• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث قرع نعال میں ڈاکٹر عثمانی کی تحریف

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
حدیث قرع نعال میں ڈاکٹر عثمانی کی تحریف

ڈاکٹر موصوف نے بخاری کی اس حدیث ’’اَلْعَبْدُ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَ تُوُلِّیَ وَ ذَھَبَ اَصْحَابُہٗ حَتّٰی اِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ فَاَقْعَدَاہُ‘‘
جب بندہ قبر میں رکھ دیا گیا اور اس کا معاملہ اختتام کو پہنچ گیا اور اس کے ساتھی چلے گئے یہاں تک کہ وہ یقینی طور پر اُن کی (فرشتوں کی) جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ دو فرشتے آجاتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں … (ایمان خالص نمبر ۲ ص:۲۴)۔
اس ترجمہ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ گویا کسی گزرے ہوئے شخص کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ معاملہ ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے۔ موصوف نے اس حدیث میں زبردست خیانت کی ہے اور مغالطہ دیا ہے۔ حالانکہ اس حدیث کا یہ ترجمہ بالکل نہیں ہے۔ اور اس حدیث کے کئی طرق بھی موجود ہیں جس سے اس حدیث کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس حدیث کا آسان سا ترجمہ اس طرح ہے:
’’بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے پیٹھ پھیرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ابھی ان کی جوتیوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے کہ دو فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں اور اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں‘‘۔
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقال ابن التین انہ کرر اللفظ والمعنی واحد
ابن التین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’یہ الفاظ (تولی اور ذھب) مکرر آئے ہیں اور دونوں الفاظ کا معنی ایک ہی ہے۔(فتح الباری شرح صحیح بخاری جلد۳ ص:۱۶۱)۔
آگے فرمایا:
و سیأتی فی روایۃ عیاش بلفظ و تولی عنہ اصحابہ وھو موجود فی جمیع الروایات عند مسلم وغیرہ
اور عنقریب جناب عیاش (ابن الولید) رحمہ اللہ کی روایت وتولی عنہ اصحابہ کے الفاظ کے ساتھ آگے آرہی ہے اور یہ الفاظ (وتولی عنہ اصحابہ) (جو اوپر والی احادیث کے مفہوم کو صحیح طور پر متعین کرتے ہیں)۔ صحیح مسلم وغیرہ کی تمام روایات میں موجود ہیں۔ (ایضاً:۳/۱۶۱)۔
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے جس روایت کی نشاندہی کی ہے اس کے الفاظ یوں ہیں:
ان العبد اذا وضع فی قبرہ و تولی عنہ اصحابہ و انہ لیسمع قرع نعالھم اتاہ ملکان فیقعد انہ (بخاری کتاب الجنائز باب جاء فی عذاب القبر:۱۳۷۴و مسلم:۲۸۷۰)
بے شک بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو ابھی وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ دو فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں اور اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں۔
اس واضح تفصیل کے باوجود ڈاکٹر موصوف نے اس حدیث کا جو عجیب و غریب ترجمہ کیا ہے وہ ان کے الفاظ میں دوبارہ ملاحظہ فرمائیں:
’’قتادہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب قبر میں رکھ دیا گیا اور اس کا معاملہ اختتام کو پہنچ گیا اور اس کے ساتھی چلے گئے یہاں تک کہ وہ یقینی طور پر ان کی (فرشتوں کی) جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ دو فرشتے آجاتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں‘‘۔ (ایمان خالص نمبر۲ ص:۲۶)۔
اس عجیب و غریب ترجمہ کو ملاحظہ کریں۔ اس ترجمہ سے ایسا لگتا ہے کہ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک بندے کا ذکر کیا تھا کہ جسے قبر میں رکھ دیا گیا اور اس کے ساتھ یہ تمام حالات پیش آئے۔ حالانکہ یہ واقعہ یوں نہیں ہے بلکہ اس حدیث میں ایک عام قانون بیان کیا جارہا ہے کہ ’’بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے۔ آگے کے الفاظ ’’وَتُوُلِّیَ وَ ذَھَبَ اَصْحَابُہٗ‘‘ کا ترجمہ جو موصوف نے کیا ہے وہ ایک شاہکار ہے، لکھتے ہیں: ’’اور اس کا معاملہ اختتام کو پہنچ گیا اور اس کے ساتھی چلے گئے‘‘۔ حالانکہ تولی کا یہ ترجمہ انتہائی غلط اور سخت قسم کی دھاندلی ہے۔ اور بقول حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے کہ یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں اور ان کو مکرر لایا گیا ہے۔ اور پھر اس کی وضاحت عیاش بن الولید کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس کے الفاظ اس طرح ہیں: ’’وَتَوَلّٰی عَنْہُ اَصْحَابُہٗ‘‘ اور اس کے ساتھ اس سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔
قرآن مجید کی بعض آیات کی وضاحت جس طرح دوسری آیات کرتی ہیں یعنی قرآن اپنی تفسیر خود کرتا ہے، بالکل اسی طرح احادیث بھی ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ اور دوسری حدیث کے پیش نظر اس حدیث کا معنی بالکل واضح ہو جاتا ہے اور موصوف کی تحریف بھی واضح ہوتی ہے۔ اس حدیث میں آگے الفاظ ہیں: حَتّٰی اِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ موصوف نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ’’یہاں تک کہ وہ یقینی طور پر ان کی (فرشتوں کی) جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ فرشتے آجاتے ہیں‘‘۔ یہاں بھی موصوف نے زبردست خیانت کا ارتکاب کیا ہے اور ھم (جمع) کی ضمیر کو ملکان (تثنیہ) کی طرف پھیر دیا جو کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ ان الفاظ کا سادہ سا ترجمہ یہ ہے:
’’یہاں تک کہ وہ ابھی ان (ساتھیوں) کی جوتیوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے کہ دو فرشتے اس کے پاس آجاتے ہیں۔ یعنی ھم کی ضمیر اصحاب کی طرف پلٹے گی کیونکہ فرشتے تو ابھی آئے بھی نہیں تو ضمیر کس طرح ان کی طرف پلٹے گی۔اور اس کی وضاحت بھی صحیح مسلم کی روایت سے ہوتی ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو عبد بن حمید کی سند سے ذکر کیا ہے جس کے الفاظ یوں ہیں:
اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَ تَوَلّٰی عَنْہُ اَصْحَابُہٗ اِنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ قَالَ یَأتِیْہِ مَلَکَانِ فیقعد انہ … (مسلم:۲۸۷۰)
’’بے شک بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے منہ پھیر کر جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں‘‘۔
