• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو کس باغی گروہ نے قتل کیا تھا؟

غازی

رکن
شمولیت
فروری 24، 2013
پیغامات
117
ری ایکشن اسکور
183
پوائنٹ
90
حضرت عمار کو کس باغی گروہ نے قتل کیا تھا؟
یاسر ندیم الواجدی

یہ تحریر اختصار کا لحاظ رکھتے ہوے لکھی گئی ہے، اس کے باوجود قدرے طویل ہے، امید ہے کہ قارئین آخر تک پڑھنے کا حوصلہ رکھیں گے۔ موضوع پر آنے سے پہلے قارئین کے سامنے چند امور پر روشنی ڈالنا از حد ضروری ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مشاجرات صحابہ کا موضوع کوئی نیا نہیں ہے، اس موضوع پر صدیوں سے گفتگو ہوتی آئی ہے اور کئی بار فیصلہ کن ہونے کے باوجود روافض اور نواصب دونوں ہی جماعتوں نے اپنے سابقہ عناد اور بغض و حسد کی وجہ سے اس گفتگو کو قبول نہیں کیا ہے۔ عام لوگوں کے لیے اتنا جاننا کافی ہے کہ صحابہ کرام ایک برگزیدہ جماعت کا نام ہے اور اس جماعت کے بعض افراد سے بشری تقاضوں کی وجہ سے کچھ خطائیں بھی صادر ہوئی ہیں، جن کے بارے میں امید ہے کہ اللہ رب العزت انہیں معاف کر چکا ہوگا۔ لہذا مشاجرات کے موضوع کو عوامی مسئلہ بنانا اور اس مسئلے کی آڑ میں اصحاب رسول کے ایک طبقے کے خلاف محرم الحرام میں تبرا کرنا یا ان کو منافق قرار دینا رافضیت کی ترجمانی تو ہوسکتی ہے لیکن اسلام کی خدمت نہیں۔ البتہ کوئی شخص اگر کسی صحابی رسول کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے اور عام لوگ اس کے دجل سے متاثر ہوتے ہیں، تو فطری طور پر اہل سنت کی طرف سے اس صحابی کا دفاع کیا جائے گا اور دفاع کے فریضہ کو انجام دینے والوں پر یہ الزام نہیں لگایا جائے گا کہ مشاجرات صحابہ کے مسئلہ کو آپ نے موضوع بحث کیوں بنایا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ناصبیت اہل بیت سے دشمنی کا نام ہے، حضرت معاویہ کو حضرت علی پر فضیلت دینے کا نام ہے، سیدنا حسین کے قتل کو برحق سمجھنے کا نام ہے۔ میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے میں ان تمام بیماریوں سے مبرا ہوں اور بفضل الہی وہی عقیدہ رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت کا ہے کہ حضرت علی کی جماعت اجتہادی طور پر با صواب تھی اور حضرت معاویہ کی جماعت سے اجتہادی خطا ہوئی تھی۔

تیسری بات یہ ہے کہ یزید کو تابعی کہنا یا اس کی شان میں گفتگو کرنا بھی جمہور امت کا موقف نہیں رہا ہے۔ دارالافتاء دیوبند کا حالیہ فتوی کچھ بھی رہا ہو، لیکن اکابر دیوبند کا موقف وہی ہے جو جمہور امت کا ہے، لہذا اس مضمون میں یزید اور یزیدیت موضوع بحث نہیں ہے۔

گزشتہ چند سالوں سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اہل سنت کے مدارس سے وابستہ ایک طبقہ جہاں ایک طرف رافضیت کا شکار ہوا ہے، وہی اس کے ردعمل میں دوسرا طبقہ ناصبیت کا بھی شکار ہوا ہے۔ رہی بات عام طلبائے مدارس کی، تو وہ بھی تاریخ اور اصول ومناہج سے کما حقہ واقف نہ ہونے کی وجہ سے شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ میں ایک عرصے تک اس عزم پر باقی رہا کہ اس نازک مسئلہ پر کوئی گفتگو نہیں کروں گا، لیکن دیکھتا یہ ہوں کہ موجودہ دور کے دشمنان اسلام جیسے پشپیندر کلشریستھ اور طارق فتح اور بہت سے ملحدین، مشاجرات کے عنوان کو موضوع بناکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی پر لگے ہوئے ہیں، لہذا اس موضوع پر ان دشمنان کو کسی بھی طرح کی کمک فراہم کرنا شعوری یا لا شعوری طور پر شان رسالت میں گستاخی ہے اور یہ وہ آخری حد ہے جس کے بعد خاموشی جرم ہے۔ اسی احساس کے تحت ناچیز نے ایک سوشل میڈیائی تقریر میں "عمار تقتله الفئة الباغية" حدیث کے ذریعے حضرت معاویہ کی کردار کشی کرنے والوں کو جواب دیتے ہوے یہ کہا کہ باغی گروہ سے مراد وہ خارجی عناصر ہیں جو حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں کے لشکر میں شامل تھے اور واقعہ تحکیم کے بعد دونوں جماعتوں کے خلاف ہوگئے تھے۔ انہی عناصر میں سے کسی نے حضرت عمار کا قتل کیا تھا۔ اس پر کچھ مخلصین اور چند رفض وسبائیت سے متاثر متعصبین کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا کہ عمار کے قاتل ابو الغادیہ تھے اور وہ حضرت معاویہ کے ساتھ تھے، وہ خارجی نہیں تھے۔ متعصبین اور روافض کا مقصد ظاہر ہے یہی ہے کہ حضرت معاویہ کی جماعت کو باغی اور جہنم کی طرف دعوت دینے والا قرار دے کر منافق مان لیا جائے۔ اس لیے جوابا عرض ہے:

1- امام احمد نے مسند میں اور ابن سعد نے طبقات میں: کلثوم بن جبیر کے طریق سے روایت کیا ہے کہ "ابو الغادیہ نے کہا کہ میں نے عمار بن یاسر کو حضرت عثمان کو گالی دیتے ہوئے سنا، میں نے عمار کو قتل کی دھمکی دی۔۔۔۔ صفین کے موقع پر میں نے عمار کو قتل کردیا۔ آگے روایت میں ہے کہ عمرو بن عاص کو اطلاع دی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عمار کا قاتل اور ان کا سامان لوٹنے والا جہنمی ہوگا"۔
ابو الغادیہ تک سند صحیح ہے، لیکن روایت کا آخری حصہ کہ قاتلِ عمار جہنمی ہوگا، امام ذہبی (سیر 2/524) کے بقول منقطع ہے، اس کی روایت کرنے والے کلثوم بن جبیر ہیں اور ان کا عمرو بن العاص سے سماع نہیں ہے۔

