• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث صلوۃ التسبیح پر ایک نظر- تحقیق درکار ہے

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,893
پوائنٹ
436
حدیث صلوۃ التسبیح پر ایک نظر- تحقیق درکار ہے

سوال ہے کہ کیا صلاة التسبيح کی حدیث قابل عمل روایت ہے

حبل الله کی ایک اشاعت میں صلوۃ التسبیح پر لکھا گیا تھا

یہ روایت ایک عجوبہ ہی معلوم ہوتی ہے کہ ہر روز سے لے کر عمر میں صرف ایک مرتبہ کر لینے تک کی چھوٹ اور عمر میں صرف ایک مرتبہ صلوۃ التسبیح ادا کر لینے سے اگلے پچھلے عمر بھر کے سارے ہی گناہ معاف ہو جائیں خواہ کبیرہ ہوں یا صغیرہ عمداً ہوں یا سھواً وغیرہ!


ایک عالم صلاة التسبيح پر لکھتے ہیں




علامہ مبارک پوری اور شیخ احمد شاکر نے بھی اسے صحیح حسن کہا ہے جبکہ خطیب بغدادی، امام نووی اور ابن الصلاح نے اسے صحیح کہا ہے۔ اسے ابو بکر الآخری نے (الترغیب و الترھیب۱؍۴۶۸)ابو الحسن المقدسی اور ابو داؤد وغیر ہم نے صحیح کہا ہے۔ تفصیل کے لئے حافظ زبیر علی زئی صاحب کی کتاب‘‘ نیل المقصود فی التعلیق علی سنن ابی داؤد’’ دیکھیں۔


موصوف تمہید میں لکھتے ہیں

بحیثیت مومن و مسلم حق پرستی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خالی الذہن ہو کر قرآن و سنت کا مطالعہ کرے پہلے سے کوئی نظریہ قائم نہ کرے، پھر قرآن و حدیث کے دلائل کی روشنی میں جو حق واضح ہو جائے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ لیکن گمراہ فرقوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ پہلے خود ساختہ اصول وضع کر لئے جاتے ہیں، اپنا ایک خود ساختہ نظریہ قائم کر لیا جاتا ہے۔ پھر کتاب و سنت سے اس کے حق میں دلائل تلاش کیے جاتے ہیں۔ پھر جو دلائل ان کے وضع کردہ اصولوں پر ٹھیک نہ بیٹھیں اُن کا انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور اپنے باطل نظریہ کی تائید میں ضعیف روایات کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔


مزید لکھتے ہیں

انتہائی اختصار کے ساتھ فرقہ مسعودیہ کے چند فریب واضح کرنے کی کوشش کی ہے جو یہ حضرات اپنے خود ساختہ نظریے کے دفاع میں پیش کرتے ہیں


صلوۃ التسبیح کی روایت پر از سر نو تحقیق کی گئی کہ شاید کوئی غلطی ہو گئی ہو لہذا قارئین آپ کے سامنے مندرجہ ذیل صورت حال ہے

أبِي رَافِعٍ رضی الله تعالی عنہ کی روایت

ترمذی کی سند ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ العَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ العُكْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ،


ابن ماجہ کی سند ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عِيسَى الْمَسْرُوقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ


یہ روایت زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ سے وہ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ سے کی سند سے ہے

ترمذی کہتے ہیں

وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ حَدِيثٍ فِي صَلَاةِ التَّسْبِيحِ، وَلَا يَصِحُّ مِنْهُ كَبِيرُ شَيْءٍ، وَقَدْ رَأَى ابْنُ المُبَارَكِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ:
صَلَاةَ التَّسْبِيحِ وَذَكَرُوا الفَضْلَ فِيهِ “


صَلَاةِ التَّسْبِيحِ پر کوئی روایت صحیح نہیں اور ابن مبارک اور دیگر اہل علم نے صَلَاةِ التَّسْبِيحِ کا اور اس کے فضل کا ذکر کیا ہے

ابن جوزی المتوفی ٥٩٧ ھ نے کتاب الموضوعات (گھڑی ہوئی روایات) میں لکھتے ہیں

فَفِيهِ مُوسَى بْن عُبَيْدَة.

قَالَ أَحْمَد: لَا تحل عِنْدِي الرِّوَايَةُ عَنْهُ.

وَقَالَ يَحْيَى: لَيْسَ بشئ.

اس کی سند میں مُوسَى بْن عُبَيْدَة ہے احمد کہتے ہیں اس سے روایت کرنا میرے نزدیک جائز نہیں اور یحییٰ کہتے ہیں کوئی شے نہیں


مغلطاي کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں لکھتے ہیں کہ ابن شاہین کہتے ہیں

قال عبد الله بن أبي داود: أصح حديث في التسبيح حديث العباس – يعني الذي رواه موسى بن عبد العزيز -.