اس حدیث میں اِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ پر جملہ ختم ہو جاتا ہے لہٰذا لامحالہ ھم کی ضمیر اصحاب کی طرف ہی پلٹتی ہے اور آگے قَال یأتیہ ملکان سے نیا جملہ شروع ہوتا ہے جس میں ملائکہ کے آنے کا ذکر ہے۔ یہ روایت شبان ابن عبدالرحمن کے واسطے سے ہے جسے اس نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں اوپر کا جملہ اس بات پر ختم ہو گیا تھا کہ میت ان (ساتھیوں) کی جوتیوں کی چاپ سنتی ہے اور اس کے بعد والا جملہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس (میت) کے پاس دو فرشتے آتے ہیں۔ پھر قبر میں فرشتے اصلی شکل و صورت میں آتے ہیں، انسانوں کی طرح جوتے پہن کر نہیں آتے کہ ان کی جوتیوں کی چاپ سنی جا سکے۔ فافھم۔اور اس طرح کی ایک مزید روایت کی وضاحت بھی امام مسلم رحمہ اللہ نے کی ہے کہ جسے سعید نے قتادہ سے روایت کیا ہے اور ایک اور روایت جو عمرو بن زرارہ کی سند سے ہے اور اس وضاحت سے موصوف کا مفروضہ بالکل پاش پاش ہو جاتا ہے۔ چنانچہ عمرو بن زرارہ رحمہ اللہ کی سند سے جو روایت ہے اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
اِنَّ الْمَیِّتَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ اِنَّہٗ لَیَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِھِمْ اِذَا انْصَرَفُوْا (مسلم:۲۸۷۰)
بے شک جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتی ہے جبکہ وہ (اسے دفنا کر) واپس پلٹتے ہیں۔
اس حدیث میں ملائکہ کے آنے کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ صرف دفن کر کے واپس جانے والوں کا ذکر ہے جس سے روز روشن کی طرف واضح ہو گیا کہ میت واپس جانے والے ساتھیوں کے جوتوں کی آواز سنتی ہے۔ اس حدیث کے بھی بہت سے شواہد موجود ہیں۔
(۳) تیسری حدیث: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بنو نجار کے باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر بدکا اور قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا دے ناگہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں معلوم ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان قبر والوں کو کوئی جانتا ہے؟ ایک شخص نے کہا میں (جانتا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کب مرے ہیں؟ وہ بولا شرک کے زمانے میں۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ان ھذہ الامۃ تبتلی فی قبورھا فلولا ان لا تدا فنوا لدعوت اللّٰہ ان یسمعکم من عذاب القبر الذی اسمع منہ
’’یہ اُمت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے پس اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم (مردوں کو) دفن کرنا ہی چھوڑ دو گے تو میں ضرور اللہ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تم کو بھی قبر کا عذاب سنادے جس طرح میں سنتا ہوں‘‘۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
’’جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ ہم نے کہا کہ ہم جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قبرکے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہو۔ ہم نے کہا ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ظاہر اور باطن فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو۔ ہم نے کہا ہم ظاہر اور باطن فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو‘‘۔ ہم نے کہا: ہم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں‘‘۔
(صحیح مسلم کتاب الجنۃ، مشکاۃ المصابیح، مسند احمد ۵/۱۹۰، مصنف ابن ابی شیبہ ۳٭۳۷۳)۔
اس حدیث کو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابوسعید الخدری نے بیان کیا ہے۔ اس واقعہ کو سیدنا جابر رضی اللہ عنہما (مسند احمد ۳/۲۹۶، الصحیحۃ ۱٭۲۴۳) سیدہ اُمّ مبشر رضی اللہ عنہا (مسند احمد ۶/۳۶۲، مصنف ابن ابی شیبہ ۳/۳۷۳، صحیح ابن حبان، الصحیحۃ ۳/۴۳۰) اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (مسند احمد ۳/۲۰۱۔ ۱۰۳۔ ۱۵۳۔ ۱۷۵۔ ۲۸۴۔ ۱۱۱۔ ۱۷۶۔ ۲۷۲۔ النسائی:۱/۲۹۰، صحیح ابن حبان:۷۸۶) بھی بیان کرتے ہیں۔ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے متعدد روایات میں یہ واقعہ مروی ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے: فسمع صوتا من قبر فسأل عنہ متی دُفن ھذا فقالوا یارسول اللّٰہدُفن ھذا فی الجاھلیۃ و أعجبہ ذلک و قال ………… تو آپ نے ایک قبر میں سے عذاب کی آواز سنی تو آپ نے اس شخص کے متعلق پوچھا کہ یہ کب دفن کیا گیا ہے؟۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ یہ دورِ جاہلیت میں دفن ہوا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر خوش ہوئے (کہ شکر ہے کہ یہ کوئی مسلمان نہ تھا)۔ اور پھر فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ تم مردے دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر سنا دے۔
(مسند احمد۳/۱۰۳، ۱۱۴، ۲۰۱۔ سنن النسائی ۲۰۵۸، ابن حبان: ۳۱۲۶۔ اثبات عذاب القبر للبیہقی:۱۰۴۔ و قال الالبانی و شعیب الارنووط و اسنادہ صحیح (مسند للامام احمد مع الموسوعۃ ۱۹/۶۶)۔ و صححہ علیزئی فی عمدۃ المساعی فی تحقیق سنن النسائی:۲۰۶۰)۔ تفصیل ’’الدین الخالص‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔
اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ میت کو اسی ارضی قبر میں عذاب ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تمنا تھی کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر کو سنتے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت بھی عذاب قبر کو سنے لیکن پھر اس خوف سے کہ لوگ عذاب کو سن کر مردے دفن کرنا چھوڑ دیں گے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا نہ فرمائی۔ ظاہر ہے کہ مردے اسی ارضی قبر ہی میں دفن ہوتے ہیں، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تمنا کا اظہار فرمایا۔ لیکن ڈاکٹر موصوف نے اس حدیث کے اہم حصہ کو نقل ہی نہیں کیا اور اسے شیر مادر سمجھ کر ڈکار گئے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’یہ اُمت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے، پس اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم (مردوں کو) دفن کرنا ہی چھوڑ دو گے تو میں ضرور اللہ سے یہ دُعا کرتا کہ وہ تم کو بھی قبر کا عذاب سنا دے جس طرح میں سنتا ہوں‘‘۔
ظاہر ہے کہ ان الفاظ کے نقل کرنے سے موصوف کی تأویل کی قلعی کھل جاتی لہٰذا اسی بنا پر اس نے یہ الفاظ ہی نقل نہیں کئے اور حدیث کے آدھے حصے کا جواب دینے ہی پر اکتفاء کیا۔ نیز سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ وضاحت بھی ہے کہ آپ نے قبر سے عذاب کی آواز سنی اور پھر صحابہ کرام سے پوچھا کہ یہ شخص کب دفن ہوا ہے؟۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ھذا اسم اشارہ قریب استعمال کیا اور صحابہ کرام نے بھی جواب میں ھذا کا لفظ ہی استعمال کیا۔ اب عذاب قبر کی اس سے زیادہ وضاحت ممکن نہیں ہے۔ فافہم۔
(۴) چوتھی حدیث:
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی پس اس نے قبر کے عذاب کا ذکر کیا اور اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم عذاب القبر حق جی ہاں قبر کا عذاب حق ہے۔