2- مسند احمد میں اسی روایت کے بعد اگلی روایت ہے کہ حنظلہ بن خویلد کہتے ہیں کہ میں معاویہ کے پاس تھا کہ دو شخص آئے، ان میں سے ہر ایک مدعی تھا کہ اس نے عمار کو قتل کیا ہے، عبد اللہ بن عمرو نے کہا کہ تم ایک دوسرے سے خوش ہوتے رہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔ ذہبی فرماتے ہیں کہ اسنادہ جید۔
اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ قتل کرنے والا ایک شخص نہیں تھا بلکہ دو لوگ اس کا دعویٰ کررہے تھے اور یہ طے نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ابو الغادیہ تھے۔

3- ابو الغادیہ کی مندرجہ بالا روایت کو اگر درست مان لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت عمار بن یاسر جیسا پاک باز شخص امیر المومنین حضرت عثمان پر لعن طعن کیا کرتا تھا۔ حضرت عمار کے مزاج سے یہ عمل بعید معلوم ہوتا ہے۔

4- ابو الغادیہ کو کبار محدثین نے جن میں ابن حجر بھی ہیں صحابی شمار کیا ہے۔ ابن حجر کا منہج اصابہ میں یہ ہے کہ صحابی ہونا یا تو تواتر سے ثابت ہو، یا شہرت سے، یا کوئی معروف صحابی دوسرے کے بارے میں صحابی ہونے کی اطلاع دے، یا کوئی قابل اعتماد تابعی شہادت دے یا پھر کوئی عادل شخص اپنے بارے میں صحابی ہونے کا دعویٰ کرے اور یہ دعویٰ ممکن بھی ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ ابو الغادیہ نہ تواتر کہ بنیاد پر صحابی ہیں، نہ شہرت کی بنیاد پر، نہ کسی صحابی کی ان کے بارے میں شہادت ہے، نہ کسی قابل اعتماد تابعی کی شہادت اور نہ خود ان کا صحابی ہونے کا دعویٰ موجود ہے۔ جس روایت میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کی تصریح کر رہے ہیں وہ محدثین کے نزدیک محل نظر ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ابن معین، بغوی، بخاری، ابو زرعہ دارقطنی ان کو صحابی قرار دیتے ہیں اور ان میں کچھ محدثین یہ بھی صراحت کرتے ہیں کہ ابو الغادیہ بیعت رضوان میں شریک تھے، لیکن سب کے نزدیک اس دعوے کی بنیاد وہی مسند احمد والی روایت ہے یہی وجہ ہے کہ سب ان کا تعارف قاتل عمار کہہ کر کراتے ہیں۔ اس روایت کی سند پر کلام اوپر کیا جاچکا ہے، ساتھ ہی یہ بھی ملحوظ نظر رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیعت رضوان میں شامل کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ اگر ابو الغادیہ صحابی ہیں اور قاتل عمار بھی ہیں تو اس حدیث کی رو سے جہنمی کہاں رہے، جب کہ قاتلِ عمار کو جہنمی کہا جارہا ہے۔

اس لیے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ ابو الغادیہ نام کے صحابی نے حضرت عمار کا قتل کیا تھا، جب کہ مسند احمد کی روایت کے مطابق دو لوگ قاتل ہونے کا دعویٰ کررہے تھے۔

5- رہی یہ بات کہ "عمار تقتله الفئة الباغية" میں باغی گروہ سے کون لوگ مراد ہیں، تو اس کا جواب قرآن سے ہی لیتے ہیں۔ ارشاد باری ہے: وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ۔
صفین کے موقع پر دو جماعتوں نے قتال کیا اور پھر ان کے درمیان تحکیم کا واقعہ پیش آیا، قرآن نے ایسے موقع پر دونوں جماعتوں کو مومنین کا لقب دیا ہے، کسی جماعت کو نہ باغی کہا اور نہی منافق۔ البتہ صلح کو مسترد کرنے والی جماعت کو باغی قرار دیا گیا ہے، واقعہ تحکیم کے بعد جن لوگوں نے صلح کو مسترد کیا انھیں خوارج کہا جاتا ہے اور قرآن کی آیت کے مطابق وہی باغی ہیں۔ اس مفہوم کی تائید بخاری کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو کچھ لوگ اب عنادا مسترد کرنے لگے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا یعنی حسن بن علی مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا"۔ اس لیے یہ بات قرین قیاس ہے کہ قتل کرنے والا ایسا فرد ہو جو خوارج میں شامل ہوگیا ہو۔ حضرت معاویہ کی جماعت اس آیت اور صحیح حدیث کی روشنی میں باغی قرار نہیں دی جا سکتی ہے۔

6- حضرت عمار کی شہادت کے بعد جب حضرت عمرو بن العاص نے حضرت معاویہ سے کہا کہ عمار قتل ہوگئے اور حدیث رسول کے مطابق عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، تو حضرت معاویہ نے کہا تو کیا ہم نے قتل کیا ہے؟ إن من قتلوه هم من أخرجوه۔
یہ بات یقینی ہے کہ خوارج کی بڑی تعداد حضرت علی کے لشکر سے نکلی تھی، لیکن کچھ لوگ حضرت معاویہ کے لشکر سے بھی نکلے تھے۔ اگر حضرت معاویہ کے اس قول کا مفہوم یہ لیا جائے کہ حضرت عمار کو میدان جنگ میں حضرت علی لیکر آئے لہذا ان کے قتل کی ذمہ داری بھی حضرت علی پر ہے، تو ایسی تاویل کم از کم عمر بن عاص جیسا عاقل شخص قبول نہیں کر سکتا۔ یہ وہ شخص ہیں جن کو داهية العرب کہا جاتا تھا، کیا عربوں کا سب سے بڑا پالیسی ساز ایسی بات پر مطمئن ہو سکتا تھا؟ دراصل حضرت معاویہ نے عمار کے قتل کو انھی خوارج کی طرف منسوب کیا ہے اور ان کے قتل سے اپنی جماعت کی براءت کا اظہار کیا ہے۔ کوئی سوال کر سکتا ہے کہ جس وقت حضرت عمار کا قتل ہوا، اس وقت خوارج وجود میں نہیں آئے تھے، حضرت معاویہ ان کی طرف قتل کی نسبت کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ اعتراض اس مفروضے پر مبنی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص اور حضرت معاویہ کے درمیان ہونے والی گفتگو حضرت عمار کے قتل کے فورا بعد ہوئی تھی اور اس مفروضے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ البتہ خوارج کی جماعت میدان جنگ میں ہی وجود میں آ گئی تھی۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ حضرت معاویہ نے عمار کے قتل کی نسبت کسی گفتگو کے موقع پر خوارج کی طرف کی ہو۔

7- بخاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب مسلمانوں میں پھوٹ پڑے گی تو ایک فرقہ جدا ہو جائے گا، دو جماعتوں میں سے حق سے قریب ترین جماعت اس فرقے سے قتال کرے گی۔ اس حدیث میں خوارج کے ظہور کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس حدیث سے جہاں یہ واضح ہوا کہ حضرت علی کی جماعت حق سے قریب ترین تھی، وہیں یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت معاویہ کی جماعت بھی اجتہادی خطاء پر تھی، باطل وباغی نہیں تھی۔

8- شارح بخاری ابن بطال (وفات 449) جن کا شمار متقدمین شراح میں ہوتا ہے کہتے ہیں کہ فئه باغيه سے مراد خوارج کی جماعت ہے۔ ابن حجر عسقلانی نے اگرچہ ابن بطال کی اس تاویل کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ خوارج حضرت عمار کو کیسے قتل کر سکتے ہیں، جب کہ ان کا وجود بعد میں ہوا ہے، لیکن اس سوال کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے۔ قتل کرنے والے اگرچہ قتل کرتے وقت خوارج نہیں کہے جاتے تھے، لیکن بہت سی مرتبہ کسی چیز کا نام اس کے مستقبل کے اعتبار سے رکھ دیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ إنى أعصر خمرا. یہاں خمر سے عنب مراد ہے کیوں کہ انگور کو ہی نچوڑا کر شراب بنائی جاتی ہے۔

9- عدالت صحابہ کا مسئلہ عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے، حضرت معاویہ کی جماعت کو باغی قرار دے کر منافق تسلیم کرانا اہلسنت والجماعت کے اجماعی عقیدہ کے خلاف ہے۔ عقائد کا مسئلہ احکام سے زیادہ حساس ہے اور احکام میں بھی خبر واحد اگر متواتر نص کے خلاف ہو تو معتبر نہیں ہے، لہذا عقائد میں معتبر ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حدیث :عمار تقتله الفئة الباغية کے الفاظ بعض اہل علم کے نزدیک قطعی اور متواتر ہیں، لیکن اس کا مصداق قطعی اور متواتر نہیں ہے بلکہ تاریخی روایات اور بعض اہل علم کے اقوال پر مبنی ہے۔ اگر تاریخ پر مبنی اس مفہوم کے ذریعے عدالت صحابہ کا عقیدہ متاثر ہوتا ہو، تو یہ مفہوم ترک کردیا جائے گا، جب کہ اس مفہوم کے خلاف قرآن کی آیت اور صحیح احادیث موجود ہیں۔

10- حدیث عمار میں یہ الفاظ بھی وارد ہوے ہیں کہ باغی جماعت جہنم کی طرف بلانے والی ہوگی۔ یہی صفت حضرت حذیفہ کی روایت کے مطابق خوارج کی بیان کی گئی ہے۔ بخاری کے الفاظ ہیں: "دعاة على أبواب جهنم من أجابهم إليها قذفوه فيها" جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے، جو شخص ان کی دعوت قبول کرے گا وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔ ابن حجر عسقلانی کے مطابق جہنم کی طرف بلانے والوں سے مراد خوارج کی جماعت ہے۔

11- اب سوال یہ ہے کہ حضرت معاویہ کی جماعت کو باغی قرار دینے کا کیا مقصد ہے؟ اگر مقصد حضرت علی کا برحق ہونا ثابت کرنا ہے، تو وہ پہلے ہی سے تسلیم شدہ ہے، اس کے لیے حضرت معاویہ کا باغی ہونا ضروری نہیں ہے۔ لیکن رافضیت پرست لوگوں کے لیے اتنا کافی نہیں ہے، وہ یہ چاہتے ہیں کہ حضرت معاویہ کی جماعت کو منافق قرار دیا جائے اور ان پر لعنت کو روا رکھا جائے، ان کو "سیاست کا دیوانہ" جیسے القاب سے نوازا جائے۔ اگر مقصد یہی ہے اور لگتا ایسا ہے کہ یہی ہے، تو اپنی رافضیت کا برملا اعلان کیا جائے تاکہ روافض میں رسمی طور پر انضمام کے بعد عام عوام کسی بھی طرح کے دجل وفریب سے متاثر نہ ہوں۔

رہی یہ بات کہ حضرت معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کی بیعت کیوں لی تھی؟ یا خلافت کو ملوکیت میں کیوں تبدیل کر دیا تھا؟ یا موروثی نظام کی بنیاد کیسے ڈالی تھی؟ یا خود حضرت معاویہ کی شخصیت کیسی تھی؟ ان سب سوالوں کے جوابات کا یہ مختصر مضمون متحمل نہیں ہے۔ البتہ اتنا ضرور کہا جائے گا کہ خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنے پر ان لوگوں کا نوحہ پڑھنا اچھا نہیں لگتا جو اپنی چھوٹی چھوٹی مملکتوں میں موروثی نظام اور ملوکیت کو روا رکھے ہوئے ہیں۔
رضي الله عن علي ومعاوية وعن الصحابة أجمعين.
 

غازی

رکن
شمولیت
فروری 24، 2013
پیغامات
117
ری ایکشن اسکور
183
پوائنٹ
90
قاتل عمار ابو الغادیہ کون ہیں؟
یاسر ندیم الواجدی

فئہ باغیہ کے مصداق کے تعلق سے دو تین روز پہلے راقم نے ایک مضمون سوشل میڈیا کی نظر کیا تھا۔ اس مضمون میں جہاں ایک طرف حدیث رسول میں وارد فئہ باغیہ کے مصداق کی تعیین کی کوشش کی گئی تھی، وہیں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ابوالغادیہ نام کی شخصیت جن کے بارے میں متقدمین کی بہت سی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ وہ قاتل عمار تھے، ضروری نہیں ہے کہ وہ صحابی رسول ہوں۔ اس کے جواب میں موجودہ فتنہ کا شکار ایک شخص کی تفصیلی تحریر بھی آئی اور دیگر مشوشین کے "واٹ اباوٹ ازم" سے پُر کمنٹس بھی۔ میرا ارادہ نہیں تھا کہ اپنی بات تفصیلی طور پر رکھنے کے بعد کسی بھی تحریر کا جواب دیا جائے اور جواب الجواب کا سلسلہ شروع کیا جائے "اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا"۔ پھر ہوا یوں کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ایک موقر رکن شوری کا میسج آیا کہ آپ کی طرف سے اس تحریر کا جواب آنا چاہیے، گو کہ میں ان کو بھی اپنی نیت سے باخبر کر چکا تھا، لیکن شاید میری سابقہ تحریر کا اثر تھا کہ "صاحب فتنہ" کل پھر اسکرین پر نمودار ہوے اور زور دے کر کہنے لگے کہ ابو الغادیہ ہی قاتل عمار ہیں۔ اس لیے اسی خاص موضوع پر چند معروضات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

