• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حسینؓ کے قاتل خود شیعہ! مگر لعنت یزیدؒ پر؟ یہ کیسا انصاف؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
811
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
حسینؓ کے قاتل خود شیعہ! مگر لعنت یزیدؒ پر؟ یہ کیسا انصاف؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیعوں کی ہمیشہ سے یہ عادتِ بد رہی ہے کہ جھوٹ گھڑیں، تاریخ کو مسخ کریں، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بہتان باندھیں۔ مگر قدرتِ الٰہی کبھی کبھار انہی کی زبان سے حق اگلوا لیتی ہے، چنانچہ شیعہ عالم مرتضیٰ مطہری کھلے لفظوں میں اعتراف کرتا ہے کہ:

ولا شك بأن اهل الكوفه كانوا من شيعة علي عليه السلام وان الذين قتلوا الامام الحسين هــم شيعته ولهذا كتب المؤرخون عن اهل الكوفة قلوبهم معه وسيوفهم عليه.

اس میں کوئی شک نہیں کہ کوفہ والے علی علیہ السلام کے شیعوں میں سے تھے، اور بے شک امام حسین کو جن لوگوں نے قتل کیا، وہ انہی کے شیعہ تھے۔ اسی لیے مورخین نے اہل کوفہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے دل امام حسین کے ساتھ تھے، مگر تلواریں ان کے خلاف تھیں۔


[الملحمة الحسينية، جلد ١، صفحہ ١٢٩]

IMG-20250701-WA0000.jpg

IMG-20250701-WA0001.jpg

یہ جو مرتضیٰ مطہری نامی رافضی عالم ہے، اس کی یہ عبارت جو اس کی کتاب "الملحمہ الحسینیہ" کے اوراق میں ثبت ہے شیعیت کے اپنے دامن پر ایسا داغِ ننگ ہے کہ تاقیامت مٹنے والا نہیں۔

اہلِ کوفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شیعہ تھے، اور حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والے بھی یہی شیعہ تھے۔ تو سوال یہ ہے اگر قاتل حسین شیعہ تھے، تو لعنتیں کس پر ہونی چاہییں؟ سیدنا یزید رحمہ اللہ پر یا کوفی شیعوں پر؟

شیعہ دھوکہ دیتے ہیں اور الزام ڈالتے ہیں سیدنا یزید رحمہ اللہ پر! حالانکہ متعدد مؤرخین نے جو نقل کیا ہے وہ یہی ہے کہ یزید رحمہ اللہ نے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا اور نہ یہ بات ہی ان کے پیش نظر تھی بلکہ انہوں نے تو حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا یزید رحمہ اللہ نے اہلِ بیت کا احترام کیا، ان کو عزت دی، اور ان کو باحفاظت مدینہ واپس بھیجا۔

ہم یزید رحمہ اللہ کا قصور یہی مانتے ہیں کہ انہوں نے قاتلانِ حسین یعنی کوفہ کے شیعہ رافضیوں سے عبرتناک انتقام نہ لیا! اگر وہ اُس وقت پانچ سات سو کوفی رافضیوں کو تلوار کا مزہ چکھا دیتے، تو آج نہ ہر سال ماتم کے ڈھونگ رچتے، نہ صحابہ کرام پر بہتان لگتے، نہ یزید رحمہ اللہ پر بے بنیاد لعنتیں ہوتیں۔ یہ رافضی فتنہ وہی ہے جو وقت پر کچلا نہ گیا اور آج امت کی رگوں میں زہر بن کر دوڑ رہا ہے۔

آج کے شیعہ سیدنا یزید رحمہ اللہ پر لعنت بھیج کر خود کو عاشقِ حسین ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان کے اپنے علماء جن میں مرتضیٰ مطہری جیسا بلند پایہ شیعہ عالم شامل ہے یہ کھلے الفاظ میں اعتراف کر رہا ہے کہ قاتل حسین وہی شیعہ تھے۔

جو قوم اپنے امام کو خود قتل کر کے دوسروں پر الزام لگاتی ہے، وہ صرف ماتم، افتراء اور بدعقیدگی کی دکان چلا رہی ہے۔ اور جو یزید کو گالیاں دیتا ہے، وہ دراصل کوفہ کے غدار شیعوں کے گناہوں کو چھپانا چاہتا ہے۔

لہٰذا ہمیں سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کا دفاع کرنا چاہیے کیونکہ وہ خلیفۂ برحق تھے، ان پر کسی قسم کا طعن روا نہیں! اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ امت کو شیعہ رافضی فتنے سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں اہلِ سنت و الجماعت کے منہج پر استقامت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔
 
Top