( بخاری:۱۳۷۲، مسند احمد ۶/۱۷۴، سنن النسائی کتاب السھو۔ باب:۶۴۔ ح:۱۳۰۸۔ الصحیحہ:۱۳۷۷)۔
اور دوسری روایت میں اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مدینہ کی دو بوڑھی عورتیں ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: ان اھل القبور یعذبون فی قبورھم۔ بے شک قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں۔
پس میں نے ان عورتوں کو جھوٹا قرار دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ میں ان کی بات کو سچ مانوں۔ پھر وہ عورتیں چلی گئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئی تھیں اور میں نے پورا واقعہ بیان کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صدقتا انھم یعذبون عذابا تسمعہ البھائم کلھا۔
’’ان دونوں نے سچ کہا ہے۔بے شک قبر والوں کو (ان کی قبروں میں) عذاب ہوتا ہے جسے تمام چوپائے سنتے ہیں‘‘۔
پس اس (واقعہ) کے بعد میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی مگر اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگی۔
(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ من عذاب القبر ۶۳۶۶، مسلم ۱۳۲۱)۔
۱۔ اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔
۲۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اس عذاب کو تمام چوپائے سنتے ہیں۔ اور اس سلسلہ کی دیگر احادیث بھی موجود ہیں۔
ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں:
یسمع من یلیہ غیر الثقلین (بخاری۱۳۳۸، ۱۳۷۴)۔
(قبر میں میت کو جب لوہے کے گرز سے مارا جاتا ہے تو) اس کے چیخنے چلانے کی آواز کو (قبر کے) قریب کی تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے انسان و جنات کے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جب میت چارپائی پر چیختی چلاتی ہے:
یسمع کل شئی الا الانسان و لو سمع الانسان لصعق (بخاری:۱۳۱۶)۔
اس کی آواز کو ہر چیز سنتی ہے لیکن انسان نہیں سن سکتا اور اگر انسان اسے سن لیتا تو بے ہوش ہو جاتا۔
اوپر والی حدیث سے ثابت ہو گیا کہ قبر کے قریب کی تمام چیزیں عذاب قبر کو سنتی ہیں۔ اس حدیث کا اگر یہ مطلب ہوتا کہ عذاب کسی اور مقام پر ہو رہا ہے تو پھر من یلیہ کا کیا مطلب ہو گا؟ لہٰذا یہ حدیث دو ٹوک الفاظ میں عذاب قبر کو ثابت کرتی ہے۔ اور اس کے بعد والی حدیث بھی ثابت کرتی ہے کہ اسی میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ میت چارپائی پر ہی چیخنے چلانے لگتی ہے۔ (کیا لوگ چارپائی بھی برزخ میں اٹھائے پھرتے ہیں؟) اب اس سے زیادہ عذاب قبر کی وضاحت کس طرح ممکن ہے؟ نیز ان احادیث سے جانوروں اور ہر چیز کے عذاب قبر کی آواز کو سننے کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔ یعنی قبر کے قریب کی ہر چیز عذاب قبر کو سنتی ہے۔
مثال: بلی کی بصارت انسان کی نسبت بہت زیادہ ہے اور وہ اندھیرے میں دیکھ سکتی ہے۔ چوپایوں کے سونگھنے، سننے اور محسوس کرنے کی حس انسان سے کہیں زیادہ ہے۔ لہٰذا وہ عذاب قبر سن سکتے ہیں جیسا کہ آجکل موبائل فون کی ٹرانسمیشن انتہائی زیادہ ہے جو کہ انسانی سماعت سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ ٹرانسمیشن انسانی کان تو نہیں سن سکتا لیکن موبائل فون اُس کو سن لیتا ہے اور پھر اُسی ٹرانسمیشن کو انسانی سماعت کے مطابق ڈھال کر ہمیں سنا دیتا ہے۔
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: پہلی بات یہ کہ اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی پہلے عذاب قبر کو نہیں مانتی تھیں لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو وہ فوراً اس پر ایمان لے آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انکار کی وجہ غالباً یہود سے ہر معاملے میں مخالفت بھی تھی۔ لہٰذا وہ سمجھیں کہ اس مسئلہ میں بھی ان سے مخالفت ہو گی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں یہود کی موافقت کی۔
مسند احمد میں یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ چنانچہ سیدنا سعید بن عمرو بن سعید اُموی بیان کرتے ہیں کہ
ایک یہودی عورت اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت کیا کرتی تھی۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں کہ انہوں نے یہودیہ سے اس کے سوا کوئی نیکی کی بات نہیں پائی کہ اس نے کہا: (اے عائشہ) اللہ تجھے عذاب قبر سے بچائے۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ھل للقبر عذاب قبل یوم القیامۃ کیا قیامت سے قبل قبر میں بھی عذاب ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں … عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہودیہ کا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود نے جھوٹ کہا اور اللہ پر بھی جھوٹ بات کہی ہے۔ قیامت کے عذاب کے علاوہ (اس سے قبل) کوئی عذاب نہیں ہے۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں کہ اس واقعہ کے کچھ دن بعد جتنا کہ اللہ نے چاہا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف النہار کے وقت نکلے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا لپیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے کہا: ’’اے لوگو! تم پر فتنے سیاہ رات کی طرح سایہ افگن ہوں گے۔ اے لوگو اگر تم ان حقیقتوں کو جان لو کہ جنہیں میں جانتا ہوں تو تمہارا رونا زیادہ ہو جائے اور ہنسنا کم ہو جائے۔ اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے پناہ مانگو۔ فان عذاب القبر حق پس بے شک قبر کا عذاب برحق ہے۔
(مسند احمد(۶/۸۱) فقال ابن حجر العسقلانی: ما رواہ احمد باسناد علی شرط البخاری (فتح الباری (۳/۲۳۶)۔ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
اس تفصیلی روایت سے یہ وضاحت بھی ہو گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس واقعہ سے پہلے عذاب قبر کی تفصیلات سے واقف نہ تھے چنانچہ اس واقعہ کے چند دن بعد اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر کے متعلق اطلاع دی جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس وقت ایک یہودی عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ کہنے لگی کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانپ گئے اور فرمایا کہ یہود آزمائے جائیں گے۔ پھر چند راتیں گزر گئیں تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تجھے معلوم ہے کہ مجھ پر یہ وحی نازل ہوئی ہے کہ تمہاری قبروں میں آزمائش ہو گی؟
اُمّ المؤمنین عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اس دن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
(صحیح مسلم۔ کتاب المساجد باب استحباب التعوذ من عذاب القبر:۱۳۱۹۔ مسند احمد ۶/۸۹)۔
قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ھل شعرت انہ اوحی الی انکم تفتنون فی القبور قالت عائشۃ فسمعت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد یستعیذ من عذاب القبر