"آمدم بر سر مطلب" سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ میری سابقہ تحریر کا تفصیلی جواب دینے والے شخص نے اپنے مضمون کا آغاز یہاں سے کیا کہ میں ایک ویڈیو میں حدیث کی ایسی تشریح کر رہا تھا جو آج سے پہلے شاید کسی نے نہ سنی ہوگی نہ پڑھی ہو گی۔ حالانکہ وہ جس مضمون کا رد کر رہے تھے اسی کے پوائنٹ نمبر آٹھ میں شارح بخاری ابن بطال کا حوالہ موجود ہے۔ وہ یہی تشریح آج سے ہزار سال پہلے کر چکے ہیں۔ اپنے مضمون میں ان صاحب نے سیر الاعلام کے باقاعدہ اسکرین شاٹ لگا کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے احادیث میں تلبیس سے کام لیا ہے۔ مجھے حدیث فہمی کا کوئی دعویٰ نہیں ہے لیکن اس بات پر حیرت ضرور ہے کہ اصول حدیث کی معمولی استعداد رکھنے والا طالب علم بھی وہ باتیں نہیں لکھ سکتا جو یہ صاحب زبان حال سے "#لا فخر" کہہ کر لکھ گئے۔ ہم نے امام ذہبی کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ ان کے نزدیک حدیث ابی الغادیہ منقطع ہے۔ الفاظ یہ ہیں: کلثوم بن جبر عن أبي الغادية قال سمعت عمارا يقع في عثمان يشتمه فتوعدته بالقتل فلما كان يوم صفين جعل عمار يحمل الناس فقيل هذا عمار فطعنته في ركبته فوقع فقتلته فقيل "قتل عمار". وأُخبِر عمرو بن العاص (مخبر کون ہے؟ ابو الغادیہ ہیں یا کوئی اور شخص. روایت کے شروع سے ابو الغادیہ واحد متکلم کا صیغہ استعمال کر رہے ہیں، لیکن آخر میں صیغہ مجہول ہے، یعنی مخبر معلوم نہیں ہے، پھر الفاظ ہیں: فقال عمرو بن العاص إن قاتله وسالبه في النار۔ امام ذہبی کے مطابق روایت کے آخری الفاظ کلثوم بن جبر کے ہیں اور ان کا سماع حضرت عمرو بن عاص سے نہیں ہے۔ سیر جلد 2 ص 544 پر فرماتے ہیں: إسناده فيه انقطاع. (اگر کسی کو حوالہ نہ ملے تو مزید محنت کرے). صاحب مضمون نے بڑی محنت سے سیر الاعلام کے دوسرے صفحہ کا اسکرین شاٹ بھی لگایا ہے جس میں یہی روایت لیث بن ابی سلیم سے مروی ہے، وہ ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ دیکھیے قاتل عمار وسالبہ فی النار والی حدیث بالکل ٹھیک ہے۔ ہمارا یہ دعویٰ تھا ہی نہیں کہ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، ہمارا دعویٰ صرف اس حدیث رسول کے مذکورہ بالا سند سے منقطع ہونے کا تھا، جس میں ابو الغادیہ نے اپنا واقعہ بھی ذکر کیا ہے۔
اب آئیے جانتے ہیں کہ ابو الغادیہ کون ہیں۔ اگر ابو الغادیہ حضرت عمار کے قاتل ہیں تو پھر حدیث کے مطابق وہ جہنمی ہیں۔ لیکن دوسری طرف انہی ابو الغادیہ کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ بیعت رضوان میں شامل تھے۔ ابن تیمیہ نے ابن حزم کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ بیعت رضوان میں شامل تھے۔ اس بیعت میں شامل صحابہ کرام کے تعلق سے حضرت جابر کی صحیح حدیث ہے: " لا يدخل النار أحد ممن بايع تحت الشجرة"۔ صحیح مسلم میں ام مبشر کی روایت ہے کہ: "لا يدخل النار ان شاء الله من أصحاب الشجرة أحد الذين بايعوا تحتها". امام نووی فرماتے ہیں کہ قال العلماء معناه لا يدخلها أحد منهم قطعا وانما قال ان شاء الله للتبرك لا للشك۔ ان احادیث کی روشنی میں بیعت رضوان میں شامل صحابہ کرام کا نہ صرف یہ کہ جنت میں داخلہ یقینی ہے، بلکہ جہنم میں نہ جانا بھی یقینی ہے۔ لہذا اگر ابو الغادیہ بیعت رضوان میں شامل تھے تو جہنمی نہیں ہیں اور اگر جہنمی ہیں تو بیعت رضوان میں شامل نہیں تھے۔ لہذا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ابو الغادیہ کے بارے میں صحبت رسول کا دعوی کتنا درست ہے۔
ابن حجر عسقلانی نے الاصابہ (1/60) میں صحابیت کے ثبوت کے لیے پانچ ذرائع لکھے ہیں:
1: تواتر سے صحابیت کا ثبوت ہو
2- استفاضہ اور شہرت بنیاد ہو
3- کسی صحابی سے ثابت ہو کہ فلاں صحابی ہے
4- کسی تابعی کا قول ہو کہ فلاں صحابی ہے
5- کوئی خود صحابیت کا دعوی کرے۔ اس کا دعوی قابل قبول ہوگا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاصر ہو اور عادل بھی ہو۔ (یہاں دو چیزیں ہیں، پہلی چیز تو یہ ہے کہ دعوی صحیح سنت سے ثابت ہو جائے، دوسری چیز یہ ہے کہ دعوی کرنے والا عادل ہو)۔
ابو الغادیہ کا صحابی ہونا نہ تو تواتر سے ثابت ہے، نہ استفاضہ اور شہرت سے ثابت ہے، نہ ان کے بارے میں کسی صحابی کا قول ہے کہ ابو الغادیہ صحابی ہیں، نہی کسی تابعی کا قول ہے کہ ابو الغادیہ صحابی ہیں۔ البتہ ابو الغادیہ خود دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صحابی ہیں، لیکن اگر وہ قاتل عمار ہیں اور اس بنا پر جہنمی ہیں، تو ان کی عدالت کہاں ثابت ہوئی اور ان کے صحابیت کے دعوے کو کیسے قبول کر لیا گیا؟
پھر یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ان کا دعوی صحابیت صحیح سند سے ثابت ہے یا نہیں، تو آئیے ان روایات کا جائزہ لیتے ہیں جو ابو الغادیہ سے مروی ہیں:
1- مسند احمد میں روایت ہے: خرج أبو الغادية وحبيب بن الحارث وأم الغادية مهاجرين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسلموا فقالت المرأة أوصني يا رسول الله قال إياك وما يسوء الأذن.
اس روایت میں ابو الغادیہ کا ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا مذکور ہے، روایت کا مدار عاص بن عمرو طفاوی پر ہے جو مجہول ہیں۔ مسند احمد کے حاشیے پر لکھا ہے اسنادہ ضعیف۔
2- مرثد بن عامر الهنائي عن كلثوم بن جبر كنا بواسط القصب… إذ جاء آذن القوم فقال إن قاتل عمار بالباب، فدخل وسلم ثم قال لقد أدركت النبي صلى الله عليه وسلم و إني لانفع أهلي و أرد عليهم الغنم.. (الاحاد والمثاني لابن ابي عاصم 2(209) مرثد بن عامر مجهول ہیں اور یہی مدار سند ہیں۔
3- عن ابن عون عن كلثوم بن جبر قال: كنا بواسط القصب عند عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر قال فإذا عنده رجل يقال له أبو الغادية، وذكر النبي صلى الله عليه وسلم وذكر هذا الحديث لا ترجعوا بعدي كفارا.
اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن ابو الغادیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا دعوی نہیں کر رہے ہیں۔ یہ اہم کیوں ہے اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔ اس روایت کو ابن حجر عسقلانی نے تعجیل المنفعہ میں سماع کے دعوے کے ساتھ ذکر کیا ہے، لیکن پوری روایت بلا سند نقل کی ہے۔
4- عن الهيثم بن حميد حدثنا حفص بن غيلان عن حيان بن حجر عن أبي غادية المزني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سيكون بعدي فتن شداد خير الناس فيها مسلموا أهل البوادي.
(الطبراني في المعجم الكبير( 22/365)