عبد الله بن أبي داود کہتے ہیں التسبيح میں سب سے صحیح حدیث عبّاس والی ہے یعنی وہ جو موسى بن عبد العزيز روایت کرتا ہے

اب اس روایت کا حال بھی دیکھئے

ابن عبّاس رضی الله تعالی عنہ کی روایت

ابو داود کی سند ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ


ابن ماجہ کی سند ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،


صحیح ابن خزیمہ کی سند ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، أَمْلَى بِالْكُوفَةِ، نا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو شُعَيْبٍ الْعَدَنِيُّ وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْقَنْبَارِيُّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَصْلِي فَارِسِيٌّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ


یہ تمام روایات أَبُو شُعَيْبٍ الْعَدَنِيُّ الْقَنْبَارِيُّ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وہ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ سے وہ عِكْرِمَةَ سے کی سند سے آ رہی ہیں
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,893
پوائنٹ
436
ایک عالم اس کا دفاع اسطرح کرتے ہیں

اس حدیث کے ایک راوی(موسیٰ بن عبدالعزیز) کو صاحب مضمون نے مجہول بتلایا ہے۔ لیکن موسیٰ بن عبدالعزیز سے ایک جماعت نے حدیث بیان کی ہے۔ ابن معین، نسائی، ابو داؤد ، ابن شاہین وغیرہ ہم جمہور نے اس کی توثیق کی ہے۔ صرف ابن المدینی اور السلیمانی کی جرح ملتی ہے جو کہ جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ لہذا موسیٰ بن عبدالعزیز‘‘ حسن الحدیث’’ ہے


ابن جوزی المتوفی ٥٩٧ ھ نے کتاب الموضوعات (گھڑی ہوئی روایات) میں کے تمام طرق کو کمزور قرار دیا ہے اور کہا ہے

هَذهِ الطّرق كلهَا لَا تثبت.


یہ سارے طرق مظبوط نہیں


وَأما الطَّرِيق الثَّانِي فَإِن مُوسَى بْن عَبْدِ الْعَزِيزِ مَجْهُول عندنَا.


دوسرے طرق میں مُوسَى بْن عَبْدِ الْعَزِيزِ ہے جو ہمارے نزدیک مجھول ہے


ابن خزیمہ نے اس روایت کو اگرچہ اپنی صحیح میں بیان کیا ہے لیکن اس پر باب قائم کیا ہے

بَابُ صَلَاةِ التَّسْبِيحِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذَا الْإِسْنَادِ شَيْئًا


صَلَاةِ التَّسْبِيحِ کا باب اگر خبر صحیح ہو( تو بھی) دل میں اس کی اسناد پر کوئی چیز (کھٹکتی ) ہے



ابن حجر میدان میں کودے اور کتاب الْخِصَال المكفرة للذنوب الْمُقدمَة والمؤخرة میں کہا

أَسَاءَ ابْن الْجَوْزِيّ بِذكر هَذَا الحَدِيث فِي الموضوعات وَقَوله إِن موسي مَجْهُول لم يصب فِيهِ فَإِن ابْن معِين وَالنَّسَائِيّ وثقاه


برا کیا ابن الجوزی نے جو اس روایت کو الموضوعات میں ذکر کیا اور ان کا قول کہ موسی مجھول ہے صحیح نہیں بے شک ابن معین اور النَّسَائِيّ نے ثقہ کہا ہے


لیکن الذھبی میزان میں لکھتےہیں

موسى بن عبد العزيز العدنى، أبو شعيب القنبارى ما أعلمه روى عن غير الحكم بن أبان، فذكر حديث صلاة التسبيح.

روى عنه بشر بن الحكم، وابنه عبد الرحمن بن بشر، وإسحاق بن أبي إسرائيل، وغيرهم. ولم يذكره أحد في كتب الضعفاء أبدا، ولكن ما هو بالحجة.


موسى بن عبد العزيز العدنى، أبو شعيب القنبارى میں نہیں جانتا کہ الحكم بن أبان کے علاوہ کسی نے ان سے روایت کیا ہو پس حدیث صلاة التسبيح روایت کی ہے ان سے بشر بن الحكم، اور ان کے بیٹے عبد الرحمن بن بشر، اور إسحاق بن أبي إسرائيل اور دوسروں نے روایت لی ہے. اور ان کو کسی نے الضعفاء کی کتابوں میں ذکر نہیں کیا لیکن یہ حجت نہیں


الذھبی مزید کہتے ہیں

حديثه من المنكرات لاسيما والحكم بن أبان ليس أيضا بالثبت.