بخاری و مسلم میں یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ موجود ہے چنانچہ عمرۃ' بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سوال کرتے ہوئے آئی اور کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائذا باللّٰہ من ذٰلک ۔ میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوئے پھر (اس دن) سورج کو گرہن لگ گیا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف ادا فرمائی یہاں تک کہ) سورج روشن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
انی قد رایتکم تفتنون فی القبور کفتنۃ الدجال … اسمع رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ذالک یتعوذ من عذاب النار و عذاب القبر
بے شک میں نے دیکھا کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے دجال کے فتنے کی طرح۔ … میں نے اس دن کے بعد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب جہنم اور عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ۔ اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ بھی ہیں:
فقال ما شاء اللّٰہ ان یقول ثم امرھم ان یتعوذوا من عذاب القبر
پھر آپ نے (خطبہ میں) جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ قبرکے عذاب سے پناہ مانگیں۔
(صحیح بخاری کتاب الکسوف باب التعوذ من عذاب القبر فی الکسوف جلد۱ صفحہ ۱۴۳ عربی ح:۱۰۴۹۔ صحیح مسلم کتاب الکسوف ج۱ صفحہ۲۹۷ عربی ح:۲۰۹۸)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت آئیں جب کہ سورج کو گرہن لگ چکا تھا اور لوگ کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز ادا کر رہی تھیں۔ ……… (سورج کے روشن ہو جانے اور نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مڑے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جسے میں نے اس مقام پر نہ دیکھ لیا ہو یہاں تک کہ جنت اور جہنم کو بھی اور میری طرف یہ وحی بھی کی گئی کہ بے شک تم قبروں مین دجال کے فتنہ کے مثل یا اس کے قریب آزمائے جاؤ گے۔ اور قبر میں تمہارے پاس فرشتے آئیں گے اور تم سے کہا جائے گا کہ اس شخص کے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟ جو مومن یا موقن (یقین رکھنے والا) ہو گا وہ کہے گا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہمارے پاس کھلے دلائل اور ہدایت لے کر آئے پس ہم نے مان لیا اور ہم ایمان لے آئے اور ہم نے اتباع اختیار کی۔ پس اس سے کہا جائے گا کہ آرام سے سو جا۔ ہمیں معلوم تھا کہ آپ یقین رکھنے والے ہیں۔ اور جو منافق یا مرتاب (شک کرنے والا) ہو گا وہ کہے گا کہ میں نہیں جانتا۔ میں تو وہی کہتا ہوں کہ جو لوگ کہتے تھے۔
(بخاری کتاب الکسوب باب صلوۃ النساء مع الرجال فی الکسوف ح:۱۰۵۳۔ مسلم کتاب الکسوف باب۳۔ ح:۲۱۰۳)۔