اس روایت کا مدار ہیثم بن حمید ہیں اور وہ ضعیف راوی ہیں
البانی نے سلسلہ احادیث ضعیفہ میں اس روایت کو ذکر کیا ہے۔
5- عن مساور بن شهاب حدثني أبي عن أبيه مسرور بن مساور عن جده سعد بن أبي الغادية عن أبيه قال فقد النبي صلى الله عليه وسلم أبا الغادية في الصلاة فإذا به قد أقبل فقال ما خلفك عن الصلاة يا ابا الغادية. (فوائد تمام 1/221)
ابن عساکر نے بھی اس روایت کو لیا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ غريب لم أكتبه إلا من هذا الوجه. مساور بن شہاب مجہول ہیں اگرچہ یہاں ابو الغادیہ صحبت کا دعوی کررہے ہیں۔
6- روى ابن منده في المعرفة من طريق مسلم بن ابراهيم عن ربيعة بن كلثوم عن أبيه قال كنت بواسط القصب عند عبد الاعلى بن عبد الله إذ قال الآذن هذا ابو غادية فدخل فلما دخل قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بيميني قلت بيمينك؟ قال بيميني. توضیح المشتبہ ( 6/109)
اس روایت میں ابوغادیہ کا دعوی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ اسی روایت کی بنیاد پر ان کے بارے میں یہ مشہور ہوا کہ وہ بیعت رضوان میں شامل تھے۔ اس روایت کا مدار ربیعہ بن کلثوم ہیں، جن کے بارے میں اگرچہ نسائی نے لیس بالقوی کہا ہے لیکن ابن حجر نے ان کو صدوق يهم لکھا ہے۔
ابن حجر اگر کسی راوی کے بارے میں صدوق یہم کے الفاظ کہیں تو وہ حدیث اس وقت حسن ہوگی اگر ائمہ حدیث میں سے کسی نے اس پر تنقید نہ کی ہو یا اس راوی کی کسی دوسری سند سے متابعت ہو رہی ہو۔ اس روایت پر اگرچہ ائمہ حدیث میں سے کسی نے تنقید نہیں کی ہے لیکن ربیعہ تنہا ان الفاظ کو روایت کرتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں تھا، لیکن کبار محدثین کے مندرجہ ذیل اقوال کی وجہ سے ربیعہ کے وہم سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔
ابن حبان کے نزدیک ابو الغادیہ تابعی ہیں اور مراسیل روایت کرتے ہیں۔ لہذا اگر ابو غادیہ صرف قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ذكر النبي صلى الله عليه وسلم کہیں تو وہ روایت مرسل ہوسکتی ہے۔ (اوپر ہم نے ذکر کیا تھا کہ اس کی وجہ آگے آرہی ہے)
ابن عساکر تاریخ دمشق میں لکھتے ہیں کہ: ذكره أبو زرعة في الصحابة ثم أعاد ذكره في التابعين.
ابن سمیع نے ابو الغادیہ المزنی کا طبقات التابعین میں تذکرہ کیا ہے
ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں لکھتے ہیں: وكان الذي تولى قتله رجل يقال له أبو الغادية، رجل من أفناد الناس (أي الأخلاط لا يدري من أي قبيلة هم) وقيل إنه صحابي.
ابن کثیر ابوالغادیہ کے بارے میں دعوائے صحابیت سے واقف تھے اسی لیے قیل کہہ کر اس کا تذکرہ کیا ہے، لیکن انہوں نے جس تحقیر آمیز انداز میں ابو الغادیہ کا ذکر کیا ہے اس کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔
حافظ منذری نے تو پورا منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ وہ عبد اللہ بن یزید الخطمی کا تعارف کراتے ہوے کہتے ہیں له صحبة سكن الكوفة وكان أميرا بها كنيته أبو الغادية. (مختصر سنن أبي داود للمنذري 2/174)
ابو نعیم نے معرفہ الصحابہ میں اور بغوی نے معجم الصحابہ میں عبداللہ الخطمی (جن کی کنیت منذری ابو الغادیہ لکھ رہے ہیں) کے بارے میں صراحت کی ہے کہ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے اور حضرت معاویہ کے قریبی لوگوں میں شامل تھے اور انھی کی طرف سے کوفہ کے امیر رہے۔ جب کہ قاتل عمار ابو الغادیہ کا نام تمام محدثین نے یسار بن سبع لکھا ہے۔ اس لئے اب یہ طے کرنا مشکل ہے کہ حضرت عمار کو قتل کرنے والے ابو الغادیہ صحابی رسول تھے یا نہیں۔
ابوالغادیہ کے دعوی صحابیت سے قطع نظر اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وہی قاتل عمار ہیں تو یہ فیصلہ کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ ابن عبد البر الاستیعاب میں لکھتے ہیں: روى الشعبي عن الاحنف أن أبا الغادية الفزاري طعن عمارا وابن جزء السكسكي اجتز رأسه. اس روایت کے مطابق ابوالغادیہ نے حضرت عمار کے نیزہ ضرور مارا لیکن ان کو قتل ابن جزء سکسکی نے کیا تھا۔
طبقات میں ابن سعد نے لکھا ہے کہ ابو الغادیہ کہتے ہیں حضرت عمار نے میدان میں دعوت مبارزت دی تو ایک سکسکی آیا دونوں کی تلواریں لڑیں اور عمار نے اس کا قتل کردیا، پھر عمار نے مبارزت کی دعوت دی تو میں آگے بڑھا ہماری تلواریں آپس میں لڑیں میں نے اپنی تلوار سے وار کیا اور وہ ٹھنڈے ہوگئے۔
اب یہ فیصلہ کیسے ہوگا کہ عمار کو ٹھنڈا کرنے والا سکسکی تھا یا وہ پہلے ہی قتل ہو چکا تھا اور ابو الغادیہ نے حضرت عمار کو ٹھنڈا کیا؟
ابو عبداللہ المالقی اپنی کتاب التمهيد والبيان في مقتل الشهيد عثمان میں لکھتے ہیں: قیل: ضربه مروان على ركبته. (229) اس روایت کے مطابق مروان نامی شخص کا بھی قاتلین عمار کی فہرست میں اضافہ ہوگیا۔ لیکن یہ فہرست ابھی طویل ہے، اس میں مزید نام جڑنے ہیں۔ اہل سنت کے یہاں قاتلین عمار میں نام کچھ اس طرح آتے ہیں:
ابوالغادیہ المزنی اور ابن حوی سکسکی۔ (طبقات)
ابو الغازیہ اور ابن حوی (ابن اثیر فی الکامل)
عقبہ بن عامر، عمر بن حارث شریک بن سلمہ اور ابوالغادیہ المزنی (حاکم فی المستدرک)
شیعہ مصنفین کے نزدیک قاتلین عمار کے نام اس طرح ہیں:
ابو العادیہ الفزاری، ابن جوین سکسکی (مروج الذہب)
ابو العادیہ العاملی، ابن جوین سکسکی۔ (مروج الذہب)
ابو العادیہ الفزاری، ابن جون (وقعة صفين لنصر بن مزاحم)
ان تمام تفصیلات کی روشنی میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابو الغادیہ یسار بن سبع کا ابن حجر عسقلانی کے منہج کے مطابق صحابی ہونا طے نہیں ہے، بلکہ متقدمین کی ایک تعداد ان کو تابعی مانتی ہے۔ نیز یہ بھی طے نہیں ہے کہ ابو الغادیہ (جن کی اہل سنت کی کتابوں میں دو نسبتیں ہیں: جہنی اور مزنی ) ہی قاتل عمار ہیں۔ اس لیے یقین کے ساتھ یہ کہنا کہ کہ ابو الغادیہ الجہنی جو کہ صحابی رسول ہیں اور بیعت رضوان میں شریک تھے وہی قاتل عمار ہیں اس ناچیز کی رائے میں درست نہیں ہے۔
میرے سابقہ مضمون کا جواب لکھنے والے شخص نے دو قسطوں میں اپنی تحریر لکھی ہے۔ میری یہ تحریر اس طبقے کے اس دعوے کے جواب میں ہے کہ ابو الغادیہ قاتل عمار صحابی ہی تھے۔ بقیہ پوائنٹس کے جوابات بھی وقتا فوقتاً دیے جاتے رہیں گے۔ خصوصا دوسری قسط میں جو شگوفے چھوڑے گئے ہیں وہ واقعی حیرت انگیز بھی ہیں اور مضحکہ خیز بھی، وقت نے اجازت دی تو ان شاءاللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کے تمام چور دروازوں کو بند کیا جائے گا۔
 

