا اعلی پایہ کا ہے کہ تمام رواۃ جو ایک پورا واقعہ بھول گئے وہ شبیب نے یاد رکھا اوریا پھر شبیب اس واقعے کو بیان کرنے میں اس کے ضبط نے اس کا ساتھ نہیں دیا اور وہ وہم اور غلطی کا شکار ہو گیا۔

موصوف طحاوی الحنفی نے امام ابن ابی حاتم اور امام ابوزرعہ کے تعدیل کے اقوال نقل کیے ہیں

اس کے بعد اس کی ازخود تشریح کرتے ہوئے ہیں

امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ اس کے پاس یونس کی کتاب تھی اور یہ صالح الحدیث اور لا باس بہ ہے یعنی اس میں کوئی حرج نہیں(حفظ و ضبط کے لحاظ) سے

دوئم امام ذہبی کے حوالے سے یہ فرما رہے ہیں کہ جب امام ابن ابی حاتم کسی کو ثقہ فرما دیں تو اس کو پکڑلو یعنی وہ ثقہ راوی ہوتا ہے

جبکہ اگر ہم اس حوالے سے امام ابن ابی حاتم کے ان الفاظ تعدیل کو جاننے کی کوشش کریں تو ان کے مطابق یہ الفاظ کسی کے لئے بھی ثقہ ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ وہ ان الفاظ کو راوی کے حوالے سے کس طرح دیکھتے ہیں خود ملاحظہ کریں
manhaj ibn abi hatim fi rowat(aljar o tadeel jild2 page 37.png



اس میں صالح الحدیث ان رواۃ کے بارے میں فرمارہے ہیں جن کی حدیث صرف اعتبار کے لئے لکھ جائے یعنی اس کی متابعت میں لکھی جائے گی وگرنہ وہ حدیث قابل اعتبار نہیں سمجھی جائے توامام ابن ابی حاتم کے نذدیک بھی شبیب بن سعید کوئی ثقہ روای نہیں ہے جیسا کہ موصوف باور کروانا چاہ رہے تھے اس لئے شبیب بن سعید امام حاتم کے نذدیک اس درجے کا راوی ہے جس کی احادیث صرف اعتبار کے لئے لکھی جائی گی اور ابو زرعہ نے جو اس کو لاباس بہ فرمایا ہے اسے حوالے سے بھی اصول دیکھ لیتے ہیں محدثین کے نذدیک لاباس بہ متوسط طبقہ کا راوی ہوتا ہے یعنی صدوق درجے کا روای ہوتا ہے ملاحظہ کریں
istalah la bas behi(toziul afqar) jild2 page 265.png

تو محدثین کے نذدیک اصول میں یہ موجود ہے کہ جس روای کو لاباس بہ کہا جائے اس سے مراد ثقہ ہرگز نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صدوق یعنی طبقہ تعدیل میں یہ تیسرے درجے کے راوی ہوتا ہے اب اس کے بعد امام دارقطنی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے شبیب بن سعید کو ثقہ کہا ہے اس حوالے سے بھی ذرا اصول پر نظر ڈالتے ہیں
Manhaj muhadeseen muqdmeen alqool siqah(fath hul mughees).png



کہ مقدمین میں جب کسی راوی پر ثقہ کا اطلاق کرتے تھے تو اس سے مراد اس کا ضبط نہیں ہوتا تھا چنانچہ امام ذہبی نے اس کو اور وضاحت سے بیان کیا ہے

قلت : فمن هذا الوقت بل وقبله صار الحفاظ يطلقون هذه اللفظة على الشيخ الذي سماعه صحيح بقراءة متقن ، وإثبات عدل ، وترخصوا في تسميته بالثقة ، وإنما الثقة في عرف أئمة النقد كانت تقع على العدل في نفسه ، المتقن لما حمله ، الضابط لما نقل ، وله فهم ومعرفة بالفن ، فتوسع المتأخرون

ترجمہ ابن خلاد(الشيخ الصدوق المحدث مسند العراق أبو بكر أحمد بن يوسف بن خلاد بن منصور النصيبي ثم البغدادي العطار)