عذاب قبرکی حقیقت- ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
فتویٰ نمبر : 12217

عذابِ قبر کی حقیقت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 May 2014 12:50 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عذاب قبر کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب کےلئے قیامت کا دن رکھا ہے،اس دن میں لوگوں کا حساب ہوجائے گا تو پھر جزاوسزا کا معاملہ شروع ہوگا جب تک حساب و کتاب نہیں ہوجاتا اس وقت تک نہ کوئی سزا ہے نہ جزا قبرصرف مردوں کو دفن کرنے کےلئے ہے۔آپ سے گزارش ہے کہ عذاب قبر کے متعلق قرآن و حدیث کے مطابق ہماری راہنمائی فرمائیں،واضح رہے کہ جن لوگوں کا موقف بیان ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ عذاب قبر سے متعلق احادیث صحیح نہیں ہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں عذاب قبر کے متعلق ایک عنوان قائم کیا ہے،اس کے تحت ایک حدیث لاتےہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک یہودی عورت آئی اور عذاب قبر کا تذکرتے ہوئے ذکر کیا کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے ،حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا :‘‘عذاب قبربرحق ہے۔’’(صحیح بخاری،الجنائز:۱۳۷۲)

اس کے علاوہ امام بخاریؒ نے متعدد احادیث کا حوالہ دیا ہے جن میں عذاب قبر کی صراحت ہے لیکن سوال میں جن لوگوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ احادیث کے منکر ہیں کیونکہ یہ ان کے موقف کے خلاف ہیں اس لیے ایسے لوگوں کیساتھ جزوی مسائل میں الجھنے کی بجائے بنیادی مسئلہ پر بات کرنی چاہیے کہ حدیث کی کیا حیثیت ہے؟ کیا اس کی بنیاد وحی پر مبنی ہے؟کیا ان کے بغیر تمام شریعت کو صرف قرآن پاک سے ثابت ،کیا جاسکتا ہے چونکہ سوال عذاب قبر کے متعلق ہے ،وہ بھی ان لوگوں کے حوالہ سےجو صحیح احادیث کو نہیں مانتے ،اس لئے ہم اسے قرآن سے ثابت کرتے ہیں ،اختصار کے پیش نظر صرف ایک آیت پیش خدمت ہے۔امام بخاریؒ نے تو اس سلسلہ میں متعدد آیات کا حوالہ دیا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

‘‘اور آل فرعون خو دہی برے عذاب میں گھر گئے وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتےہیں

اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو (حکم )ہوگا کہ آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔’’(۴۰/المؤمن:۴۶)

اس آیت میں صراحت ہےکہ آل فرعون کے غرق ہونے کے دن سے لے کر قیامت تک ان کی ارواح کو ہر روز صبح و شام اس دوزخ پر لاکھڑا کیا جاتا ہے،جس میں وہ قیامت کے دن اپنے جسموں سمیت داخل ہونے والے ہیں۔ موت سے قیامت تک کا عرصہ ‘‘برزخ ’’کہلاتا ہے اور یہ قبر کے جملہ مراحل ہیں۔اس آیت کریمہ میں عذاب برزخ ،دوسرے الفاظ میں ‘‘عذاب قبر’’کی صراحت ہے۔جس سے منکر حدیث کو بھی انکار نہیں ،عذاب قبر عقلی لحاظ سے بھی غیر ممکن نہیں ،ہمارے ہاں ملزم کو پکڑ کر حوالات میں رکھا جاتا ہے وہاں وہ مصائب و آلام سے دوچار ہوتا ہے،اس پر مقدمہ چلایا جاتا ہے۔فیصلے کے دن کے بعد اسے حوالات سے نکال کر جیل کی کوٹھڑی میں بند کردیا جاتا ہے،جرم ثابت ہونے سے پہلے اسے جس قیدو بند میں رکھا جاتا ہے اوروہاں اسے تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے کس کھاتہ میں ڈالا جائے گا؟ عذاب قبر کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اسے ایک ملزم کی حیثیت سے قبر میں رکھا جاتا ہے اور اسے تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے،پھر قیامت کے دن اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی اور متعدد شہادتوں سے اس کے جرم کو ٖثابت کرکے ،پھر مجرم کی حیثیت سے دوزخ کے حوالے کیا جائے گا مذکورہ آیت کریمہ میں تمام مراحل کو آسانی سےدیکھا جاسکتا ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ اصحاب الحدیث
ج2ص205

محدث فتویٰ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
برزخی قبر

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

احا دیث میں عذاب قبر کا ذکر آیا ہے ہما رے ہاں چند حضرات کا کہنا ہے کہ قبر سے مرا دزمینی گڑھا نہیں بلکہ یہ ایک برزخی قبر ہے جہاں عذا ب و ثو اب ملتا ہے اور کچھ لو گ اس کے خلا ف عقیدہ رکھتے ہیں کہ عذاب و آرام اسی معہود قبر میں ہو تا ہے جسے ہم اپنے ہا تھو ں سے بنا تے ہیں قرآن و حدیث کی روسے وضا حت فر ما ئیں کہ قبر سے مرا د کونسی قبر ہے ؟ (عبد الطیف جہانیا ں منڈی )

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہما ر ے ہا ں آج کل بےشمار فتنے رونما ہو رہے ہیں اس سلسلہ میں کرا چی کی زمین بڑی زرخیز واقع ہو ئی ہے وہا ں مسعود الدین عثما نی نے یہ فتنہ کھڑ ا کیا تھا کہ اس سے مرا د زمینی قبر نہیں بلکہ ایک برزخی قبر ہے جس میں عذاب وثو اب ملتا ہے چو نکہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے اور اسے یقین ہو چکا ہو گا کہ کس قسم کی قبر میں عذاب ہو تا ہے جب ہم قرآن و حدیث کا مطا لعہ کر تے ہیں تو ہمیں شریعت میں برز خی قبر کا وجود نظر نہیں آتا برز خی قبر کی دریا فت اس قسم کے فتنہ پر وروں کی ہے جو علم شریعت سے نا بلد ہو ئے ہیں اس میں کو ئی شک نہیں ہےکہ جرم پیشہ حضرات کو عا لم بر ز خ میں ہی عذاب سے دور چا ر ہو نا پڑتا ہے لیکن اس عذا ب کا محل یہ قبر ہے یا اور کو ئی جگہ محدثین عظا م نے اس سلسلہ میں جو را ہنما ئی فر ما ئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جن لو گو ں کو یہ زمینی قبر ملتی ہے انہیں تو اسی قبر میں عذاب سے دو چا ر کیا جا تا ہے اور جن کو یہ قبر نہیں ملتی ان کے اجز ائے جسم جہا ں پڑے ہیں ان کے لیے وہی قبر کا در جہ رکھتے ہیں اس مو قف کے متعدد دلائل ہیں ہم صرف دو دلائل کا ذکر کر تے ہیں ۔

(1)اللہ تعا لیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منا فقین کے لیے ان کی قبر پر کھٹرے ہو کر دعا کر نے سے منع فر ما یا ہے ارشا د با ر ی تعالیٰ ہے آپ ان میں سے کسی کی نماز جناز ہ نہ پڑھیں اور نہ ہی ان کی قبر پر کھٹرے ہوں ۔(9/التو بہ:84)