غازی

رکن
شمولیت
فروری 24، 2013
پیغامات
117
ری ایکشن اسکور
183
پوائنٹ
90
جماعت علی وجماعت معاویہ رضی اللہ عنہما حدیث کی روشنی میں
یاسر ندیم الواجدی
روز اول سے روافض اور ان سے متاثر عناصر کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو منافق اور مستحق لعنت قرار دیا جائے۔ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت حق پر تھی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتہادی خطا ہوئی تھی۔ اس حقیقت کا اظہار خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشن گوئی میں ملتا ہے، جس کا حوالہ ہم اپنے سابقہ مضمون میں دے چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب مسلمانوں میں پھوٹ پڑے گی تو ایک فرقہ جدا ہو جائے گا اور دو جماعتوں میں سے حق سے قریب ترین جماعت اس فرقے سے قتال کرے گی۔ اس حدیث میں خوارج کے ظہور کی پیشن گوئی کی گئی ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (کہ جن کی جماعت نے خوارج سے قتال کیا) حق سے قریب تر تھے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت باطل پر نہیں تھی، بلکہ اس حدیث میں خوارج کو اہل باطل قرار دیا گیا ہے۔ یہ حدیث صحیح بھی ہے اور صریح بھی، لیکن رفض کا نشہ صحت و صراحت کو کیا جانے۔
میرے ابتدائی مضمون کا رد کرنے والے شخص نے اس حدیث کی ایسی توجیہ بلکہ اس میں ایسی تحریف کی کہ الامان والحفیظ۔ وہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں اس لیے نصیحتا کہتا ہوں کہ اپنے استاد کا دفاع ضرور کریں لیکن ان کو شرمندہ تو نہ کریں۔ وہ لکھتے ہیں کہ "اس حدیث کے الفاظ دو طرح سے آئے ہیں ایک جگہ أولى الطائفتين بالحق اور دوسری جگہ أقرب الطائفتين الى الحق۔ اس کے بعد قرآن سے مثال دیتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں کہ اعدلوا هو أقرب للتقوى، انصاف کرو یہ تقوی سے زیادہ قریب ہے، اس کے بعد یہ مضحکہ خیز سوال بھی کرتے ہیں کہ اگر انصاف قریب تر ہے تو کیا ناانصافی بھی تقوی سے قریب ہے۔ اس کے بعد وہ #لا_فخریہ اسٹائل میں آگے بڑھے اور کہا کہ ارشاد باری ان أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه… ابراہیم سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی، پھر سوال داغا کہ کیا کافر اور مشرک بھی ابراہیم کی طرف اپنی نسبت کرنے کے تھوڑے یا کچھ حقدار ہیں۔ اس سوال کے بعد ان کا رفض جوش مارتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نا انصافی کو تھوڑا تقوی اور ابراہیم پر مشرکین کا تھوڑا حق سمجھتے ہیں تو معاویہ کو بھی تھوڑا حق پر سمجھ لیجیے۔
ان کی عبارت اس بات کی شاہد ہے کہ انھیں نحو وبلاغت کی بالکل ہوا نہیں لگی۔ نصوص فہمی میں اس قدر کمزوری اور دعوی چودہ سو سال پہلے کے واقعات میں حکم مستحکم بننے کا۔ صحیح طریقہ یہی تھا کہ سبھی لوگ کف لسان کرتے، اگر بالفرض آج مشاجرات کے تعلق سے کوئی فیصلہ ہو بھی جائے تو بھی موجودہ حالات اس بنا پر تبدیل ہونے والے نہیں ہیں۔ لیکن جب ایک شرذمہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کرے گا تو ارباب اعتدال بالکل اسی طرح اٹھیں گے جیسے وہ اہل بیت کی شان میں گستاخی پر اٹھتے۔
اس لیے آئیے انھیں نحو اور بلاغت کا سبق پڑھائیں کیونکہ میں ہرگز یہ نہیں کہوں گا کہ وہ میرے شاگرد بننے کے بھی لائق نہیں ہیں۔
اولی اور اقرب دونوں ہی اسم تفضیل ہیں اور نحویوں کے نزدیک اسم تفضیل شرکت اور زیادتیِ وصف کو بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یہی اس کے حقیقی معنی ہیں۔ ابن ہشام انصاری کہتے ہیں: الصفة الدالة على المشاركة والزيادة۔ (شرح قطر الندی 312) آسان الفاظ میں اس کی تفہیم یہ ہے کہ جس کو فضیلت دی جا رہی ہے اور جس پر فضیلت دی جا رہی ہے دونوں میں ایک مشترک وصف ہے لیکن جس کو فضیلت دی جا رہی ہے اس میں وہ وصف زیادہ ہے۔ جس کو فضیلت دی جاتی ہے اس کو مفضّل اور جس پر فضیلت دی جاتی ہے اس کو مفضّل علیہ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر مفضّل علیہ وجہ فضیلت میں مفضل کے ساتھ شریک ہوتا ہے، البتہ کبھی یہ شرکت حقیقی ہوتی ہے اور کبھی اعتقادی خواہ وہ اعتقاد باطل ہو۔ ارشاد باری ہے: أن تكون أمة هي أربى من أمة۔ (صرف اس لیے کہ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیں) یہ شرکت حقیقی کی مثال ہے، کیونکہ دونوں طرح کے لوگ فائدہ حاصل کر رہے ہیں کچھ لوگ زیادہ اور کچھ لوگ کم۔ شرکت اعتقادی کی مثال ہے: لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ. روز اول سے تقوی کی بنیاد پر قائم ہوئی مسجد اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس آیت میں مفضّل علیہ مسجد ضرار ہے اور مسجد نبوی ومسجد ضرار میں شرکت اعتقادی پائی جاتی ہے اگرچہ اعتقاد باطل ہو، یعنی ان کے اس باطل اعتقاد کی بنیاد پر کہ مسجد ضرار کو بھی حق ہے کہ آپ وہاں جائیں، مسجد نبوی زیادہ حق دار ہے۔ البتہ اس باطل شرکت اعتقادی کے لیے قرینہ ہونا ضروری ہے جو اسی آیت میں موجود ہے: لا تقم فيه أبدأ. (تفصیل کے لیے دیکھیے الجامع لأحكام القرآن 8/166)