ان کی احادث میں منکرات ہیں اور الحكم بن أبان بھی ثبت نہیں


ابن کثیر کتاب التَّكْميل في الجَرْح والتَّعْدِيل ومَعْرِفة الثِّقَات والضُّعفاء والمجَاهِيل کے مطابق

علي بن المديني موسى بن عبد العزيز کومنكر الحديث اور ضعیف بتاتے ہیں


البيهقي اور ابن الجوزيِّ کہتے ہیں مجهول ہے


معلوم ہوا اس راوی پر صرف ابن المدینی اور السلیمانی کی ہی جرح نہیں دیگر کی بھی ہے

اگر راوی ثقہ بھی ہو جائے تو بھی یہ شاذ روایت ہے جیسا کہ نیچے آ رہا ہے

دیگر روایات

ایک عالم لکھتے ہیں

صلوۃ التسبیح کے بارے میں دو اور احادیث بھی قابل حجت ہیں۔


1۔ حدیث (جابر بن عبداللہ) الا نصاری رضی اللہ عنہ

2۔ حدیث عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ۔

لیکن ابن جوزی المتوفی ٥٩٧ ھ کتاب الموضوعات (گھڑی ہوئی روایات) میں اس بات کا جواب دیتے ہیں

وَقَدْ رويت لنا صَلَاة التَّسْبِيح أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علمهَا ابْن عَمْرو بْن الْعَاصِ إِلا أَنَّهُ من حَدِيث عَبْد الْعَزِيزِ بْن أَبَان عَنْ سُفْيَان الثَّوْرِيّ عَنْ أَبَان بْن أَبِي عَيَّاش.

فَأَما عَبْد الْعَزِيزِ فَقَالَ يَحْيَى لَيْسَ بشئ كَذَّاب خَبِيث يضع الحَدِيث

اور بے شک ہم سے روایت کی گئی ہے صَلَاة التَّسْبِيح بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم نے عبدللہ بن عمرو کو سکھائی .. اس کو عَبْد الْعَزِيزِ بْن أَبَان عَنْ سُفْيَان الثَّوْرِيّ عَنْ أَبَان بْن أَبِي عَيَّاش کی سند سے بیان کیا ہے اور

عَبْد الْعَزِيزِ بْن أَبَان کو یحییٰ کہتے ہیں کوئی چیز نہیں، کذاب ، خبیث ، حدیثیں گھڑنے والا


کتاب الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة کے مطابق

وَحَدِيث: ” صَلاةِ التَّسْبِيحِ “. قَالَ أَحْمَدُ: لَا أَصْلَ لَهُ. وَقَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ: مَوْضُوعٌ. وَاحْتَجَّ بِذَلِكَ الْحَنَابِلَةُ فِي عَدَمِ اسْتِحْبَابِ صَلاةِ التَّسْبِيحِ

اور وَحَدِيث: ” صَلاةِ التَّسْبِيحِ. احمد کہتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں اور ابن الجوزی کہتے ہیں گھڑی ہوئی ہے اور اس سے حنبلیوں نے احتجاج (دلیل) کیا ہے صَلاةِ التَّسْبِيحِ کی عدم قبولیت پر

شوکانی کتاب الْفَوَائِدِ الْمَجْمُوعَةِ فِي الأَحَادِيثِ الْمَوْضُوعَةِ میں صَلاةِ التَّسْبِيحِ پرکہتے ہیں

وَالْحق أَن طرقه كلهَا ضَعِيفَة


اور حق یہ ہے کہ اس کے تمام طرق ضعیف ہیں

کتاب المغني عن الحفظ والكتاب از أبو حفص (المتوفى: 622هـ) کے مطابق امام عقیلی کہتے ہیں

قَالَ الْعقيلِيّ: ” لَيْسَ فِي صَلَاة التسابيح، حَدِيث صَحِيح

صَلَاة التسبيح کی روایات میں کوئی صحیح حدیث نہیں

نووی شرح المهذب میں کہتے ہیں

في استحبابها نظراً؛ لأن حديثها ضعيف، وفيها تغيير لنظم الصلاة المعروفة فينبغي أن لا تفعل بغير حديث، وليس حديثها ثابت

اس کے مستحب ہونے میں نظر ہے کیونکہ اس کی حدیثیں ضعیف ہیں اور ان میں نظام صلاہ میں تغیر ہے پس یہ ہے کہ اس حدیث پر عمل نہ کیا جائے اور یہ حدیث ثابت نہیں

عبدللہ بن باز فتوی فتاوى نور على الدرب ج ١١ ص ٩٢ میں کہتے ہیں

والأرجح في ذلك أنه غير صحيح، وأنه موضوع، وليس صحيحا عن النبي عليه الصلاة والسلام، هذا هو المعتمد في هذه الصلاة،




اور راجح یہ ہسے کہ یہ صحیح نہیں اور بے شک گھڑی ہوئی ہے اور نبی صلی الله علیہ وسلم سے اس میں کوئی صحیح روایت نہیں اور یہی قابل اعتماد بات ہے

عبدللہ بن باز فتوی فتاوى نور على الدرب ج ١١ ص ٩٢ میں یہ بھی کہتے ہیں

وحديث شاذ مخالف للأحاديث الصحيحة


یہ شاذ حدیث ہے صحیح احادیث کی مخالف

اس روایت کو متقدمین سے لے کر متاخرین سب رد کر رہے ہیں لہذا یہ مظبوط روایت نہیں. عبدللہ بن باز اور شوکانی بھی اس کو رد کر رہے ہیں
 
Top