اب سوال پیدا ہو تا ہے کہ وہ کو نسی قبر ہے جس پر کھٹر ے ہو کر دعا کر نے سے آپ کو منع کیا گیا ہے ظا ہر ہے کہ اسی زمینی قبر کے کے متعلق یہ حکم دیا گیا ہے ۔

(2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر میں جا تے ہو ئے اپنے صحا بہ کرا م رضوان اللہ عنہم اجمعین سے دریا فت کیا تھا کہ دونئی قبریں کن لو گو ں کی ہیں کیو ں کہ انہیں عذاب دیا جا رہا ہے لو گو ں نے نشا ند ہی کی تو آپ نے کھجور کی ایک چھڑی لے کر اس کے دو حصے کیے اور دو نو ں قبرو ں پر ایک ایک حصہ گا ڑ دیا نیز فر ما یا :"کہ امید ہے کہ ان کے خشک ہو نے تک ان کے عذاب میں کمی کر دی جا ئے ۔(صحیح بخا ری :الجنا ز 1361)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان زمینی قبروں پر کھجو ر کی چھڑیو ں کو گا ڑنا اس بات کی بین دلیل ہے کہ انہیں اسی قبر میں عذا ب دیا جا تا تھا بر ز خی قبر کی در یا فت ایجا د بند ہ ہے جس کا ثبو ت قرآن و حدیث سے نہیں ملتا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ اصحاب الحدیث
ج1ص178

محدث فتویٰ
 
Last edited:
شمولیت
ستمبر 27، 2014
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
33
ماشاءاللہ دلائل عمدہ ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کیپٹن عثمانی کے مقلدین کو اب کوئی شک باقی رہ گیا ہو اتنے واضح دلائل کے بعد
 

aamirrafiq

رکن
شمولیت
ستمبر 28، 2011
پیغامات
19
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
46
السلام علیکم
ان لوگوں کا دعوہ ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر عبداللہ جابر دامانوی صاحب کی کتاب کا عمدہ جواب دیا ہے۔ اس دعوہ کی حقیقت کیا ہے؟

Sent from my SM-G925F using Tapatalk
 
شمولیت
جولائی 01، 2017
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
155
پوائنٹ
47
حدیث قرع نعال میں ڈاکٹر عثمانی کی تحریف

ڈاکٹر موصوف نے بخاری کی اس حدیث ’’اَلْعَبْدُ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَ تُوُلِّیَ وَ ذَھَبَ اَصْحَابُہٗ حَتّٰی اِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ فَاَقْعَدَاہُ‘‘ اس ترجمہ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ گویا کسی گزرے ہوئے شخص کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ معاملہ ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے۔ موصوف نے اس حدیث میں زبردست خیانت کی ہے اور مغالطہ دیا ہے۔ حالانکہ اس حدیث کا یہ ترجمہ بالکل نہیں ہے۔ اور اس حدیث کے کئی طرق بھی موجود ہیں جس سے اس حدیث کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس حدیث کا آسان سا ترجمہ اس طرح ہے:

حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقال ابن التین انہ کرر اللفظ والمعنی واحد
ابن التین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’یہ الفاظ (تولی اور ذھب) مکرر آئے ہیں اور دونوں الفاظ کا معنی ایک ہی ہے۔(فتح الباری شرح صحیح بخاری جلد۳ ص:۱۶۱)۔
آگے فرمایا:
و سیأتی فی روایۃ عیاش بلفظ و تولی عنہ اصحابہ وھو موجود فی جمیع الروایات عند مسلم وغیرہ
اور عنقریب جناب عیاش (ابن الولید) رحمہ اللہ کی روایت وتولی عنہ اصحابہ کے الفاظ کے ساتھ آگے آرہی ہے اور یہ الفاظ (وتولی عنہ اصحابہ) (جو اوپر والی احادیث کے مفہوم کو صحیح طور پر متعین کرتے ہیں)۔ صحیح مسلم وغیرہ کی تمام روایات میں موجود ہیں۔ (ایضاً:۳/۱۶۱)۔
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے جس روایت کی نشاندہی کی ہے اس کے الفاظ یوں ہیں:
ان العبد اذا وضع فی قبرہ و تولی عنہ اصحابہ و انہ لیسمع قرع نعالھم اتاہ ملکان فیقعد انہ (بخاری کتاب الجنائز باب جاء فی عذاب القبر:۱۳۷۴و مسلم:۲۸۷۰)

اس واضح تفصیل کے باوجود ڈاکٹر موصوف نے اس حدیث کا جو عجیب و غریب ترجمہ کیا ہے وہ ان کے الفاظ میں دوبارہ ملاحظہ فرمائیں:

اس عجیب و غریب ترجمہ کو ملاحظہ کریں۔ اس ترجمہ سے ایسا لگتا ہے کہ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک بندے کا ذکر کیا تھا کہ جسے قبر میں رکھ دیا گیا اور اس کے ساتھ یہ تمام حالات پیش آئے۔ حالانکہ یہ واقعہ یوں نہیں ہے بلکہ اس حدیث میں ایک عام قانون بیان کیا جارہا ہے کہ ’’بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے۔ آگے کے الفاظ ’’وَتُوُلِّیَ وَ ذَھَبَ اَصْحَابُہٗ‘‘ کا ترجمہ جو موصوف نے کیا ہے وہ ایک شاہکار ہے، لکھتے ہیں: ’’اور اس کا معاملہ اختتام کو پہنچ گیا اور اس کے ساتھی چلے گئے‘‘۔ حالانکہ تولی کا یہ ترجمہ انتہائی غلط اور سخت قسم کی دھاندلی ہے۔ اور بقول حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے کہ یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں اور ان کو مکرر لایا گیا ہے۔ اور پھر اس کی وضاحت عیاش بن الولید کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس کے الفاظ اس طرح ہیں: ’’وَتَوَلّٰی عَنْہُ اَصْحَابُہٗ‘‘ اور اس کے ساتھ اس سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔
قرآن مجید کی بعض آیات کی وضاحت جس طرح دوسری آیات کرتی ہیں یعنی قرآن اپنی تفسیر خود کرتا ہے، بالکل اسی طرح احادیث بھی ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ اور دوسری حدیث کے پیش نظر اس حدیث کا معنی بالکل واضح ہو جاتا ہے اور موصوف کی تحریف بھی واضح ہوتی ہے۔ اس حدیث میں آگے الفاظ ہیں: حَتّٰی اِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ موصوف نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ’’یہاں تک کہ وہ یقینی طور پر ان کی (فرشتوں کی) جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ فرشتے آجاتے ہیں‘‘۔ یہاں بھی موصوف نے زبردست خیانت کا ارتکاب کیا ہے اور ھم (جمع) کی ضمیر کو ملکان (تثنیہ) کی طرف پھیر دیا جو کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ ان الفاظ کا سادہ سا ترجمہ یہ ہے: امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو عبد بن حمید کی سند سے ذکر کیا ہے جس کے الفاظ یوں ہیں:
اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَ تَوَلّٰی عَنْہُ اَصْحَابُہٗ اِنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ قَالَ یَأتِیْہِ مَلَکَانِ فیقعد انہ … (مسلم:۲۸۷۰)