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ میں بھی مومنین اور یہود و نصاری اور مشرکین کے درمیان یہی باطل شرکت اعتقادی ہے۔ یعنی اگر تمہارے اس باطل اعتقاد کو مان لیا جائے کہ تمہیں ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کا حق ہے، تو یہ حق مومنین کو زیادہ ہے۔ اس باطل شرکت اعتقادی پر بھی قرینہ موجود ہے اور وہ ہے ارشاد باری: مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔
کبھی کلامِ عرب میں اسم تفضیل، اسم فاعل یا صفت مشبہہ کے معنی میں آتا ہے، ایسے موقع پر مفضّل علیہ کلام میں مذکور نہیں ہوتا۔ مشہور شاعر فرزدق کا شعر ہے:
إن الذي سمك السماء بنى لنا
بيتا دعائمه أعز وأطول
یہاں اعز اور اطول عزیزة اور طويلة کے معنی میں ہیں۔ (شرح الرضی علی الکافیہ 3/459) قرآن کریم میں بھی اس کا استعمال جا بجا آیا ہے: وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ اس آیت میں اه‍ون اسم تفضیل، هيّن کے معنی میں ہے اور مفضل علیہ مذکور نہیں ہے۔ لہذا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ میں بھی اقرب قریب کے معنی میں ہے، یعنی انصاف قائم کرو یہ تقوی کے قریب ہے۔ وہبہ زحیلی لکھتے ہیں کہ: اس آیت میں اسم تفضیل دو چیزوں کے درمیان فضیلت بیان کرنے کے لیے نہیں آیا ہے۔ (التفسیر المنیر 6/118)
اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اسم تفضیل، تفضیل کے معنی سے تین صورتوں میں خالی ہوتا ہے:
1- اسم تفضیل کے بعد لفظ مَن نہ ہو
2- اسم تفضیل کے بعد تقدیرا مَن نہ ہو۔ اگر لفظ من محذوف ہوگا تو بھی اسم تفضیل، تفضیل کا معنی دے گا۔
3- اسم تفضیل اپنے مضاف الیہ کا جزو نہ ہو۔ (النحو العربی فی اللغة والبلاغة 3/582)
اگر ان تین صورتوں میں سے کوئی ایک بھی صورت ہے، یعنی لفظ مَن موجود ہے یا مقدر ومحذوف ہے، یا پھر اسم تفضیل اپنے مضاف الیہ کا جزو ہے، تو اسم تفضیل مفضل اور مفضل علیہ کے درمیان شرکت اور افضلیت کا فائدہ دے گا اگرچہ وہ شرکت اعتقادی ہو اور اعتقاد باطل اور مفروض ہو، جیسا کہ اوپر مثال سے واضح کیا جا چکا ہے۔
مذکورہ بالا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ خواہ أولی الطائفتین ہوں یا أقرب الطائفتین ہوں، دونوں صورتوں میں اسم تفضیل کی اضافت الطائفتین کی طرف ہے اور مضاف الیہ اس کا جزو ہے، یعنی جو اولی اور اقرب ہے وہ دو جماعتوں میں سے ہی ایک ہے، لہذا یہاں مشارکت اور تفضیل کے معنی ہوں گے اور دونوں جماعتیں حق میں شریک ہوں گی، البتہ ایک جماعت حق میں بڑھی ہوئی ہوگی، نیز یہ شرکت حقیقی ہے، شرکت اعتقادی نہیں ہے، کیوں کہ اس کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ چنانچہ قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں کہ: اس حدیث میں اشارہ ہے کہ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف ہوگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی مطلع فرمادیا کہ اس جنگ کی وجہ سے کسی بھی جماعت کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور نہی اس کو فاسق قرار دیا جائے گا، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جماعتوں کو اقرب الطائفتین الی الحق کہا ہے۔ (اکمال المعلم 3/613)
اسی طرح کی ترکیب ایک دوسری حدیث میں بھی وارد ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ما تحاب اثنان في الله إلا كان أفضلهما أشدهما حباً لصاحبه. اگر دو لوگ ایک دوسرے سے محبت کریں تو افضل وہ ہے جو زیادہ محبت کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا بھی پہلے والے سے محبت کرتا ہے اگر چہ اس کی محبت کم ہے۔
دراصل حق کو قبول نہ کرنا اور کسی کی دشمنی یا کسی کی محبت میں آکر عناد میں مبتلا ہو جانا بھی بعض انسانوں کی نفسیات میں شامل ہے۔ علامہ تفتازانی نے عنادیہ کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم جس چیز کو جوہر سمجھیں تو وہ جوہر ہوگی اور جس کو عرض سمجھیں تو وہ عرض۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو منافق ثابت کرنے کی اس پوری بحث میں بھی "صاحب فتنہ" کا یہی عناد کار فرما ہے۔ پہلے اس باطل عقیدے کو ذہن میں بٹھا لیا گیا اور اس کے بعد اس راستے میں آنے والی صحیح اور صریح احادیث کا وہ حشر کیا گیا جس کی ایک مثال ہمارے اس موضوع پر پہلے مضمون کا رد کرنے والے شخص نے بڑے "فخریہ" انداز میں پیش کی ہے۔
 