جلد صفحہ ۷۰ جلد ۱۶ سیر الاعلام النبلاء امام ذہبی

امام سخاوی اور امام ذہبی کے تبصرات سے یہ بات واضح ہیں کہ جو راوی اگر کتاب سے روایات بیان کرتا ہے تو مقدمین کے نذدیک وہ ثقہ عند الکتاب کی وجہ سے ہوتا ہے اس سے کیونکہ وہ اپنی کتاب سے روایت کرنے میں ضبط کے اعتبار سے صحیح ہے اور وہ خود ایک صدوق یعنی سچا راوی ہے اس لئے اس کو ثقہ کہا جاتا ہے اس سے اس کے حافظہ کا کوئی تعلق نہیں ہے اور شبیب بن سعید کو امام دارقطنی بھی اس بنا پر ثقہ فرما رہے ہیں کہ اس کے پاس یونس کی کتاب موجود ہے اور اس کتاب سے روایت کرنے میں وہ ثقہ ہے چنانچہ اس کا حاصل کلام یہی ہے کہ امام دارقطنی کے نذدیک بھی شبیب جب تک ثقہ ہے جب وہ اپنی کتاب سے روایت بیان کرتا ہے امام کے نذدیک شبیب کو ثقہ کہنا صرف اس کی عدالت کو ثابت کرتا ہے اس کے ضبط کو نہیں جبکہ راوی کہ ثقہ ہونے کے لئے عدالت اور ضبط دونوں کا ہونا ضروری ہے اس لئے امام دارقنطی کا ثقہ کہنا بھی شبیب بن سعید کی عدالت کو ثابت کرتا ہے اور عدالت ثابت ہونے سے روای فقط صدوق کہلاتا ہے۔

اس کے بعد امام طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے شبیب کو ثقہ کہا ہے

امام طبرانی کے اس قول پر ذرا تبصرہ کرتے ہیں

امام طبرانی کے اپنی الصغیر میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد رقمطراز ہیں

imam tabrani ka manhaj riwayat per.png




اس میں امام طبرانی نے اس کو ثقہ کہنے کے باوجود بھی اس کی اس کتاب کا ذکر کیا ہے جس سے وہ اس جانب اشارہ فرما رہے ہیں کہ اس کی روایت کو اس کی اس کتاب کی سند سے دیکھنے کی ضرورت ہے چنانچہ ابن حجر عسقلانی امام طبرانی اور ان کے ہم عصر محدثین کی بابت اپنی کتاب لسان المیزان میں فرماتے ہیں
imam tabrani ka manhaj(lesan ul mezan jild4  128).png



اس میں ابن حجر نے واضح کیا ہے کہ امام طبرانی اور ان کے ہم عصر محدثین روایت کی سند بیان کرکے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتے تھے اسی لئے امام طبرانی نے شبیب بن سعید کو صرف ثقہ کہنے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کی کتاب کا بھی ذکرکر کے یہ باور کروادیا کہ اس کتاب کے بیان کرنے میں یہ ثقہ ہے وگرنہ ثقہ مطلق ماننے کے بعد کتاب کا ذکر چہ معنی واد، جبکہ امام طبرانی نے اس کی کتاب والی روایت یعنی اس کے بیٹے کے سند سے یونس بن الاعلی والی روایت بھی بیان نہیں کی ہے تو پر اس کتاب کا ذکر کرنے کا صرف یہی مقصد ہے کہ شبیب کا بیٹا اپنے والد کی کتاب سے روایت کرے گا تو وہ ثقہ ماننا جائے گا وگرنہ اس کی بیان کردہ روایت پر نظر رکھی جائے۔

امام طبرانی کے قول ثقہ کی وضاحت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام طبرانی بھی شبیب کو مطلق ثقہ نہیں مانتے تھے اور ان کے نذدیک بھی شبیب کتاب کے ساتھ روایت کرے تو صحیح ہے اور یہاں ثقہ سے مراد صرف اس کی عدالت ہے وگرنہ اس کے ضبط اور حفظ پر کلام ہے جیسا ہم اس کی اور وضاحت آئندہ سطور میں کریں گے۔

حافظ ابن حجر کی توثیق

حافظ ابن حجر کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ لسان المیزان میں حافظ صاحب نے اس کو بلاحجت ثقہ فرمایا ہے۔

موصوف سے عرض ہے کہ لسان المیزان حافظ صاحب کی ابتدائی کتب میں سے ہے جبکہ اگر ہم تقریب التھذیب میں حافظ صاحب کا تبصرہ شبیب بن سعید کے بارے میں دیکھیں تو اس میں حافظ صاحب نے شبیب بن سعید کو لاباس بہ فرمایا ہے اور لا باس بہ کے بابت حافظ صاحب نے اپنی اسی کتاب میں کیا اصول نقل کیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں
Usool rowat ibn hajar(tqreeb).png

چنانچہ ابن حجر نے شبیب بن سعید کے ترجمہ میں کچھ اس طرح نقل کیا ہے
لا باس بحديثه من رواية ابنه أحمد عنه، لا من رواية ابن وھب .