اس حدیث میں اِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ پر جملہ ختم ہو جاتا ہے لہٰذا لامحالہ ھم کی ضمیر اصحاب کی طرف ہی پلٹتی ہے اور آگے قَال یأتیہ ملکان سے نیا جملہ شروع ہوتا ہے جس میں ملائکہ کے آنے کا ذکر ہے۔ یہ روایت شبان ابن عبدالرحمن کے واسطے سے ہے جسے اس نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں اوپر کا جملہ اس بات پر ختم ہو گیا تھا کہ میت ان (ساتھیوں) کی جوتیوں کی چاپ سنتی ہے اور اس کے بعد والا جملہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس (میت) کے پاس دو فرشتے آتے ہیں۔ پھر قبر میں فرشتے اصلی شکل و صورت میں آتے ہیں، انسانوں کی طرح جوتے پہن کر نہیں آتے کہ ان کی جوتیوں کی چاپ سنی جا سکے۔ فافھم۔اور اس طرح کی ایک مزید روایت کی وضاحت بھی امام مسلم رحمہ اللہ نے کی ہے کہ جسے سعید نے قتادہ سے روایت کیا ہے اور ایک اور روایت جو عمرو بن زرارہ کی سند سے ہے اور اس وضاحت سے موصوف کا مفروضہ بالکل پاش پاش ہو جاتا ہے۔ چنانچہ عمرو بن زرارہ رحمہ اللہ کی سند سے جو روایت ہے اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
اِنَّ الْمَیِّتَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ اِنَّہٗ لَیَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِھِمْ اِذَا انْصَرَفُوْا (مسلم:۲۸۷۰)

اس حدیث میں ملائکہ کے آنے کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ صرف دفن کر کے واپس جانے والوں کا ذکر ہے جس سے روز روشن کی طرف واضح ہو گیا کہ میت واپس جانے والے ساتھیوں کے جوتوں کی آواز سنتی ہے۔ اس حدیث کے بھی بہت سے شواہد موجود ہیں۔
(۳) تیسری حدیث: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ان ھذہ الامۃ تبتلی فی قبورھا فلولا ان لا تدا فنوا لدعوت اللّٰہ ان یسمعکم من عذاب القبر الذی اسمع منہ

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (صحیح مسلم کتاب الجنۃ، مشکاۃ المصابیح، مسند احمد ۵/۱۹۰، مصنف ابن ابی شیبہ ۳٭۳۷۳)۔
اس حدیث کو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابوسعید الخدری نے بیان کیا ہے۔ اس واقعہ کو سیدنا جابر رضی اللہ عنہما (مسند احمد ۳/۲۹۶، الصحیحۃ ۱٭۲۴۳) سیدہ اُمّ مبشر رضی اللہ عنہا (مسند احمد ۶/۳۶۲، مصنف ابن ابی شیبہ ۳/۳۷۳، صحیح ابن حبان، الصحیحۃ ۳/۴۳۰) اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (مسند احمد ۳/۲۰۱۔ ۱۰۳۔ ۱۵۳۔ ۱۷۵۔ ۲۸۴۔ ۱۱۱۔ ۱۷۶۔ ۲۷۲۔ النسائی:۱/۲۹۰، صحیح ابن حبان:۷۸۶) بھی بیان کرتے ہیں۔ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے متعدد روایات میں یہ واقعہ مروی ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (مسند احمد۳/۱۰۳، ۱۱۴، ۲۰۱۔ سنن النسائی ۲۰۵۸، ابن حبان: ۳۱۲۶۔ اثبات عذاب القبر للبیہقی:۱۰۴۔ و قال الالبانی و شعیب الارنووط و اسنادہ صحیح (مسند للامام احمد مع الموسوعۃ ۱۹/۶۶)۔ و صححہ علیزئی فی عمدۃ المساعی فی تحقیق سنن النسائی:۲۰۶۰)۔ تفصیل ’’الدین الخالص‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔
اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ میت کو اسی ارضی قبر میں عذاب ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تمنا تھی کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر کو سنتے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت بھی عذاب قبر کو سنے لیکن پھر اس خوف سے کہ لوگ عذاب کو سن کر مردے دفن کرنا چھوڑ دیں گے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا نہ فرمائی۔ ظاہر ہے کہ مردے اسی ارضی قبر ہی میں دفن ہوتے ہیں، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تمنا کا اظہار فرمایا۔ لیکن ڈاکٹر موصوف نے اس حدیث کے اہم حصہ کو نقل ہی نہیں کیا اور اسے شیر مادر سمجھ کر ڈکار گئے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ظاہر ہے کہ ان الفاظ کے نقل کرنے سے موصوف کی تأویل کی قلعی کھل جاتی لہٰذا اسی بنا پر اس نے یہ الفاظ ہی نقل نہیں کئے اور حدیث کے آدھے حصے کا جواب دینے ہی پر اکتفاء کیا۔ نیز سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ وضاحت بھی ہے کہ آپ نے قبر سے عذاب کی آواز سنی اور پھر صحابہ کرام سے پوچھا کہ یہ شخص کب دفن ہوا ہے؟۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ھذا اسم اشارہ قریب استعمال کیا اور صحابہ کرام نے بھی جواب میں ھذا کا لفظ ہی استعمال کیا۔ اب عذاب قبر کی اس سے زیادہ وضاحت ممکن نہیں ہے۔ فافہم۔
(۴) چوتھی حدیث:
( بخاری:۱۳۷۲، مسند احمد ۶/۱۷۴، سنن النسائی کتاب السھو۔ باب:۶۴۔ ح:۱۳۰۸۔ الصحیحہ:۱۳۷۷)۔
(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ من عذاب القبر ۶۳۶۶، مسلم ۱۳۲۱)۔
۱۔ اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔
۲۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اس عذاب کو تمام چوپائے سنتے ہیں۔ اور اس سلسلہ کی دیگر احادیث بھی موجود ہیں۔
ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں:
یسمع من یلیہ غیر الثقلین (بخاری۱۳۳۸، ۱۳۷۴)۔
(قبر میں میت کو جب لوہے کے گرز سے مارا جاتا ہے تو) اس کے چیخنے چلانے کی آواز کو (قبر کے) قریب کی تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے انسان و جنات کے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جب میت چارپائی پر چیختی چلاتی ہے:
یسمع کل شئی الا الانسان و لو سمع الانسان لصعق (بخاری:۱۳۱۶)۔