Difa-Hadees1

مبتدی
شمولیت
فروری 16، 2022
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
محترم بھائی،
آپ کی تحریر پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ آپ کا نظریہ اس بابت اہلسنت الجماعت کے مطابق ہی ہے جیسا آپ نے تحریر کیا
میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے میں ان تمام بیماریوں سے مبرا ہوں اور بفضل الہی وہی عقیدہ رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت کا ہے کہ حضرت علی کی جماعت اجتہادی طور پر با صواب تھی اور حضرت معاویہ کی جماعت سے اجتہادی خطا ہوئی تھی۔
مگر چند عوامل کی جانب اپ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا
1 آپ کے مطابق جیسا اپ نے تحریر کیا کہ باغی گروہ خوارج کا ہے چنانچہ اس حوالے سے صحابی رسول عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا خود یہ ماننا تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام حق سے دور ہو گئے ہیں اور ان کو حق پر واپس لانا ہے اس حوالے سے عمار بن یاسر کے اقوال پیش ہیں۔
زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِصِفِّينَ , وَرُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتَهُ , فَقَالَ رَجُلٌ: كَفَرَ أَهْلُ الشَّامِ , فَقَالَ عَمَّارٌ: لَا تَقُولُوا ذَلِكَ نَبِيُّنَا وَنَبِيُّهُمْ وَاحِدٌ , وَقِبْلَتُنَا وَقِبْلَتُهُمْ وَاحِدَةٌ ; وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ مَفْتُونُونَ جَارُوا عَنِ الْحَقِّ , فَحَقَّ عَلَيْنَا أَنْ نُقَاتِلَهُمْ حَتَّى يَرْجِعُوا إِلَيْه(مصنف ابن ابی شیبہ رقم 37841 )
1659952853028.png


۲ : روایت کو راوی سے زیادہ کوئی نہیں جان سمجھ سکتا ہے اس کے بعد تابعین اور اجماع آئمہ و محدثین نے بھی اس کو اسی طرح سمجھا ہے چند اقوال پیش خدمت ہیں
امام حسن بصری فرماتے ہیں
قد فسر الحسن البصري الفئة الباغية بأهل الشام: معاوية وأصحابه.(فتح الباری ابن رجب الحنبلی باب التعاون علی المسجد جلد 3 ص 311)
محمد بن إسماعيل الأمير الصنعاني.المتوفى: 1182ہجری
وَالْحَدِيثُ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ مُعَاوِيَةُ وَمَنْ فِي حِزْبِهِ وَالْفِئَةَ الْمُحِقَّةَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَمَنْ فِي صُحْبَتِهِ وَقَدْ نَقَلَ الْإِجْمَاعَ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ بِهَذَا الْقَوْلِ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّتِهِمْ كَالْعَامِرِيِّ وَغَيْرِهِ وَأَوْضَحْنَاهُ فِي الرَّوْضَةِ النَّدِيَّةِ.(سبل السلام جلد 2 ص376 تحت رقم 1119 باب قتال البغاہ)
محمد بن إسماعيل الأمير الصنعاني
وقال الإستاذ عبد القاهر البغدادي أجمع فقهاء الحجاز والعراق ممن تكلم في الحديث والرأي منهم مالك والشافعي وأبو حنيفة والأوزاعي والجمهور الأعظم من التكلمين أن عليا عليه السلام مصيب في قتاله لأهل صفين كما أصاب في قتاله أهل الجمل وأن الذين قاتلوه بغاة ظالمين له لحديث عمار واجمعوا على ذلك.
توضیح الافکار لمعانی تنقیح الانظار جلد 2 ص257 تحت مسالۃ 63 معرفہ الصحابہ

آخری گزارش یہی ہے کہ ان سب آئمہ نے اس کو نقل کرنے کے باوجود بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ بن ذلک نہ منافق قرار دیا نہ اور کچھ ماسوائے کہ یہ ان کی اجتحادی خطا تھی اور اس سے ان کی فضیلت و مرتبہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہےاور اس سبب سے اگر کوئی ان پر طعن کرتا ہے تو وہ سب کچھ ہو سکتا ہے اہلسنت والجماعت نہیں اورمیں بھی اہلسنت و الجماعت کے مطابق یہی نظریہ رکھتا ہے واللہ اعلم بالصواب
 
Top