حافظ کی اس عبارت کا موصوف یہ ترجمہ فرما رہے ہیں

اس کی جو روایات اس کے بیٹے سے مروی ہیں، ان میں کوئی خرابی نہیں، اور نہ ہی ابن وہب سے اس کی جو روایات مروی ہیں، ان میں ۔

جبکہ اس کا ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے۔

اس کی جو روایت اس کے بیٹے سے نقل ہوئی ہیں اس میں کوئی حرج نہیں،اور ابن وھب سے اس کی روایت روایت(صحیح)نہیں ہے۔

اگر ابن جحر نے ابن وھب سے بھی اس کی روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تو عبارت کچھ اس طرح سے ہوتی

لا باس بحديثه من رواية ابنه أحمد عنه، ومن رواية ابن وھب

اس کی ابن وھب اور اسے بیٹے احمد کی حدیث میں کوئی حرج نہیں ہے

مگر ابن وھب کے ساتھ حافظ صاحب نے لا اطلاق کیا ہے جو اس کا متقاضی ہے کہ یہاں دونوں سے حدیث کا پیمانہ کچھ الگ ہے بالفرض اگر ہم موصوف کے بتائے ہوئے ترجمہ کو ہی مان لیتے ہیں تو اس میں بھی فقط یہی ثابت ہوتا ہے کہ شبیب بن سعید صدوق درجے کا روای ہے دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ ابن وھب اور احمد بن شبیب سے ہر روایت ویسے ہی معتبر نہیں مانی جا سکتی ہے کیونکہ اگر ابن حجر کی بات مان لی جائے تو بھی یہ ایک عام قاعدہ ہے مگر جس روایت کے بارے میں ہم تذکرہ کر رہے اس روایت میں شبیب جمہور رواۃ کی روایت میں اضافہ کر رہا ہے اور جب کوئی صدوق راوی ثقات کی روایت میں اضافہ کرتا ہے تو اصول میں ویسے اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی اور یہ بات خود ابن حجر نے النکت میں نقل فرمائی ہے تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر ابن حجر کا یہ قول ویسے ہی مان لیا جائے جیسے موصوف بیان کررہے ہیں تو بھی اصول حدیث کے مطابق اس کی یہ روایت عموم سے ہٹ کر ہے اور اس کی منکرات وغرائب میں شامل ہے اور اس سے منکرات اور غرائب کا صادر ہونا جمہور محدثین نے نقل کیا ہے اوریہ سب اس کے ضبط میں کمی کی بنا پر ہوا ہے اس وجہ سے جمہور نے اس کو صدوق کے درجے میں رکھا ہے ذیل میں ہم محدثین کے اقوال اس حوالے سے پیش کرتے ہیں کہ جمہور کے نذدیک یہ راوی صدوق درجے کا ہے اور اس سے منکرات بھی صادر ہوئی ہیں

امام ابن المدینی:
tadeel imam almadeni.png


امام ابن المدینی کے قول سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسکی کتاب کو صحیح مانتے ہیں وگرنہ ثقہ کہنے کے باوجود کتاب کا ذکر کیوں کیا جاتا۔



امام ابن ابی حاتم:

امام ابن ابی حاتم بھی اس کو صالح الحدیث فرما رہے ہیں جیسا ان کے حوالے سے ہم اوپر نقل کر آئے ہیں۔

امام طبرانی

ان کا موقف بھی ہم نقل کر چکے ہیں

امام ابو رزعہ:

انہوں نے بھی اس کو لاباس بہ فرمایا ہے۔

امام النسائی:

نے بھی اس کو لاباس بہ کہا ہے اور اس حوالے سے امام نسائی کا منھج ملاحظہ فرمالیں
qool imam nisai la bas bihi(unolmabood rqm 4375).png

عون المعبود شرح ابوداود تحت رقم 4375
 
Top