اوپر والی حدیث سے ثابت ہو گیا کہ قبر کے قریب کی تمام چیزیں عذاب قبر کو سنتی ہیں۔ اس حدیث کا اگر یہ مطلب ہوتا کہ عذاب کسی اور مقام پر ہو رہا ہے تو پھر من یلیہ کا کیا مطلب ہو گا؟ لہٰذا یہ حدیث دو ٹوک الفاظ میں عذاب قبر کو ثابت کرتی ہے۔ اور اس کے بعد والی حدیث بھی ثابت کرتی ہے کہ اسی میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ میت چارپائی پر ہی چیخنے چلانے لگتی ہے۔ (کیا لوگ چارپائی بھی برزخ میں اٹھائے پھرتے ہیں؟) اب اس سے زیادہ عذاب قبر کی وضاحت کس طرح ممکن ہے؟ نیز ان احادیث سے جانوروں اور ہر چیز کے عذاب قبر کی آواز کو سننے کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔ یعنی قبر کے قریب کی ہر چیز عذاب قبر کو سنتی ہے۔
مثال: بلی کی بصارت انسان کی نسبت بہت زیادہ ہے اور وہ اندھیرے میں دیکھ سکتی ہے۔ چوپایوں کے سونگھنے، سننے اور محسوس کرنے کی حس انسان سے کہیں زیادہ ہے۔ لہٰذا وہ عذاب قبر سن سکتے ہیں جیسا کہ آجکل موبائل فون کی ٹرانسمیشن انتہائی زیادہ ہے جو کہ انسانی سماعت سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ ٹرانسمیشن انسانی کان تو نہیں سن سکتا لیکن موبائل فون اُس کو سن لیتا ہے اور پھر اُسی ٹرانسمیشن کو انسانی سماعت کے مطابق ڈھال کر ہمیں سنا دیتا ہے۔
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: پہلی بات یہ کہ اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی پہلے عذاب قبر کو نہیں مانتی تھیں لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو وہ فوراً اس پر ایمان لے آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انکار کی وجہ غالباً یہود سے ہر معاملے میں مخالفت بھی تھی۔ لہٰذا وہ سمجھیں کہ اس مسئلہ میں بھی ان سے مخالفت ہو گی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں یہود کی موافقت کی۔
مسند احمد میں یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ چنانچہ سیدنا سعید بن عمرو بن سعید اُموی بیان کرتے ہیں کہ (مسند احمد(۶/۸۱) فقال ابن حجر العسقلانی: ما رواہ احمد باسناد علی شرط البخاری (فتح الباری (۳/۲۳۶)۔ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
اس تفصیلی روایت سے یہ وضاحت بھی ہو گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس واقعہ سے پہلے عذاب قبر کی تفصیلات سے واقف نہ تھے چنانچہ اس واقعہ کے چند دن بعد اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر کے متعلق اطلاع دی جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
(صحیح مسلم۔ کتاب المساجد باب استحباب التعوذ من عذاب القبر:۱۳۱۹۔ مسند احمد ۶/۸۹)۔
قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ھل شعرت انہ اوحی الی انکم تفتنون فی القبور قالت عائشۃ فسمعت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد یستعیذ من عذاب القبر

بخاری و مسلم میں یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ موجود ہے چنانچہ عمرۃ' بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سوال کرتے ہوئے آئی اور کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائذا باللّٰہ من ذٰلک ۔ میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوئے پھر (اس دن) سورج کو گرہن لگ گیا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف ادا فرمائی یہاں تک کہ) سورج روشن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
انی قد رایتکم تفتنون فی القبور کفتنۃ الدجال … اسمع رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ذالک یتعوذ من عذاب النار و عذاب القبر
بے شک میں نے دیکھا کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے دجال کے فتنے کی طرح۔ … میں نے اس دن کے بعد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب جہنم اور عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ۔ اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ بھی ہیں:
فقال ما شاء اللّٰہ ان یقول ثم امرھم ان یتعوذوا من عذاب القبر
(صحیح بخاری کتاب الکسوف باب التعوذ من عذاب القبر فی الکسوف جلد۱ صفحہ ۱۴۳ عربی ح:۱۰۴۹۔ صحیح مسلم کتاب الکسوف ج۱ صفحہ۲۹۷ عربی ح:۲۰۹۸)
(بخاری کتاب الکسوب باب صلوۃ النساء مع الرجال فی الکسوف ح:۱۰۵۳۔ مسلم کتاب الکسوف باب۳۔ ح:۲۱۰۳)۔

عذاب قبرکی حقیقت- ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی
جزاك الله خير واحسن الجزاء
 
شمولیت
اگست 29، 2018
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
ماشاءاللہ

وجزاک اللہ خیرالجزا و احسن الجزا فی الدنیا والاخرة
 
Top